Wednesday, 10 June 2015

اقبال کی ابتدائی زندگی

 





اقبال اکادمی پاکستان
دیباچہ
پانچ چھ برس پہلے کی بات ہے،میں ایک سرکاری فرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سیال کوٹ میں قیام پذیر تھا۔ کہ شہر کی ایک معروف اور ہر دل عزیز شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ تحقیق وجستجو پر گفتگو کے دوران اقبال کے سودائی نے راقم کو اقبال کے بچپن پر کام کرنے کامشورہ دیا،میں نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کی کہ اقبال کے بچپن میں کیا انوکھی بات ہوگی؟۔پیدا ہوا، بچپن ولڑکپن گزارا،اسکاچ مشن سکول وکالج میں پڑھا۔ اور ۱۸۹۵ع میں مزید تعلیم کے لئے لاہور سدھارا اور بات آئی گئی ہو گئی۔
مولوی سید میر حسن (حیات وافکار) نامی تالیف کے سلسلے میں اسکاچ مشن ہائی سکول سیال کوٹ کی ۳۱ سال کی رپورٹیں دیکھ چکا تھا۔مذکورہ کتاب کے ایک حوالے کے لئے جب میں نے یہ رپوڑٹیں دوبارہ دیکھیں،تو اقبال کی پہلی جماعت پاس کرنے کی رپورٹ ملی،رپورٹ پا کر میری مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ حیات اقبال کے سلسلے کی یہ پہلی قدیم ترین تحریری دستاویز تھی۔ جو دانشوروں کی نظر سے ا وجھل رہی۔میرے ہمراہ میرے ایک دوست طاہر تھے۔ میں نے ان کو اس در بے بہا کی دستیابی سے آگاہ کیا،اور اسے اس کو راز میں رکھنے کی استدعا کی۔
مذکورہ رپوڑٹ کو میں ایک مجلے کی زینت بنانا چاہتا تھا۔ کہ ایک صدیق دوست نے اسے تحقیقی کام کی رپورٹ بنانے کا مشورہ دیا۔میں نے شعور میں اس رپورٹ کو وسعت دی۔اقبال کے سودائی کی خواہش کی تکمیل ہوتی نظر آئی۔ رپورٹ کو بنیاد بنا کر میں نے اقبال کے بچپن پر کام کرنے کا عزم کیا۔اقبال اکادمی پاکستان لاہور میں مرحوم دوست ڈاکٹر محمد ایوب قادری سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے تحقیق کے لئے اقبال کی ابتدائی زندگی کا نام تجویز کیا ،جو دل کو بھلا لگا۔
اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں ۔ان کی شاعری کو شاعری کی معراج تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے جذبات انسانی کو فکر کا درجہ دیا ہے۔ ملت اسلامیہ میں حریت پسندی اور حق گوئی کے جذبات کی آب یاری کی ہے۔ ان کی زندگی ا ور سخن گوئی کو ہر محب وطن کے لئے مشعل راہ سمجھا گیا ہے۔لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ان کی سوانح عمری مکمل اور ٹھوس حالت میں ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ یوں تو ملت اسلامیہ کے اس عظیم دانش ور اور شاعر پر سینکڑوں کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں۔ لیکن بقول استادی ڈاکٹر وحید قریشی:
’’ عقیدت مندی اور اقبال پرستی کے پردے کو ہٹا کر دیکھا جائے تو اس کئی سو من کتابوں کے ڈھیر میں اقبال کے کارناموں کا قابل قدر جائزہ صرف چند مختصر سی کتابوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔
کئی بزرگ اصحاب حیات اقبال پر مستند ہونے کے دعویٰ دار ہیں۔ ایسے مستند حضرات اب دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔اور چند ایک باقی ہیں۔ہمارے محقق ان کی روایات کو سند کے طور پر استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن تحقیقی نقطہ نظر سے ان کی روایات میں سچائی کا عنصر کم ہے۔ ان کی زندگی کا کوئی بھی پہلو مکمل اور جامعیت کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر وحید قریشی جیسے محقق بھی تسلیم کرتے ہیں کہ:
’’ اقبال کی زندگی کے بعض اہم واقعات اور سنین اصلاح طلب دکھا ئی دیتے ہیں۔
اقبال کے بچپن اور لڑکپن کے ساتھی کون تھے؟۔ چند ایک کے نام بتاتے جاتے ہیں۔ ہم مکتب کون کون تھے، ایک آدھ کا نام مل جاتا ہے۔ اقبال نے سیال کوٹ کی کس شاعری فضا میں شعر کہنے شروع کیے۔ اقبالیات کے ماہر جواب دینے سے قاصر ہیں۔مولوی سید میر حسن کے علاوہ اقبال نے اسکول میں کن کن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی؟۔ کالج میں کن کن پروفیسروں سے پڑھنے کا موقع ملا، بہت کم معلومات ملتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی سوانح عمرہ ٹھوس اور مکمل حالت میں ہمارے سامنے موجود نہیں، خصوصا ان کی ابتدائی زندگی پر تو ایک صدی کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے۔ اس دبیز پردے کو ہٹانے کی راقم نے یہ کوشش کی ہے۔
کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔
پہلے باب میں اقبال کے آبا واجداد کا سرسری ذکر ہے۔ گھر کی وہ فضا بیان کی ہے، جس میں اقبال پیدا ہوا۔بچپن ولڑکپن اور ابتدائے جوانی کا زمانہ بسر کیا۔ پیدائش سے لے کر انٹر میڈیٹ پاس کرنے تک زندگی کے مختلف ادوار کو ترتیب سے بیان کیا ہے۔
دوسرے باب میں گزشتہ صدی کے نصف آخر کی سیالکوٹ کی معاشرتی زندگی بیان کی ہے۔ جس میں دانائے راز نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال گزارے۔ کسی انسان کی شخصیت اور کلام کو جاننے کے لئے اس ماحول کا جائزہ لینا اشد ضروری ہے۔ جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے ۔اور پروان چڑھتا ہے۔
اس دور کی درس گاہوں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ تاکہ ہمیں اندازہ ہو سکے کہ سکاچ مشن کی سر گرمیاں کس طرح لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کر رہی تھیں۔ لوگوں نے مسیحیت کے سیلاب کو روکنے کے لئے کس طرح یہ تعلیمی ادارے قائم کیے۔؟۔
سیال کوٹ شروع ہی سے اہل علم کا مرکز چلا آرہا ہے۔اس دور کی ا ن علمی شخصیات کا ذکر کیا ہے۔ جو اپنی اپنی درس گاہوں میں ہمہ تن مشغول درس و تدریس تھیں۔ ان کے کتب خانوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جہاں سے علم وادب کے شیدائی اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے۔ سیال کوٹ سے چھپنے والے اخبار اگر لوگوں کو مقامی ،صوبائی اور ملکی خبروں کے علاوہ عالم میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے آگاہ رکھتے تھے۔ تو یہاں کے رسائل علم وادب کے شائقین کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ اس دور کی سیاسی، مذہبی، اور علمی وادبی تنظیموں کی مکمل تصویر بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کھیل ،تماشوں اور عرسوں اور تہوار میں ہر کوئی شرکت کرتا ہے۔ خصوصا لڑکے اور جوان لوگ ان میں بڑے ذوق وشوق سے حصہ لیتے ہیں۔اس پہلو کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ اقبال کی ابتدائی زندگی کا یہ ایک حصہ تھے۔
تیسرے باب میں سکاچ مشن ہائی سکول پر سیر حاصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ کہ سکاچ مشن دو حیثیتوں سے ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس کی پہلی اور اولین حیثیت ایک تبلیغی مشن کی تھی۔ یعنی دین مسیحت کی تبلیغ واشاعت اس کا مطمح نظر تھا۔ اس میں مشنری لوگ بڑی حد تک کام یاب ہوئے۔ دوسری حیثیت تعلیم کی روشنی پھیلانے سے متعلق ہے۔ ۱۸۵۶ع سے ۱۸۹۵ء تک سکاچ مشن کی رپورٹیں اور دوسرا تحریری ریکارڈ پڑھنے سے اس چیز کی وضاحت ہوتی ہے۔ کہ دوسری حیثیت پہلی حیثیت کے تابع تھی۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ مشن کی درس گاہوں سے غیر شعوری طور پر تعلیم کی روشنی چاروں طرف پھیلی، جہالت کی تیرہ وتاریک فضا منور ہوئی۔ یہاں کے تعلیم یافتہ اصحاب مذہب، سیاست اور علم وادب کے آسمان پر ستارے بن کر چمکے۔ ان میں اقبال بدر کمال بن کر چمکا، جس کی ضیا کے سامنے ان ستاروں کی روشنی ماند پڑ گئی۔ سیال کوٹ کے علاوہ سکاچ مشن کے دوسرے مراکز وزیر آباد، گجرات اور ڈسکہ کی تبلیغی اور تعلیمی سرگرمیاں بھی جامعیت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ تاکہ سکاچ مشن کا کوئی پہلو ہماری نظروں کے سامنے سے اوجھل نہ رہے۔
چوتھے باب میں اقبال کی سکول اور کالج کی زندگی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ پہلی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک طالب علمی کی زندگی مکمل اور جامع صورت میں پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ ہر جماعت کو الگ الگ بیان کیا ہے۔ ہر جماعت کا نصاب ،اساتذہ،مڈل، انٹرس اور انٹر میڈیٹ جماعتوں کا یونیورسٹی کا نصاب،امتحانی پرچوں کی تفصیل،غرض کہ سکول وکالج کی تعلیمی زندگی کی ہر چیز یک جا کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
پانچویں باب میں اقبال کے عہد کی شخصیات کے حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں۔ یہ شخصیات تعداد میں ۱۶۱ ہیں۔سب سے پہلے اقبال کے گھر کے افراد کا احا طہ کیا گیا ہے۔ اقبال کے وہ عزیز جن کے درمیان وہ پیدا ہوئے۔ شیر خوارگی اور بچپن کا زمانہ گزارا۔ ان کی مختصر اور محدود آرزوؤں کو پورا کرنے والے شفیق اور ناز بردار عزیز، یہ لوگ سراپا محبت ہیں، ان میں خلوص ہے اور انتہا درجے کی گرم جوشی۔ بچپن سے گزرے تو لڑکپن کا زمانہ آیا ،اب انہیں محلہ کے لڑکوں سے ملنے جلنے کا موقعہ ملا۔ برانچ سکول، پھر سٹی سکول، اور اس کے بعد سکاچ مشن کالج کے ہم جماعت لڑکوں کی پر خلوص دوستی اور ان کے ساتھ کھیلنا کودنا، علمی وادبی اور تفریحی مشاغل سکول وکالج کی پڑھائی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا جذبہ،پہلی جماعت میں ان کے ساتھ پڑھنے والے لڑکے، مڈل اور انٹرس میں کام یاب ہونے والے لڑکے۔ سکاچ مشن کالج کی فرسٹ ایر میں داخل ہونے والے لڑکے،اور یونیورسٹی کے امتحان میں کامیاب ہونے والے لڑکے، غرض کہ اقبال کے ساتھ پڑھنے والے تمام لڑکوں کے حالات زندگی جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان لڑکوںکا بھی ذکر ہے۔ جو اقبال سے قبل حصول علم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کی وجہ سے شہر میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ تیسرے نمبر پرسکاچ مشن کے مشنری لوگ ہیں،جو اس دور کی معاشرتی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔انہیں اس معاشرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ان کی زندگیوں اور مشاغل نے اس عہد کے لوگوں کو متاثر کیا۔ سکاچ مشن سیال کوٹ کے سکول وکالج کے تمام اساتذہ کا مکمل تذکرہ ہے۔ ان میں وہ خوش نصیب اساتذہ بھی ہیں۔ جن سے اقبال نے تعلیم حاصل کی۔ آخر میں شہر کی دوسری اہم اور ہم عصر نمایاں شخصیات کا ذکر ہے۔ جو سیال کوٹ کی معاشرتی زندگی کا اہم جزو تھے۔ ان لوگوں سے اس دور کے شہری متاثر تھے۔ ان کے گن گاتے تھے۔ سرکاری وغیر سرکاری سطح پر یہ لوگ خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔
آخری باب میں سکول وکالج کی نصابی کتب کی فوٹو سٹیٹ دی گئی ہیں۔ انٹرس اور انٹر میڈیٹ کے نصابی پرچے بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔ تاکہ ہم اندازہ لگا سکیں کہ اس دور کے اور آج کے نصاب میں کتنا فرق ہے۔آج ہم تعلیمی لحاظ سے کیوں پست ہیں؟۔نصاب تیار کرنے والی کمیٹیوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔
اقبال کی ابتدائی زندگی معلوم کرنے کے لئے میں نے اصل ماخذوں سے مدد لی ہے۔ سب سے پہلے اقبال کے قریبی عزیزوں سے ملا، شیخ اعجاز احمد حال مقیم کراچی سے بذریعہ خط وکتابت معلومات حاصل کرنے کی سعی کی۔ لیکن انہوں نے بہت کم معلومات فراہم کیں۔کیونکہ یہ زمانہ ان کی پیدائش سے قبل کا ہے۔ پھر بھی میں ان کا ممنون ہوں کہ پیرانہ سالی کے باوجود وہ مجھے جوابات سے نوازتے رہے۔
 تھیو لاجیکل سیمینری کے پرنسپل اقبال نثار نے سکاچ مشن سے متعلق قدیم ریکارڈ مہیا کرکے علم دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ سیمینری میں جس خلوص ومحبت سے وہ پیش آتے رہے، الفاظ کے ذریعہ میں ان کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی سابق وائس چانسلر بہاول پور یونیورسٹی،ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر غلام مصطفے خان، اور محمد عبد اللہ قریشی کا ممنون ہوں کہ چند شخصیات سے متعلق معلومات بہم پہنچانے میں بھر پور تعاون کیا اور رہنمائی کی۔ ریٹائرڈ جسٹس محمد منیر فاروقی، اور ڈاکٹر محمد جمال بھٹہ نے اپنے آبا واجداد سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ بیگم سلمیٰ تصدق حسین خالد نے اپنے والد ماجد کے حالات زندگی مہیا کیے۔ بیگم صاحبہ کے بھتیجے ڈاکٹر محمد شریف نے فضل الہیٰ کا اردو کلام مہیا کیا۔ میں ان سب کا ممنون ومشکور ہوں۔
سکاچ مشن سکول سٹی وصدر سیالکوٹ کے ہیڈ ماسٹر صاحبان اور مرے کالج سیال کوٹ کے پرنسپل نے پرانا ریکارڈ مہیا کرکے بھر پور تعاون کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لائبریری،پنجاب پبلک لائبریری،فارمن کرسیچن کالج لائبریری،گورنمنٹ کالج لاہور،اقبال اکادمی پاکستان لاہور،اور مرے کالج سیال کوٹ کے لائبریرین صاحبان کا مشکور ہوں کہ ان صاحبان نے فراہمی کتب میں بہت تعاون کیا۔ حیات اقبال کے سلسلے میں اقبال اکادمی پاکستان لاہور کے فرخ دانیال نے ایک نایاب کتاب مہیا کرکے اقبال دوستی کا ثبوت دیا ہے۔
ایک سرکاری کام کے سلسلے میں گجرات میں تین ہفتے قیام رہا۔ وہاں اقبال کے پہلے خسر ڈاکٹر عطا محمد کے گھرانے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی سعی کی۔ محمد شریف کنجاہی،اور تحقیق وجستجو کا شوق رکھنے والے دوسرے اصحاب سے ملا، بڑے بوڑھوں سے ملا، قبرستان کا وہ مخصوص احاطہ دیکھا جس میں ڈاکٹر شیخ عطا محمد اور ان کے بیٹے شیخ غلام محمد آسودہ لحد ہیں۔ ڈاکٹر احمد حسین قلعہ داری نے ان کا آبائی گھر دکھایا،پیر محمد علی نے اس گھرانے سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں بڑی تگ ودو کی۔ بیگم رشیدہ آفتاب اقبال حال مقیم کراچی،اقبال کی بڑی بہو ہیں۔ بیگم صاحبہ نے بھر پور تعاون کیا۔ انہوں نے گجرات کے ڈاکٹر شیخ عطا محمد اور ان کے اہل خانہ سے متعلق معلومات فراہم کرکے کتاب کو زیادہ سے زیادہ مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔تصاویر اور دستاویزات فراہم کرکے عظیم اقبال کی عظیم اولاد ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ میں بیگم صاحبہ کا بہت سپاس مند ہوں کہ ان کی مدد سے پہلی بار اقبال کی پہلی بیگم اور ان کے اعزہ واقربا کے صحیح حالات سامنے آرہے ہیں۔ چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کا شکریہ ادا کرنا بھی مجھ پر واجب ہے۔اسی طرح صدر شعبہ اردو جامعہ سندھ کے ڈاکٹر سید سخی احمد ہاشمی کا بھی سکاچ مشن کے سدر دفتر واقع اسکاٹ لینڈ سے خط وکتابت کی، ریورنڈ ولیم جی ینگ حال مقیم روز شائر نے بھی مشن سے متعلق کچھ اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ایڈن برگ یونیورسٹی لائبریری اور نیو کالج لائبریری ایڈن برگ نے بہت تعاون کیا ہے۔ نیو کالج لائبریری ایڈن برگ نے تو ۱۸۵۶ء سے ۱۸۹۶ع تک سکاچ مشن پنجاب کی سالانہ رپورٹیں اور پنجاب مشن سے متعلق دوسرا مواد فوٹو اسٹیٹ کی صورت میں قیمتا ارسال کیا۔ میں ان غیر ملکی اداروں کا بے حد سپاس گزار ہوں۔یونیورسٹی آف رڑکی بھارت کے وائس چانسلر نے بھی شیخ عطا محمد کے سلسلے میں کالج سے قدیم ترین معلومات فراہم کیں۔
شخصیات کے سلسلے میں میں نے ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں مراسلے شائع کرائے،بھارت کے اردو اخبار ہند سما چار ،جالندھر کے شمارہ ۲۱ ،اپریل ۱۹۳۸ع میں میرا مراسلہ پڑھ کر سردار کرتار سنگھ چیمہ،۱۷۸ ماڈل ٹاؤن لدھیانہ نے اقبال کے کالج کے ایک ہندو ساتھی کے متعلق معلومات فراہم کیں۔اور اخبار کا تراشا بھی بھیجا۔سردار صاحب کے اس خلوص وتعاون کا میں بے حد شکر گزار ہوں۔
اقبال کے سودائی محمد اصغر سودائی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا مشکور ہوں کہ وہ اس تصنیف کے محرک ہوئے۔ہمارے کالج کے آفس کلرک عبد القیوم نے انگریزی کے اقتباسات ٹائپ کرنے میں مدد دی ہے۔ اس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔
نام کے سلسلے میں میں اس کی وضاحت کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب اقبال کے ’’علامہ‘‘ حضرت علامہ، ’’حکیم الامت‘‘ ’’ڈاکٹر صاحب‘‘ یا سر بننے سے پہلے سے تعلق رکھتی ہے۔ بچپن ولڑکپن میں ان توصیفی وتعظیمی القابات کا استعمال کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے خاکسار نے سیدھے سادے الفاظ میں ہر جگہ ’’اقبال‘‘ نام لکھا ہے۔
کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں اقبال اکادمی پاکستان لاہور کا میں ممنون واحسان مند ہوں کہ حیات اقبال کے ابتدائی حصہ شائع کرکے قوم کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔
ڈاکٹر سید سلطان محمود
ایم،اے،پی، ایچ،ڈی
لیکچرار اردو
گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور


تعارف
ڈاکٹر سید سلطان محمود صاحب نے گزشتہ چند برسوں میں یکے بعد دیگرے اہم موضوعات پر کتابیں اور مضامین لکھ کر اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ ۱۹۸۱ع میں اقبال اکیڈمی پاکستان لاہور نے ان کی ایک اہم تحقیقی کتاب بعنوان ’’ علامہ اقبال کے استاد شمس العلماء سید میر حسن ‘‘ شائع کی اور اس کے ذریعے پہلی دفعہ اس نامور شخصیت کے مستند سوانحی حالات سامنے آئے، ورنہ اس سے پہلے اقبال کے بارے میں سوانحی کتب لکھنے والوں نے ان کے بارے میں سر سری اور سنی سنائی کتابوں پر قیاس کی عمارت تعمیر کر ڈالی تھی۔ اور جب اس کتاب کو ۱۹۸۲ع کے داؤد ادبی انعام برائے تحقیق وتنقید کا مستحق قرار دیا گیا ،تو مجھے خوشی ہوئی کہ ’’حق بحق دار رسید‘‘ حال ہی میں مجلس ترقی ادب لاہور نے ان کی ایک اور کتاب ’’یورپ میں اردو کے مراکز‘‘ انیسویں صدی میں شائع کی ہے ،جس سے معلوم ہو جاتا ہے۔ کہ انیسویں صدی کے یورپ میں اردو کو ایک اہم زبان کی حیثیت دی جاتی تھی،اور مختلف ممالک میں اردو کی تدریس کے مراکز موجود تھے۔ جہاں کئی مستشرقین مصروف تحقیق تھے۔اور اب ڈاکٹر صاحب نے ایک اور اہم کام مکمل کیا ہے۔ اس کام کے نتائج کو انہوں نے ’’اقبال کی ابتدائی زندگی‘‘ کا عنوان دے کر مرتب ومنضبط کیا ہے۔ اس کتاب کے مسودے کو میں نے ایک نظر دیکھا ہے۔ اور طائرانہ نظر سے دیکھنے کے باوجود اس کی اہمیت اجاگر ہو گئی ہے۔
علامہ اقبال شاعر مشرق،شاعر پاکستان، شاعر اسلام اور ایک عظیم مفکر اور عہد ساز شخصیت ہیں۔اہل پاکستان کے لئے ان کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے۔ جتنی کہ اہل برطانیہ کے لئے شیکسپئیر کی ہے۔ اس لئے اگر چہ اقبال پر بہت کچھ تحقیقی وتنقیدی کام ہو چکا ہے۔مگر ابھی تک بہت سے تاریک گوشوں پر روشنی ڈالنے کی ضرورت باقی ہے۔ خصوصا علامہ مغفور کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں ابھی واضع نہیں ہیں۔ سال ولادت سے لے کر ابتدائی زندگی تک کی بہت سی تفصیلات ہنوذ ناقص یا تشنہ ہیں۔ جب محققوں نے اس موضوع پر کام کیا ہے، ان میں سے بیشتر حضرات کو اصل ماخذ دستیاب نہیں ہو سکے، کیونکہ ان کی تلاش کے لئے جس محنت ،کاوش ،لگن،فرصت اور جستجو کی ضرورت ہے، وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ اور یہ کام دیدہ ریزی وعرق ریزی کا متقاضی ہے۔
ڈاکٹر صاحب موصوف نے اصل ماخذ کے حصول میں جو کوشش کی ہے، وہ غیر معمولی ہے۔اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اقبال کی ابتدائی تعلیم کا خاکہ مکمل کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔علاوہ ازیں اس زمانے کے سیال کوٹ کی ایک زندہ تصویر پیش کرنے میں بھی انہیں کام یابی حاصل نہیں ہوئی۔ایک ڈیڑھ صدی پہلے کی سیال کوٹ کی تعلیمی، سماجی، اور ادبی زندگی کی ایسی جھلکیاں ہماری آنکھوں کے رو برو آ جاتی ہیں۔کہ ہم اس نو عمر اقبال کو اس ماحول کے پس منظر میں چلتا ،پھرتا، اور تعلیم حاصل کرتا ہوا دیکھ لیتے ہیں۔علاوہ ازیں اس دور کی شخصیات،اقبال کے افراد خانہ،قرابت دار،محلے دار اور ہم جماعت وغیرہ سب سے ہماری کچھ نہ کچھ شناسائی ہو جاتی ہے۔ پھر اس دور کے نصابات اور امتحانی پرچے بھی ہماری معلومات میں قابل قدر اضافہ کرتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے بعض نتائج تحقیق سے سب کو اتفاق نہ ہو،۔۔۔۔ اور سو فی صد اتفاق تحقیق کی دنیا میں ویسے بھی ناپید ہے۔۔۔ لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ علامہ اقبال کی ابتدائی زندگی کے دور کے متعلق اتنا اہم مواد پہلی دفعہ سامنے آرہا ہے۔ یہ مواد علامہ اقبال کی سوانح عمری لکھنے والوں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوگا۔اورا س شمع سے مستقبل میں بہت سی شمعیں روشن ہوں گی۔
 خواجہ محمد ذکریا
صدر شعبہ اردو
پنجاب یونورسٹی اورنٹئیل کالج لاہور


باب۱
آبا ؤاجداد
اقبال کے آبا واجداد ہندو برہمن تھے۔ کشمیر کے ایک پنڈت گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ کشمیری پنڈت اعلیٰ درجے کا سیاسی فہم رکھنے کے ساتھ ساتھ فارسی میں اچھی دسترس رکھتے تھے۔
’’سپرو‘‘ کشمیری لفظ ہے۔ اس کے معنی میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اقبال بھی اپنی حیات میں لفظ ’’سپرو‘‘ کے صحیح معنی کا کھوج نہیں لگا سکے تھے۔ ابھی تک اس کے تین معنی سامنے آئے ہیں۔
بقول محمد دین فوق:
’’وہ لڑکا جو چھوٹی عمر میں بڑوں کی سی ذہانت دکھائے۔‘‘
بقول شیخ نور محمد کے:
کشمیر کے برہمنوں میں سے سب سے پہلے جس گروہ نے مسلمانوں کے علوم وزبان یعنی فارسی کی طرف توجہ کی ،اور اس میں امتیاز حاصل کرکے حکومت اسلامی کا اعتماد حاصل کیا۔‘‘
یعنی وہ شخص جو سب سے پہلے پڑھنا شروع کر دے۔
دیوان ٹیک چند کمشنر پنجاب نے اقبال کو بتایا کہ:
 لفظ سپرو‘‘ تعلق ایران کے قدیم بادشاہ شاہ پور سے ہے۔ سپرو اصل میں وہ ایرانی ہیں،جو اسلام سے بہت پہلے ایران کو چھوڑ کر کشمیر چلے آئے تھے، اور اپنی ذہانت وفطانت سے برہمنوں میں داخل ہو گئے تھے۔
پنجاب میں اقبال کے سوا کوئی ایسا مسلمان گھرانا نظر نہیں آتا جو کشمیری برہمن سپرو سے تعلق رکھتا ہو۔ بھارت میں ہندو ’’سپروؤں‘‘ کے چند گھرانے ملتے ہیں۔۱؎
۱۔ ڈاکٹر سر تچ بہادر سپرو:
ایک معروف شخصیت تھے، وکالت کرتے تھے۔ماہوار رسالہ کشمیر درپن نکالا کرتے تھے۔ اقبال نے ان کا ذکر کیا ہے۔
۲:۔ پنڈت تربہون سپرو:
اردو کے شاعر تھے، ہجر تخلص کرتے تھے۔ ان کے والد پنڈت بشمر ناتھ سپرو المتخلص صابر (۱۸۳۲ء ۱۸۷۳ع) دہلی کالج کے پڑھے ہوئے تھے۔اور اردو کے شاعر تھے۔ پنڈت کے دادا سدا سکھ حیدر آباد میں ریو نیو کمشنر تھے، اور رانا پنڈت لچھمی نرائن کول شاعر اور انشاء پرداز تھے۔پنڈت رادھا کشن بھی سپرو خاندان سے تھے۔ موجودہ صدی کے ابتداء میں مظفر نگر میں ڈپٹی کلکٹر تھے۔
ان چند سپرو اصحاب سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس گوت کے بیشتر افراد علم وادب اور قانون کے پیشے سے وابستہ تھے۔اقبال بھی اعلیٰ پایے کے قانون دان تھے۔منجھے ہوئے سیاست دان تھے، فلاسفر تھے، اردو اور فارسی کا اعلیٰ اور صاف ستھرا ذوق رکھتے تھے۔اردو اور فارسی کے بہترین شاعر تھے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں:۔
میں اصل کا خاص سومناتی
آبا میرے لاتی ومناتی
اس وابستگی کے باوجود وہ کس فخر سے کہتے ہیں کہ:
مرا بنگر کہ در ہندوستان دیگر نمی بینی
برہمن زادئہ رمز آشنائی روم وتبریز است
ترجمہ: مجھے دیکھو،کیونکہ مجھ سا کوئی دوسرا تم ہندوستان میں نہیں دیکھو گے۔کہ ایک برہمن زادہء روم وتبریز کے اسرار ورموز سے آشنا ہے۔
محقیقین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اقبال کے جد اعلیٰ بابا لول حج موضع چک پرگنہ آدون کے تھے۔ بابا صاحب پندرھویں صدی میں مسلمان ہوئے تھے۔ اور شیخ نور الدین ولی کے چوتھے خلیفہ نصر الدین رشی کے مرید ہوئے۔۳؎ بابا لول حج کی نسل سے ایک بزرگ شیخ اکبر نام کے ہوئے ،جو اپنے مرشد کے داماد بنے۔ شیخ اکبر کی دوسری یا تیسری پشت سے جمال الدین ہوئے ،جو اقبال کے پردادا تھے۔ یہ بات زیادہ قرین قیاس ہے کہ شیخ اکبر کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب میں آباد ہو گئے تھے۔جمال الدین یا ان کے چاروں فرزند اٹھارویں صدی کے آخر میں یا انیسویں صدی کے شروع میں سیال کوٹ چلے آئے۔ جمال الدین کے تین صاحب زادے۔محمد رفیق، عبد الرحمن ،محمد رمضان نے شہر سیال کوٹ میں رہائش رکھی،چوتھے صاحب زادے عبد اللہ موضع جیٹھی کے میں آباد ہو گئے۔قیاس اغلب ہے کہ یہ چاروں بھائی کاروبار کرتے تھے۔
شروع شروع میں محمد رفیق نے سیال کوٹ کے محلہ کھیٹکاں میں رہائش رکھی،یہیں اقبال کے والد شیخ نور محمد اور چچا شیخ غلام محمد پیدا ہوئے۔۴؎
۱۸۶۱ء میں دو دروازہ مسجدکے قریب محلہ کشمیری میں ایک مکان خرید کر رہنے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس مکان میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ مکان بعد میں اقبال منزل کہلایا۔اس وقت یہ مکان یک منزلہ تھا۔ اور مکان کے صحن کا دروازہ محلہ چوڑی گراں کی جانب کھلتا تھا۔اسی مکان کی ایک تنگ وتاریک کوٹھری میں اقبال پیدا ہوئے۔۵؎
۱۸۸۹ع کے لگ بھگ شیخ نور محمد نے اسی مکان سے ملحقہ ایک دومنزلہ مکان خریدا،اور مکان کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لئے میونسپل کمیٹی میں درخواست دی۔کچھ عرصہ بعد پہلے مکان کی پشت پر بازار چوڑی گراں کی جانب دودکانیں بھی خرید لی گئیں۔ بعد میں شیخ عطار محمد نے جدی مکان سے ملحق ایک اور دکان خرید لی، اسی طرح سب قطعات پر ایک سہ منزلہ عمارت تعمیر کی گئی ۔جو اب اقبال منزل کی شکل میں موجود ہے۔ شیخ نور محمد نے بازار چوڑی گراں میں ایک اور مکان خرید کر کرائے پر چڑھا دیا۔۱۸۹۲ع میں سمند خان اور اللہ بخش کرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔
پیدائش
اقبال کی تاریخ پیدائش یوں تو سرکاری طور پر ۹ نومبر ۱۸۷۷ع قرار پائی،لیکن بعض محقیقین ومورخین کو اس تاریخ سے اتفاق نہیں۔
دوران تحقیق راقم کو سکاچ مشن ہائی سکول سیال کوٹ کا پرانا ریکارڈ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سکول کی ۳۱ سال کی رپورٹیں ۱۸۶۵ع سے ۱۳۹۵ ء تک لاگ بک کی صورت میں ملیں۔ ان میں ایک رپورٹ۱۸۸۵ء کی ہے۔ جس میں اقبال کی پہلی جماعت پاس کرنے کا ذکر ملتا ہے۔۶؎ رائے گوپال سنگھ اسٹنٹ انسپکٹر آف سکولز حلقہ لاہور نے سکاچ مشن سکول کے حصہ پرائمری کا سالانہ امتحان لیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ سے یہ چیز واضع ہوتی ہے کہ اقبال عام بچوں کی طرح سکول کی پہلی جماعت میں داخل ہوئے تھے۔ یہ کہنا یا قیاس کرنا کہ اقبال اپنی ذہانت کی وجہ سے براہ راست سکول کی کسی بالائی جماعت میں داخل ہوئے تھے، غلط اور بے بنیاد ہے۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ ابتداء میں میر حسن سے ابتدائی کتب پڑھ کر وہ سکول کی دوسری یا تیسری یا چوتھی جماعت میں داخل ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطالعے کے بعد اس قیاس کو کلی طور پر ختم ہو جانا چاہیئے۔کرم ۷؎ بی بی کی یہ شہادت کہ اس نے اور اقبال نے عمر شاہ کے مکتب میں پانچ جماعتیں پڑھی تھیں،درست نہیں،۱۸۸۵ء میں پہلی جماعت پاس کرتے وقت اقبال کی عمر کیا تھی؟۔کچھ علم نہیں،اس کے بعد اقبال کی آٹھویں جماعت پاس کرنے کی پنجابیونیورسٹی کی سند ہے۔ ۲۶ فروری ۱۸۹۱ء کو پنجاب یونیورسٹی نے مڈل امتحان کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔۸؎نتیجہ باقاعدہ پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء پارٹ تھری میں شائع ہوا تھا۔نتیجہ میں اقبال کی عمر پندرہ سال بتائی گئی ہے۔ امتحان کا فارم پر کرتے وقت اقبال کی یہ عمر تھی۔ فارم نومبر ۱۸۹۰ء میں پر کیا گیا تھا۹؎۔اس سے یہ بات عیاں ہے کہ نوبمبر۱۸۹۰ء میں اقبال کی عمر ۱۵ برس کی تھی۔ اس طرح سال ولادت ۱۸۷۵ء کے اواخر کا بنتا ہے۔ ۱۸۹۳ء میں اقبال نے انٹرس (میٹرک) کا امتحان پاس کیا۔گزٹ میں نتیجہ میں ۱۷ برس عمر بتائی گئی ہے۔۱۰؎ جو مڈل سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس لئے پہلی سرکاری دستاویز یعنی مڈل کی سند پر درج شدہ عمر کو تسلیم کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟۔ یعنی اقبال ۱۸۷۵ء کے آخر مہینوں میں پیدا ہوئے تھے۔ اس دور میں عمر میں کمی بیشی کرنے کا خیال بھی ذہن میں جنم نہیں لیتا۔ یہ جواز پیش کرنا کہ میونسپل کمیٹی سیال کوٹ کے رجسٹر پیدائش میں شیخ نور محمد یا شیخ نتھو یا نتھو خیاط کے ہاں ۱۸۷۵ء میں کسی لڑکے کی پیدائش کا اندراج نہیں،درست نہیں۔ چند محقیقین کا خیال ہے کہ دو ایک بچوں کا اندراج میونسپل کمیٹی میں نہیں کرایا گیا۔اس لیے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ۱۸۷۵ء میں اقبال کی پیدائش کا اندراج ہی نہ کرایا گیا ہو۔رجسٹر میں عدم اندراج عدم پیدائش کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔۱۱؎ اقبال نے ڈاکٹریٹ کے مقالہ میں اپنی تاریخ پیدائش سنہ ہجری میں تحریر کی ہے۔ جو ۹ نومبر ۱۸۷۷ء سے مطابقت رکھتی ہے۔اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہاقبال نے اپنی عمر میں دو سال کی کمی کر دی ہو۔ کیونکہ سرکاری ملازمت کے حصول میں عمر کو بھی تو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
بچپن ولڑکپن اور ابتدائے جوانی
اقبال کی پیدائش کے وقت شیخ نور محمد کا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا۔متوسط طبقہ کا یہ گھرانا تھا۔ گھر میں سات آٹھ افراد تھے۔ نور محمد ٹوپیاں یا کلاہ سیتے تھے۔ اس فن میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ دکان میں شاگرد تھے، لیکن تصدیق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے ملازم بھی رکھے تھے۔ لوگ ان کو شیخ نتھو ٹوپیاں والا کہتے تھے۔ماں باپ ننھے منے بچے اقبال سے بہت پیار کرتے تھے۔ شیخ نور محمد کے شاگرد لڑکے بھی اقبال کو اٹھاتے اور کھلاتے۔ بڑا بھائی شیخ عطا محمد جو ان سے عمر میں تقریبا سترہ برس بڑا تھا،چھوٹے بھائی اقبال کو گود میں اٹھا کر پیار کرتا،کھلانے کے لئے باہر لے جاتا۔اقبال کی بڑی بہن فاطمہ بی بی کی اس وقت کیا عمر تھی؟۔ کچھ معلوم نہیں ،ماں امام بی بی گھر کا کام کاج کرتیں۔اور فاطمہ چھوٹے بھائی کو کھلاتی، دوسری بہن طالع بی بی تقریبا پانچ برس کی بچی تھی۔ وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی سے پیار کرتی، اٹھانے کی ضد اورسعی کرتی،لیکن بے جی اور فاطمہ اسے اٹھانے نہ دیتیں کہ کہیں گرا نہ دے۔ اقبال کے ننھال والے بھی ا سے اٹھاتے اور پیار کرتے،چچی بھی معصوم بچے سے پیار کرتی۔وہ حسرت بھری نظروں سے بچے کو دیکھتی کہ اللہ نے سولہ سترہ برس بعد اس کی جیٹھانی کو ایک خوب صورت بچے سے نوازا ہے۔ جب کہ وہ بچے سے ابھی تک محروم ہے۔ اس کی جیٹھانی نے چند سال ہوئے اپنا بچہ دیا تھا،لیکن وہ زندہ نہ رہ سکا، جیٹھانی کے اس جذبہ خلوص اور محبت کی وہ قدر کرتی تھی۔ اور نومولود کی زندگی اور روشن مستقبل کے لئے دعا گو ہوتی۔ بچے کے دادا شیخ محمد رفیق اور چچا غلام محمد بچے کو نہ دیکھ سکے۔ کیونکہ اس کی پیدائش سے قبل ہیضہ کی وبا میں دونوں روپڑ میں چل بسے تھے۔
اقبال دو سال کے ہوئے تو ایک بیماری کے علاج کے لئے ان کی بے جی نے ان کی داہنی آنکھ کے قریب جونکیں لگوائیں۔جونکوں نے فاسد خون چوس لیا بیماری جاتی رہی،لیکن آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی۔یہاں تک کہ عمر کے ساتھ ساتھ یہ بینائی بالکل جاتی رہی۔۱۲؎
 قیاس اغلب ہے کہ چھ سات برس کی عمر میں بے جی نے ان کو پڑوس میں عمر شاہ کے پاس قرآن پاک ناظرہ پڑھنے کے لئے بھیج دیا۔ عمر شاہ محلہ کی مسجد حکیم حسام الدین میں مسلمان لڑکے اور لڑکیوں کو قرآن مجید ناظرہ پڑھایا کرتے تھے۔ان میں ایک لڑکی کرم بی بی بھی پڑھا کرتی تھی، اس کا کہنا ہے کہ :
’’ ہم ایک ساتھ پڑھتے،پڑھائی کے وقت کھیل کود میں وقت گزرتا،اقبال بڑا شریر تھا۔ طرح طرح کی شرارتیں کرتا ،خود ہنستا اور ہمیں بھی ہنساتا تھا۔ پڑھنے لکھنے میں بلا کا تیز معلوم ہوتا تھا۔ اسے پہلے ہی سب کچھ یاد تھا۔۱۳؎۔
کچھ عرصہ بعد عمر شاہ نے بچوں کو پڑھانا بند کر دیا۔ شیخ نور محمد اپنے بچے اقبال کو مولانا غلام حسن کے پاس پڑھنے کے لئے لے گئے۔ مولانا غلام حسن ان دنوں تیجہ سنگھ شوالہ کی مسجد میں بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔۱۴؎ اس کے ساتھ ساتھ شیخ نور محمد نے اقبال کو سکاچ مشن کے برانچ سکول واقع قلعہ کی پہلی کچی جماعت میں داخل کرا دیا۔یہ ۱۸۸۳ء کی بات ہے۔ پہلی کچی جماعت میں داخل کرانے کا کوئی ثبوت تو نہیں ہے۔ لیکن اس جماعت میں داخلہ لینے کا قوی امکان ہے۔ اسے ہم بغیر سوچے سمجھے رد نہیں کر سکتے۔کچھ عرصہ کے لئے شیخ نور محمد کا کام مندا پڑ گیا۔۱۵؎ گھر میں غربت ومفلسی نے ڈیرہ جما لیا۔دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی۔ عطا محمد اور اقبال،اکرام کے باپ اور چچا کے ہاں کاغذ کوٹنے کے لئے جانے لگے۔ اجرت میں دونوں بھائیوں کو روٹی کھانے کو مل جاتی تھی۔ اس زمانہ میں اقبال کی سکول کی تعلیم وقتی طور پر رک گئی۔عطا محمد کا راٹھور خاندان میں رشتہ طے کر دیا گیا۔ عطا محمد بلند قامت کے خوبصورت اور سجیلے جوان تھے۔ ان کے سسرال والوں نے عطا محمد کو فوج میں بھرتی کرادیا۔بیٹا تنخواہ کے روپے گھر بھیجنے لگا۔اس طرح گھر سے غربت اور مفلسی ختم ہو گئی۔ شیخ نور محمد کا کاروبار بھی چل نکلا، اقبال کی تعلیم بھی دوبارہ جاری ہو گئی۔
۱۸۸۵ء میں اقبال نے پہلی جماعت پاس کی،جماعت میں اول آئے، پہلی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ میر حسن سے پڑھنے لگے۔ مولانا غلام حسن سے میر صاحب اقبال کو خود ہی اپنے پاس لے گئے۔ مسجد حکیم حسام الدین کے قریب ایک چھوٹے سے کمرے میں میر صاحب بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔اقبال یہاں پڑھنے لگے۔ شیخ عطا محمد کی شادی ہو گئی۔ بھاوجہ دس گیارہ سالہ اقبال سے پیار ومحبت سے پیش آتی۔ شیخ عطا محمد کے ہاں ایک لڑکی برکت بی بی پیدا ہوئی۔ اقبال اسی معصوم سی بھتیجی سے پیار کرتے،اٹھاتے اور کھلاتے۔ شیخ عطا محمد کا اس بیوی سے نبھاہ نہ ہو سکا، اور اسے طلاق دے دی۔ تھوڑے عرصہ بعد شیخ عطا محمد نے مہتاب بیگم سے دوسری شادی کر لی۔اقبال کی عمر اس زمانہ میں بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ وہ سکول کی چوتھی جماعت کے طالب علم تھے۔اردو کی چھوٹی چھوٹی کتابیں اور قصے کہانیاں روانی سے پڑھنے لگے تھے۔ پنجابی کے چھوٹے چھوٹے منظوم قصے بھی وہ ترنم سے پڑھتے تھے۔چھوٹے چھوٹے مصرعے بھی گھڑنے لگے تھے۔ اقبال کی بھاوجہ مہتاب بیگم کا کہنا ہے :
’’اقبال بڑے خوش گلو اور پر سوز آواز کے مالک تھے، بچپن میں وہ ہمیں منظوم قصے بڑے پیارے لحن کے ساتھ سنایا کرتے تھے۔ اکثر اوقات قصے پڑھتے پڑھتے اپنی طرف سے بھی کوئی فقرہ (مصرعہ) اس میں جڑ دیتے تھے۔اور ان کا فقرہ (مصرعہ) ایسا پر اثر ہوتا کہ ہم سب انہیں بے ساختہ داد دیتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بمشکل دس بارہ سال کی تھی۔‘‘ ۱۶؎
 اس سلسلے میں مولوی سید میر حسن کے صاحب زادے سید محمد ذکی اقبال کی بھاوجہ کی زبانی سنیئے:
’’ عورتیں رات کو ازار بند بنا کرتی تھیں۔اور دیر تک ہم اس کام میں لگی رہتیں۔ ڈاکٹر صاحب اس زمانے میں چھوٹے تھے،اور دودو پیسے کے قصے بازار سے خرید کر لاتے تھے، جب تک عورتیں ازار بند بنا کرتیں،ڈاکٹر صاحب قصے پڑھتے رہتے۔ چونکہ آواز بہت اچھی تھی۔اس لئے عورتیں خوشی سے سنتیں۔۱۷؎
مولوی سید میر حسن کے گھر پڑھنے کی وجہ سے ان کی علمی استعداد میں اضافہ ہو گیا تھا۔غالبا دوسری اور تیسری جماعت ایک سال میں پاس کی، چھوٹی ہی عمر میں اقبال بڑے حاضر جواب تھے۔سکول میں طلباء کے درمیان بڑے ہر دل عزیز تھے۔ اساتذہ بھی ذہین اقبال سے پیار ومحبت سے پیش آتے۔روایت ہے کہ ایک روز آپ دیر سے جماعت میں پہنچے۔استاد نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی،تو جواب دیا جناب اقبال دیر سے ہی آیا کرتا ہے۔ ’’بقول مصنف اقبال درون خانہ :‘‘
’’ ایک ناپختہ ذہن سے ایسے با معنی جواب نے استاد کو چونکا دیا،اس نے پس منظر میں جھلکتی ہوئی ایک عظیم شخصیت کا پرتو دیکھا تو سینے سے لگا لیا۔‘‘۱۸؎
اس عمر میں انہوں نے کمرے میں اپنے والد بزرگ وار کو روشنی کے ہالے میں وجدانی کیفیت میں دیکھا۔صبح ماں کے ہمراہ باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔پوچھنے پر شیخ صاحب نے وجدانی کیفیت کی وضاحت کی۔ اقبال باپ کے ہمراہ کابل سے شہر کی طرف آنے والے قافلے کی طرف روانہ ہوئے۔ شیخ صاحب نے قافلہ میں ایک بیمار شخص کے جسم کے متاثرہ حصے پر خاک کی شکل کی کچھ چیز مل دی۔ خدا کی قدرت وہ بیمار شخص اچھا ہو گیا۔۱۹؎ اس واقعہ نے اقبال کو بڑا متاثر کیا۔ باپ کی بزرگی وپارسائی اقبال کے دل میں گھر کر گئی۔
اپریل ۱۸۸۸ء میں اقبال چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔ اس جماعت میں انہیں براہ راست مولوی سید میر حسن سے اردو ،فارسی اور عربی پڑھنے کا موقع ملا۔ اس زمانہ میں انہوں نے سکول کی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔جماعت میں بیت بازی کے مقابلوں میں پیش پیش ہوتے۔سکول میں تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے۔ ادبی مجالس میں شرکت کرتے،سکول کے کھیلوں میں وہ ذوق شوق سے حصہ لیتے،گھر آکر وہ کبوتر بازی کرتے،ان دنوں شرفاء کے بچوں کا کبوتر اڑانا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔کبوتر بازی میں ان کے دست راست مولوی میر حسن کے منجھلے صاحب زادے سید محمد تقی تھے، دونوںگھنٹوں اپنے اپنے مکانوں کی چھتوں پر نظریں آسمان سے لگائے کبوتروں کی اڑان سے لطف اندوز ہوتے،دونوں دوست کبوتر بازی میں اتنے ماہر ہو گئے تھے کہ دور نیل گوں فضا میں محو پرواز کبوتروں کو فورا پہچان لیتے کہ کون سی قسم ہے؟۔اور کون سی نسل؟۲۰؎
آج کے دور کی طرحاقبال کے دور میں بھی سیال کوٹ میں پتنگ بازی بڑے زور شور سے کی جاتی تھی۔اقبال بھی پتنگ اڑایا کرتے تھے۔ گھر میں ہمیشہ اپنی ہمشیرہ کریم بی بی کی گڑیوں کو کبھی صحیح حالت میں نہیں رہنے دیتے تھے۔ بہن کی غیر حاضری میں اس کی گڑیا کی ناک کا ٹ دیتے۔آنکھیں پھوڑ دیتے، دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر گڑیا کو پھاڑ ڈالتے، ذرا بڑے ہوئے تو پہلوانوں کے اکھاڑے میں جانے لگے، لنگر لنگوٹ باندھ کر اکھاڑے میں اترتے تھے۔ تیل کی مالش کرتے، ڈنڈ بیٹھک نکالتے، اکھاڑے میں کس کو استاد بنایا تھا،کچھ معلوم نہیں۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کو قدرت نے شاعر پیدا کیا تھا۔ سکول میں انہوں نے شعر کہنے شروع کر دیئے تھے۔ کس عمر میں پہلا موزوں شعر کہا ،کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
سید نذیر نیازی کا یہ کہنا کہ شاعری کا باقاعدہ آغاز ۱۸۸۵ء میں یا شاید اس سے کچھ پہلے ہو گیا تھا، درست نہیں معلوم ہوتا۔۱۸۸۵ء میں تو وہ پہلی جماعت پاس کرتے ہیں۔ پہلی جماعت پاس کرنے والے لڑکے میں اتنا شعور کہاں، کہ وہ شعر کہہ سکے یا شعر سمجھ سکے۔ سکول کے درجہ مڈل میں طالب علمی کے دوران شعر کہنے شروع کر دیے ہو ں گے۔موزوں شعر کہنے کا زمانہ ۱۸۸۸ سے ۱۸۹۰ع تک کا ہو سکتا ہے۔
آٹھویں جماعت میں وہ سیال کوٹ کے شعری جماعتوں میں شرکت کرنے لگے تھے۔اقبال تخلص اختیار کیا۔ یہ کہنا کہ انہوں نے کالج کے زمانہ میں اقبال تخلص اختیار کیا ،درست نہیں ،کیونکہ اس زمانہ میں عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ مبتدی شاعر پہلے ایک تخلص اختیار کرتا ہے۔ اس عمر میں انہیں موسیقی سے بھی لگاؤ پیدا ہو گیا تھا۔طبیعت حسن وجمال کی طرف مائل ہونے لگی تھی۔ لطیف جذبات واحساسات جنم لینے لگے تھے۔ زبان وتحریر میں ایک عالم کی سی جھلکیاں ظاہر ہونے لگیں۔اقبال اپنی کتابوں پر عموما انگریزی کی یہ تحریر لکھا کرتے تھے۔
’’Steel not the book for fear of shame, Look down and see my power ful name
Mohammad iqbal,’’
صفحہ ۲۳؎
اس زمانے میں شعری نشستیں منعقد کرنے والے کون کون صاحب تھے۔ کون کون سے شعراء ان مشاعروں میں اپنا کلام سناتے تھے۔حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔مولوی سید میر حسن کا یہ کہنا کہاس دور کے شاعر عشق پیچہ ہوا کرتے تھے۔۲۴؎ غالبا ان کی صدارت میں یہ مشاعرے ہوتے۔اس دور کے چند شاعر جن کا راقم کھوج لگا سکا ہے۔ یہ ہیں:
 سید حامد شاہ حامد، پادری امام دین شہباز،غلامی سیال کوٹی، میراں بخش جلوہ سیال کوٹی، محمد اسماعیل ساغر، غلام قادر فصیح، محمد ابراہیم میر، نور الحسن نقش بندی، غلام محمد شگفتہ۔
غلام قادر فصیح کے شاعر ہونے کا کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ تخلص سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ شاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ نویں یا دسویں جماعت میں اقبال نے مرزا داغ دہلوی کی طرف رجوع کیا۔ سلسلہ تلمذ قائم ہو گیا۔ استاد نے کہہ دیا کہ شاگرد کے کلام میں اصلاح کی ضرورت نہیں، بذریعہ داک تعلقات قائم ہوئے۔دونوں میں بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ میر حسن نے داغ کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سکاچ مشن کالج میں تعلیم کے دوران چند اور طلباء شعراء کا اضافہ ہو گیا تھا۔مثلا فضل الہیٰ بیدل، لچھمن داس نیر، اور خواجہ مسیح پال امین حزین، اس دور میں اقبال اپنی غزلیں باہر کے ادبی رسائل میں بھیجنے لگے۔ رسالہ زبان دہلی کی جلد شمارہ۵ کے صفحہ۳ پر اقبال کی پہلی غزل دستیاب ہوئی ہے۔ نومبر ۱۸۹۳ء کا یہ شمارہ ہے۔ اقبال ان دنوں فرسٹ ایر کے طالب علم تھے۔ ایڈیٹر نے غزل کے لئے طرح مصرع
خوب طوطی بولتا ہے ان دنوں صیاد کا
یاد فریاد قافیہ دیا ہوا تھا۔ اقبال نے آٹھ اشعار پر ایک غزل کہی جس کا پہلا شعر یہ ہے:
 کیا مزہ بلبل کو آیا شیوہ بیداد کا
 ڈھونڈتی پھرتی ہے جو اڑ اڑ کر گھر صیاد کا
اس رسالہ کی جلد ۴ شمارہ ۲ میں بابت فروری ۱۸۹۴ء کے صفحہ ۲پر اقبال کی دوسری غزل چھپی ہے۔ طرح مصرع تھا۔
یہ اشارے مجھے پیغام قضا دیتے ہیں
اس طرح مصرع پر اقبال نے دس اشعار کی ایک غزل کہی۔اس کا پہلا شعر ملا حظہ ہو:
جان دے کر تمہیں جینے کی دعا دیتے ہیں
پھر بھی کہتے ہو کہ عاشق ہمیں کیا دیتے ہیں
مقطع ہے:
 گرم ہم پر کبھی ہوتا ہے جو وہ بت اقبال
 حضرت داغ کے اشعار سنا دیتے ہیں
اس شمارے میں اقبال کو شاگرد ہند حضرت داغ دہلوی لکھا ہے۔ ان غزلوں کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ شاعری کی دنیا میں قدم رکھنے والا ایک نیا شخص ہے۔ اشعار میں کوئی خاص اور اچھوتی بات نہیں،کوئی نیا وبلند خیال نہیں،گھسے پٹے خیالات ہیں نہ قافیہ پیمائی ہے۔اور نہ خیال آرائی ،سادہ سے جذبات ہیں۔اشعار کی بنیاد مجازی محبوب ہے۔ روایت پرستی ہے۔ حالانکہ اقبال کی پیدائش سے ایک سال پہلے لاہور میں جدید شاعری کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیال کوٹ کے استاد شعراء اور مبتدی شعراء روایت کی پابندی کا عہد کیے ہوئے ہیں۔سید نذیر نیازی کا یہ کہنا کہ
’’محمد اقبال شعر کہتے ہیں، میر حسن اصلاح دیتے ہیں۔ میر حسن کا ذوق شعر نہایت بلند تھا۔ ان سے شعرو شاعری کی نزاکتوں، عروض اور قوافی کی خوبیوں ،کلام کے محاسن،اورا س کے معائب، غرض کہ ہر اس بات کا سبق سیکھا،جس کا تعلق اس فن کے لوازم سے تھا۔‘‘۲۵؎
اس اقتباس میں میر حسن کے ذوق شعر کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے۔ وہ تو درست ہے، میر حسن سے اصلاح لینے والی بات مصدقہ نہیں۔کیونکہ گزشتہ صدی میں میر حسن صاحب نے شعر کہنے میں اپنے کسی شاگرد کی ہمت افزائی نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ اقبال نے شاعری کے لوازمات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے مولوی صاحب کی طرف رجوع کیا ہوگا۔ اشعار کے معائب اور محاسن سے یقینا آگاہی حاصل کی ہوگی۔لیکن اپنے کلام پر ان سے اصلاح لینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اقبال کا ابتدائی کلام یعنی ۱۸۹۵ء تک اس پایہ یا معیار کا نہیں کہ میر صاحب اس کی تعریف وتوصیف کرتے۔اور زبان دہلی میں چھپی ہوئی متذکرہ غزلوں کی داد دیتے۔ان غزلوں میں رندمی ہے۔ شوخی ہے، ہجر ووصال کے جھگڑے ہیں۔ حسن وعشق کی چپلقش ہے۔میر صاحب جیسا پرہیز گار اور متقی شخص ایسے کلام پر شاباش نہیں دے سکتا تھا۔ اس زمانے میں سیال کوٹ سے وکٹوریہ پیپر، وزیر ہند، شیخ چلی اور وزیر الملک شائع ہوتے تھے۔ چونکہ اس دور کے اخبار ورسائل دستیاب نہیں اس لئے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔کہ آیا ان میں اقبال کا کلام شائع ہوتا تھا یا نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ لکھنئو کا رسالہ ’’پیام یار ‘‘ سیال کوٹ گھر گھر میں پڑھا جاتا تھا۔اوراس میں ان کا کلام چھپتا تھا۲۶؎ ۔اس سلسلے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جہلم سے ان دنوں اخبار ’’سراج الاخبار‘‘ نکلتا تھا۔ اس میں تو اقبال کا کوئی کلام نہیں ملا، جب کہ میراں بخش جلوہ سیالکوٹی،ساغر سیالکوٹی، اور چند دوسرے سیالکوٹی شعراء کا کلام اس اخبار میں شائع ہوتا تھا۔زبان دہلی کی غزلیں پڑھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ اقبال نے ابھی فارسی میں شعر کہنا شروع نہیں کیا تھا۔ کچھ محقیقین کا یہ خیال کہ فارسی میں بھی شعر کہنے کا آغاز سیال کوٹ میں ہو گیا ہوگا۔۲۷؎ درست معلوم نہیں ہوتا۔کیونکہ اردو کے کلام میں اگر متانت اور پختگی آگئی ہوتی تو پھر وہ فارسی میں شعر کہنے کی طرف مائل ہو سکتے تھے۔
شہر میں مختلف مذاہب اور مختلف عقائد کے حامل افراد کی اپنی اپنی انجمنیں تھیں۔ انجمن پنجاب سیال کوٹ،اور نیشنل کانگریس سیالکوٹ ایسی انجمنیں تھیں ،جن میں ہندو ،سکھ،مسلم اور عیسائی شرکت کرتے تھے۔اقبال ان انجمنوں میں شرکت کرتے،ان کی کاروائیوں میں حصہ لیتے۔ انجمن اسلامیہ سیالکوٹ مسلمان طبقہ کی فلاح وبہبود کے لیے مخصوص تھی، اقبال اس کے اجلاس میں ضرور شرکت کرتے،اوراس کی کاروائیوں میں گہری دل چسپی لیتے۔
سکاچ مشن کالج میں داخلہ لینے سے ایک روز قبل اقبال کی شادی گجرات میں ڈاکٹر عطا محمد کی بڑی صاحب زادی سے ہو گئی۔مئی ۱۸۹۳ء کا مہینہ دعوتوں اور سسرال آنے جانے میں گزرا۔ شادی کے بعد ان کی شاعری میں ایک تبدیلی آگئی ہوگی۔اب تو وہ ان دیکھے مجازی محبوب کی بجائے اصل محبوب سے مخاطب ہوتے ہوں گے۔ اپنے لطیف جذبات واحساسات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر شعروں کی صورت میں پیش کرتے ہوں گے۔ صد افسوس اس دور کا کلام محفوظ نہیں،ورنہ ہم اندازہ کر سکتے کہ شادی کے بعد ان کی شاعری میں کس قسم کی تبدیلی آئی تھی۔خواجہ محمد مسیح پال امین حزیں کہتے ہیں کہ :
’’وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے اور اقبال سیکنڈ ایر میں ،مجھے خوب یاد ہے کہ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب نے (اقبال) ایک دفعہ کالج سے سکول تشریف لا کر اپنے کچھ شعر مجھے سنائے تھے۔۲۸؎
 امین حزیں کا سال ولادت ۱۸۸۴ئ۲۹؎ ہے۔ اقبال ۱۸۹۴ئ۹۵۔ میں امین حزیں آٹھویں جماعت کے طالب علم کس طرح ہو سکتے تھے۔؟ تیسری یا چوتھی جماعت کے طالب علم ہو سکتے تھے۔ یہ ماننے والی بات نہیں ہے کہ سیکنڈ ایر کا ایک لڑکا تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھنے والے لڑکے کو اپنے اشعار سنائے۔
ڈسکہ کے چوہدری جلال الدین ۱۸۹۵ء میں سیالکوٹ میں دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔اور اقبال کالج میں زیر تعلیم تھے۔ چوہدری جلال الدین نے انٹرس کرنے کے بعد ۱۸۹۵ء میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ایر میں داخلہ لیا ،تو اقبال نے بھی یہاں تھرڈ ایر میں داخلہ لیا تھا۔ چوہدری جلال الدین نے اپنے عزیز غلام بھیک نیرنگ سے اقبال کا تعارف بطور ایک شاعر کے کرایا تھا ۳۰؎
شیخ نور محمد کا گھرانا ایک خالص پنجابی گھرانا تھا۔ روز مرہ کی زندگی میں سیال کوٹ کے مخصوص لب ولہجہ میں بات چیت ہوتی،اقبال نے اس ماحول میں پرورش پائی۔ساری عمر سیالکوٹ کے مخصوص لب ولہجہ کو سینہ سے لگائے رہے۔اس سے ہٹ کر انہوں نے بات نہیں کی۔ اگر کسی نے ان کو کسی لفظ کے تلفظ پر ٹوکا تو اسے دو ٹوک جواب دیا:
’’ میری ماں نے تو مجھے یہی سکھایا ہے، میں اپنی ماں کی تعلیم کو فراموش نہیں کر سکتا‘‘۔۳۱؎
حواشی باب
۱۔کشمیر درپن،جلد۱۔ نمبر۹،ستمبر۱۹۰۳ء


جلد۱۔ نمبر۱۱۔ نومبر ۱۹۰۳ء


۲۔ زندہ رود جاوید اقبال۔حصہ اول
ص۴
۳۔زندہ رود۔جاوید اقبال۔ حصہ اول
ص۶
۴۔۵
ص۱۸
۶۔یہ رپورٹ پہلی بار اقبال ریویو۔اقبال اکادمی پاکستان لاہور جولائی ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی۔یہ یاد رہے کہ گزشتہ صدی کے نصف آخر میں محمد اقبال کے علاوہ ایک اور لڑکا اقبال سنگھ سیالکوٹ میں موجود تھا۔جو شام سنگھ ہندو کھتری کا لڑکا تھا۔اقبال ۱۲ ساڑھے بارہ سال کی عمر میں یکم اپریل ۱۹۰۰ء کو انتقال کر گیاتھا۔ محلہ دیارو وال میں رہتا تھا۔دیکھیے رجسٹر اموات سیالکوٹ حوالہ نمبر ۳۲۲


۷۔نقوش لاہور۔اقبال نمبر۔۲ شمارہ ۱۲۳۔دسمبر ۱۹۷۷ء
ص ۱۵
۸۔پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء پارٹ ۲
ص ۲۷۰
۹ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۹۔۱۸۹۰ء
ص۱۷
۱۰ ۔پنجاب گزٹ ۱۸۹۳ء پارٹ تھری
 ص۶۹۱
۱۱۔زندہ رود جاوید اقبال ۔حصہ اول
ص۴۶
۱۲۔دانائے راز۔ڈاکٹر وحید قریشی نے یہ انٹرویو ۱۹۷۳ء میں لیا تھا۔
ص۱۳
نقوش ۔اقبال نمبر ۲
ص۱۶
۱۴۔علامہ اقبال کے استاد،شمس العلماء مولوی سید میر حسن
ص۱۲۹
۱۵۔روایات اقبال۔پروفیسر منظور احمد ،ہمشیرہ زادہ علامہ اقبال کا انٹرویو
ص۱۸۰
۱۶۔ اقبال درون خانہ۔خالد نظیر صوفی لاہور ۱۹۷۱ء
ص۱
۱۷۔ روایات اقبال
ص۳۹
۱۸۔اقبال ۔درون خانہ
ص۹
۱۹۔اقبال ۔ از عطیہ بیگم،اقبال اکادمی کراچی ۱۹۵۶ء
ص۴۔۵۔۶۔۶
۲۰۔ دانائے راز۔ سید نذیر نیازی
ص۶۷
۲۱۔اقبال ۔درون خانہ
ص۷۵
۲۲۔دانائے راز
ص۲۱۲
۲۳۔دانائے راز
ص۱۷
۲۴۔نقوش مکاتیب نمبر،جلد۲،میر حسن کا مکتوب محمد دین فوق کے نام
ص۸۰۵
۲۵۔دانائے راز
ص۷۷
۲۶۔ دانائے راز
ص۸۳
۲۷۔دانائے راز
ص۸۷
۲۸۔روایات اقبال
ص۱۸۹
۲۹۔ تاریخ سیالکوٹ،رشید نیاز ،مکتبہ نیاز سیالکوٹ ۱۹۵۸ء تاریخ پیدائش ۱۴ اگست ۱۸۸۴ء ہے۔ معاصرین اقبال کی نظر میں محمد عبد اللہ قریشی 
ص۲۰۰
مجلس ترقی ادب لاہور ۱۹۷۷ء 
ص۵۳۳
۳۰۔چند یادیں چند تاثرات۔عاشق حسین بٹالوی،آئینہ ادب لاہور ،۱۹۶۹ء
ص۱۵۰
۳۱۔اقبال درون خانہ 
ص۱۵
باب نمبر ۲
سیالکوٹ کی معاشرتی زندگی
۱۔ضلع اسکول
فروری ۱۸۴۹ء میں انگریزوں نے گجرات کے مقام پر سکھوں کو شکست دے کر کلی طور پر پنجاب پر قبضہ کر لیا۔زندگی کے ہر شعبہ میں اصلاحات نافذ کیں۔انتظامی لحاظ سے ہر شعبہ کو پختہ بنیادوں پر قائم کیا۔بڑے بڑے شہروں میں ضلع سکول کے نام سے تعلیمی ادارے قائم کیے۔سیالکوٹ میں بھی ۱۸۵۴ء میں حکومت نے ایک ضلع سکول قائم کیا۔اسی سکول میں مولوی سید میر حسن نے آٹھویں تک تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ اسکول اینگلو ورنیکلر مڈل سکول تھا۔ حکومت ۱۲۰ روپے ماہوار مالی امداد دیتی تھی۔
اپریل ۱۸۵۶ء کے ایک اجلاس میں امریکن مشن سکول مسٹر اسٹیونسن(Stevenson) کی تحویل میں دے دیا گیا۔ ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن نے امریکی مشن سکول کو ہر طرح مدد کا یقین دلایا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ اس کے مد مقابل ضلع سکول کو بند کر دیا جائے گا۔۱؎ لیکن یہ ضلع سکول تو بند نہ ہو سکا، امریکی سکول بند ہو گیا۔
مئی ۱۸۶۸ء میں حکومت نے نصف قیمت پر ضلع سکول کو سکاچ مشن کے ہاتھ فروخت کردیا۲؎۔ مشن نے دو ہزار روپے میں ضلع سکول کی وسیع وعریض پختہ عمارت خرید لی۳؎
۲۔امریکی مشن سکول۴؎
۱۸۵۴ء میں حکومت کے ایما ء پر ایک امریکی شخص ریورنڈ ٹی،ایچ، فٹنر پیٹرک (Rev,T,H,Fitzpartrick) نے شہر سیالکوٹ میںایک پرائمری سکول قائم کیا۔ یہ شخص امریکن یونائیٹڈ پریزبائیٹرین مشن سے تعلق رکھتا تھا،اس سکول میں تیس لڑکے پڑھتے تھے۔ یہ لڑکے ہندو،سکھ اور مسلمان گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔پہلی جماعت ہی سے بائیبل پڑھائی جاتی تھی۔ ایک مقامی مسلمان کو سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔ تیس روپے ماہوار خرچہ تھا۔فٹنر پیٹرک خود تو امرتسر میں رہتا تھا۔ لیکن سکول کا انتظام ایک لوکل کمیٹی کے سپرد تھا۔ لوکل کمیٹی میں میجر ڈیوس (DAVIS) سی،ایم، فٹنر گیر لڈ (C,M,Fitzger ald) اور لیفٹیننٹ اے ،ہیتھ (A,Heath) شامل تھے، چند ماہ کمیٹی نے سکول کو چلایا۔اسی دوران اینڈریو گورڈن امریکہ سے اگست ۱۸۵۵ء میں سیال کوٹ پہنچا۔اس کی ملاقات کیپٹن سر جان میل سے ہوئی (J,Mill)۔فٹنر گیرلڈ سے بھی ملاقات ہوئی۔اس نے مذکورہ سکول کوگورڈن کو تحویل میں دینے کی پیش کش کی۔گورڈن لوکل کمیٹی کے دوسرے ارکان سے ملا، کمیٹی کے اراکین سکول کے لئے وقت نہیں نکال سکتے تھے۔اس لئے انہوں نے گورڈن سے کہا کہ وہ نصف گھنٹہ سکول کو دیا کرے،گورڈن رضا مند ہو گیا۔ اپریل ۱۸۵۶ء میں سکول کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں سکول کو ریو رنڈ اسٹیونسن (E,H,Stevenson) کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔سکول کی کار کردگی کو مشنری کاموں کے لیے سود مند تسلیم کیا گیا۔اجلاس میں مشن کے تحت ایک یتیم خانہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب کے ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن بھی اجلاس میں موجود تھے۔ انہوں نے حکومت کے ضلع سکول کو بند کرنے کا وعدہ کیا، تاکہ مشن کا یہ سکول ترقی کر سکے۔ ۱۲ فروری ۱۸۵۷ء کو سکول کی پہلی سالانہ رپورٹ ایک اجلاس میں پیش کی گئی۔۱۱ مئی ۱۸۵۷ ء کو سکول کی پہلی سالانہ رپورٹ ایک اجلاس میں پیش کی گئی۔۱۱ مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ سے فوجوں نے جنگ آزادی کی ابتداء کردی، بذریعہ تار سیالکوٹ کے انگریز حکام کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔سر جان لارنس نے تمام انگریزوں کولاہور قلعہ میں پناہ لینے کو کہا۔
سکاچ مشن کے پادری نے پناہ لینے سے انکار کر دیا۔امریکن مشنری ۱۱ جون کو صبح نو بجے سیالکوٹ سے چلے، اور ۱۳ جون کو آٹھ بجے صبح لاہور قلعہ میں پہنچ گئے۔ امن وامان قائم ہونے پر یہ لوگ ۲۲ جولائی کو واپس سیالکوٹ آگئے۔ سکاچ مشن کے پادری ہمنگامہ میں قتل ہو چکے تھے۔ اس لیے سکاچ مشن وقتی طور پر بند ہو گیا۔
امریکی مشن نے سکاچ مشن کے محمد اسماعیل کو امریکن سکول میں ملازمت کرنے کی پیش کش کی۔ سکاچ مشن کے نہ ہونے کی وجہ سے محمد اسماعیل نے یہ پیش کش قبول کرلی۔اور کچھ عرصہ اس سکول میں کام کیا۔ فنڈ کی کمی کی وجہ سے امریکی مشن کو دقت کا سامنا کرنا پڑا۔۱۸۶۲ء میں مشن نے اپنی کچھ اراضی واقع بارہ پتھر میں پندرہ سوپونڈ میں سکاچ مشن کو فروخت کر دی۔ ۱۸۶۳ء میں امریکن مشن نے سکول بند کر دیا۔اور سکول کی عمارت کو سکاچ مشن کے ہاتھوں فروخت کردیا۔ ۲۸ نومبر ۱۸۶۴ء کو اینڈریو گورڈن واپس امریکہ چلا گیا۔اس کے جانے کے بعد ریورنڈ جیمز ایس بار (Rev,James ,S,Barr)۔۔۔۔۔ امریکی مشن کا سربراہ مقرر ہوا۔بار نے فروری ۱۸۶۵ء میں نئے سرے سے امریکن مشن سکول قائم کیا۔ایک مقامی شخص کو سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔ اس دفعہ سکول کے قیام میں ایک ٹھہراؤ پیدا ہو گیا۔لڑکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ لائق اساتذہ کو ملازم رکھا گیا۔ ۱۸۷۶ء میں یہ سکول ہائی درجہ پر ترقی پا گیا۔ ۱۸۷۸ء میں پہلی بار یہاں لڑکوں نے انٹرس کا امتحان دیا۔صرف دو لڑکے ایسر داس ،اور بسنت کمار کامیاب ہوئے۔ سکاچ مشن سکول کے لڑکوں کی طرح یہاں کے لڑکوں کو بھی کلکتہ یونیورسٹی کا امتحان دینا پڑتا تھا۔۱۸۸۰ء میں یہاں کے دو لڑکوں نے کلکتہ یونیورسٹی کا امتحان دیا۔ دونوں میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا، دونوں انگریزی میں فیل ہوئے۔اس کے علاوہ ایک اور لڑکا ریاضی میں فیل ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی میں بھی کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔
۱۹۲۵ء میں یہ سکول بند کر دیا گیا۔اراضی شہریوں کو فروخت کر دی گئی۔ وجہ یہ تھی کہ امریکن مشن نے بارہ پتھر کے اپنے کرسچین ٹریننگ انسی ٹیوٹ کو ہائی کا درجہ دے دیا تھا، اس لیے شہر میں سکول کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔
 امریکن مشن کے پادریوں اورا س مشن سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے تقریبا چار ہزار روپیہ اکٹھا کرکے شہر میں حاجی پورہ میں ایک شان دار چرچ تعمیر کیا۔۱۴ اگست ۱۸۵۹ء کو چرچ کی بلڈنگ مکمل ہوئی۔
۳۔ سنگھ سبھا اینگلو ورنیکلر اسکول
۱۸۸۴ء میں سیال کوٹ شہر کے سکھوں نے ’’گرو سنگھ سبھا ‘‘ کے نام سے اپنی ایک تنظیم قائم کی تھی ۵؎۔ا س سبھا کے تحت انہوں نے ایک اینگلو ورنیکلر سکول بھی قائم کیا۔سکول کے قیام میں سردار بدھ سنگھ کی کوششوں کو بڑا دخل حاصل تھا۔ سردار صاحب سکول کے پہلے ماسٹر مقرر ہوئے۶؎
 میو نسپل کمیٹی نے سیال کوٹ نے ۱۸۷۷ء میں جب جدید سکول قائم کیا تو اس اینگلو ورنیکلر سکول کو جدید سکول میں مدغم کر لیا۔
۴۔گورنمنٹ ہائی سکول
 سیالکوٹ میں امریکی مشن اور سکاچ مشن کا بنیادی مقصد مسیحت کی ترویج واشاعت تھا۔ یوں تو یہ ادارے ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ آزادی سے قبل قائم ہو چکے تھے۔ لیکن ان کو استحکام ۱۸۵۷ء کے بعد ملا، ۱۸۵۷ء کے بعد پہلی بار ایک چوہڑا جوہری دین مسیح میں داخل ہوا، ۷؎ مئی ۱۸۶۸ء میں حکومت نے ضلع سکول سکاچ مشن کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ مئی ۱۸۷۷ء میں سکاچ مشن سکول میں تین لڑکے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر عیسائی ہو گئے۔ان میں ایک مسلمان تھا ،اور دو ہندو۔شہریوں میں بڑی بے چینی پھیلی۔ وہ مشنری اداروں کے خطرناک عزائم سے سہم گئے۔سیال کوٹ میں سید وزیر علی ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر تھے۔ لوگ ان سے ملے، میونسپل کمٹیی کے سیکرٹری سے ملاقات کی، اور فیصلہ ہوا کہ میونسپل کمیٹی خود ایک سکول کھولے، چار صد ماہوار اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا۔۸؎ یہ ادارہ دس برس تک پورا نہ ہوسکا، کیونکہ عیسائی حکام راستہ میں حائل تھے۔
اواخر دسمبر ۱۸۸۶ء اور ابتدا جنوری ۱۸۸۷ میں سیال کوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے ڈائرکٹر مدارس پنجاب کے مشورہ سے شہر میں ایک جدید سکول کھولنے کی منظوری دے دی۔ شہر کے روساء اور میونسپل کمیٹی کے ممبران نے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔مجوزہ سکول میں عربی، فارسی، سنسکرت اور انگریزی علوم انٹرس تک پڑھائے جانے کا اعلان کیا گیا۹؎ ۔اس سلسلے میں ایک خبر ملا حظہ ہو۔
’’ جدید سکول پختہ طور پر منظور ہو گیا ہے۔ اس کا نام ہائی سکول ہوگا، سات ہزار دو سوروپیہ سالانہ خرچ ہوگا۔ ایک ثلث بلدیہ وشہری دیا کریں گے۱۰؎
 شہر کے چوبیس معززین نے کمشنر کو ایک تحریر دی کہ وہ پانچ برس تک اپنا چندہ باقاعدگی سے دیا کریں گے۔سکول کے لئے اساتذہ کا انتظام بھی کر لیا گیا۔ ۱۶ فروری ۱۸۸۷ء کو ملک کے دوسرے شہروں کی طرح سیالکوٹ میں بھی جشن جوبلی منایا گیا۔ سرکاری سطح پر لوگوں سے چندہ وصول کیا گیا۔ آتش بازی چھوڑی گئی۔ ناچ مجرا بھی کرایا گیا۔ ان تفریحات سے بچی ہوئی رقم جدید سکول کے فنڈ میں دے دی گئی۔۱۱؎
سید وزیر علی کا مکان کرایہ پر حاصل کرکے یکم مارچ ۸۸۷اء کو پرائمری مدرسہ نے اپنا کام شروع کر دیا۔گرو سنگھ سبھا کا مدرسہ بھی اس میں مدغم ہو گیا۔ سنگھ سبھا مدرسے کے ہیڈ ماسٹر بدھ سنگھ کو اس نئے پرائمری سکول کاپہلا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔۱۸۸۶ء میں چھٹی جماعت بھی شروع کی گئی۔ ۱۸۸۷ء میں یہی جماعت ساتویں جماعت میں ترقی پا گئی۔ یہاں تک کہ سکول کی آٹھویں جماعت نے پہلی بار ۶ جنوری ۱۸۹۰ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے تحت مڈل کا امتحان دیا۔ سولہ لڑکے کامیاب ہوئے ۱۲؎۔ امتحانی مرکز سکاچ مشن ہائی سکول سیال کوٹ تھا۔ امتحان کے سپر نٹنڈنٹ پادری ینگسن تھے۔
۲۳ اگست ۱۸۹۰ء کو میونسپل کمیٹی کے ٹاؤن ہال میں ایک جلسہ تقسیم انعامات منعقد ہوا۔ڈپٹی کمشنر صدر تقریب تھے۔تقریب میں گزشتہ تین برس کی کار کردگی کا تفصیلی جائزہ ایک رپورٹ کی صورت میں پڑھا گیا۔ تقریب میں عربی ،فارسی،اردو ،انگریزی اور سنسکرت میں نظمیں پڑھی گئیں۔تقریب بڑی بارونق تھی، شہریوں نے بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ کو جیب گھڑی اور کتب انعامات میں دی گئیں۱۳؎
۱۸۹۰ء میں مڈل کا امتحان پاس کرنے والے طلباء پر مشتمل نویں جماعت کا اضافہ کیا گیا۔اس طرح ہائی سکول بن گیا۔۱۸۹۲ء میں یہاں کے لڑکے پہلی بار پنجاب یونیورسٹی لاہور کے تحت انٹرس (میٹرک) کا امتحان دیتے ہیں۔اس امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبا یہ تھے ۴؎
رول نمبر
نام
حاصل کردہ نمبر
ڈویژن
۸۴
گنپت رائے
۲۰۴
دوئم
۸۱۸
علی محمد
۲۳۷
فرسٹ
۸۱۹
اللہ رکھا
۲۱۶
سکینڈ
۸۲۱
غلام رسول
۲۶۰
فرسٹ
۸۲۵
تیجہ سنگھ
۳۳۴
فرسٹ
سکول دو حصوں پر مشتمل تھا۔حصہ پرائمری کے ہیڈ ماسٹر بدھ سنگھ تھے۔حصہ ہائی کے ہیڈ ماسٹر بابو مولا مل تھے۔مولا مل ۱۵ اپریل ۱۸۹۲ء کو یہاں تعینات کیے گئے تھے۔۱۴ فروری ۱۸۹۳ء کے اجلاس میںمیونسپل کمیٹی سیالکوٹ نے ان کو مستقل طور پر ہیڈ ماسٹرمقرر کر دیا، اور ایک صد روپیہ مشاہرہ مقرر کیا۔ مذکورہ اجلاس میں بابو صاحب کی کار کردگی کی تعریف بھی کی گئی۔۱۵؎ جولائی ۱۸۹۳ء میں سکول کا نام ’’وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول‘‘ رکھا گیا۔ ۳۰ جنوری سے دو فروری ۱۸۹۴ء سکول میں ضلعی سکولوں کے طلباء کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ہوئے۱۶؎ ۱۸۹۴ء کے یونورسٹی کے انٹرس کے امتحان میں سکول کے ۲۳ لڑکوں میں سے ۱۷ لڑکوں نے کامیابی حاصل کی۔ اسی سال مڈل کے امتحان میں یہاں کا ایک لڑکا پنجاب میں اول رہا ۱۷؎
گزشتہ صدی کے آخری یا موجودہ صدی کے ابتدائی سالوں میں ڈسکہ کے مولوی محمد فیروز الدین یہاں کے مدرس فارسی تھے۔ نومبر ۱۹۰۴ء میں لدھا سنگھ بی ،اے یہاں کے ہیڈ ماسٹر تھے۔
حکومت پنجاب نے نئی تعلیمی اسکیم کے تحت ضلع اور ہیڈ کوارٹرز کے ہائی سکولوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اور اس طرح ۱۹۰۶ء میں یہ ’’گورنمنٹ ہائی سکول‘‘ کہلایا جانے لگا۔ تبدیلی نام کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تعداد اور مشاہرے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اساتذہ کو سبک دوشی کے بعد پنشن کا حق دار قرار دیا گیا ۱۸؎
۴ فروری ۱۹۰۹ء کو ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی زیر صدارت ساڑھے دس بجے سکول میںایک انعامی جلسہ منعقد ہوا۔جلسہ بڑا پر رونق تھا۔دل پذیر تقریروں اور نظموں سے سامعین کو مسحور کیا گیا۔امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو انعامات دیئے گئے۔۱۹؎ ۱۰ فروری ۱۹۱۷ء کو سکول ہذا میں انجمن ترقی علوم (The Socity for promoting Scientific Knowledge)   کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر تھے۔ مرے کالج سیالکوٹ کے پروفیسر لالہ رام رتن ایم، ایس ،سی نے اس تقریب میں بڑی سر گرمی سے حصہ لیا ۲۰؎
موجودہ عمارت کا سنگ بنیاد لاہور کے ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن نے ۱۸ جنوری ۱۹۱۶ء کو رکھا۔دو سال میں یہ وسیع وعریض عمارت مکمل ہوئی۔آج کل اس کا نام گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول ہے۔
۵۔سکول برائے یورپی طالبات ۲۱؎
 سیالکوٹ چھاؤنی میں لڑکیوں کے لئے ایک پرائیویٹ سکول ۱۸۸۲ء میں موجود تھا۔اس میں یورپ اور یوریشیا کی ۳۰ سے زائد غیر ملکی لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔سیالکوٹ کے ایک مشنری ادارے کانونٹ آف جیزز میری نے اسے قائم کیا تھا۔ اور یہاں کی نن (NUNS)  ان کو تعلیم دیتی تھیں۔فیسوں سے سکول کے اخراجات پورے کیے جاتے تھے۔
۶۔کرسچین ٹریننگ انسی ٹیوٹ
۱۸۸۰ء کے لگ بھگ انڈیانہ (Indiana) کے آرچی بالڈ اسٹیوارٹ (ARchibald Stewart) نے بورڈ آف فارن مشن کو چالیس ہزار پونڈ کا عطیہ دیا۔ کہ اس سے ہندوستان اور مصر میں تبلیغی مشن کے مراکز قائم کیے جائیں۔سیالکوٹ مشن نے اپنا حصہ الہایات کی تعلیم کے لئے مختص کر دیا۔ امریکن مشن نے بارہ پتھر سیالکوٹ میں سکاچ مشن سے اراضی خرید کر کرسچین ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔۱۸۸۲ء میں یہاں مڈل درجہ تک تعلیم دی جانے لگی۔دنیاوی تعلیم کے علاوہ یہاں مسیحت کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ امریکن مشن اپنے مبلغوں کو یہاں دینی تعلیم دے کر تیار کرتا۔اور ان سے تبلیغی کام لیتا۔ انسٹی ٹیوٹ میں ’’السٹیوارٹ ہال‘‘ بھی موجود تھا،جو آرچی ہالڈ اسٹیوارٹ کی یاد دلاتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ میں طلباء کے لئے رہائش کی سہولتیں بھی موجود تھیں۔ پادری امام دین شہباز نے جب امریکن مشن میں شمولیت اختیار کی،تو وہ اس درس گاہ میں کئی برس تک دینی ودنیاوی تعلیم دیتے رہے۔ مشن نے ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ کے ہوسٹل کو ان کے نام سے منسوب کر دیا۔
۱۹۲۳ء میں یہاں نویں جماعت کا اضافہ کیا گیا۔ ۱۹۲۵ء میں پہلی بار یہاں کے لڑکوں نے یونیورسٹی میں میٹرک کا امتحان دیا۔اس طرح ۱۹۲۵ء سے یہاں ہائی درجہ تک تعلیم دی جانے لگی۔ سیالکوٹ شہر میں امریکن مشن نے اپنا ہائی سکول بند کر دیا۔کیونکہ اس ہائی سکول کے ہوتے ہوئے اب شہر کے ہائی سکول کی ضرورت نہ رہی تھی۔ ۱۸۸۲ء میں سکول کے ہیڈ ماسٹر رابرٹ اسٹیوارٹ تھے۔
کتب خانے واساتذہ
 سیالکوٹ سیاست سے زیادہ علمی وادبی مرکز رہا ہے۔ مغلیہ دور میں استاذی مولانا کمال الدین ہوئے ہیں،جو سیالکوٹ کی مسجد وارث میں درس دیا کرتے تھے۔ان کے شاگرد ملک العلماء علامہ عبد الحکیم (م۔۱۰۶۷ھ۔ ۱۶۵۶ئ) اور حضرت مجدد الف ثانی (۶۴۔۱۵۶۳ء سے ۱۶۲۴ئ) تھے ، جن کی علمیت اور قابلیت کا زمانہ معترف ہے۔ایک طرف تو یہ سینکڑوں طالب علموں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے تھے، تو دوسری طرف اساتذہ کے کتب خانوں میں نادر سے نادر قلمی کتب جمع تھیں۔ ان کے شاگرد اور علم وادب سے شغٖف رکھنے والے حضرات مستفیض ہوتے،علامہ عبد الحکیم خود بھی مصنف تھے۔ اور صاحب درس وتدریس بھی تھے۔بادشاہ وقت نے ان کو جاگیر بھی عطا کی تھی۔اس لئے حصول کتب میں انہیں کوئی دشواری پیش نہ آتی تھی۔ان کا کتب خانہ مولانا سید میر حسن(۱۹۲۹ء ۔۱۸۴۴) کی ابتدائی زندگی میں موجود تھا۔ یہ نادر کتب خانہ سکھوں کی دہشت گردی کا شکار ہوا۔ اس کا بچا کھچا حصہ ۱۸۴۸ء اور ۱۸۵۷ء کے ہنگاموں کی نذر ہو گیا۔ مولوی سید میر حسن محمد دین فوق کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ افسوس خلف وہ نہ نکلے جو سلف تھے۔ سلف بنانے کے لئے آئے تھے، خلف برباد کرنے کے لئے پیدا ہوئے تھے۔وہ کتب خانہ نااہلوں کے پاس آکر رفتہ رفتہ تباہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ سکھوں کے زمانے میں جب سیالکوٹ لوٹا گیا،شہر میں آگ لگائی گئی،تو مولوی عبد الحکیم کا نادر کتب خانہ بھی جو اپنے زمانے میں شمالی ہند کا لا جواب دار الکتب تھا، سکھوں نے جلا دیا‘‘ ۲۴؎
سکھ عہد کے اختتام تک شہر میں کوئی بڑا کتب خانہ وتعلیمی مرکز نہیں تھا۔مساجد سکھوں کی بربریت سے بچی رہی تھیں۔ اس لیے یہاں درس وتدریس میں سے منسلک علماء وفضلاء اپنے فرائض منصبی میں مگن رہے۔ ۱۸۵۰ء سے ۱۹۰۰ء تک سیالکوٹ میں درج ذیل علماء وفضلا درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان اساتذہ کے اپنے کتب خانے بھی تھے۔جن سے وہ خود اور ان کے شاگرد استفادہ کرتے تھے۔
۱۔ مولانا شیر محمد
۲۔ مولوی سید میر حسن
۳۔ مولوی غلام حسن
۴۔ مولانا غلام مرتضیٰ
۵۔ مولوی غلام مصطفیٰ : میانہ پور میں رہتے تھے۔ علامہ عبد الحکیم کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے ہاں درس وتدریس کا کام نہ تھا۔ لیکن ذاتی مطالعہ کے لیے ایک ذخیرہ کتب موجود تھا ۲۴؎
۶۔مولوی محبوب عالم: سرکاری مدرسہ میں ملازم تھے۔ ملازمت سے مستعفیٰ ہو کر گوشہ نشین ہو گئے۔ان کی فارسی دانی کی بہت شہرت تھی،۲۴؎ روایت ہے کہ مولوی سید میر حسن نے ان سے کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی تھی۔سکاچ مشن سکول،سکاچ مشن کالج،امریکن مشن سکول اور میونسپل بورڈ ہائی سکول کے اپنے اپنے کتب خانے تھے۔طلباء ان سے ضرور استفادہ کرتے تھے۔میونسپل کمیٹی ۱۸۶۷ء میں قائم ہوئی۲۵؎۔چند سالوں بعد کمیٹی نے اپنا ایک کتب خانہ قائم کیا۔ جہاں شہری کتب بینی کے علاوہ اخبار اور رسائل بھی پڑھتے تھے۔۱۸۹۱ء میں اس کتب خانے کا نام ’’منٹگمری لائبریری ‘‘ تھا۔۲۶؎ ۔۱۸۹۵ء میں اسے پبلک لائبریری کے نام سے پکارا جانے لگا۔۲۷؎ ان دنوں اسے علامہ اقبال میموریل لائبریری کا نام دیا گیا ہے۔
انجمنیں
۱۔گرو سنگھ سبھا
 سیالکوٹ کے سکھوں نے ۱۸۸۴ء میں اسے قائم کیا۲۸؎۔ سردار بدھ سنگھ کو اس کا بانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد گرومکھی رسم الخط کی اشاعت تھا۔گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں اس کا صدر پریم سنگھ مہنت بابا کی بیری تھا ۲۹؎۔ اس سبھا کے تحت بدھ سنگھ نے ایک اینگلو ورنیکلر سکول بھی قائم کیا تھا۔ جو بعد میں جدید سکول میں مدغم ہو گیا۔۳۰؎ ۔موجودہ اقبال چوک میں بھی اس سبھا نے ایک پرائمری مدرسہ قائم کیا تھا۔ جو بعد میں پل ایک پر خالصہ ہائی سکول کے نام سے موسوم ہوا۔
اوبرائے خاندان کے گنڈا سنگھ،جھبنڈا سنگھ، اور شب دیو سنگھ اس سبھا کے سرگرم رکن تھے۔
۲۔جین سبھا
 شہر میں جین مت عقائد کے حامل ہندوؤں نے ۱۸۹۰ء میں اس جماعت کو قائم کیا ۳۱؎
۳۔برہمو سماج
 یہ تنظیم بھی اقبال کی ابتدائی زندگی کے دوران موجود تھی۔ اس کا مقصد خدا ئے واحد کی پرستش اور ترک بت پرستی،ستی کی وحشیانہ رسم کو ختم کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل تھا۔
ہندوستان میں راجا رام موہن رائے (۱۸۳۳۔۱۷۸۲) نے ۱۸۳۰ء میں اس تنظیم کو قائم کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں اس کی شاخیں قائم ہو گئیں۔
۴۔آریہ سماج
 ۱۸۸۴ء میں یہ جماعت قائم ہوئی۔اس کا مقصد ویدوں کی تعلیم اور سنسکرت زبان وادب کی اشاعت تھا، مگر عملی طور پر سیاست کو اس میں زیادہ دخل تھا۔ سیالکوٹ کے وکیل لالہ گنگا رام ۱۹۰۵ء میں اس کے سیکرٹری تھے۔۳۳؎۔ لالہ بھیم سین معروف وکیل بھی اس کے سرگرم رکن تھے۔ اس جماعت کے اراکین اسلام اور عیسائیت پر آئے دن تنقید کرتے رہتے تھے۔ شہر کے منشی کریم بخش نے ۱۸۹۸ء میں سیالکوٹ نے پندرہ روزہ رسالہ انوار السلام جاری کیا۔ اس رسالہ میں آریہ سماج کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے جاتے تھے۔
ہندوستان میں سوامی دیا نند (پ،۱۸۲۴ء ) نے ۱۰ ،اپریل ۱۸۷۵ء کو بمبئی شہر میں بنیاد رکھی تھی۔۳۴؎
۵۔نیشنل کانگرس
 ملکی سطح پر نیشنل کانگرس کی بنیاد ۱۸۸۵ء میں رکھی گئی۔ یہ خالصتا ایک سیاسی جماعت ہے۔ سیالکوٹ میں گزشتہ صدی کی دسویں دہائی کے ابتدائی سالوں میں یہ جماعت قائم ہوئی۔۱۳ اکتوبر ۱۸۹۳ء کو لالہ نہال چند بیرسٹر کے مکان پر نیشنل کانگرس کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ تھی،اور مسلمان آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ زیادہ تعداد طلباء کی تھی۔ ہر اتوار کو جلسہ ہوتا تھا۔ طلباء بڑے شوق سے اس میں شرکت کرتے تھے۔ان کے لئے یہ ایک بہترین شغل تھا۔۳۵؎
۶۔سناتن دھرم
شہر کے ہندوؤں نے ۱۸۸۹ء میں سناتن دھرم کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس کا مقصد شاستروں کی تعلیم پھیلانا اور ہندو مت کو اصل حالت میں پیش کرنا تھا۔ سیاست سے زیادہ مذہب کو اس میں عمل دخل تھا۔۳۶؎
اس جماعت کے بانی منشی گلاب سنگھ تھے۔ جنہیں حکومت نے ۱۸۹۷ء میں ’’رائے صاحب‘‘ کا خطاب عطا کیا تھا۔منشی صاحب کی وفات کے بعد لالہ روپ لال اس کے صدر اور خزانچی مقرر ہوئے،۳۷؎
۷۔ انجمن پنجاب سیالکوٹ
 انیسویں صدی کی ساتویں اور آٹھویں دہائی ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں علمی وادبی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ان کا مقصد یہاں کے لوگوں کو مغربی علوم وفنون سے روشناس کرانا اور ہندوستانیوں کی فلاح وبہبود تھا۔ انجمن پنجاب لاہور کی طرز پر ۱۸۶۶ء میں سیالکوٹ حصار اور دہلی میں بھی انجمنیں قائم ہوئیں۔ مشہور محب اردو وفرانسیسی مستشرق گار سیس وتاسی (۱۸۷۸۔۱۰۹۷) کہتا ہے :۔
’’ اس قسم کی (انجمن پنجاب لاہور) تین اور انجمنیں حال میں پنجاب میں قائم ہوئیں۔ایک سیالکوٹ میں ،ایک حصار میں ،اور ایک دہلی میں، مقصد لاہور کی انجمن کی طرح یہ ہے ۔کہ ہندوستانیوں کی عام فلاح وبہبود کے ساتھ علمی ترقی کی طرف قدم اٹھایا جائے۔ بغیر اس کے ان میں کوئی اصلاح ممکن نہیں ‘‘۳۸؎
اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۶۶ء میں سیالکوٹ میں یہ انجمن موجود تھی۔ مذکورہ انجمن نے ڈاکٹر لیٹنر کو ان کی خدمات کے صلے میں سونے کی ایک انگوٹھی پیش کی تھی۔۳۹؎


۸۔انجمن اسلامیہ
شہر کے چند سرکردہ مسلمانوں نے مارچ ۱۸۹۰ء میں انجمن اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ اس کا ابتدائی اجلاس ۴ مارچ ۱۸۹۰ء کو ہوا۔ دوسرا اجلاس مذکورہ ماہ کی پانچ تاریخ کو اور تیسرا اجلاس ۱۶ مارچ کو ہوا۔ تیسرے اجلاس میں سید محمود شاہ نے اسلام کے موضوع پر تقریر کی۔انجمن کا مقصد مسلمانوں کی فلاح وبہبود تھا،۴۰؎
۴۱؎ ۱۸۹۴ء میں انجمن کے صدر شیخ میراں بخش تھے۔ جو مہاراجہ جموں وکشمیر کے پرائیویٹ سیکر ٹری رہ چکے تھے۔ انجمن نے فروری ۱۸۹۴ء میں سر سید احمد خان اور ڈپٹی نذیر احمد کی سیالکوٹ میں آمد کے انتظامات کیے تھے۔۴۲؎ ،لیکن وہ کسی وجوہ کی بناء پر نہ آسکے تھے۔
مذکورہ انجمن انجمن اسلامیہ سے مختلف تھی۔موجودہ انجمن اسلامیہ نومبر ۱۹۱۱ء میں قائم ہوئی تھی۔انجمن تائید الاسلام، انجمن مدرستہ القرآن،اور انجمن شان المسلیمین کو یکجاکرکے ۲۱ نومبر ۱۹۱۱ء کو موجودہ انجمن کی بنا رکھی گئی تھی۔۴۳؎
۹۔ انگریزی بولنے والے نوجوانوں کی انجمن۴۴؎
ریورنڈ رابرٹ پیٹرسن ۱۸۶۰ء میں جان ٹیلر کے ہمراہ سیالکوٹ آئے تھے۔انہوں نے دوسرے غیر ملکی لوگوں کے ساتھ مل کر ۱۸۶۲ء میں ایک تنظیم قائم کی ،جس کا پورا نام یہ تھا۔(A Young man ,s  Socity for english  Speaking Baboos’’ )
اس انجمن میں انگریزی بولنے والے ہندوستان کے لوگ بھی شامل تھے۔ یہ انجمن کب تک قائم رہی۔اور اس کے بڑے بڑے مقاصد کیا تھے؟۔ کچھ معلوم نہیں؟۔
اخبار ورسائل
ہندوستان میں پہلا چھاپہ خانہ ۱۸۰۱ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم ہوا۔۴۵؎ ۔یہاں سے کسی اردو اخبار کا اجراء تو نہ ہوا، لیکن اردو نثر میں ابتدائی کتب چھپیں۔۱۸۲۲ء میں مشن پریس کلکتہ سے منشی سدا سنگھ نے پہلا اردو اخبار جام جہاں نما جاری کیا۔۴۶؎ پنجاب میں پہلا چھاپہ خانہ امریکن مشن کے پادریوں نے ۳۶۔۱۸۳۵ء میں لدھیانہ میں قائم کیا۔۴۷؎ یہاں سے لدھیانہ اخبار نکلتا تھا۔ ۱۸۵۰ء میں گوجرانوالہ اور سیال کوٹ میں چھاپہ خانے قائم ہوئے ،جہاں سے اردو کے اخبارات کوہ نور ،گلزار پنجاب اور خورشید عالم جاری ہوئے۔۴۸؎ 
اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ صدی کے وسط میں صحافت کے میدان میں سیالکوٹ پیش پیش تھا۔
انیسویں صدی کے نصف آخر میں سیالکوٹ سے نکلنے اخبارات ورسائل کی تفصیل درج ذیل ہے۔
۱۔ بقول محمد صدیق خورشید عالم اخبار منشی دیوان چند نے ۱۸۵۰ء میں جاری کیا۔۴۶؎۔ اختر شہنشاہی کے مطابق اس کا اجرا یکم جولائی ۱۸۵۲ء کو ہوا۔۵۰؎
۲۔ ۳۰ جنوری ۱۸۵۱ء کو دیوان چند نے ماہوار رسالہ نورا علی نور جاری کیا۔۵۱؎
۳۔ جون ۱۸۵۳ء میں منشی دیوان چند نے مطبع چشمہ فیض قائم کیا۔ چشمہ فیض کے نام سے اس مطبع میں ایک ہفتہ وار اخبار بھی شائع ہوتا تھا۔منشی صاحب کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ان کے پاس کاری گروں کی کمی تھی۔ اس وجہ سے اگست تک مطبع پوری طرح کام شروع نہیں کر سکا تھا۔۵۲؎۔ چشمہ فیض کے ایڈیٹر نے ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ آزادی کے دوران انگریزوں کی مخالفت اور باغی ہندوستانیوں کی حمایت کی۔ ایڈیٹر کو حکم دیا گیا کہ وہ اخبار کو سیالکوٹ سے لاہور منتقل کر دے۔ دارالسلطنت لاہور میں چشمہ فیض کی کڑی نگرانی کی گئی ۔۵۳؎
۴۔ معلم العلماء کا اجراء ۱۸۵۶ء میں ہوا۔ یہ ماہوار رسالہ تھا۔ ۵۴؎
۵۔ اپریل ۱۸۵۷ء میں پندرہ روزہ چشمہ خورشید جاری ہوا، مہتمم دیوان چند تھے۔۵۵؎
۶۔ یکم اپریل ۱۸۶۶ء کو بیر بر جاری ہوا، یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا۔ مالک گیان چند اور مہتمم برج لال تھے ،۵۶؎
۷۔ یکم اپریل ۱۸۷۳ء کو ہفت روزہ رفاہ عام کا اجراء ہوا۔ مالک دیوان چند اور ایڈیٹر گیان چند تھے۔ چھاپہ خانہ کا نام بھی رفاہ عام تھا۔۵۷؎
۸۔یکم جنوری ۱۸۸۰ء کو برج لال نے وکٹوریہ پیپر جاری کیا۔ گیان چند اس کے مالک تھے، ہفتہ میں دو بار چھپتا تھا۔۵۸؎ 
۱۸۸۴ء میں روز نامہ تھا،۵۹؎
۹۔ مرزا موحد جالندھری نے ۱۵ اپریل ۱۸۸۴ء کو وزیر ہند جاری کیا۔ یہ ایک ہفت روزہ تھا۶۰؎۔ ۱۸۸۴ء میں روز نامہ تھا۔
۱۰۔ مان سنگھ اہلو والیہ نے ۱۶ اکتوبر ۱۸۸۵ء کو شیخ چلی جاریکیا۔۶۲؎
۱۱۔مرزا غلام احمد نے یکم جنوری ۱۸۸۶ء کو وزیر الملک اخبار جاری کیا۔یہ ہفتہ میں دو بار چھپتا تھا ۔۶۳؎
۱۲۔۱۸۹۴ء میں ایک ہفتہ وار اخبار خیر خواہ پنجاب تین سو کی تعداد میں چھپتا تھا۔۶۴؎
۱۳۔ ۱۸۹۴ء میں ہفت روزہ پنجاب گزٹ اینڈ ہسٹورین دو سو کی تعداد میں نکلتا تھا۔۶۵؎
۱۴۔ غلام قادر فصیح نے ۱۸۹۳ء میں ماہوار رسالہ الحق جاری کیا۔ اس میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے متعلق نہایت برجستہ مضامین لکھے جاتے تھے۔
ہسپتال
 انگریزوں کی آمد سے قبل لوگوں کے علاج معالجہ کے لئے حکیم ہوا کرتے تھے۔ سیالکوٹ میں مولوی سید میر حسن کے آبا واجداد بھی حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ انگریزوں کی آمد سے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں،وہیں علاج معالجہ کی وافر سہولتیں میسر ہوئیں۔
حکومت نے شہر میں ۱۸۴۹ء میں ایک ہسپتال قائم کیا۔۶۶؎ جسے ۱۸۵۸ء میں نئی طرز پر پختہ بنیادوں پر استوار کیا۔ ڈپٹی کمشنر مسٹر مرسر Mercer کے قائم کردہ حکیم سسٹم کے تحت شہر کے حکماء کے لڑکوں کو ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاہور میڈیکل سکول میں بھیجا گیا۔ مولوی سید میر حسن کے بڑے صاحب زادے سید علی نقی نے حکیم سسٹم کے تحت شہر کے لاہور میڈیکل سکول سے تعلیم حاصل کی، ۱۸۶۵ء ۶۶ ئ) میں سیالکوٹ کے تحصیل ہیڈ کواٹرزمیں سرکاری ڈسپنسریاں قائم کی گئیں۔ آبادی کے لحاظ سے یہ طبی سہولتیں بہت کم تھیں۔ مشنری لوگ تبلیغ کے لئے دیہاتوں میں جاتے تو وہاں طبی سہولتوں کا فقدان پاتے، ۱۸۷۱ء میں سکاچ مشن نے ڈاکٹر جان ہوچی سن کی سربراہی میں ایک میڈیکل مشن قائم کیا۔اس مشن کا مقصد:
Not only the relief of bodly Sufferings,but also the preaching of the  Gospel of the king dom in conformity with that word wich saith Heal the Sick , and say uanto  Them ,the King dom of God is come nigh Unto you’’
۶۷؎
مئی ۱۸۷۱ء میں سکاچ مشن نے ایک ڈسپنسری قائم کی،پہلے سال بارہ سو مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔پیچیدہ اور متعدی بیماریوں کے مریض سول اسپتال منتقل کر دیئے جاتے۔ کرایہ کی عمارت میں یہ ڈسپنسری تھی، صبح کے وقت ساڑھے تین گھنٹے ڈسپنسری کھلی رہتی،اکتوبر کے وسط میں تبلیغ کے لئے ڈسپنسری بند کر دی جاتی تھی۔ کیونکہ مشنری لوگ یہاں کی گرمی کی حدت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے گرمی کے دنوں میں وہ دیہاتوں میں تبلیغ کے لئے نہیں جا سکتے تھے۔ سردیوں میں دیہاتوں میں جانے کے لئے انہیں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ تبلیغ کے دوران بھی باہر دیہاتوں میں ڈاکٹر ہوچی سن لوگوں کو طبی سہولتیں بہم پہنچاتے تھے۔ امراء دیسی حکماء سے علاج کراتے اور بھاری فیس برداشت کرنے کی سکت رکھتے تھے۔ جب کہ غرباء سرکاری اور مشنری طبی مراکز سے رجوع کرتے،۶۸؎ شہر میں سرکاری ہسپتال اور ڈسپنسری ہونے کی وجہ سے مشن کا میڈیکل مشن زیادہ سود مند ثابت نہ ہوسکا۔ اس لیے اس طبی شعبہ کو ریاست چمبہ (Chumba) منتقل کر دیا۔ ڈاکٹر ہوچی سن بھی ۱۸۷۴ء میں چمبہ تبدیل ہو گئے۔۶۹؎
۱۸۸۸ء میں ڈاکٹر ہوچی سن دوبارہ سیالکوٹ آئے۔ اور ڈسکہ کے گرد ونواح میں تبلیغ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا علاج بھی کرتے۔ مریضوں کے چھوٹے چھوٹے آپریشن بھی کیے جاتے۔۷۱؎ ۔اس طرح دیہاتیوں کا اعتماد حاصل کرکے انہیں مسیحیت کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے۔ ۱۸۹۰ء میں ڈاکٹر ہوچی سن نے موضع ساہو والہ میں سرائے سے متصل ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھول کر لوگوں کا علاج کرنا شروع کیا۔۷۲؎۔
اسی سال ضلع میں ملیریا بخار نے مہلک صورت اختیار کر لی۷۳؎۔
اموات کی شرح میں اچھا خاصا اضافہ ہوا۔ آبادی کا تقریبا آٹھ فی صد حصہ اس بیماری کا شکار ہو گیا۔ اس موقع پر مشن نے شہر سیالکوٹ میں ڈسپنسری کھول کر لوگوں کی طبی سہولتیں مہیا کیں۔ تقریبا چار سو معمولی آپریشن کیے۔ ڈاکٹر ہوچی سن کی غیر حاضری میں ان کا نائب بابو قصل دین کام کرتا۔ہسپتال کی کار کردگی کی تفصیل ڈاکٹر ہوچی سن کے حالات میں بیان کر دی ہے۔۱۸۹۳ء میں مریضوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا۔۷۴؎ ڈسپنسری سارا دن کھلی رہتی، مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا۔ مریضوں میں عورتوں اور لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی۔۱۸۹۵ء میں ڈاکٹر ہوچی سن دوبارہ چمبہ تبدیل ہو گئے۷۵؎۔ ان کے بعد بابو فضل دین ہسپتال کا کام کرنے لگا۔ اس نے بڑی محنت اور جان فشانی سے اس کام کو سنبھالا۔
۳۰ دسمبر ۱۸۹۰ء کو شفا خانہ زنانہ کی رسم افتتاح ادا کی گئی۔ سکاچ مشن کے پادریوں نے عورتوں کے علاج ومعالجہ کے لئے خصوصی طور پر اس شفا خانہ کو قائم کیا۔ پادری امام دین شہباز نے افتتاح کے موقع پر رپورٹ پڑھی (سراج الاخبار ۶ جنوری ۱۸۹۰ئ)




مواصلات
گزشتہ صدی کی چھٹی ساتویں دہائی میں سیالکوٹ میں ڈاک خانہ قائم ہو چکا تھا۔ اس سے قبل تار گھر فوجی مقاصد کے لئے چھاونی کے علاقہ میں قائم ہو چکا تھا۔ ۱۸۹۴ء میں چھاؤنی تار گھر کی ایک شاخ شہر میں موجود تھی، جو ڈاک خانے سے منسلک تھی۔۷۶؎
 سیالکوٹ سے وزیر آباد ۲۷ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یکم جنوری ۱۸۸۴ء کو سیالکوٹ اور وزیر آباد کے درمیان ریل گاڑی چلی۷۷؎۔
 جموں سیالکوٹ سے ۲۴ میل دور ہے۔ سیالکوٹ سے جموں ۱۳ مارچ ۱۹۹۰ء کو ریل گاڑی چلنی شروع ہوئی۔پہلے دو روز ہر شخص کو مفت سفر کرنے کی اجازت تھی۔اقبال اور اس کے دوستوں نے ممکن ہے اس رعایت سے فائدہ اٹھایا ہو۔اور پہلی بار ریل کا سفر کیا ہو۔ جموں کے لئے پانچ آنے کرایہ مقرر ہوا تھا۔۷۸؎ سیالکوٹ ، نارووال کے درمیان ۱۶ جنوری ۱۹۱۶ء کو ریل گاڑی چلی،۷۹؎ 
ریل گاڑی سے پہلے لوگ ٹانگے کے ذریعے پسرور ،نارو وال وغیرہ آتے جاتے تھے۔
 سیالکوٹ قدیم عرصہ سے ایک اہم مرکز رہا ہے۔مغل خاندان کا بانی ظہیر الدین بابر براستہ سیالکوٹ شہر دہلی گیا تھا۔ابراہیم لودھی سے نبرد آزما ہوا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ سیال کوٹ ملک کے دوسرے حصوں سے بڑی بڑی سڑکوں کے ذریعے ملا ہوا تھا۔۸۰؎۔سیالکوٹ سے
۱۔ وزیر آباد براستہ سمبڑیال ایک پختہ سڑک ۱۸۹۴ء میں موجود تھی۔
۲۔ گوجرانوالہ براستہ گھنیکے اور ڈسکہ کچا راستہ تھا۔
۳۔ لاہور براستہ ایمن آباد (بھلو والی، اکبر، دھرم کوٹ)
 ۴ ۔ امرتسر براستہ ہڈیانہ پسرور اور رعیہ کچھ کچی کچھ پکی۔
۵۔ گور داس پور براستہ پھلورہ اور دھمتھل کچی سڑک تھی۔
۶ ۔ پٹھان کوٹ براستہ پھلورہ ظفر والی، کچی تھی۔
۷ ۔ جموں پختہ سڑک تھی۔
۸ ۔ اکھنور جموں کچی تھی۔
۹ ۔ گجرات براستہ سمبڑیال کچی سڑک تھی۔
 ۱۰ ۔ چپرار ،کچا راستہ تھا ۔
۱۱ ۔ وزیر آباد کو ایک کچا راستہ بھی جاتا تھا۔
کھیل تماشے عرس وتہوار
 مختلف قسم کے کھیل تماشے انسان کی ابتدائی زندگی یعنی بچپن اور لڑکپن کا لازمی جزو ہیں۔ لڑکا ان میں بڑے ذوق شوق سے حصہ لیتا ہے۔ جو ان کھیل تماشوں میں حصہ نہیں لیتا، اسے ذہین ،عقل مند اور دانا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن عموما ایسا نہیں ہوتا۔سر سید کی سوانح عمری سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی زندگی میں انہوں نے گیند بلا، کبڈی، گیڑیاں ،آنکھ مچولی اور چیل چلو وغیرہ کھیلے تھے۔۸۱؎ ۔ صرف شرط یہ تھی کہ کسی کھیل کو چھپا کر کھیلو،اس لئے کھیلوں کے کھیلنے کو کسی شخصیت کی پرکھ کے لئے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
اقبال نے بھی بچپن اور لڑکپن میں عام کھیل کھیلے تھے۔ جو اس زمانہ میں سیالکوٹ میں رایج تھے۔ مثلا۔
۱۔ کشتی کرنا۔
۲ ۔ مگدر ہلانا ۔
 ۳۔ ناچ یا بھنگڑا ڈالنا
۴ ۔کوڈی Kaudi کبڈی
۵ ۔ کوٹلہ چھپاکی Kotla  Chupaki
۶ ۔ بینی پکڑنا Bini Pakrana
۷ ۔ شاہ شٹاپو Shah Shatapu
ناچ یابھنگڑا ڈالنا عموما سکھوں کا کھیل ہے۔شادی بیاہ کے علاوہ خصوصا بیساکھی کے موقع پر سکھ کسان بھنگڑا ڈال کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اقبال نے اس کھیل میں حصہ نہیں لیا ہوگا۔
کشتی رانی پنجاب میں صدیوں پرانا کھیل ہے۔ گزشتہ صدی کے نصف آخر اور موجودہ صدی کے ربع اول میں یہ کھیل اپنے عروج پر تھا۔ شہر میں مختلف اساتذہ اپنے شاگردوں کو مقابلے کے لئے تیار کیا کرتے تھے۔ اقبال جسمانی لحاظ سے تندراست جسم کے مالک تھے۔سکول اور کالج کے دنوں میں وہ لال دین پہلوان کے اکھاڑے میں جایا کرتے تھے۔ تیل مالش کرتے، ڈنٹر پیلتے اور اپنی صحت برقرار رکھتے ،لاہور آکر بھی وہ اس شوق کو نہ چھوڑ سکے۔ کوچہ ہنومان کے اکھاڑے میں جا کر اپنا شوق پورا کیا کرتے تھے۔۸۳؎
اس زمانے میں بانا پہلوان اور کریم بخش پہلوان کا ڈنکا بجتا تھا۔ باناں موضع گودھپور (سیالکوٹ) کا رہنے والا تھا۔اس کی شہزوری آج تک پنجابی زبان میں مشہور ہے۔ جا اوئے توں کوئی بانا ایں ۸۴؎
کبوتر بازی ایک اجتماعی شغل نہیں تھا۔ بلکہ لڑکے انفرادی طور پر اس کے شوقین تھے۔ اس لیے گزٹئیر میں اس کا ذکر نہیں، گزشتہ صدی کے نصف آخر اور موجودہ صدی کے ربع اول میں شہر سیالکوٹ میں کبوتر بازی ایک سلجھا ہوا شغل تھا۔ لوگوں نے گھر گھر کبوتر پال رکھے تھے۔ لڑکے گھنٹوں کبوتروں کو نیل گوں فضا میں اونچے اڑتے ہوئے دیکھتے تھے۔ اقبال کبوتر بازی کے بڑے ماہر تھے۔ مولوی سید میر حسن کے منجھلے صاحب زادے سید محمد تقی کبوتر بازی میں اقبال کے دست راست تھے۔ کبوتر بازی کی ابتدا کے سلسلے میں اقبال کہتے ہیں:
اول اول تو ہم شوالہ تیجہ سنگھ کے پاس کھلے میدان میں شام کے قریب کبوتر بازی کے ماہروں کو کبوتر اڑاتے دیکھتے۔ کبوتر فضائے نیل گوں میں طرح طرح سے اور بل کھا کھا کے اڑتے۔
اقبال کی نگاہوں میں چمک پیدا ہو جاتی۔ سید محمد تقی سے کبوتر پالنے اور اڑانے کا ذکر کیا۔ وہ دو جوڑے کبوتروں کے لے آئے۔ گھر کی چھت پر کاوک تیار کیا اوراس طرح کبوتر بازی کی ابتدا ہوئی۔اقبال ایک شعر کہتے ہیں:۔


جی میں آئی جوتقی کے تو کبوتر پالے
کوئی کالا کوئی سپید ہے ،دو مٹیالے۸۵؎
اقبال کہتے ہیں کہ جب کبوتروں کو پنہائے فضا میں پرواز کرتے دیکھتا تو محسوس کرتا،جیسے میں بھی ان کے ساتھ آسمان کی وسعتوں میں اڑ رہا ہوں۔ افلاک کی سیر ہو رہی ہے۔کبوتر کا سینہ تان کر ایک شان تمکنت اور طمطراق سے چلنا اقبال کو بہت بھاتا تھا۔
کرکٹ کی ابتدا ڈسکہ میں ریو رنڈ ولیم اسکاٹ کے آتے ہی ۱۸۹۲ء میں ہو چکی تھی۔کرکٹ کے لئے ایک بڑا خوب صورت میدان موجود تھا۔اس کھیل نے طلباء کو کئی لحاظ سے بہتر بنا دیا تھا۔ اس سلسلے میں اسکاٹ کہتے ہیں:
’’Ihave found that a little cricket improves these villages lads in many ways’’‘ ۸۶؎
گزشتہ صدی کے آخری عشرہ میں سیالکوٹ شہر کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں کرکٹ کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔اقبال انٹرس اور انٹر میڈیٹ کلاسوں میں یہ کھیل ضرور کھیلتے ہوں گے۔
شطرنج اور چوسر پڑھے لکھے گھرانوں میں کھیلا جاتا تھا۸۷؎ ۔ مولوی سید میر حسن اور بھیم سین کے شطرنج کھیلنے کا ذکر ملتا ہے۔۸۸؎ اقبال شطرنج کھیلتے ہوں گے۔ میر صاحب کے لڑکے اس کھیل میں ان کے ساتھ ہوتے ہوں گے۔
ان دنوں ہائی سکولوں میں باقاعدہ ضلعی سطح پر دیسی اور یورپی کھیلوں کے مقابلے ہوتے تھے۔ سکولوں کے طلباء بڑھ چڑھ کر ان کھیلوں میں حصہ لیتے تھے۔ اس طرح کے مقابلے ایک بار ۳۰ جنوری سے دو فروری ۱۸۹۴ء کو سیالکوٹ میں ہوئے تھے، ضلع سیالکوٹ کے سکول کے لڑکوں نے اس میں حصہ لیا۔ ۸۹؎
 کھیلوں کے علاوہ شہر میں دوسری تفریحات بھی میسر ہوا کرتی تھیں۔ مثلا ۱۶ فروری ۱۸۸۷ء کو سیالکوٹ شہر میں جشن جوبلی منایا گیا۔ انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ (۱۹۰۱ء ۔۱۸۱۹ئ) کی پچاسویں سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی گئی تھی۔ جشن جوبلی کی رونق کو دوبالا کرنے کے لئے دیہاتی سکولوں سے بھی لڑکوں کو اس میں شرکت کے لئے لایا گیا تھا۔ ہر طالب علم کو آٹھ خرچ خوراک دیئے گئے تھے۔ سیالکوٹ کے طلباء نے بھی اس میں بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا تھا۔۹۰؎
۱۸۹۴ء میں فروری کے دوسرے ہفتہ میں سیالکوٹ میں چھتری سرکس کمپنی نے ایک ہفتہ تک قیام کیا۔اور کھیل تماشوں سے بچوں بوڑھوں کو تفریح کا سامان بہم پہنچایا۹۱؎
شہر میں ’’ہارس شو‘‘ بھی ہوا کرتا تھا۔ ۲ مارچ ۱۸۹۳ء کو ایک ہارس شو کے سلسلے میں عام تعطیل تھی۔ ۲۲ مارچ کو سکھوں کا تہوار ہولا مہالا (Hola Mohalla) منایا جاتا تھا۔ ۱۳ نومبر کے گورو نانک کے یوم پیدائش پر عام تعطیل ہوتی تھی۔ بیساکھ کی پہلی تاریخ کو بیساکھی کے میلہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے تھے۔ حضرت امام الحق کے مزار اور قلعہ پر پیر مراد کے مزار بھی سالانہ عرس ہوتے،ہزاروں مسلمان مرد عورت بچے بوڑھے عرس میں شریک ہوتے۔
حواشی باب ۲
1.Our India Mission .....A  Gordon , P 117
۲ ۔ لاگ بک، سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ،مملوکہ تھیو لاجیکل سیمینری گوجرانوالہ۔
۳ ۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گینر ٹئیر ۸۴، ۱۸۸۳ء ص۴۰،
۴ ،ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے۔
4...Our India  Mission ..... A Gordon,
11۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۸۲،، ۱۸۸۱ء
۱۱۱۔کلکتہ یونیورسٹی کیلنڈر ۸۱، ۱۸۸۰ء
1v،،،،المشیر راولپنڈی۔جنوری مارچ ۱۹۷۷ء
۵۔ سیالکوٹ ڈسٹرک گینر ٹئیر ۹۵۔ ۱۹۹۴ء ص ۸۲۔۸۳۔
۶۔ سراج الاخبار ۔ ۲۸ مئی ۱۸۹۴ء
۷ ۔ Our India  Mission ..... A Gordon,،،، P,177
۸۔ پنجابی اخبار لاہور،جلد۱۳ نمبر ۲۲،۲۲ مئی ۱۸۷۷ء
۹۔ سراج الاخبار جلد ۳۔نمبر۱۔۳۰ جنوری ۱۸۸۷ء
۱۰ ۔ سراج الاخبار ،،، ۲۴ جنوری ۱۸۸۷ء
۱۱ ۔ سراج الاخبار ،،، ۱۴ فروری ،،، ۲۱ فروری ۱۸۸۷ء
۱۲ ۔ سراج الاخبار ،،، ۲۴ جنوری ۱۸۹۰ء
۱۳ ۔ سراج الاخبار ،،، یکم ستمبر ۱۸۹۰ء
۱۴ ۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۲ء پارٹ ٹو ص۸۶
۱۵ ۔ سراج الاخبار ،،، ۱۳ فروری ۱۳ مارچ ۱۸۹۳ء
۱۶ ۔ سراج الاخبار ،،، ۱۲ فروری ۱۸۹۴ء
۱۷ ۔ سراج الاخبار ،،، ۲۸ مئی ۱۸۹۴ء
۱۸ ۔ سراج الاخبار ،،، ۳ جولائی ۱۹۰۶ء
۱۹ ۔ سراج الاخبار ،،، ۹ فروری ۱۹۰۹ء
۲۰ ۔ سراج الاخبار ،،، ۱۹ فروری ۱۹۱۷ء
۲۱۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزٹئیر ۸۲،، ۱۸۸۳ء ص۸۸
کانونٹ آف جینز میری ۱۸۵۶ء میں صدر میں قائم ہوا تھا۔
۲۲۔۔ ملک العلماء علامہ عبد الحکیم،محمد دین فوق لاہور ،۱۹۲۴ء ص ۲۶
۲۳ ۔ نقوش لاہور مکاتیب نمبر، جلد ۲ ،میر حسن کا مکتوب محمد الدین فوق کے نام۔ ص۸۰۵
۲۴۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ۲۵۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزٹئیر ۸۴،۱۸۸۳ء ص۱۰۲،،،
۲۶۔سراج الا خبار ۔،،،۲۴ جنوری ۱۸۹۱ ء
۲۷۔ سراج الاخبار ،،،، ۱۱ فروری ۱۸۹۵ء
۲۸ ۔۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزٹئیر۹۴ ۔۱۸۹۵ ص۶۸،۸۳،
۲۹۔ پریم سنگھ کا ایک لڑکا سندر سنگھ ۴۷ برس کی عمر میں ۹ اکتوبر ۱۹۰۰ء میں انتقال کر گیا تھا۔
۳۰ ۔ سراج الاخبار ،، ۲۸ مئی ۱۸۹۴ء
۳۱ ۔۔۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزٹئیر ۹۵،، ۱۸۹۴ء ص۶۸
۳۳ ۔ سراج الاخبار ۔ ۳ اکتوبر ۱۹۰۵ء
34 -The Arya Samaj...Lajpat Rai ,London 5191ء p 52
۳۵۔ سراج الاخبار ۔۷ فروری ۱۸۹۷ء
۳۶۔سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزئیٹر ۹۵۔۱۸۹۴ء
۳۷۔ سراج الاخبار ۔ ۷ فروری ۱۸۹۷ء
۳۸۔ خطبات کا سیس وتاسی ،خطبہ ۱۶ مورخہ ۳دسمبر ۱۸۶۶ء
39.Report of the Anjuman Punjab for the year 1869 .73.Lahore
۴۰۔ سراج الاخبار ۔۲۴ مارچ ۱۸۹۰ء
۴۱۔ سراج الاخبار ۔ ۱۹ فروری ۱۸۹۴ء
۴۲۔ سراج الاخبار ۔ ۱۹ فروری ۱۸۹۴ء
۴۳۔مولوی سید میر حسن (حیات وافکار) ص۶۱
۴۴۔رپورٹ سکاچ مشن مئی ۱۸۶۲ء ص۳۲
۴۵۔ ہندوستانی اخبار نویسی (کمپنی کے عہد میں) محمد عتیق صدیقی ص    ۴۴۹
۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ ص۱۶۰،۱۶۱،۴۴۹
۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ ص۴۵۰
۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ ص۴۵۴
۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ص۴۵
۵۰۔ قومی زبان کراچی جولائی ۱۹۶۷ئ ص۶۸
۵۱۔ قومی زبان کراچی نومبر ۱۹۶۷ئ ص۳۷
۵۲۔ صوبہ شمالی ومغربی کے اخبارات ومطبوعات ،محمد عتیق صدیقی  ص۱۱۹
۵۳۔ ہندوستانی اخبار نویس (کمپنی کے عہد میں) محمد عتیق صدیقی ص۔۵۳،۳۹۸،۳۹۹
۵۴۔ اختر شنشاہی قومی زبان کراچی اکتوبر ۱۹۶۷ئ  ص۶۶
۵۵۔۔۔۔۔۔ ایضا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون ۱۹۶۷ء   ص۵۴
۵۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ جون ۱۹۶۷ء ص۵۰
۵۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ جولائی ۱۹۶۷ء ص۷۲
۵۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔  نومبر۱۹۶۷ء  ص۳۸
۶۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔ اگست ۱۹۶۷ء    ص۱۰۶
۶۱۔رپورٹ مجموعی انتظام ممالک پنجاب ۸۵۔۱۸۸۴ء  ص۷۴
۶۲۔۔۔۔۔۔۔۔ ایضا۔۔۔۔۔۔۔۔  ص۵۶
۶۳۔ اختر شہنشاہی ،قومی زبان کراچی جولائی ۱۹۶۷ء  ص ۶۹  سے معلوم ہوتا ہے کہ گوجرانوالہ سے گیان چند شوق نے جون ۱۸۶۶ء کو یہ اخبار جاری کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ بعد میں اسے سیالکوٹ منتقل کر دیا ہو۔
۶۵۔سیالکوٹ دسٹرکٹ گیزئیٹر ۱۸۹۴ء ۱۸۹۵ئ ص۷۴
۶۶۔سیالکوٹ دسٹرکٹ گیزئیٹر ۱۸۸۳ء ۱۸۸۴ء  ص۹۹
۶۷۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۲ئ  ص۱۳۷،۱۳۸
۶۸۔ رپورٹ سکاچ مشن۱۸۷۳ئ ص۱۳۰،۱۳۱، ۱۳۲
۶۹۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۵ئ ص۲۳۴
۷۰۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۹ئ ص۱۰۹
۷۱۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۰ئ ص۱۲۴
۷۲۔ رپورٹ سکاچ مشن۱۸۹۱ئ ص۱۱۴،۱۱۵
۷۳۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۱ئ ص۱۱۷
۷۴۔ رپورٹ سکاچ مشن۱۸۹۴ئ ص۱۱۰
۷۵۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۶ئ ص۱۰۷
۷۶۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزئیٹر ۹۴،۱۸۹۵ء ص۱۴۱
7Hundred years of pakistan Railways ,M ,B, K, Malik,Karchi 1962, P.204
۸۷ ۔سراج الاخبار ۲۴ مارچ ۱۸۹۰ء
۷۹۔ تاریخ پسرور ۔ڈاکٹر سید سلطان محمود  حسین  ص۱۱۸ ۔
۸۰۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزئیٹر ۱۸۹۴ء ۹۵،  ص ۱۳۷
۸۱۔ حیات جاوید  الطاف حسین حالی
عشرت پبلشنگ ہاؤس لاہور ۱۹۶۵ء  ص ۵۷
۸۲۔۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزئیٹر  ۱۸۹۴ء ۹۵ء  ص ۵۸
۸۳۔ دانائے راز ،سید نذیر نیازی ص۶۷
86. Church of Scot land Home and Foreign Mission  Record , June,1895  P.195
۸۷۔۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزئیٹر  ۱۸۹۴ء ۹۵ ص۵۸
۸۸۔ مرے کالج میگزین ،میر حسن نمبر حصہ انگریزی  ص۲
۸۹۔ سراج الاخبار۔ ۱۲ فروری ۱۸۹۴ء
۹۰۔۔ سراج الاخبار۔ ۲۱ فروری ۱۸۸۷ء
۹۱۔ ۔ سراج الاخبار۔ ۱۲ فروری ۱۸۹۴ء
۹۲۔ پنجاب گزٹ دسمبر ۱۸۹۳ء پارٹ تھری  ص۴۶۱
باب ۳
سکاچ مشن تبلیغی وتعلیمی سرگرمیاں ۱؎
سکاٹ لینڈ کے شہریوں نے ۱۸۲۳ء میں ’’سکاچ مشنری سوسائٹی‘‘ کے نام سے ایک تبلیغی جماعت بنائی ، کہ اس کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں مسیحیت کی تبلیغ کی جائے اور زیادہ سے زیادہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو حلقہ مسیحیت میں داخل کیا جائے،سکاٹ لینڈ کے ایک شخص مسٹر مرے (Murray)نے  اپنی ہمشیرہ مسز کیمبل (Mrs Campbell of  Lochnell) کو مرتے وقت ایک خاص رقم وصیت میں دی ،کہ اس کو مشن کے رفاہی کاموں میں صرف کیا جائے۔ورثا نے یہ پابندی لگائی کہ کیپٹن مرحوم نے ملازمت کا بڑا حصہ جن لوگوں میں گزارا ہے۔ ان لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے اس رقم کو خرچ کیا جائے۔ایک مقامی بینک میں یہ مخصوص رقم جمع کر ادی گئی۔ سکاچ مشن کی رپورٹ مئی ۱۸۶۲ء سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ سکاٹ لینڈ کے ایک بنک میں ایک فنڈ ’’مرے فنڈ‘‘ کے نام سے موجود تھا۔ اس فنڈ کا سالانہ سود مشن اپنے استعمال میں لاتا تھا۔اس رپورٹ سے مزید پتا چلتا ہے کہ سال کے اختتام پر ۱۵ ،اپریل ۱۸۸۲ء کو مشن کو/9/2 ۷۰ پونڈ سود ملا تھا۔
سکاچ مشنری سوسائٹی یا مختصرا سکاچ مشن نے ریورنڈ ہنٹر کو مسیحیت کی تبلیغ کے لئے ہندوستان بھیجا،وہ براستہ بمبئی ،ملتان ،جہلم، گجرات جنوری ۱۸۵۷ء کے وسط میں سیالکوٹ پہنچا،بمبئی سے اس نے محمد اسماعیل کو اپنے ہمراہ لیا۔سیالکوٹ چھاونی (صدر) میں بچوں کے لئے دو پرائمری سکول کھولے۔ اتوار کے روز ہنٹر اپنے اہل خانہ اور ملازمین کا مذہبی خطبہ(Sermon) دیا کرتا تھا۔خطبہ سننے والے پانچ افراد ہوتے تھے۔ پورے چار ماہ بعد یعنی مئی ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ برپا ہوا۔ہندوستانی فوجیوں نے فرنگی حاکموں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ سیالکوٹ بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔ ہنگامہ کی وجہ وہی نئے کارتوسوں کو دانتوں سے کاٹنا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجیوں نے مل کر اس کے خلاف آواز اٹھائی۔سیالکوٹ چھاؤنی میں مقیم ہندو اور مسلمان فوجیوں میں اس نئے حکم کے خلاف شکوک وشبہات پیدا ہو چکے تھے۔۲ اپریل ۱۸۵۷ء کی سیالکوٹ کی ایک خبر ملاحظہ ہو:۔ از روئے ایک چٹھی سیالکوٹ کے ظاہر ہوا کہ یہاں کے سپاہی بھی نئے کارتوسوں کے قواعد سے ٹکراتے ہیں۔اور بجائے دانتوں کے ہاتھوں سے کارتوس توڑتے ہیں۔لوگوں کے دل کا شک ابھی بالکل رفع نہیں ہوا۔‘‘۲؎
۱۴ مئی ۱۸۵۷ء کو ضلع سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے امریکن مشن کے سربراہ کو اس بغاوت کی اطلاع پہنچائی۔۹ جولائی کو سیالکوٹ چھاؤنی میں ہندوستانی فوجیوں نے بغاوت کر دی۔جیل پر حملہ کرکے قیدیوں کو آزاد کرا لیا۔ چھاؤنی میں مقیم انگریزوں کی کوٹھیوں پر حملے کیے۔ انگریزی اور مشنری لوگ پناہ کے لئے قلعہ میں اکٹھے ہونے لگے۔ریورنڈ ہنٹر اور اس کی بیوی قلعہ میں پناہ لینے جا رہے تھے کہ باغیوں نے ان کو راستے میں قتل کر دیا۔ ہنٹر کے قتل کے بعد سکاچ مشن جزوی طور پر بند ہو گیا۔محمد اسماعیل بچا رہا۔ ہنگامہ فرو ہونے پر اس نے امریکی مشن کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔اور چرچ آف سکارٹ لینڈ کو سیالکوٹ میں جنرل اسمبلی انسٹی ٹیوشن کھولنے کا مشورہ دیا۔ اور یہاں پڑھانے کا وعدہ بھی کیا۔۳؎
سکاچ مشن کے ارباب اختیار سیالکوٹ پنجاب میں دوبارہ مشن قائم کرنے کا ارادہ کر رہے تھے کہ انہیں یکم مئی ۱۸۵۹ء سے کچھ روز قبل بیس پونڈ کا عطیہ ایک خاتون کی طرف سے ملا،۴؎ یہ خاتون پہلے بھی مشن کے جنرل فنڈ میں بڑی فراخ دلی سے چندہ دیا کرتی تھی۔کمیٹی نے اس عطیہ کو پاکر بڑی مسرت کا اظہار کیا۔ اور سیالکوٹ میں دوبارہ مرکز قائم کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔
سکاچ مشن نے ریورنڈ رابرٹ پیٹرسن اور جان ٹیلر کو ۱۸۵۹ء کے آخر میں ہندوستان روانہ کیا۔جنوری ۱۸۶۰ء میں وہ بمبئی پہنچے۔ماہ فروری میں وہ اسماعیل کے ہمراہ کراچی پہنچے،کراچی میں دو ہفتہ قیام کے بعد ملتان کے راستہ ۱۶ مارچ کو لاہور پہنچے۔دو روز بعد تینوں سیالکوٹ پہنچے۔ سال کا زیادہ حصہ دونوں مشنریوں نے ایک منشی کی مدد سے عوام کی زبان اردو سیکھنے میں صرف کیا۔۵؎۔ اور رومن کیتھولک سے ساٹھ روپے ماہوار کرایہ پر ایک بنگلہ لیا۔ ریورنڈ ہنٹر کی یاد میں ایک چرچ تعمیر کرنے کے لئے حصول اراضی کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔تھوڑے ہی عرصے میں میجر راس Ross کی مدد سے انہوں نے ایک قطعہ اراضی حاصل کر لیا۔ ۱۸۶۰ء کے اواخر میں صدر میں لڑکوں کے لئے ایک پرائمری سکول کا آغاز کیا۔محمد اسماعیل کو سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔ ۱۸۶۲ء میں مذکورہ سکول کو پرانی خانقاہ old Convent سے صدر مین بازار یعنی موجودہ جگہ پر منتقل کیا۔۶؎
اسی سال پیٹرسن اس سکول کے ایک مسلمان لڑکے ملائم دین کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہوا۔ یہ ایک یتیم بچہ تھا۔یہاں سے پڑھ کر لڑکوں کے یتیم خانہ کے سکول میں مدرس ہو گیا،بعد میں یہ مولویوں سے مناظرے کرنے لگا۔۷؎
۲۹ جولائی ۱۸۶۱ء کو سیالکوٹ میں ’’کارس پونڈنگ بورڈ آف دی چرچ آف سکارٹ لینڈ‘‘ قائم ہوا۔مذکورہ تاریخ کو اس بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا۔ مشن کا مرکزی دفتر سیالکوٹ چھاؤنی سے تین میل دور مغرب کی طرف اور شہر سے دو میل دور شمال کی جانب بارہ پتھر میں لایا گیا۔اسی سال یتیم بچوں کے لئے ایک عمارت تعمیر کی گئی۔ ۱۸۶۲ء میں ہنٹر میموریل چرچ کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک یتیم خانہ کھولا گیا۔ امریکن مشن سے دو مشن ہاؤس اور عیسائی کسانوں کے لئے اراضی پندرہ سوپونڈ میں خریدی گئی۹؎
۱۸۶۳ء میں پیٹرسن نے وزیر آباد میں سکاچ مشن کی ایک شاخ قائم کی،یہاں ایک پرائمری مدرسہ بھی قائم کیا گیا، حکومت نے وزیر آباد کا ضلع سکاچ مشن کی تحویل میں دے دیا۱۰؎ ۱۸۶۴ء میں امریکن مشن نے سیالکوٹ شہر میں اپنا سکول بند کر دیا۔ سکاچ مشن نے سکول کی عمارت کو خرید لیا۔اور اس میں اپنا سکول کھولا،۱۱؎
 مئی ۱۸۶۵ء میں پیٹر سن نے گجرات میں بھی سکاچ مشن کی شاخ قائم کی۔ حکومت نے گجرات کا گورنمنٹ اینگلو ورنیکلر مڈل سکول سکاچ مشن کی تحویل میں دے دیا۔۱۲؎ اسی سال سکاچ مشنری فرگوسن نے چمبہ۱۳؎ ریاست میں سکاچ مشن سینٹر قائم کیا۔ ۱۸۶۷ء میں ٹیلر سکارٹ لینڈ چلا گیا۔مئی ۱۸۶۸ء میں حکومت نے سیالکوت کے ضلع سکول کو سکاچ مشن کی تحویل میں دے دیا۔اور سکول کی عمارت نصف قیمت میں خرید لی۔سکاچ مشن نے ان دونوں سکولوں کو مدغم کر لیا۔اور سٹی سکاچ مشن مڈل سکول کا نام دیا۔ محمد اسماعیل کو مذکورہ سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۱۴؎ جنوری ۱۸۶۹ء میں پیٹر سن خرابی صحت کی بناء پر اسکاٹ لینڈ چلا گیا۔ اسکی جگہ جے پی لینگ سکول کے مینجر کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ لینگ ۱۸۷۴ء میں بمبئی تبدیل ہو گیا۔ ۱۸۷۰ء میں ڈاکٹر جان ہوچی سن نے سیالکوٹ میں میڈیکل مشن قائم کیا۱۵؎ ۱۸۷۱ء میں سٹی سکاچ مشن مڈل سکول بن گیا۔۱۶؎ ۱۸۷۲ء میں ڈاکٹر جان ہوچی سن تبدیل ہو گیا۔ ۱۸۷۳ء میں ریورنڈ ہارپر سکاٹ لینڈ سے آیا،گجرات میں چند ماہ کام کرنے کے بعد سیالکوٹ چلا آیا ۱۷؎
 ۷۷،۱۸۷۶ء میں ڈسکہ میں سکاچ مشن نے اپنا ایک مرکز قائم کیا۔ یہاں نتھو مل مسیحیت کی تبلیغ کرنے پر مامور ہوا ،۱۸؎
دسمبر ۱۸۷۵ء میں ڈاکٹر یلگسن سکاٹ لینڈ سے تشریف لائے۔گجرات اور وزیر آباد کے مرکز کا انتظام سنبھالا۔ ہارپر کے وطن واپس لوٹ جانے پر ڈاکٹر صاحب سیالکوٹ آگئے۔ ۱۸۸۱ء میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ گورنمنٹ کالج لاہور کا شعبہ انگریزی سکاچ مشن کے سپرد کیا جائے۔ فنڈ کی کمی کی وجہ سے سکاچ مشن یہ قبول نہ کر سکا۔۱۹؎
اسی زمانے میں لاہور کے ایک سکھ نے لاہور میں ایک کالج قائم کرنے کے لئے اڑھائی ہزار پونڈ کی پیش کش کی۔لیکن مشن نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا۔۲۰؎ ۱۸۸۵ء میں رابرٹ میگچین پیٹرسن سیالکوٹ آیا۔۱۸۸۸ ء میں ڈسٹرکٹ کمیٹی نے ضلع سیالکوٹ کے چار سانسی سکول مشن کے سپرد کر دیئے۔اور چالیس روپے ماہوار مالی معاونت بھی کی ۲۱؎
۱۸۸۹ء میں سکاچ مشن کالج قائم ہوا۔۲۲؎
۱۸۹۱ء میں ڈاکٹر ینگسن رخصت پر سکاٹ لینڈ چلے گئے،ان کی جگہ ریورنڈ واخ ھشنری سربراہ ہو گئے۔ نومبر ۱۸۹۱ء میں سکاٹ آئے اور ۱۸۹۲ء کے شروع میں ڈسکہ کے سکاچ مشن مرکز کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لیا۔۲۳؎
سیالکوٹ ،وزیر آباد، گجرات۔ڈسکہ اور چمبہ کے مشن مراکز کو ایک بورڈ کنٹرول کرتا تھا۔ جو ۲۹ جولائی ۱۸۶۱ء کو سیالکوٹ میں قائم ہوا تھا۔اور چونکہ ان مراکز میں سیالکوٹ ایک بڑا شہر تھا۔اور وسط میں تھا، اس لئے بورڈ کے اجلاس یہاں منعقد ہوتے تھے۔مشنری سر براہ عموما سیکرٹری اور خزانچی ہوا کرتا تھا۔ بورڈ میں فوج اور سول محکموں سے تعلق رکھنے والے اصحاب کو شرکت کی دعوت دی جاتی تھی۔ عموما ضلع کا ڈپٹی کمشنر یا سول جج بورڈ کا چیر مین ہوا کرتا تھا۔مشنری سربراہ عموما سکول کا معائنہ کیا کرتا تھا۔ مراکز کے مشنری سربراہ ہر سال اپنے مرکز سے متعلق ایک جامع رپورٹ اپنے صدر دفتر اسکاٹ لینڈ ارسال کرتے تھے۔بورڈ کے ابتدائی سالوں میں ای اے پرنسیپ سٹیلمنٹ کمشنر چیر مین تھے۔ ۱۸۸۸ ء سے اپریل ۱۹۹۴ء تک ضلع کے ڈپٹی کمشنر کرنل منٹگمری چیر مین رہے۔ان کے بعد ان کی جگہ پر آنے والے کمشنر کیپٹن ڈنلوپ اسمتھ چیر مین مقرر ہوئے تھے، ۱۸۶۷ء میں بورڈکے ممبر یہ تھے:
چئیر مین : ای اے پرنسیپ سٹیلمنٹ کمشنر
ممبران :  ریورنڈ ہگ ڈرنیان چلپین
  ریورنڈ ولیم فرگوسن چمبہ
  ریورنڈ رابرٹ پیٹر سن گجرات
  ریورنڈ جان ٹیلر،سیالکوٹ سیکرٹری اور خزانچی
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ مشن کے قیام کے لئے مرے فنڈ قائم کیا گیا۔ بعد میں ایک خاتون نے عطیہ میں کچھ رقم دی کہ پنجاب میں مشن کو دوبارہ قائم کیا جائے۔اس کے علاوہ دوسرے ذرائع آمدنی یہ تھے ،جن سے مشن کے اخراجات پورے کیے جاتے تھے۔
تعلیمی اداروں میں طلباء سے ماہوار فیس وصول کی جاتی تھی، تقریبا تمام تعلیم ادارے اپنا خرچہ خود برداشت کرتے تھے۔ یعنی خود کفیل تھے۔
۳۔ سیالکوٹ میں مقیم انگریزی ملازمین بھی چندہ دیا کرتے تھے۔ اور اس طرح دوسرے مراکز میں بھی انگریز ملازمین چندہ دیا کرتے تھے۔
۴ ۔۔ ہندوستان میں واقع دوسرے مشنری ادارے حسب توفیق سکاچ مشن سیالکوٹ کو عطیات بھیجا کرتے تھے۔
۵۔ سیالکوٹ،مری ،اور شملہ کی چھاونیوں میں مقیم انگریز فوجیوں کو سکاچ مشن کے پادری مذہبی درس دیا کرتے تھے۔ حکومت ان فوجیوں کی ماہوار تنخواہ سے ایک روپیہ فی فوجی منہا کرکے سکاچ مشن کو ادا کرتی تھی۔ اس سے خاطر خواہ ماہوار آمدنی ہو جاتی تھی۔۲۴؎
۶۔۔ بوقت ضرورت سکاچ مشن دوسرے لوگوں سے قرض لیا کرتا تھا۔
۷۔ چرچ میں عبادت کے وقت عبادت کرنے والوں سے چندہ لیا جاتا تھا۔
۷۔ پنجاب رلیجس بکس سوسائٹی بھی مشن کو مالی امداد دیتی تھی۔
۸۔ سکاٹ لینڈ کی چار تنظیمیں سکاچ مشن میں کام کرنے والے مبلغین ومدرسین کے اخراجات خود برداشت کرتی تھیں۔
سکاچ مشن کا بڑا مقصد دین مسیح کی اشاعت اور ترویج تھا، زیادہ سے زیادہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مسیحیت میں داخل کرنا سکاچ مشن کا مطمح نظر تھا۔اس میں انگریز حکام ہر طرح سکاچ مشن کی مدد کرتے تھے۔ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ضلع کا چئیر مین مقرر کرکے سرکاری مشنر ی کو اپنے قابو میں کر لیا جاتا۔یہاں تک کہ صوبے کا انگریز گورنر بھی مشن کی مدد کرتا تھا۔
۱۔ سکاٹ لینڈ کے لوگ سکاٹ لینڈ کے صدر دفتر میں عطیات اور چندہ دیا کرتے تھے۔
۲۔ سکاچ مشن کے مراکز سیالکوٹ ،ڈسکہ، گجرات،اور چمبہ میں قائم کردہ مدد کرنا باعث فخر سمجھتا، مشن نے تبلیغ کے لیے یا اپنے پاؤں جمانے کے لیے تعلیم کے میدان کو اپنایا،اپنے مرکز میں سب سے پہلے انہوں نے بچوں کے لئے سکول کھولے۔معصوم بچوں کو بائبل کی تعلیم دینا شروع کی۔ یہاں تک کہ مڈل ،ہائی اور کالج سطح پر بھی دن میں ادھ گھنٹہ مسیحیت کی تعلیم کے لئے وقف ہوتا تھا۔اور مسیحیت کی تعلیم لازمی دی جاتی تھی۔درس گاہوں کو ذریعہ تبلیغ اپنانا ایک بہت بڑا ہتھیار تھا،کیونکہ ان کی نظر میں تعلیم اور مذہب آپس میں بہن اور بھائی ہیں۔۲۵؎
We are bound to employee the school as a powerful means with God in his  providence has so wnderfully put in to our hands in india for the advancement of his truth and the extension of his kingdom’’۲۶؎
مسیحیت کی تعلیم میں ایک باقاعدگی تھی۔ جوان ذہنوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنا تعلیم آسان اور موثر ترین ذریعہ تھا:۔
Religious education is given  very systematically in our Shool...... by its means we have daily 287 souls under christan  infl uence..... our school  are  un question ably the best and most Convenient means of impressing christan instructions on young minds ,,27سکاچ مشن خالصتہ ایک تبلیغی مشن تھا:۔
The character of Mission, as distinctively a preaching or Evangelistic mission has been Kept up,and while schools are faintained as not only  an important but nece ssary agency for the advancement of christian truth’’ ۲۸؎
لوگوں کو مشن کے اس حربے کا علم ہو چکا تھا۔ ہندو ،سکھ اور مسلمان بخوبی جانتے تھے کہ تعلیم کے ذریعے مشنری لوگ مسیحیت کی تعلیم دے رہے ہیں:۔
we are told that we give secular education only as a bribe to get children to come and listen to Bible instructions, You don,t teach English or persian your school will be a failure,,,,۲۹؎
۱۸۷۷ء کی ایک خبر ملاحظہ ہو:۔
یہاں مشن سکول میں تین لڑکے ایک مسلمان دوہندو عیسائی ہو گئے،عمائد شہر نے تجریک وتجویز سید وزیر علی صاحب بہادر ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر و سیکرٹری میونسپلٹی ایک مدرسہ جاری کرنے کا ارادہ کیا ہے، جس میں تقریبا چار سوروپے ماہوار خرچ ہو گا اور انتظام نہایت عمدہ کیا جائے گا۔‘‘ ۳۰؎
دس برس بعد مجوزہ تجویز پر عمل در آمد ہو سکا۔
مشنری لوگ موسم سرما میں باہر دیہاتوں میں جا کر تبلیغ کرتے۔یہاں کی گرمی کی شدت مشنریوں کے لئے نا قابل برداشت ہوتی تھی۔ اس لئے گرمیوں کے دنوں میں یہ لوگ شہروں میں تبلیغ کرتے مسٹر مرسر Mercer نے لاہور میں مشنری کانفرنس منعقد ۶۳۔۱۹۶۲ء میں یہ تجویز پیش کی تھی، کہ سردیوں میں سکول مکمل طور پر بند کر دیئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغ کو دیا جا سکے۔۳۱؎
سکول کی ابتدائی جماعتوں کو سکول کے مسیحی اساتذہ بائیبل کی تعلیم دیتے تھے۔ بڑی جماعتوں کو عموما مشنری سربراہ بائیبل اور دوسری دینی کتب پڑھاتا۔ بائیبل کے علاوہ عیسائیت سے متعلق درج ذیل کتب بھی پڑھائی جاتی تھیں،۳۲؎
Genesis 2, The four Gospel 3, The Acts of Apostles,
4..The Epistle ti The Romans  5,The Epistle to the Her brews,
6.Barth,s Scripture History  7..Mutlashi ...I..Din (Religious   Inquirer)
 8..Mr Murray  Mitchell,s  Letters to  indian  Youths,
9..Mitchell,s Evidences of christian for indian Youths in Hindustani and english.
10..Dr, Harper ,s, Divine Realities in English.
11,Dr Forma ,s Christian Sword and Shield .
12,Nur  Afshan...Aweekly Semi Religious Paper Published by the ..
Amer ican Missionaries of Loodhiana
شہروں میں سکول قائم کرنے کے علاوہ مشنری لوگ شہر کے بازاروں میںمقامی زبان یعنی اردو میں تبلیغ کرتے۔ ان غیر ملکی مشنریوں کے ہمراہ دیسی عیسائی بھی ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ دینی کتابچے تقسیم کرتے،دینی کتب فروخت بھی کرتے،لوگوں کو طبی سہولتیں مہیا کرکے بھی ان کو مسیحیت کی طرف راغب کیا جاتا۔ شہر میں باقاعدہ ایک ڈسپنسری کھولی گئی۔،انڈروز مریضوں کے لئے وارڈز تعمیر کیے گئے۔آپریشن بھی کیے جاتے تھے۔ مشنری لوگ دیہاتوں میں تبلیغ کے ساتھ ساتھ ان کا علاج بھی کرتے،دیہاتی لوگوں میں انہیں بڑی کامیابی ہوتی،خصوصا کم ذات اور چھوٹی سطح لے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں انہیں کوئی دقت پیش نہ آتی تھی۔ ابتدا میں انہوں نے سانسی قبیلے کو مسیحیت میں داخل کرنے کی سعی کی، ۱۸۵۹ء میں ۳۷۲ سانسی اور ۳۸۱ پکھی وار بنجر زمین پر بسائے گئے۔ان کا پیشہ چوری اور ڈکیتی تھا۔ حکومت نے ان کو کاشت کے لئے اراضی دی تاکہ رہزنی چھوڑ دیں۔۳۲؎ ۱۸۶۲ء میں ریورنڈ پیٹرسن وزیر آباد جاتے ہوئے سانسیو ں کے دیہات میں گیا۔ان لوگوں کے متعلق پیٹرسن اپنے ایک مکتوب میں لکھتا ہے:۔
The sanyasees may be regarded as the lowest class in the scale    of indian Society,They are the gipsies of the east.
۳۴؎
ان کے بود وباش کے سلسلے میں وہ تحریر کرتا ہے:۔
They live in the jungle apart from the habitations of man,their houses little staw  Sheds ,They Support   Them selves by hunting, begging and Stealing,
 سانسیوں کا گروہ مالن شاہ تھا،(Malim Shah)  تھا۔ یہ لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ معاشرے میں وہ ذلت کی گہرائیوں میں گرے ہوئے تھے۔:۔
’’They are very degraded in  every respect, indeed,their intellectual and moral nature appears to have reached the lowest point,
ہندوؤں ،سکھوں اور مسلمانوں کی نسبت اس قبیلے کے لوگوں کو مسیحیت میں داخل کرنا بہت آسان تھا، اس قبیلے کی طرح ایک اور طبقہ بھی نیچ کہلاتا تھا۔یہ لوگ چوہڑے تھے۔ ان کا بھی کوئی دین مذہب نہ تھا۔معاشرے میں یہ دھتکارے ہوئے لوگ تھے۔ پنجاب کے ہر دیہات میں ان کے گھرانے موجود ہیں۔مشنری لوگوں نے ان کو مسیحیت کی تبلیغ کی،یہ لوگ جوق درجوق مسیحیت میں داخل ہو ئے۔ریورنڈ جان موری سن (Morrison)اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں۔
The Moral And MATerial  ProGress OF  INDIA.
The Lepchas at DArgeelling are among these aborigienes like wise the Chuhras among whom our mission   in the punjab has worked with Success,,,35 ۳۵؎
چوہڑے کے لڑکے کو کسی سکول میں داخل نہیں کیا جاتا تھا،ان لوگوں کو فوج اور پولیس میں بھی بھرتی نہیں کیا جاتا تھا۔۳۶؎ ۱۸۵۷ء میں چوہڑوں میں سے جوہری کو پہلا عیسائی بنایا گیا۔۳۷؎ مشن نے ان لوگوں کو مسیحیت میں داخل کرکے عملی فنون سکھائے۔اور ملازمتیں دلائیں۔ان کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے اپنے سکولوں میں داخل کیا۔ اس سلسلے میں ۲۱ مئی ۱۸۹۴ء کی ایک خبر ملا حظہ ہو:۔
’’ سکاچ مشن سکول کی ششم جماعت میں ایک عیسائی طالب علم کو جو پہلے چوہڑہ تھا،مشن والوں نے داخل کرنا چاہا۔ مگر طلباء نے اس کی شمولیت سے انکار کرکے سکول چھوڑنا چاہا۔ آخر یہ تجویز قرار پائی کہ وہ لڑکا الگ سٹول پر چڑھ کرکے اور دیگر امیدوار بنچوں پر بیٹھ کر تعلیم پاویں،نیچے سے فرش اٹھا لیا جاوئے جس پر طالب علم خوش ہو گئے۔‘‘ ۳۸؎
مشنری لوگ مختلف قسم کے ساز بھی بجاتے تھے۔کیونکہ گانا بجانا مسیحیت میں عبادت کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔چھوٹی ذات کے یہ لوگ گانا بجانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ بقول ڈاکٹر ینگسن:۔
We found Music to be a very Powerful aid inpreaching to the villagers,
ان لوگوں کے لئے
،،Music is aGod,s  gift to them,
ہندو ،سکھ اور مسلمان زیادہ موسیقی نہیں جانتے تھے،لیکن یہ لوگ شاندار گویے تھے۔


Low cast people are splended Singers ..,,
گیتوں کے ذریعے مسیحیت کی تبلیغ بڑی بہتر اور موثر طریقے سے ہوتی تھی۔:
’’I believe that more christian ieaching is  con veyed by means of hymns than by all the other means put together,,,
گوہر شاہ دوتارہ کا ماہر تھا۔ مانڈو دیانہ بجانے میں ماہر تھا۔ودھاوا چکارا بجاتا تھا۔ مانڈو ایک بوڑھا شخص تھاق،خود شاعر تھا ،گیت لکھ کر گایا کرتا تھا۔ دکھائی جانے والی مذہبی فلموں کی وہ بڑے موثر انداز میں تشریح کرتا۔اس زمانے میں سرکاری حکام ان لوگوں سے مفت کام بھی کراتے۔حکومت کے کارندے سرکاری حکام کی آمد کے موقع پر ان لوگوں سے مفت کام بھی کراتے۔ حکومت کے کارندے سرکاری حکام کی آمد کے موقع پر ان لوگوں کو ہفتوں بیگار میں پکڑ کر لے جاتے تھے۔ پنجاب کے لفٹیننٹ گورنر نے کرسمس کے موقعہ پر ایک حکم کے ذریعے ان سے بیگار میں کام لینا ممنوع قرار دے دیا۔مشنریوں نے اسے نئے سال کا ایک تحفہ خیال کیا ،اور تحفہ قرار دیا۔۴۰؎
ہندوؤں ،سکھوں اور مسلمانوں میں بہت سے کم لوگوں نے مسیحیت قبول کی۔سکاچ مشن کے ریکارڈ سے ان لوگوں کی نشان دہی ہوتی ہے۔جنہوں نے اپنے مذاہب چھوڑ کر دین مسیح کو قبول کیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں مسیحیت قبول کرنے والے نیچ زات کے لوگ تھے۔ جنہیں ہندو ،سکھ اور مسلمان نا پسند کرتے تھے۔ اورا پنے معاشرہ میں جگہ نہیں دیتے تھے۔
 وزیر آباد
 پہلا مشنری ریورنڈ پیٹرسن ۶۲۔۱۸۶۱ء میں تبلیغی مقصد کے لئے وزیر آباد گیا۴۱؎
وزیر آباد کے نواح میں بڑی تعداد میں سانسی اور پکھی وار آباد تھے۔ ان لوگوں کا کوئی دین مذہب نہ تھا۔ معاشرے کے دھتکارے ہوئے انسان تھے۔رہزنی اور ڈکیتی ان کا پیشہ تھا۔ حکومت نے تین تین سو کی تعداد میں ان لوگوں کو پانچ بڑے بڑے قطعہ نما گاؤں میں آباد کیا تھا۔ حکومت نے ان کے ایک گاؤں میں ایک سکول بھی قائم کیا۔جہاں ۲۲ لڑکے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ سکاچ مشن نے یہ سکول حاصل کرنے کے لئے سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مسٹر پر نسیپ کو ایک دوخواست دی۔۱۸۶۳ء میں سکاچ مشن نے وزیر آباد شہر میں ایک شاخ قائم کی۔۴۲؎ اور ایک پرائمری مدرسہ بھی کھولا۔حکومت نے وزیر آباد کا ضلع سکول مشن کی تحویل میں دے دیا۔اور پچاس روپے ماہوار مالی امداد بھی دی۔ ضلع سکول میں ۸۸ لڑکے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ سکاچ مشن نے دونوں اداروں کو مدغم کر دیا۔ اور سکاچ مشن مڈل سکول کا نام دیا۔۱۸۶۶ء میں لڑکوں کی تعداد ۱۱۳ تھی۔ اس سال طلباء نے فارسی اور اردو میں مناسب ترقی کی۔۴۳؎
۱۸۶۷ء ،میں حکومت نے دس روپے ماہوار مدد کا اضافہ کیا۔۴۴؎
۶۸۔۱۸۶۷ء ریورنڈ ڈاکٹر واٹسن نے سکاچ مشن کے تعلیم مراکز کا دورہ کیا۔ سب سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے وزیر آباد سکول کا معائنہ کیا۔ پیٹرسن یہاں کا مشنری تھا۔۴۵؎ ایک سولڑکے یہاں پڑھتے تھے۔ شہر میں مشن نے ایک برانچ سکول بھی کھولا تھا۔ جہاں ساٹھ لڑکے تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس برانچ سکول میں صرف ہندی اور حساب پڑھایا جاتا تھا۔ لڑکیوں کے لئے دو سکول قائم کیے۔ جہاں ۲۵،۲۵ لڑکیاں پڑھتی تھیں۔ہندو عورتیں یہاں پڑھاتی تھیں۔کسی مرد کو ان مدرسوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ۱۸۷۰ء میں مین سکول میں پاندہ کرم بخش حساب پڑھاتے تھے۔پاندہ شہر میں تبلیغ بھی کرتا تھا۔۴۶؎ 
۱۸۷۲ء میں وزیر آباد کے ساتھ ساتھ گجرات کو بھی سکاچ مشن مرکز بھی ریورنڈ محمد اسماعیل کے ماتحت تھا۔ ۴۷؎ ان دنوں ایک عیسائی مبلغ اور مدرس قطب الدین شہر میں تبلیغ کیا کرتا تھا۔ وہ سکول میں مڈل جماعتوں کو بائیبل بھی پڑھاتا تھا۔۴۴؎ سکول کے ہیڈ ماسٹر منشی احمد شفیع بڑے محنتی اور فرض شناس تھے۔فروری ۱۸۷۲ء میں طلباء کی تعداد ۰اا تھی۔ جب کہ گزشتہ برس اسی ماہ یہ تعداد ۱۲۹ تھی۔ حکومت پہلے ۸۴۰ روپے سالانہ مالی مدد دیتی تھی۔ اب ۹۶۰ روپے مالی مدد دینے لگی۔ بلدیہ وزیر آباد نے بھی ساٹھ روپے ماہوار مالی مدد دینا منظور کی۔ ۱۸۷۴ء میں یعقوب بازار میں تبلیغ کرتا تھا۔ شہر میں عالم فاضل علماء اور وہابی فضلا نے عیسائی مبلغین کی کوششوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔۴۹؎
 ۳۱ مارچ کو طلباء کی تعداد ۱۳۰ تھی۔مشنری سربراہ جیمز بی لینگ تھے،جو وزیر آباد اور کٹھالہ کے یورپی ریلوے ملازمین کو وعظ کیا کرتے تھے۔ ۱۸۷۵ء میں ولیم ہارپر مشنری سربراہ مقرر ہوئے۔منشی احمد شفیع کی جگہ کسی عیسائی ہیڈ ماسٹر کو تعینات کرنے کی تجویز پیش ہوئی ۵۰؎
۱۸۷۶ء میں طلباء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ تعداد ۲۰۹ تک پہنچ گئی۔چند اساتذہ کو سکول کی ملازمت سے سبک دوش کر دیا گیا۔ریورنڈ ینگسن نئے مشنری سربراہ مقرر ہوئے ۵۱؎
۱۸۷۷ء میں برج لال کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔یہ عیسائی تھے۔ ان کے ماتحت سات اساتذہ تھے۔ طلباء کی تعداد ۱۳۳ تھی ،۵۲؎
۱۸۷۹ء میں پربھو داس سنہا ہیڈ ماسٹر ہوئے،اسی سال ماہ ستمبر میں مسٹر ولز لی سی بیلی (WELLSLEY ,   C ,  BAULEY) مشیر (EVANGELIST) کی حیثیت سے یہاں آئے تھے۔انہوں نے شہر میں رہائش رکھی۔۱۸۸۰ء میں رلیا رام کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔۵۴؎
۱۸۸۴ء میں کے،ایم ،بوس (BOSE)ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کے تحت ( D,  PEOPLES) عیسائی مدرس تھا۔۵۵؎
۱۸۸۷ء میں لازرس جرمی (LAZARUS  JEREMEY) ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے تشریف لائے،کے ،ایم ،بوس میرٹھ تبدیل ہو گئے۔۵۶؎ انسپکٹر آف سکولز ان سکولوں کے متعلق لکھتا ہے :۔
Iwould record that mr Jeremy has the whole school in a most Satisfactory State,,.
Daniel PEOPLES .. ALLEY
MARKS ..G, L GORDEN
۱۸۸۹ء میں طلباء کی تعداد ۵۴۶ تھی۔ اور اس میں جرمی کے علاوہ دوسرے مسیحی اساتذہ بھی تھے۔ اپریل ۱۸۸۷ء میں سکول ہائی درجہ پر ترقی پا گیا۔ اس میں جرمی کی کوششوں کو بڑا دخل تھا۔ ۹۳،۱۸۹۴ ء کی رپورٹ میں جرمی کی کوششوں کو بڑا سراہا گیا۵۹؎
۱۸۹۵ء میں طلباء کی تعداد ۵۴۶ ہے۔ حکومت پچاس روپے ماہوار مالی امداد دیتی تھی۔ ۶۰؎ ۱۸۸۸ء میں ریورنڈ حاکم سنگھ ‘‘ مخصوص پاسبان کی حیثیت سے یہاں آیا۔اس کی بیوی نے شہر میں لڑکیوں کے لئے ایک سکول کھولا، جہاں ۲۷ لڑکیاں پڑھتی تھیں ۔۶۱؎
 لازرس جرمی
 آگرہ کے قریشی مسلمان گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ان کے والد ریورنڈ ڈیوڈ جرمی نے ۱۸۴۲ء میں مسیحیت قبول کی۔
لازرس جرمی ۱۸۷۷ء میںسکاچ مشن سکول وزیر آباد میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ہائی جماعتوں کو انگریزی پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے سکول کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی سعی کی۔ سکول کو ہائی درجہ پر ترقی دلوائی،طلباء کی تعداد میں بھی خاصی اضافہ ہوا۔انسپکٹر آف سکولز نے دوران معائنہ ان کی کار کردگی کی بڑی تعریف کی۔ سکاچ مشن کی ملازمت سے ۱۹۱۳ء میں سبک دوش ہوئے ۔ ایک طویل عمر پا کر ۱۹۵۰ء میں وزیر آباد میں انتقال کیا۔
لازرس جرمی نے ڈاکٹر نارمن میکوڈ کی انگریزی کتاب (The Gold Threads) کا اردو میں ترجمہ کیا۔ انگریزی کی کتاب کو بھی اردو زبان میں پیش کیا۔ ان کے علاوہ اسمتھ کی (Biblical Dictionary)کا بھی اردو میں ترجمہ کرنا شروع کیا تھا۔۶۲؎
لازرس جرمی کا ایک بیٹا اے ایس ،جرمی تھا۔اس نے ۱۸۹۲ء میں الہ آباد سے ایم،اے انگریزی کیا۔ اور یوپی کی سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ اے،ایس جرمی کے صاحب زادے آر،اے جرمی لاہور ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ ہیں،اور مزنگ روڈ پر رہائش پذیر ہیں۔۶۳؎
گجرات ۶۴؎
سکاچ مشن کے پادری پیٹرسن نے مئی ۱۸۶۵ء میں گجرات شہر میں مشن کا ایک مرکز قائم کیا۔ شہر میں پہلے سے ایک مڈل سکول موجود تھا۔ جہاں چالیس لڑکے پڑھتے تھے۔حکومت نے یہ مڈل سکول سکاچ مشن کی تحویل میں دے دیا۔ شہر سے شمال میں نصف میل کے فاصلے پر چار سوپونڈ میں ایک مشن ہاؤس خریدا گیا۔ پیٹرسن کے علاوہ مرکز اور سکول سے منسلک یہ لوگ تھے۔
بابو را مول : مناد تھا۔منشی نظام الدین بائیبل پڑھنے والا تھا۔سکول کے ہیڈ ماسٹر احمد شفیع تھے۔ منشی نور احمد اور امام الدین فارسی کے استاد تھے۔ بابو محمد بخش شہر کے پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ بدر الدین اور گل خان دینی کتب وکتابچے فروخت کرتے تھے۔ ان میں ایک کے اخراجات برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی اور دوسرے کے اخراجات پنجاب بائیبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی برداشت کرتی تھی۔
سکول میں لڑکوں کی تعداد ۷۲ ہو گئی۔مالی امداد کے علاوہ ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن کو درخواست دی گئی۔بابو محمد بخش کی جگہ پورنیا چند ہیڈ ماسٹر ہوئے۔بابو صاحب جونئیر مدرس فارسی مقرر ہوئے۔بابو برج لال مدرس کے ساتھ ساتھ مناد بھی تھا۔منشی شیخ عمر مدرس فارسی کا اور اضافہ ہوا۔ مئی ۱۸۶۸ء میں طلباء کی تعداد ایک سو تھی۔ لاہور سے بھی ایک مسیحی استاد یہاں تبلیغ کے لئے آیا کرتے تھے۔اسے یہاں مدرس کی حیثیت سے ملازم رکھ لیا گیا۔ نظام الدین کو بھی سکول میں مدرس رکھ لیا۔ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن نے مشن کو تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے خصوصی گرانٹ دی۔ سکاٹ لینڈ سے ایک دوست نے ایک بکس (R.  NAISMITH .   STONE   HOUSE) کی معرفت بھیجا۔اخراجات وغیرہ منہا کرکے بکس کو فروخت کرنے سے ۷۰ پونڈ کی آمدنی ہوئی۔یہ رقم شہر میں سکاچ مشن کی عمارت کی تعمیر کے لئے مختص کر دی گئی۔یہ عمارت چرچ کے ساتھ ساتھ سکول کا کام بھی دے گی۔مئی ۱۸۶۹ ء میں ڈاکٹر واٹسن نے گجرات کے سکاچ مشن مرکز کا معائنہ کیا۔ ۱۸۶۹ء میں پیٹرسن ناسازیء طبیعت کے باعث سکاٹ لینڈ چلا گیا۔اور گجرات کا مرکز سکاٹ لینڈ کے تحت ہو گیا۔ پورن چند کی جگہ نانک چند ہیڈ ماسٹر تعینات ہوئے۔انگریزی کے لئے بابو مولا مل کا تقرر ہوا۔ ہندی کی تدریس کے لئے پاندہ کرم بخش کو ملازم رکھا۔ بعد میں انہیں وزیر آباد تبدیل کر دیا گیا۔شہر میں لڑکیوں کے لئے بھی ایک سکول قائم کیا۔یہاں پانچ خواتین لڑکیوں کو پڑھانے پر مامور ہوئیں۔نظام الدین سکول میں بچوں کو بائیبل پڑھانے لگے ۔ ۱۸۶۹ء کے اواخر میں مولوی غلام محمد کو مدرس رکھا گیا۔اور ان کے آنے پر سکول میں کئی ضروری تبدیلیاں اور اصلاحات کی گئیں۔۱۸۷۱ء میں سیالکوٹ سے ریورنڈ محمد اسماعیل مشنری سربراہ کی حیثیت سے یہاں آئے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر کی ذمہ داریوںکو بھی سنبھالا۔ کیونکہ ہیڈ ماسٹر کی تنخواہ ادا کرنے کے لئے مشن کے پاس فنڈ نہیں تھا۔اسمعیل اپنی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں اردو میں وعظ کیا کرتا تھا۔ جب کہ ضلع گجرات کے ڈپٹی کمشنر مسٹر ایچ ،ای پرکنز ( H ,  E ,  PERKINS) اسٹیشن چرچ میں انگریزی میں وعظ کیا کرتے تھے۔
نومبر ۱۸۷۲ء میں پہلی بار یہاں کے دو لڑکوں نے فرسٹ ڈویژن میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ ان کے علاوہ کئی اور لڑکوں نے مڈل کا امتحان نچلے درجے میں پاس کیا۔فروری ۱۸۷۳ء میں طلباء کی تعداد ۱۳۰ تھی۔ حکومت ۲۴۰ روپے سالانہ امداد دینے لگی۔محمد اسماعیل ۱۶ اکتوبر ۱۸۷۳ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی جگہ جے ،پی لینگ نے سربراہ بن کر آیا۔جنوری ۱۸۷۴ء میں مسٹر ہارپر ان کی جگہ آئے۔ ہارپر انگریزی کی اسپیشل کلاس بھی پڑھایا کرتا تھا۔ اس میں مسیحیت سے متعلق انگریزی کتب پڑھائی جاتی تھیں۔ ۷۵۔ ۱۸۷۴ء میں برج لال سکول کے نئے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔برج لال اعلیٰ جماعتوں کو بائیبل پڑھاتے تھے۔سکول کرایہ کی ایک نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ ۱۸۷۶ء میں ریورنڈ ینگسن مشنری سربراہ بن کر آئے۔اس سال لڑکوں کی تعداد ۲۳۱ ہو گئی۔ برج لال وزیر آباد تبدیل ہو گئے۔ ابی ناش چند مکر جی (ABINASH  CHANDRA  MOOKARJI) ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ مکرجی پہلے مڈل سکول گجرات میں ایک مدرس تھے۔ اور عیسائی تھے۔ سکول میں کرسچین ورنیکلر ایجوکیشن سوسائٹی کی چھپی ہو ئی کتابیں نصاب میں پڑھائی جاتی تھیں۔ مڈل کے حصہ چھٹی جماعت میں (Lethrbridge)    کا انتخاب اور لوئر سکولوں کی نچلی جماعتوں میں لدھیانہ سیریز پڑھائی جاتی تھیں۔ینگسن پانچویں اور چھٹی جماعت کو بائیبل پڑھاتے تھے۔ ۱۸۷۹ء میں یہاں ایک مین سکول،ایک لوئر سکول اور دو برانچ سکول تھے۔ یہاں ۲۱۷ لڑکے پڑھتے تھے۔ مسیحیت کی روشنی میں ’’قربانی‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون نویسی کا مقابلہ ہوا۔ مقابلہ میں حصہ لینے والوں کئی ایک طالبات کو انعام دیئے گئے۔ ۱۸۸۰ء میں مسٹر کالڈول ( Cald well) سکول کے نئے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ ان سے قبل چند ماہ تک ینگسن نے بطور ہیڈ ماسٹر کام کیا۔ کالڈول کے دور میں سکول نے خاطر خواہ ترقی کی۔مڈل سکول میں لڑکوں کی تعداد ۴۷ ،پرائمری سکول میں ۱۴۳ اور دو برانچ سکولوں میں ۱۳ تھی۔ ہر لڑکے کے لئے بائیبل کی تعلیمل لازمی تھی۔ ۸۲۔۱۸۸۱ ء میںمسٹر ایمرسن ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ان کے ماتحت ۱۱ استاد تھے،طلباء کی تعداد ۳۵۴ کی بجائے ۳۹۰ ہو گئی۔دیدار سنگھ مناد کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔۱۸۸۳ء میں سکول کے لئے گجرات میں میونسپل کمیٹی سے نصف قیمت پر ایک عمارت بارہ صد روپے میں خریدی گئی۔ دیدار سنگھ مین سکول میں بچوں کو بائیبل پڑھانے پر مامور تھا۔ اس سکول کے پرانے ہیڈ ماسٹر مسٹر ڈیوڈ کا انتقال ہوگیا۔ بھنگیوں کے بچوں کے لئے ایک  CASTE سکول کھولا گیا،مذکورہ سکول میں بوڑ ہی تعلیم دیتا تھا۔ ۱۸۸۵ء میں شہر میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے مسیحیت کے مقابلے میں اپنی اپنی تنظیمیں قائم کیں۔سال رواں میںنیگسن سیالکوٹ تبدیل ہوگئے۔ ان کی جگہ رابرٹ میکچین پیٹرسن مشنری سر براہ بن کر آئے۔ ۱۸۸۸ء میں جان ڈئینیل سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ۱۸۹۰ء میں طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر گجرات میونسپل کمیٹی سے پندرہ روپے ماہوار کرایہ پر ایک ’’یور ہاؤس‘‘ لیا گیا۔ ڈائرکٹر آف پبلک انسٹرکشن نے ہائی جماعتوں کے لئے سال روان میں مالی مدد دینے سے انکار کر دیا۔ سکول کے سالانہ نتائج بہت اچھے رہے۔ اس لئے ڈسٹرکٹ کمیٹی اور میونسپل بورڈ نے طلباء کے لئے تین کمرے بنوا کر دیئے۔ ۱۸۹۱ء میں ۲۷ برس بعد سکاچ مشن جمع شدہ چندہ سے عبادت کے لئے ایک ہال اور تعلیم کے لئے سکول کی عمارت تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ۱۸۹۲ء میں میکچین پیٹرسن وطن واپس چلے گئے۔ ان کی جگہ ریورنڈ جارج داخ آئے۔اس سکول کا اسٹاف درج ذیل اصحاب پر مشتمل تھا۔
ہیڈ ماسٹر: جان ڈینیل
اساتذہ :  ایس باصل،آرمنوحا۔ دیدار سنگھ۔
دیدار سنگھ ۶۵
 بگھیل سنگھ کے لڑکے تھے۔ جو سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا قریبی عزیز تھا۔شادی وال ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔ گجرات میں بیس برس کی عمر میں ۲۹ ستمبر ۱۸۷۸ء کو عیسائیت قبول کی۔تبدیلی مذہب کے بعد یہ سیالکوٹ چلے آئے۔ ان کے رشتے دار ان کو بھرے بازار میں پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اور شہر کے ایک بااثر شخص کے گھر میں چھپا دیا۔پولیس کی مدد سے دیدار سنگھ کو چھڑا لیا گیا۔ اس کے بعد یہ گجرات چلے گئے۔ بعد میں ان کے عزیزوں نے چوری کے الزام میں سزا دلوانا چاہی۔ کئی ہفتے عدالتی کاروائی کے بعد باعزت بری ہوگئے۔۱۸۸۱ء میں دیدار سنگھ سکاچ مشن سکول گجرات کے مناد (CATECHIST) تھے۔۱۸۸۳ء سے وہ گجرات کے مشن سکول میں بائیبل کے استاد مقرر ہوئے۔۴۰ برس مدرس اور مبلغ رہنے کے بعد ۱۲ نومبر ۱۹۱۷ء کو گجرات میں انتقال کیا۔اسینٹ اینڈ ریوز چرچ گجرات میں ان کی مشنری خدمات کے صلے میں ان کے نام کا ایک کتبہ نصب ہے۔ گجرات میں ان کی ایک کوٹھی تھی۔ گوجرہ ضلع لائل پور میں ان کی اراضی تھی۔ دیدار سنگھ بڑے خدا ترس انسان تھے۔قحط کے دنوں میں بے سہارا اور یتیم بچوں کو پناہ دی۔ دہلی دربار میں جشن تاجپوشی کے موقع پر ان کو قیصر ہند کے تمغہ سے نوازا گیا۔ گجرات کی بزرگ شخصیت سائیں کرم الہیٰ المعروف کانواں والی سرکار کو بہت چاہتے تھے۔ ان سے میل ملاپ تھا۔ دیدار سنگھ کی اولاد میں ۵ لڑکے اور ۴ لڑکیاں تھیں۔ ان کی ایک چھوٹی لڑکی ویڈا ان دنوں راولپنڈی میں رہائش پذیر ہے۔
ڈسکہ ۶۶؎
مئی ۸۷۷اء میں نتھو مل ڈسکہ اور اس کے گرد ونواح میں دین مسیح کی تبلیغ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نتھو مل کے اخراجات سٹوڈنٹس مشنری ایسوسی ایشن گلاسکو یونیورسٹی برداشت کرتی تھی۔ یہ اپنی کار کردگی کی ماہوار رپورٹ مشنری کو بھیجا کرتا تھا۔ ۸۲۔۱۸۸۱ء میں اس نے ڈسکہ میں ایک مدرسہ قائم کیا۔اس مدرسہ میں انگریزی اور بائیبل پڑھائی جاتی تھی۔ ۱۸۸۳ء میں خاکروبوں (SWEEPERS) کے بچوں کے لئے ایک سکول کھولا گیا۔شروع شروع میں بچوں کی حاضری اچھی تھی۔بعد میں ان کی تعداد کم ہو گئی۔یہاں تک کہ ماہ نومبر میں سکول بند کرنا پڑا۔۱۸۸۴ء میں اس سکول کو نئے سرے سے شروع کیا،اور اس کا نام CASTE سکول رکھا گیا۔ایک مسیحی مدرس کھیون سنگھ کو ملازم رکھا گیا۔عمر کو تبلیغی کتابچے تقسیم کرنے پر مامور کیا گیا۔ ۱۸۸۶ء کی رپورٹ میں ڈسکہ میں ’’تھیو لاجیکل سکول‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ CASTE سکول کو نئے سرے سے ترتیب دے کر یہ نام دیا گیا۔ تھیو لاجیکل سکول میں نتھو مل کے علاوہ جواہر مسیح کو بطور مدرس ملازم رکھا گیا۔ اپریل ۱۸۸۷ء کو نتھو مل کوتبلیغ کے لئے مختص کیا گیا۔ ۱۸۸۷ء میں یہاں تیس لڑکے پڑھتے تھے۔ ان میں سے چھ لڑکوں نے فرسٹ گریڈ ریڈرز امتحان پاس کیا۔ اس سکول کو  School of Prophets, کہا جانے لگا۔کینڈا مشن کے مسٹر ولکی Wilkie نے اس سکول کا معائنہ کیا،اور تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ چرچ مشن کے مسٹر بیٹ مین (BATEMAN) نے بھی معائنہ کے دوران سکول کے بچوں کی تعریف کی۔ لڑکیوں کے لئے بھی ایک سکول اسی سال کھولا گیا۔نتھو مل کی بیوی لڑکیوں کے سکول کی منتظم تھی۔اگلے برس لڑکیوں کے لئے ایک اور سکول کھولا گیا۔اس طرح ایک سکول سکھ لڑکیوں کے لئے اور دوسرا سکول مسلمان لڑکیوں کے لئے مخصوص کیا گیا۔ ان میں بائیبل لازمی پڑھائی جاتی تھی۔ ۱۸۸۸ء میں ۲۵ اور ۲۲ لڑکیاں پڑھتی تھیں۔
۱۸۸۹ء میں نتھو مل کو ا موترہ (AMOTRAH) کے چرچ میں پادری بنا کر بھیج دیا گیا۔ ان کی جگہ مسٹربنجمن سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔۱۸۸۹ء میں یہاں کے چھ لڑکوں نے یہاں کا مقررہ دینی نصاب مکمل کر لیا۔ مزید تعلیم کے لئے وہ سیالکوٹ نیگسن کے پاس چلے گئے۔ ۱۸۹۰ء میں مسٹر بنجمن نے سکول کو بڑی ترقی دی۔اسے پختہ بنیادوں پر استوار کیا۔ہندوگھرانوں کے لڑکے بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے لگے تھے۔
۵۶ہندو اور مسلمان طالب علم ۳۴ عیسائی طلباء کے ساتھ پڑھتے تھے۔کرکٹ کھیلتے اور غسل کرتے۔ ۲۸ نومبر ۱۸۹۱ء کو ولیم سکاٹ سیالکوٹ آئے۔ ۱۸۹۲ء میں وہ مشنری سربراہ کی حیثیت سے یہاں یعنی ڈسکہ آئے۔ ہیڈ ماسٹر مسٹر بنجمن وفات پا گئے۔ ان کی وفات پر مسٹر اسکاٹ نے اظہار غم کیا۔ ولیم سکاٹ کے اخراجات ڈانڈی کا مشن۔۔۔۔۔ SAINT  MARK برداشت کرتا تھا۔بنجمن کی وفات کے بعد ٹی ایم ،ٹیگور سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے،دوسرے مسیحی مدرس ٹی ڈبلیو ٹیمو تھی (TIMOTHY) تھے .
ٹیگور صاحب پہلے گجرات کے سکول میں بائیبل کے استاد تھے۔ ۱۸۹۵ء میں ٹھاکر داس یہاں کے ہیڈ ماسٹر تھے۔
سکاٹ کے دور میں سکول کے لڑکوں میں کھیلوں کو فروغ حاصل ہوا۔ کرکٹ کے کھیل نے انہیں نئی زندگی دی۔
۱۸۶۲ء میںگھسیٹا سنگھ ڈسکہ کے علاقہ میں مبلغ تھے۔ ان کے لڑکے جے مارٹن سے سیالکوٹ چھاؤنی میں راقم نے ملاقات کی تھی۔
۱،سکاچ مشن سکول۔ صدر۶۷؎
انگریزوں نے ۲۹ مارچ ۱۸۴۹ء کو پنجاب پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا۔اس وقت فوج کا ہیڈ کوارٹر وزیر آباد میں تھا۔ ۱۸۵۰ء میں سیالکوٹ شہر کے شمال میں دو میل کے فاصلے پر سیالکوٹ چھاؤنی قائم کی گئی۔جہاں سے سکاچ مشن نے اپنی تبلیغی اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
سکاچ مشن کے تبلیغی پروگرام کے تحت ریورنڈ تھامس ہنٹر جنوری ۱۸۵۷ء میں سیالکوٹ آئے۔ ان کے ہمراہ محمد اسماعیل تھے، جن کو وہ اپنے ہمراہ بمبئی سے لائے تھے۔سیالکوٹ چھاؤنی میں انہوں نے اپنی رہائش اختیار کی۔ چھاؤنی کے علاقہ میں انہوں نے دو پرائمری سکول کھولے۔ ایک لڑکوں کے لئے، دوسرا لڑکیوں کے لئے، پہلے لڑکیوں کا سکول قائم کیا گیا۔ بعد میں لڑکوں کا۔ یعنی فروری ۱۸۵۷ میں ہنٹر کی بیوی لڑکیوں کو پڑھانے لگی تھی۔لڑکوں کے سکول میں اسماعیل اردو پڑھانے پر مامور ہوا۔
۹ جولائی ۱۸۵۷ء کو دوسرے انگریزوں کے ہمراہ ہنٹر اور اس کی بیوی اور ان کا بچہ حریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔اس طرح پانچ چھ ماہ کے اندر یہ مشنری ادارہ ختم ہو گیا،اوراس کے منصوبے بھی خاک میں مل گئے۔
سکاٹ لینڈ سے سکاچ مشن کے صدر دفتر نے دو مشنری دوبارہ بھیجے،رابرٹ پیٹرسن اور جان ٹیلر مارچ ۱۸۵۹ء میں سیالکوٹ آئے۔۱۸۵۹ء اور ۱۸۶۰ء دونوں نے مقامی زبان یعنی اردو سیکھنے میں صرف کیا۔ ۱۸۶۰ء کے اواخر میں انہوں نے صدر میں ایک سکول کھولا۔ محمد اسماعیل کو سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔ ۱۸۶۱ء میں یہاں ساٹھ لڑکے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ان میں بارہ لڑکے انگریزی پڑھتے تھے۔ فارسی کے لیے ایک استاد کا اضافہ کیا گیا۔مشن کے ذرائع اتنے وسیع نہیں تھے کہ وہ اس سکول کے اخراجات برداشت کر سکے۔ حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی تھی۔ فوج کے سکاچ پادری(CHAPLAIN) فرگوسن (Ferguson)  اس مشکل وقت میں مشن کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔ دو ماہ تک سو سو روپیہ مدد دی، بعد میں وہ پچاس روپے ماہوار مدد دینے لگے، اس طرح یہ درس گاہ جاری رہی۔ ۱۸۶۲ء میں پانی جانقاہ سے موجودہ جگہ پر صدر بازار میں سکول منتقل ہو گیا۔ حکومت بھی تیس روپے مدد دینے لگی۔ پادری پیٹرسن کے اثر ورسوخ کی وجہ سے ایک یتیم لڑکا ملائم دین عیسائی ہو گیا۔ بعد میں یہی لڑکا اس سکول میں ۱۸۶۷ء تک مدرس رہا۔۱۸۶۲ء میں کرم الہیٰ فارسی کے استاد تھے۔ محمد اسماعیل انگریزی پڑھاتے تھے۔ اکتوبر ۱۸۶۲ء میں اسماعیل سکاچ مشن سکول وزیر آباد تبدیل ہو گئے۔۱۸۶۵ء میں سکول اپر پرائمری سے مڈل درجہ تک ہو گیا۔اور اینگلو ورنیکلر مڈل سکول کہلانے لگا۔ روزانہ حاضر طلباء کی اوسط ۵۵ تھی۔طلباء سے کل دو روپیہ ماہوار فیس وصول کی جاتی تھی۔ جب کہ ماہوار اخراجات ۶۲ روپے تھے۔ ۱۸۶۷ء میں بابو عزیز اللہ سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔اگلے سال نصر اللہ نے ان کی جگہ لے لی۔نصر اللہ انگریزی کے استاد تھے۔ ۱۸۷۰ء میں پنڈت پالا مل ہیڈ ماسٹر ہوئے۔۱۸۷۱ء میں حکومت پچاس روپے امداد دینے لگی۔ ۱۸۷۹ء میں محکمہ تعلیم نے دوبارہ سکولوں کو منظم کیا تو صدرکا یہ سکول پرائمری سکول رہ گیا۔ پانچویں جماعت پاس کرنے والے لڑکے سکاچ مشن سکول سٹی چلے گئے۔ اساتذہ کی تعداد میں کمی کر دی گئی۔ ۱۸۸۰ء میں ہیڈ ماسٹر پالا مل کے ساتھ دو مسیحی استاد رامول اور امام دین تھے۔ ان کے علاوہ دو غیر مسیحی استاد تھے۔ یہاں عوام کے مزاج کے مطابق لڑکوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ فوج کے افسروں کے ملازم لڑکے اور صدربازار کے دوکانداروں کے لڑکے یہاں پڑھتے تھے۔ چھاؤنی میں نئے آنے والے فوجیوں کے لڑکے بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ان تمام لڑکوں کو ان کے والدین کے پیشوں کی مناسبت سے تعلیم دی جاتی تھی۔ یعنی زیادہ سے زیادہ پرائمری تک تعلیم حاصل کرنا ان کے لئے مناسب تھا۔ اسی سال صدر میں مشن کے مقابل مسلمانوں نے ایک سکول کھولا۔ جس کی وجہ سے مشن کے اس سکول میں لڑکوں کی تعداد کم ہو گئی۔ ۸۲۔۱۸۸۱ء میں یہاں ایک سنڈے سکول کھولا گیا۔ اور اس میں ہندو اور مسیحی لڑکوں کو ایک مسیحی استاد اعزازی طور پر پڑھاتا تھا۔ریورنڈ ہارپر عیسائی خواتین کو بائیبل پڑھاتا تھا ۔ پڑھائی کے بعد سکول کے ہال میں ہندو مسلم لڑکے اور عیسائی لڑکے مل کر مذہبی گیت گاتے۔آخر میں مشنری وعظ کرتا۔۱۸۸۳ء میں کرم چند یہاں کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ ۱۸۸۴ء میں طلباء کی تعداد ۱۰۶ تھی۔ زیادہ تعداد ہندو طلباء کی تھی۔ اپر پرائمری سکول اسٹینڈرڈ کے امتحان میں چھ طلباء میں سے چار طلباء نے کامیابی حاصل کی۔ لوئر پرائمری میں ۲۰ میں سے ۱۳ طلباء کامیاب ہوئے۔گورنمنٹ انسپکٹر آف سکولز نے ماہ نومبر میں سکول کا معائنہ کرتے ہوئے رپورٹ میں تحریر کیا:
Fair work  has been done During the year.,,
۱۸۸۶ء میں گوپال چند ایک سال کے لئے سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ ایک سال بعد یعنی ۱۸۹۳ء میں ان کی جگہ پالا مل کو سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا گیا۔۱۸۹۵ء میں الیگزینڈر مارکس ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے تشریف لائے۔
اپریل ۱۹۴۰ء میں یہ سکول ہائی ہوا۔
موجودہ صدی میں یہاں کے ہیڈ ماسٹر صاحبان کے نام،ادوار اور تنخواہیں ملاحظہ ہوں۔۶۸؎
۱۔
آر ،بی،فرینکلن
جنوری ۱۹۰۸ء
تنخواہ بیس روپے


۲
لالہ لچھمن داس
جولائی ۱۹۰۸ء سے دسمبر ۱۹۱۲ء تک
تنخواہ پچاس روپے
۳
 آئی ،سی حپڑ جی
جنوری ۱۹۱۳ء سے ستمبر ۱۹۱۳ء تک
تنخواہ ۶۵ روپے
۴
 شیخ عطا اللہ
 اکتوبر ۱۹۱۳ء سے مارچ ۱۹۱۹ء تک
تنخواہ ستر روپے
۵
 لالہ سنت رام ڈھینگر
اپریل ۱۹۱۹ء سے مارچ ۱۹۳۷ء تک
تنخواہ ۹۵ روپے
۶
ہتا رام رائے
اپریل۱۹۳۷ء ۱۹ء سے دسمبر ۱۹۳۹ء تک
تنخواہ ۱۳۲ روپے
۷
این،ایس،میسی،میسیس،میسی
جنوری ۱۹۴۰ء اگست ۱۹۵۲ء
تنخواہ ایک سوپچیس روپے
۲۔سکاچ مشن ہائی سکول سٹی ۶۹
امریکن مشن نے شہر میںاپنا سکول ستمبر ۱۸۷۴ء میں بند کر دیا۔۔سکاچ مشن نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا سکول قائم کر لیا۔ حکومت نے بھی سابقہ امداد بحال رکھی۔ انسپکٹر آف سکولز مسٹر سی ،پیرسن کی رپورٹ بابت ۱۸ دسمبر ۱۸۵۶ء کے مطابق ایک سولڑکے یہاں پڑھتے تھے۔ ان میں سے بیس لڑکے انگریزی کے طالب علم تھے۔
طلباء کی تعداد اس طرح تھی،
پہلی جماعت  ۱۹ 
دوسری جماعت ۲۲
تیسری جماعت ۱۵
چوتھی جماعت ۱۱
پانچویں جماعت ۲۲
طلبا کی اوسط حاضری ۸۰ تھی۔ سکول کا وقت صبح دس بجے سے چار بجے تک کا تھا۔ انگریزی کی جماعت تسلی بخش تھی۔ لیکن شعبہ ورنیکلر غیر تسلی بخش تھا۔طلباء میں ڈسپلن کا فقدان تھا۔حکومت کے معیار پر نہیں تھا۔
۳۱ دسمبر ۱۸۶۷ء کو مسٹر سی، پیرسن نے سکول کا معائنہ کرتے ہوئے لکھا:۔
1v CLASS ,4 BOYS read and explain  1v BOOK.write Didtation .read, AKHLAQ.I.Mushani. work arth matic,and compound rules.. answer Questions in waqiat .I.Hind all very fairy.
v11 CLASS  10 Boyes read and explain Fairly.write english Dictation neatly ,but not very correctly. can read gulistan fairly 3, belong to alower vernacular class know about the map of asia,all failed in acompouned Division sum.
1x CLASS,4 boys read and spell english fairly from secondbook.
work simple multiplication.
x CLASS,7 read 1 book and spell though not very well,
in the vernacular shool (exclusive of the boys of the v1 ,v11 english classes) 11 boys can read and write easy persian Dictation neatly and correctly.
There are 92 boys on the roll of the average attendance for the month is 75.The school has been reorganised  s, now costs   150> per mensum in  place of RS =!oo = it is still not much more ,better than i have yet seen and promises to do well.
 سکول کی کار کردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے شہر کا اپنا ایک ضلع سکول یکم مئی ۱۸۶۸ء کو سکاچ مشن کے سپرد کر دیا۔ مشن نے حکومت سے دو ہزار روپے میں سکول کی وسیع وعریض عمارت بھی خرید لی۔اس طرح اب شہر کا پورا نظام تعلیم سکاچ مشن کے ہاتھوں میں تھا۔ ابتدائی جماعت ہی سے بائیبل کی تعلیم لازمی تھی۔ نصابی کتب اس قسم کی تھیں،جن سے دین مسیح کی تعلیم واشاعت اجاگر ہوتی تھی۔ مشن نے اپنے سکول اور ضلع سکول کو مدغم کر لیا اور ایک سکول قائم کیا۔اس سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد اسماعیل مقرر ہوئے۔ ۲۴ ستمبر ۱۸۶۸ء کو انسپکٹر آف سکولز نے معائنہ کرتے ہوئے لکھا:۔
This school formely the zila School,was Transferred to the mission on the faist may last.the missinary teaches three hours a day.The head master is mouhammad ismail late head master of the zila school at NURPUR.there reside  9 teachers some of whom are employed in the two branch of shool,
the Details of my examination will show what subjects require attuntion,
class 111 ,3 read and explain Entrance course,
english Dictation = Good
Arith matic  = Good
CLASS v and  4 ,read 11 english book fairly,pronun clation incorrectly by four,but they had not seen the lesson before,
english Dictation .. Good except from one ,
CLASS v11,1o english Dictation from old lesson bad,expect from 2 boys,english reading three book Satisfactory,
 Artih matic compound long Division right by two boys only,and badly done by most,They use Hindustani ftgures,
read Bostan fairly well,but they appear not to have been well taught.
CLASS V!!!,9 read and spell 111 madras Book not very well,
on the whole school seems to be in a very Satisfactory Stage and liklely to improve,But it appears to be that amore comptant and also for english in the v111
۳۰ جنوری ۱۸۶۹ء کو مسٹر پیٹر سن نے ہیڈ ماسٹر محمد اسماعیل کے متعلق لکھا:۔
’’i Think it would be impossible to find more efficient mangers than the mission who have had charge,or ,a better . Head master than muhamm ad  ismail,
اس سال کلکتہ کے بشپ نے سکول کا معائنہ کیا۔نصاب میں کرسچین ورنیکلر ایجو کیشن کی کتب پڑھائی جاتی تھیں۔ دسمبر ۱۸۷۹ء میں سکول درج ذیل سٹاف پر مشتمل تھا۔
ہیڈ ماسٹر :   محمد اسماعیل
سیکنڈ ماسٹر :  مولوی غلام محمد
جونئیر انگلش ماسٹر :۔  بابو گنپت رائے
پرشین ٹیچر ؛  منشی کاشی ناتھ
عربی ٹیچر :  مولوی میر حسن
اور چھ اسٹنٹ۔
۱۸۷۱ء میں اسکول ہائی درجہ پر ترقی پا گیا۔ اسکول کو نئے سرے سے منظم کیا،فیسوں کا نیا نظام مقرر کیا۔ نصابی کتب کی پرانی سیریز کو ختم کرکے نئی اور مفید سیریز شروع کی گئی۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ کلکتہ کے مشنری اداروں کا نصاب رائج ہوا۔ابتداء میں ان تبدیلیوں میں کچھ مشکلات پیش آئیں۔ چند لڑکے بھی چھوڑ کر چلے گئے۔لیکن بہت جلد ان مشکلات پر قابو پا لیا گیا۔ ۳۱ مارچ ۱۸۷۸ء کو ۱۲۸ لڑکے یہاں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ہائی کلاسیں یعنی نویں اور دسویں جماعتیں ایک عیسائی منتظم برج لال سیکنڈ ماسٹر کے تحت کی گئیں۔ سکول میں سب لڑکوں کو نصف گھنٹہ بائیبل پڑھائی جاتی تھی۔ کچھ لڑکے پنجاب یونیورسٹی کالج کا امتحان دیتے تھے۔اور کچھ کلکتہ یونیورسٹی کا، ۱۸۷۲ء میں پہلی بار یہاں کے ۴ لڑکوں نے کلکتہ یونیورسٹی کا امتحان دیا، لیکن کوئی لڑکا کامیاب نہ ہو سکا۔یہ سب انگریزی میں فیل ہوئے۔چاروں تاریخ جغرافیہ میں بھی ناکام رہے۔ تین لڑکے ریاضی میں فیل ہوئے۔
ان چاروں لڑکوں نے پنجاب یونیورسٹی کے تحت انٹرس کا امتحان دیا۔ ان میں احمد ھسن اور ہری چند کامیاب ہوئے۔ ۱۸۷۲ء میں اے،ایم ایمرسن سکول کے نئے ہیڈ ماسٹر صاحب آئے۔حکومت نے مالی امداد ایک سوستر روپیہ کر دی۔ پہلے سکول سے باہر کے لوگ لڑکوں کو بائیبل پڑھایا کرتے تھے۔ ۱۸۷۳ء میں اسکول کے تین انگریزی کے اساتذہ کے سپرد بائیبل کی تعلیم کر دی گئی۔
   کلکتہ یونیورسٹی کا انٹرس کا امتحان دینے والی جماعت ہیڈ ماسٹر ایمرسن کے تحت کر دی گئی۔ اس بار صرف ایک لڑکے نے انٹرس کا امتحان دیا،لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔پنجاب یونیورسٹی کالج کے تحت کسی نے امتحان نہ دیا۔اس جماعت کو مشنری سربراہ جے،پی،لینگ بائیبل پڑھایاکرتے تھے۔ ۱۸۷۲ء کی ایک رپورٹ میں لینگ کہتے ہیں :
All the children in this school,as in all our school,even in the lowest forms, are instructed daily in religious truth,and one are request,i have made the teachers  is, that they not merely teach the Bi ble as a class book, but show their pupils how God s ,truth,which itformally proclaims is to be found too in Secular Books they read, and how they all which is sweet and cheer ful on earth is the product of that love which  brought Christ in to the world to save them and all men,’’
بائیبل کے علاوہ دوسری دینی کتب بھی پڑھائی جاتی تھیں۔ اسی رپورٹ میں میر حسن کے متعلق کہا گیا ہے :۔
our oriental  literature under Molvi Mir Hasan we are,i think justly proud of, He is by for the best and most thorough teacher i ever met waith and it, is not long before the pupil cathes his enthusiasm for  Arabic philosophy and  persain poetry.
حصہ مڈل برج لال کے تحت تھا۔اس سال سکول کے ماہوار اخراجات یہ تھے۔
میجر :  ۵۰ روپے
ہیڈ ماسٹر: ۱۰۰ روپے
سیکنڈ ہیڈ ماسٹر :  ۵۲ روپے
ہیڈ اورنٹئیل ٹیچر   ۲۵ روپے
سیکنڈ اورنٹئیل ٹیچر  ۲۵ روپے
تھرڈ اورئنٹیل ٹیچر   ۱۵ روپے
فورتھ اورنٹئیل ٹیچر   ۱۰ روپے
مشن کی یہ انتہائی کوشش رہی کہ سکول میں زیادہ سے زیادہ مسیحی اساتذہ کو ملازم رکھا جائے۔غیر مسیحی اساتذہ کی تعداد کو کم سے کم کیا جائے۔دو سال پیشتر آٹھ اساتذہ میں دومسیحی اساتذہ تھے۔ ۱۸۷۴ء میں چار مسیحی اور پانچ غیر مسیحی اساتذہ تھے۔طلباء کی تعداد ۱۳۲،اس سال چار لڑکوں نے کلکتہ یونیورسٹی میں انٹرس کا امتحان دیا،چاروں کامیاب ہوئے۔ان لڑکوں نے پنجاب یونیورسٹی کالج کا امتحان بھی دیا۔ ان میں ایک فیل ہوا۔ تین کامیاب ہوئے۔کامیاب ہونے والے دت مل،چڑت سنگھ اور غلام علی تھے۔۱۸۷۵ء میں طلباء کی تعداد ۱۵۱ تھی۔ طلباء کے لئے کلکتہ یونورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کالج کا امتحان دینا ضروری قرار دے دیا گیا تھا۔ ۱۸۷۵ء میں سکاچ مشن سکول اور امریکن مشن سکول یکجا کرنے کی تجویز پیش ہوئی ۔لیکن ناکامی ہوئی۔اس سال کسی لڑکے نے انٹرس کا امتحان نہ دیا۔ ۱۸۷۶ء میں مسٹر ہزیکیہ ڈیوڈ ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔اس سال سکول کے دو لڑکوں نے کلکتہ یونیورسٹی کا انٹرس کا امتحان دیا۔ دونوں ناکام رہے۔پنجاب یونیورسٹی کالج کے امتحان انٹرس کے امتحان میں غلام محمد اور قمر الدین نے کامیابی حاصل کر لی۔ ۲۷ فروری ۸۷۷اء کو سکول کے ایک طالب علم امام الدین نے مسیحیت قبول کی۔ وہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اور شہر کے زرگر کا لڑکا تھا۔ اس موقع پر کئی لوگوں نے اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لیا۔ کئی لڑکے امریکن مشن سکول چلے گئے۔ ہندوؤں نے اپنا ایک الگ سکول کھول لیا۔ سکول میں لڑکوں کو مدراس سیریز کی کتب نصاب میں پڑھائی جاتی تھیں۔نومبر ۱۸۷۷ء میں پنجاب یونیورسٹی کالج کے تحت مڈل اور انٹرس کے سالانہ امتحان نہ ہوئے۔کیونکہ ان امتحانوں کو ماہ اپریل میں ہونا قرار پایا تھا۔پانچ لڑکوں نے انٹرس کا امتحان کلکتہ یونیورسٹی کے تحت ماہ نومبر میں۱۸۷۷ء میں دیا۔صرف دو لڑکے کامیاب ہوئے وجہ یہ تھی کہ ان لڑکوں کا امتحان دینے کا آخری موقعہ تھا۔ ۱۸۷۸ء میں پنجاب یونیورسٹی کالج سے ان پانچ لڑکوں نے انٹرس کاامتحان پاس کیا۔سچیت سنگھ ،ہیرا لال، رام جی داس ،مولا مل، اور محمد حنیف ۱۸۸۰ء میںچار لڑکوں نے کلکتہ یونیورسٹی کا امتحان دیا۔ لیکن سب ناکام رہے۔ پنجاب یونیورسٹی کالج سے صرف ایک لڑکے نے امتحان دیا ، لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔
۱۸۸۱ء میں طلباء کی تعداد ۴۶۲ تھی۔ جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد ۳۷۰ تھی۔ ۱۸۸۲ء میں ایک اور لڑکے نے پنجاب یونیورسٹی کالج کا امتحان دیا اور کامیاب ہوگیا۔ میونسپل کمیٹی ضلع سکول کو ۱۹ روپے ماہوار مالی امداد دیتی تھی۔ سکاچ نے جب سکول اپنی تحویل میں لیا تو اتنی ہی امداد جاری رہی۔ ۱۸۸۲ء میں امداد ۴۰ روپے ماہوار ہو گئی۔ ۱۸۸۲ء اور اس کے بعد پنجاب طلباء نے کلکتہ یونیورسٹی میں انٹرس کا امتحان دینے کا سلسلہ بند کر دیا، کیونکہ لاہور میں ۱۴ اکتوبر ۱۸۸۲ء کو پنجاب یونیورسٹی معرض وجود میں آگئی تھی۔ اب یہاں کے لڑکے صرف پنجاب یونیورسٹی کا امتحان دینے کے پابند تھے۔ ۱۸۸۳ء میںپنجاب یونیورسٹی کے تحت چار لڑکوں نے انٹرس کا امتحان پاس کیا۔پاس ہونے والے خورشید احمد، مکند لال، گلاب دین اور نرنجن داس تھے۔
ہر سال لڑکوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ جگہ کی قلت محسوس ہوئی،مقامی انگریزوں نے تگ ودو سے ڈسٹرکٹ کمیٹی نے میو نسپل کمیٹی کے ساتھ مل کر دو کمروں کی تعمیر کے لئے دو ہزار روپے اضافی دینا منظور کیا۔اس رقم سے ۱۵ضرب ۲۰ فٹ کے تین کمروں کی تعمیر ہو سکے گی۔حکومت نے ایک اور منصوبہ پیش کیا جو زیادہ بہتر تھا۔ اس کے لئے ۳۶۰۰ روپے کی ضرورت تھی۔ اگر حکومت اپنی جانب سے ایک ہزار روپے کی خصوصی امداد دے تو یہ منصوبہ مکمل ہو سکتا تھا۔۱۸۸۷ء میں حکومت نے ایک ہزار روپے کی خصوصی امداد دے دی۔ اتنی ہی رقم ہوم کمیٹی نے فراہم کی،اس طرح مطلوبہ کمرے تعمیر کر لیے گئے۔ اس سال لڑکوں کی تعداد میں خاصی کمی واقع ہو گئی۔اس کی دو وجوہات تھیں۔پہلی وجہ تو شہر میں میونسپل بورڈ کے سکول کا قیام تھا۔اور دوسری وجہ فیسوں میں اضافہ تھا۔ ۸۹۔۱۸۸۸ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر الفریڈ لائل نے سکول کا معائنہ کیا اور سکول کی کار کردگی سے متاثر ہوا۔ گورنر نے کہا،:
Much pleased with all he had heard and i seen of it,
۱۸۹۱ء میں سکول کے ہیڈ ماسٹر نرسنگ داس تھے۔ دو ہوسٹل تھے، ایک ہوسٹل میں ۲۷ ہندو تھے۔ اور دوسرے میں ۱۳ مسلمان ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ جارج واخ تھے۔ اگست میں طلباء کی تعداد اس طرح تھی۔
پہلی جماعت   ۶۰
دوسری جماعت ۳۹
تیسری جماعت ۳۷
تیسری جماعت اسپیشل  ۳۱
چوتھی جماعت  ۴۷
پانچویں جماعت ۴۳
   میزان = ۲۵۷
سیکنڈری ڈیپارٹمنٹ
چھٹی جماعت سپیشل ۱۷
چھٹی جماعت   ۴۶
ساتویں جماعت  ۳۳
آٹھویں جماعت ۳۱
نویں جماعت  ۲۱
دسویں جماعت ۳
میزان=۱۶۱
اس سال نو لڑکوں نے انٹرس کا امتحان دیا ۔صرف دو کامیاب ہوئے،فیل ہونے والوں کی تفصیل یہ ہے:۔
حساب میں ۵ فیل ہوئے۔انگریزی=۱ عربی =۱  تاریخ وجغرافیہ = 3
۹۳۔۱۸۹۲ء میں تین بر آمدے تعمیر کیے گئے۔ ان میں ایک سولڑکوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔۱۸۹۵ء میں ۲۰ طلباء نے انٹرس کا امتحان دیا۔تین طلباء نے وظیفہ حاصل کیا۔ اس طرح پنجاب میں یہ سکول اول رہا۔
ستمبر۱۸۹۳ء میں مڈل اور ہائی جماعتوں کو پڑھانے والے اساتذہ یہ تھے۔:
نرنجن داس ہیڈ ماسٹر:
دسویں جماعت کو انگریزی تاریخ
نویں جماعت کو انگریزی پڑھائی
آٹھویں جماعت کو انگریزی
ہرنام سنگھ:
دسویں جماعت کو 
ریاضی،سائنس ،جغرافیہ، 
آٹھویں جماعت کو انگریزی
مولوی سید میر حسن
، آٹھویں جماعت کو اردو ،فارسی،نویں جماعت کو عربی ،فارسی ،دسویں جماعت کو عربی ،فارسی
جگن ناتھ
نویں جماعت کو انگریزی ترجمہ اردو سے انگریزی میں، ساتویں جماعت کو انگریزی ،پانچویں جماعت کو انگریزی
سکول کی باقاعدہ ایک ادبی تنظیم (لٹریری) سو سائٹی تھی۔کالج کے طلباء بھی اسی ایک سوسائٹی سے وابستہ تھے۔ جمعہ کے روز اس کا اجلاس منعقد ہوتا تھا،اور ہر کاروائی ضبط تحریر میں لائی جاتی تھی۔
سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحبان اور ان کے ادوار ملاحظہ ہوں۔
۱۔محمد اسماعیل
۱۸۶۷ء
۱۸۷۰ء
۲، ریورنڈ جے پی لینگ
۱۸۷۰ء
۱۸۷۱ء
۳،اے،ایم،
ایمرسن
۱۸۷۳ء
۱۸۷۴ء
۴۔ہزیکیہ ڈیوڈ
۱۸۷۶ء
۱۸۸۲ء
۵،ٹہل سنگھ
۱۸۸۳ء
۱۸۸۶ء
۶،پربھو داس سنگھ
۱۸۸۷ء
۱۸۸۸ء
۷۔سیموئیل رابرٹس
۱۸۸۹ء
۱۸۹۰ء
۸،لالہ نرسنگھ داس بی ،اے
۱۸۹۱ء


۹،لالہ جگن ناتھ
۱۸۹۲ء
۱۸۹۳ء
۱۰ لالہ نرنجن داس
۱۸۹۳ء
۱۸۹۴ء
۱۱،لالہ جگن ناتھ
۱۸۹۴ء
۱۸۹۵ء
۱۲ جے اسماعیل
۱۸۹۶ء
یہ ریورنڈ اسمعیل کا لڑکا تھا
۱۳،ہرنام سنگھ
۱۹۰۱ء


۱۴،لالہ جگن ناتھ
۱۹۰۹ء


۱۵امر ناتھ وڈہرہ
۱۹۱۰ء
مئی ۱۹۲۱ء
۱۶،پنڈت بہاری لال
 جون ۱۹۲۱ء
۱۹۴۷
۳۔سکاچ مشن کالج
سیالکوٹ میں سکاچ مشن ہائی سکول اور امریکن مشن ہائی سکول طلباء کو انٹرس تک تعلیم دیتے تھے۔کالج سطح تک کوئی بندوبست نہ تھا۔لاہور میں گورنمنٹ کالج موجود تھا۔ مشن کالج لاہور (فار من کرسچین کالج) ۱۸۶۹ء میں بند ہو چکا تھا۷۰؎ کیونکہ کالج سیکشن کے انچارج مسٹر ہنری ۱۸۶۹ء میں انتقال کر چکے تھے۔ ۱۸۸۲ء میں لاہور میں پنجاب یونیورسٹی قائم ہو چکی تھی۔ اس لیے ایک پرائیویٹ کالج کی کمی بڑی شدت سے محسوس کی جانے لگی تھی۔ دوسرے مشنوں سے منسلک لوگوں نے سکاچ مشن کے پادریوں کو پنجاب کے لیے لاہور میں ایک کالج کھولنے کی استدعا کی۔ ۸۲۔۱۸۸۱ء میں ایک صاحب ثروت سکھ نے کالج کے قیام کے لئے اڑھائی ہزار پونڈ کی مالی مدد دینے کی پیش کش کی۔ سکاچ مشن کی فارن کمیٹی نے اس استدعا اور پیش کش کو قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی ۔۷۱؎
۱۸۸۸ء میں حکموت پنجاب نے سیالکوٹ میں ایک کالج کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا۔۷۲؎ سکاچ مشن کو کالج قائم کرنے کی پیش کش کی گئی۔لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر جیمز لائل نے میو نسپل بورڈ سیالکوٹ کے بجٹ ۱۸۸۹ ء سے کالج کے لیے کچھ رقم بھی مخصوص کردی۔۷۳؎
مئی ۱۸۸۹ء میں سکاچ مشن نے سیالکوٹ میں سکاچ مشن ہائی سکول سٹی کی عمارت ہی کالج کی پہلی جماعت یعنی فرسٹ ایر کی ابتدا کر دی۔بارہ لڑکوں سے ابتداء ہوئی۔۷۴؎ ریورنڈ جے ڈبلیو نیگسن کالج کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے،کالج کا اسٹاف ڈاکٹر نیگسن کے علاوہ نرنجن داس، ہرنام ،سنگھ اور مولوی سید میر حسن پر مشتمل تھا۔۷۵؎
مضامین انگریزی، فلاسفی، ریاضی، کیمسٹری، فزکس اور عربی ،فارسی، پڑھائے جاتے تھے۔۷۶؎ یعنی
ڈاکٹر ینگسن
انگریزی ،فلاسفہ
لالہ نرنجن داس
ریاضی
لالہ ہرنام سنگھ
کیمسٹری اور فزکس
مولوی سید میر حسن
عربی اور فارسی
کالج کے طلباء کے لئے دو ہوسٹل بھی شہر میں کرایہ پر لے لیے گئے۔۱۸۹۰ء میں فرسٹ ایر کے طلباء سیکنڈ ایر میں ترقی پا گئے۔اور اس طرح ۱۸۹۰ء میںسکاچ مشن کالج مکمل طور پر قائم ہو گیا۔ ۱۸۹۱ء میں پہلی بار اس کالج کے طلباء نے پنجاب یونورسٹی لاہور کا انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا۔ گیارہ لڑکوں میں سے سات لڑکوں نے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔یہ نتیجہ بڑا حوصلہ افزا تھا۔ سکاچ مشن کے ارباب اختیار نے کالج کے پہلے نتائج کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ کالج سے منسلک اساتذہ کی علمیت اور قابلیت کا کھلے دل سے اعتراف کیا گیا۔ شہریوں نے بھی کالج کی کار کردگی کی بڑی تعریف کی۔ تیسرے سال سسنسکرت کی تعلیم بھی کالج میں دی جانے لگی۔ اس کے لیے پنڈت تیرتھ رام کا تقرر ہوا۔ ۱۰ مارچ ۱۸۹۳ء کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہائی سکول اور کالج کے طلباء پر مشتمل ایک لٹریری سوسائٹی بھی تھی۔ فرسٹ ایر میں گیارہ لڑکے تھے۔ایک ڈیبیٹنگ کلب بھی تھا۔(Debating) اس کا اجلاس جمعہ کے روز ہوتا تھا۔اجلاس کی کاروائی باقاعدہ ضبط تحریر میں لائی جاتی تھی۔اساتذہ طلباء کی رہنما ئی کرتے تھے۔۷۷؎ 
۲۰ سال تک ہائی سکول اور کالج کی کلاسیں ایک جگہ لگتی رہیں۷۸؎۔ ۱۹۰۱ء میں کالج کے لئے نئے کمرے تعمیر کیے گئے۔ ۲۳ اپریل ۱۹۰۱ء کو ان کمروں کی رسم افتتاحی ادا کی گئی۔ اس تقریب کا آنکھوں دیکھا حال ملاحظہ ہو:۔۷۹؎
۲۳ اپریل کو صبح ساڑھے   سات بجے سکاچ مشن سیالکوٹ میں کالج مذکور کے نئے کمروں کی افتتاحی رسم ادا کرنے کا جلسہ بڑی دھوم دھام سے ہوا۔صاحب ڈپٹی کمشنر اور صاحب سیشن جج بہادر کے علاوہ دیگر صاحبان یورپین مع لیڈی صاحبان اور صاحبان ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بہادر، وتحصیل دار صاحبان ووکلا، ومختاران وممبر میونسپلٹی ودیگر معززین وشرفاء وایڈیٹران اخبار وغیرہ شریکک جلسہ تھے۔چوکیاں اور بنچیں اور دریاں بڑے قرینے سے بچھائی گئی تھیں۔ جب سب صاحبان تشریف لا چکے تو اول پادری جارج واخ صاحب ایم،اے ،بی،ڈی پرنسپل سکاچ مشن کالج سیالکوٹ نے استادہ ہو کر انجیل کا وعظ کیا۔ بعد ازاں پادری ینگسن صاحب ایم،اے نے دعا مانگی۔اور ان کے بعد پھر پادری داخ صاحب نے سکول کی مفصل رپورٹ انگریزی میں پڑھ کر سنائی۔ جس کا ترجمہ ماسٹر ہرنام سنگھ صاحب بی،اے ،ہیڈ ماسٹر سکاچ مشن کالج، سکول سیالکوٹ نے سنایا۔ ان کے بعد مولوی نیاز علی صاحب بی،اے،ڈسٹرکٹ انسپکٹرس مدارس ضلع سیالکوٹ۸۰؎ نے اردو میں بڑی برجستہ اور مدلل تقریر کی۔جن کے بعد منشی میراں بخش صاحب جلوہ سیالکوٹی نے مندرجہ ذیل نظم پڑھی۔بعد ازاں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ایک فصیح وبلیغ تقریر کے بعد کالج کے نئے کمروں کی رسم افتتاحی دست مبارک سے فرمائی۔اور جلسہ برخاست ہوا۔ پادری واخ صاحب کی تقریر کا خلاصہ اور جلوہ سیالکوٹی کی نظم درج ذیل میں ہے۔
تقریر پادری واخ صاحب:۔
’’ اس کالج میں پانچ ہروفیسر صاحبان کام کرتے ہیں۔آٹھ مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔باراں سال میں ۲۰۵ طلباء داخل ہوئے۔جن میں سے بہت سے اپنا کورس مکمل ہونے سے پہلے چلے گئے۔مگر ۵۷ طالب علم امتحان ایف ،اے میں پاس ہو چکے ہیں۔نتیجہ پنجاب کے اور کالجوں کے برابر رہا ہے۔پہلے طلباء میں سے ۲۱ بی ،اے۔تین ایم،اے اور دو ایل ایل بی کا امتحان پاس کر چکے ہیں۔جن میں سے بعض اب اعلیٰ عہدوں پر ممتاز ہیں۔تین اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔تین وکیل ہیں اور ایک منصف،ایک اسٹنٹ سرجن ہے اور ۱۸ مدرس ہیں،جن میں سے ایک ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایف ،اے کے امتحان میں چار دفعہ ہمارے طلباء میں سے کوئی نہ کوئی ایک خاص مضمون میں اول رہا ہے۔ ۱۸ طلباء کو سرکاری وظیفہ ملا ہے۔ کالج کا خرچہ مشن کے فنڈ یا فیس سے ہوتا ہے۔اور پچاس روپیہ بطور امدادمیونسپلٹی اور ڈسٹرکٹ بورڈ سے ملتی ہے۔اور ۲۶ طلباء کو لوکل وظائف سے امداد ملتی ہے۔ کالج اور ہائی سکول کے متعلق ایک لائبریری ہے۔ جس میں ۵۶۰ کتابیں ہیں۔اور ایک لٹریری سوسائٹی جس میں موسم سرما میں ہفتہ وار لیکچر دیئے جاتے ہیں۔ اور بحث ومباحثہ ہوتا ہے۔
نظم جلوہ صاحب :۔
کروں پہلے تعریف رب کریم
کہ ہے ذات اس کی غفور رحیم
ازاں بعد ہیں جس قدر انبیاء
میں ہر اک کی کرتا ہوں دل سے ثناء
یاں جس قدر بیٹھے ہیں حاضرین
ہیں سب قابل مدحت وآفرین
جو صاحب ہیں ٹالنٹن باکمال
وہ ڈپٹی کمشنر ہیں فرخندہ فال
وہ ہیں ان دنوں ضلع کے حکمران
عدالت میں بے شک ہیں نوشیروان
گئے بھاگ ہیں ان کے ڈر سے شریر
ثنا خوان ہیں ان کے کبیر وصغیر
عدالت سے ان کی ہر اک شاد ہے
ضلع امن سے خوب آباد ہے
ہیں صاحب سیشن جج عالی تبار
سدا خوش رہے ان پر پروردگار
بہت سوہڈی صاحب ہیں فرخندہ فر
وہ ہیں صدر منصف خجستہ سیر
وہ سب جج مشہور آفاق ہیں
پسندیدہ سب ان کے اخلاق ہیں
ولی شاہ ہیں اک فرشتہ اثر
ہیں سلطان احمد بھی بس نامور
ملائک صفت ہیں ملک مغل خان
ہمیشہ خدا ان پہ ہے مہربان
وہ سردار ہیں چڑت سنگھ باوفا
ہوا ضلع میں ان کا شہرہ بڑا
ہیں تحصیل منصف بڑے نیک خو
کرے ان کی پوری خدا آرزو
بہت نیک نیت ہیں تحصیل دار
وہ نائب بھی ان کے ہیں پرہیز گار
ہوئے ہیں اکٹھے یہ سب ہم صلاح
کہ جلسہ خوشی سے کریں افتتاح
بنے ہیں جو کالج کے کمرے نئے
کہ ہیں آج کے دن وہ کھولے گئے
اس واسطے ہے یہ جلسہ ہوا
ہر اک اس کے لیے بولایا گیا
یہ ہے پادری داخ صاحب کاکام
ولایت تلک پایا کالج نے نام
ہیں ہر نام سنگھ ماسٹر خوش نہاد
یہ کالج ہے ان کے سبب سے آباد
خصوصا جو ہیں مولوی میر حسن
کہ ہے ختم تعلیم کا ان پہ فن
غرض سارے استاد ہیں نیک نام
جبھی خوب چلتا ہے کالج کا نام
ہوا جب سے قائم ہے کالج یہاں
نظر آتے ہیں لوگ سب شاد مان
بہت مشن کے لوگ مشکور ہیں
کہ کالج کے بننے سے مسرور ہیں
دعا کیجیئے مل کے سب حق کے پاس
کہ توفیق دے کھولیں بی،اے کلاس
کہ تکلیف لاہور جانے میں ہے
مصیبت بڑی خرچ اٹھانے میں ہے
دعا پر کروں نظم کا اختتام
کہ جلوہ فزا ہو یہ محفل مدام
۱۹۰۹ء میں کالج کی ایک باقاعدہ عمارت تعمیر کی گئی۔کیپٹن مرے مرحوم کے ورثاء نے پندرہ سوپونڈ کالج کی تعمیر کے لئے دیئے۸۱؎
۲۰ اکتوبر ۱۹۰۹ء کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر لوئی ڈین (Luis Dane) نے اس نئی عمارت کا افتتاح کیا۔۸۲؎
۱۔ریورنڈ ڈاکٹر جان ینگسن
۱۸۸۹ء
۱۸۹۰ء
۲۔ریورنڈ جارج داخ
۱۸۹۱ء


۳۔ریورنڈ ڈاکٹر جان ینگسن
۱۸۹۲ء
۱۸۹۳ء ۔۱۸۹۴ء
۴۔ریورنڈ جارج واخ
۱۸۹۴ء
۱۹۱۴ء تک
۵۔ریورنڈ ولیم اسکاٹ 
۱۹۱۴ء سے
۱۹۲۳ء تک
۶۔ریورنڈ جان گیرٹ
۱۹۲۳ء
۱۹۴۵ء
۴۔ سٹی برانچ سکول
سیالکوٹ شہر کے شمال میں سکاچ مشن نے ۱۸۶۸ء میں ایک برانچ سکول قائم کیا۸۳؎۔ میجر مرسر سے عمارت کرایہ پر لے کر سکول کا آغاز کیا۔۸۴؎ ۔ابتداء میں یہاں ساٹھ لڑکے داخل ہوئے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد علی تھے ،جو دس روپے مشاہرہ پاتے تھے۔۱۸۶۹ء میں طلباء کی تعداد پچاس ہو گئی۔ انسپکٹر آف سکولز نے ۳۰ جون ۱۸۶۹ء کو سکول کا معائنہ کیا ۔اور اپنے تاثرات لکھے کہ:۔
The school not be  considred Satisfactory,if taught by a village,teacher on RS = 10.,, ido,nt think the mission should remain content to spend ,30\ rupees amonth on it,it appears to me that Muhammad Ali continues to do next to nothing,beyond whwt he used to do when he was aprivate matser at the Masjid ,, 85؎
یہاں ابتدائی دو جماعتیں پڑھائی جاتی تھیں۔یعنی پہلی اور دوسری جماعت،پہلی جماعت کے دو حصے تھے۔  پہلی کچی اور پہلی پکی۔ پہلی کچی کو INFANTکلاس کہا جاتا تھا۔آج کل اسے نرسری کلاس کہتے ہیں۔سکول کو آٹھ روپے ماہوار امداد ملتی تھی۔یہاں گورنمنٹ ورنیکر سکول کا نصاب پڑھایا جاتا تھا۔عموما غرباء کے بچے یہاں پڑھتے تھے۔بچوں کو دین مسیح کی تعلیم یہاں لازمی دی جاتی تھی۔ ۱۸۷۲ء میں طلباء کی تعداد ۱۰۵ تھی۔ریورنڈ جے پی لینگ لینگ اپنی رپورٹ محرر ۲۵ اپریل ۱۸۷۲ء میں لکھتا ہے :۔
There is flourishing branch shool,chifly designed to meet the wants of poor classes and to act as a feeder to the main school..,,
اس سال دوران معائنہ انسپکٹر آف سکولز کے اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور طلباء کی تعلیمی استعداد سے بہت خوش ہوا، ۱۸۷۰ء کے قریب سکول کی عمارت بھی نصف قیمت ۲۰ پونڈ میں خرید لی گئی۔ ۱۸۷۴ء میں طلباء سے ۲۲ روپے فیس وصول کی گئی۔ ۱۸۷۵ء میں لڑکوں کی تعداد باسٹھ تھی۔۸۶؎
۱۸۸۴ء کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۸۲ء میں رنگ پورہ میں ایک برانچ سکول موجود تھا۔۸۸؎ ۱۸۶۹ء کی رپورٹ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ۱۸۸۲ء میں رنگ پورہ کا برانچ سکول فنڈ نہ ہونے کے باعث بند کر دیا،۸۹؎
اس سکول کے ستر لڑکے دوسری برانچ سکول میں چلے گئے۔جو قلعہ پر واقع تھا۔ قلعہ والے برانچ سکول میں لڑکوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوگیا۔ ۱۸۸۴ء میں یہاں لڑکوں کی تعداد ۸۰ تھی۔ ۱۸۸۵ء میں یہ تعداد ۱۱۲ ہو گئی ۹۰؎
اقبال بھی غالبا قلعہ پر برانچ سکول کیINFANTکلاس میں ۱۸۸۳ء میں داخل ہوئے:۔
۵۔بائیبل سکول
 سیالکو ٹ کے قرب وجوار کے دیہات میں زمیندار اپریل مئی کے مہینوں میں گندم کی فصل کاٹنے ،گاہنے اور اس کا ذخیری کرنے میں مصروف رہتے تھے۔دیہاتوں میں رہنے والے عیسائی بھی اس میں مشغول رہتے ہوں گے۔لیکن سکاچ مشن کے پادریوں نے ان عیسائی دیہاتیوں کو ان دنوں میں مسیح کی تعلیم دینے کا ایک جامع پروگرام بنایا۔ ۱۸۹۲ء میں ہنٹر پورہ چرچ میں ’’بائیبل سکول ‘‘ کھولا۔ جہاں امریکی وسکاچ مشن کے مبلغین،مدرسین اور دیہات میں رہنے والے عیسائی مردوں اور عورتوں کو بائیبل کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ۵ مئی ۱۸۹۳ء کو اس طرح کا ایک اجتماع شروع ہوا۔ جو جون کے پہلے ہفتے تک جاری رہا۔اس دینی اجتماع میں حصہ لینے والوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
۱۔پہلی جماعت ان ضعیف العمر لوگوں پر مشتمل تھی،جو بائیبل تو جانتے تھے اور دیہاتیوں کو اس کی تعلیم دے سکتے تھے۔ لیکن یہ لوگ پڑھ نہیں سکتے تھے۔ ان کا نصاب GENSIS and GOSPELS تھا۔
۲۔ وہ لوگ جو بائیبل تو پڑھ سکتے تھے لیکن دوسرا دنیاوی علم نہیں رکھتے تھے۔ان کا نصاب ، ACTS ,First Epistle to the s corinthians   تھا ۔
۳۔ وہ لوگ جو فارسی اور اردو پڑھ سکتے تھے ،ان کا نصاب یہ تھا:۔
Judges ,First Epistle to the Corinihians.,
۴۔ وہ لوگ جو سب سے زیادہ پڑھ سکتے تھے، ان کا نصاب یہ تھا؛
Epistles to the Galatians and the Herbrews.
پہلی اور تیسری جماعت کو ڈاکٹر مارٹن اور مسز مارٹن پڑھاتے تھے۔دوسری اور چوتھی جماعت کو ڈاکٹر ینگسن اور مسٹر فف(Fif)پڑھاتے تھے۔ عیسائی خواتین کو مس مارٹن،مس ولسن اور امس (M,CULLOCH)پڑھاتی تھیں۔ شام کے وقت پہلے دو ہفتہ PADTOR THEOLGY پر مسٹر مورسن اور مسٹر کالڈول نے لیکچر دیئے۔ہفتہ کی صبح کو نتھو مل، ٹھاکر داس اور امام دین شہباز نے لیکچر دیئے۔مہینہ کے آخر میں ان لوگوں کا امتحان لیا جاتا۔اور میرٹ کے لحاظ سے فہرست تیار کی جاتی۔رات کے وقت مذہبی فلم دکھائی جاتی۔ فضل دین پنجابی میں فلم کی تشریح کرتا۔منگل کے روز تقریبا ایک ہزار عیسائی جمع ہوئے اور سب نے مل کر کھانا کھایا۔اس موقع پر ایک میلہ سا لگ گیا،ہر سال یہ دینی اجتماع وتربیتی پروگرام ہوتا۔
انڈسٹریل سکول ۹۲؎
۱۸۶۳ء کے لگ بھگ سکاچ مشن نے شہر میں ایک انڈسٹریل سکول قائم کیا۔ اس ادارہ کے ذریعے عیسائیت قبول کرنے والے لوگوں کو روزگار کی سہولت فراہم کرنا تھا۔یہاں صابن،تیل،تار پین کا تیل اور موم بتی وغیرہ تیار کرکے فوجیوں کو مہیا کی جاتی تھیں۔ لاہور میں منعقدہ ایک صنعتی میلے (State Fair) میں اس صنعتی سکول کی مصنوعات کو انعام بھی ملاتھا۔
۱۸۹۴ء سے قبل یہ سکول بند ہو گیا تھا۔
۴۔لڑکوں کا یتیم خانہ
۱۸۵۶ء کے ایک اجلاس میں سیالکوٹ شہر میں لڑکوں کے لیے ایک یتیم خانہ کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔اسی عرصہ میں مہلک بخار نے تباہی مچا دی۔ صرف ظفر وال میں گیارہ سو افراد لقمہ اجل ہوئے۔اس واقعہ نے ارادہ کو تقویت دی۔۱۸۵۷ء کے ابتداء میں ۲۲ یتیم بچے جمع کر لیے گئے۔شہریوں نے احتجاج کیا۔ ۱۸۶۲ء میں سکاچ مشن نے سیالکوٹ شہر میں باقاعدہ ایک یتیم خانہ قائم کیا۔ ۱۸۶۶ء میں یتیم لڑکوں کے لئے ایک بڑا سکول عبادت کرنے کا کمرہ، اور سونے کے لئے پانچ کمرے تعمیر کیے۔یتیم لڑکوں کو بابو ملائم دین پڑھاتے تھے۔ پہلی جماعت میں انوار سہیلی،تاریخ ،جغرافیہ ،گرائمر،حساب اور انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔دوسری اور تیسری جماعت کے طلباء کو گلستان،جغرافیہ،گرائمر، آسان حساب اور فارسی ریڈر پڑھائی جاتی تھیں۔ ۱۸۶۶ء میں چار نئے یتیم لڑکے داخل کیے گئے۔ ایک لڑکا چل بسا۔ رامول لڑکوں کو دینی اور اخلاقی تعلیم دیتا تھا۔ یہ شخصیتیم خانے کا منتظم بھی تھا۔ریجہہ مل (REJHA MULL) دوسری تعلیم کا انچارج تھا۔ گزشتہ برس یہاں سے ایک لڑکا امرتسر کالج بھیجا گیا۔ جہاں سے اس نے ٹیچرز ڈپلومہ حاصل کرنا تھا۔ اپریل ۱۸۶۸ء میں یتیم بچوں کا انچارج غلام مسیحی انتقال کر گیا۔۱۸۶۹ء کے شروع میں اس ادارے کے حالات بڑے خراب تھے۔ستمبر۱۸۶۹ء میں یہاں لڑکوں کی تعداد صرف نو تھی۔دسمبر میں یہ تعداد ۲۲ ہو گئی۔ برج لال کو منتظم مقرر کیا گیا۔ ایک نیا طریقہ تعلیم رائج کیا گیا،ضبط ونظم بہتر بنایا گیا۔یہاں کا ایک غالیچہ بان (Carpet manfacturer) اس ادارے میں رہنے کے لئے آیا۔  اس نے غالیچہ بنانے کا فن سب لڑکوں کو سکھانے کا وعدہ کیا۔چار پانچ لڑکوں نے اس کام کو سیکھنے میں بڑی دل چسپی کا اظہار کیا۔
سکاچ مشن کے صدر دفتر نے لڑکوں کے اس یتیم خانے کے اخراجات برداشت کرنے سے معذوری ظاہر کی،جس کی وجہ سے ۱۸۷۲ء میں اس ادارے کو بند کرنا پڑا۔اور یہاں کے لڑکوں کو سہارن پور کے یتیم خانے بھیج دیا۔
۸۔لڑکیوں کا یتیم خانہ ۹۴؎
سکاٹ لینڈ کی خواتین کا ادارہ:
Scottish Ladies Association for the Advancement of Female Education in india.
ایک الگ اور خود مختار ادارہ ہے۔۱۸۶۱ء میں اس ادارہ نے شہر میں لڑکیوں کے لئے ایک یتیم خانہ کھولا۔ ریورنڈ ٹیلر اور ریورنڈ پیٹرسن کو اس کا نگران مقرر کیا۔ دو برس سے دس برس تک کی عمر کی ۱۵ لڑکیاں اس میں داخل کی گئیں۔جو بہت غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔۱۸۶۶ء میں کلکتہ سے مس ٹونٹی مین (Miss Twenty man)اس یتیم خانہ کی نگران بن کر سیا لکوٹ آئی،اس سال یہاں سترہ لڑکیاں تھیں۔ان کو مسیحیت اور عام تعلیم دی جاتی تھی۔ مس ٹونٹی مین خرابی صحت کی بناء پر اپریل ۱۸۶۷ء میں انگلستان چلی گئی۔اس کی جگہ مس جے اسمتھ (Miss J. Smith) سپرنٹنڈنٹ بن کر آئی۔پہلی جماعت میں چھ لڑکیاں تھیں جو انگریزی آسانی سے پڑھ سکتی تھیں۔اس کے علاوہ معمولی جغرافیہ اور حساب بھی جانتی تھیں۔ تمام لڑکیاں سلائی اور کڑھائی کاکام بھی جانتی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر میجر مرسر (Mercer) اور ان کی بیگم نے اس یتیم خانہ کا معائنہ کیا۔لڑکیوں کا امتحان لیا،اور ضرورت مند لڑکیوں کو انعامات سے نوازا۔
یہاں لڑکیوں کو خوراک اور راہائش کے علاوہ لباس بھی مفت فراہم کیا جاتا تھا۔سکاٹ لینڈ اور کئی دوسرے مقامات سے چندہ اکٹھا کرکے اس کے اخراجات پورے کیے جاتے۔۱۸۶۹ء میں مس اسمتھ متسعفی ہو گئیں۔ اس موقع پر مرحوم ریورنڈ ٹیلر کی بیوہ نے اپنی خدمات پیش کیں۔مسز ٹیلر کی غیر حاضری میں محمد اسماعیل کی بیوی سیلی (SALLY) نے کچھ عرصہ اس ادارے کو چلایا۔۱۸۶۹ء میں یہاں لڑکیوں کی تعداد ۲۲ تھی۔ ۱۸۷۰ء کے شروع میں مسز ٹیلر نے اس کا چارج اپنے ہاتھوں میںلے لیا۔ ۱۸۷۲ء میں مسز ہوچی سن اس کی سپرنٹنڈنٹ تھی۔
۱۸۷۹ء میں اس یتیم خانہ کو بند کر دیا گیا۔اس کی اراضی اور ہاؤس کو بھی فروخت کر دیا گیا۔ ۸۸۹اء میں مس پلمب (PLUMB) کی زیر نگرانی اس یتیم خانہ کو دوبارہ ابردین (ABERDEEN)   کی AUXILIARYCOMMITTE for ZENANA MISSION کے تحت قائم کیا گیا۔ ۱۸۹۵ء میں اس کی سپرنٹنڈنٹ مس ( BLACK) تھی۔ اس کے ساتھ دواور مشنری خواتین تھیں۔مس بلیک مددگار تھیں۔ اور مس اینا کاڈل (INA CADELL) طبی پیشہ سے تعلق رکھتی تھی۔
ہنٹر پورہ ۹۵؎
۹ جولائی ۱۸۵۷ء کو سکاچ مشن کا سر براہ تھامس ہنٹر اس کی بیوی اور ایک شیر خوار بچہ حریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ مشن کے ارباب اختیار نے ان کے قتل کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا۔
’’Doubtless they died in the faith and hope of being for ever with the Lord ,,.
مارچ ۱۸۶۰ء میں سکاٹ لینڈ سے دو مشنری ریورنڈ جان ٹیلر اور ریورنڈ رابرٹ پیٹرسن سیالکوٹ آئے۔ انہوں نے آتے ہی تھامس ہنٹر کی یاد میں ایک چرچ تعمیر کرنے کے لیے حصول اراضی کی کوشش شروع کر دی۔کیونکہ سکاٹ لینڈ اور کلکتہ کے لوگوں کی بڑی تمنا تھی کہ مرحوم ہنٹر کی یاد میں ایک چرچ تعمیر کیا جائے۔ میجر راس (ROSS) کے اثر ورسوخ کی وجہ سے شہر سے دومیل دور شمال میںاور صدر سے تین میل دور مغرب میں ایک قطعہ اراضی حاصل کر لیا۔ ۱۸۶۲ء میں چرچ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔چرچ کی تعمیر کے لیے مختلف ذرائع سے قرض حاصل کیا گیا۔ سیالکوٹ کے سیٹلمنٹ کمشنر مسٹر ای اے پرنسیپ نے ۱۸۶۲ء میںسیالکوٹ اور دوسرے شہروں سے نو سو پونڈ اکٹھا کرکے مشن کو دیئے۔بہت تھوڑے عرصے میں گوتھک طرز پر اس چرچ کی تعمیر ہوئی۔ ۱۸۶۷ء تک چرچ کی تعمیر کے لیے لیا گیا تمام قرض ادا ہو گیا۔ ۱۸۶۷ء میں پہلی بار ’’لارڈذ ڈے‘‘ کے موقع پر اس چرچ میں ساٹھ ستر عیسائی جمع ہوئے۔ ۱۸۶۹ء سے باقاعدگی سے یہاں عبادت کی جانے لگی۔پادری لینگ اردو میں وعظ کیا کرتا تھا۔چند سال بعد محسوس کیا گیا کہ چرچ شہر سے بہت دور ہے۔اس لئے عبادت کے موقع پر عیسائیوں کی برائے نام حاضری ہوتی ہے۔ ہنٹر میموریل چرچ کی تعمیر میں یہ منصوبہ بھی شامل تھا کہ چرچ کے گرد مسیحی گھرانوںکو آباد کیا جائے۔اس منصوبہ پر عمل در آمد چرچ کا سنگ بنیاد رکھتے وقت شروع ہو گیا تھا۔ ۱۸۶۲ء میں امریکی مشن سے ستر ایکڑ اراضی خریدی گئی۔حکومت نے اس اراضی پر ٹیکس معاف کر دیا۔ جس سے مشن کو ڈھائی صد روپے سالانہ کی بچت ہونے لگی۔اس اراضی میں کنکر پایا جاتا تھا، جو سڑکوں کے بنانے میں کام آتا تھا۔کنکر کے اس ذخیرے سے تقریبا چھ صد روپیہ حاصل کیا گیا۔یہ تمام آمدنی مسیحی گھرانوں کو آباد کرنے کے لئے مختص کی گئی۔ ۸۷۔۱۸۸۶ء میں چرچ کے گرد دس مسیحی گھرانوں کو آباد کیا گیا۔آباد کاری کے لئے مشن نے ان کو مدد دی۔دروازوں اور چھتوں کے لیے لکڑی مہیا کی۔ان گھرانوں سے معمولی سالانہ کرایہ ادا کرنا طے پایا۔ پادری ٹہل سنگھ کو چرچ کا پادری مقرر کیا گیا۔اگلے برس دو اور مسیحی گھرانے آباد کیے۔ان گھرانوں نے یہاں کاشت کاری شروع کی۔ گندم اور گنے کی فصل بڑی شاندار ہوئی۔
ہنٹر پورہ میں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ایک سکول بھی قائم کیا گیا۔اس کانام کرسچین ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ رکھا گیا۔ ۱۸۹۱ء میں یہاں مڈل تک تعلیم دی جاتی تھی۔ ۱۸۹۴ء میں اس سکول کی سپرنٹنڈنٹ مس پلمب تھی۔(PLUMB)تھی۔
آج ہنٹر پورہ گنجان آباد علاقہ ہے۔ عیسائیوں کی بہت بڑی آبادی یہاں آباد ہے۔بارہ پتھر کی سی بات ختم ہو چکی ہے۔ یہ علاقہ شہر سے مل چکا ہے۔ سکاچ مشن کا دفتر آج بھی موجود ہے۔
حواشی:
۱۔ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے:۔
1.The church of Scot land...Home and Foreign  Mission  Record.
11.Our india  Mission , Gordon.
111 Report of the Committee  for the  Propagation of the  Gospels in Foreign Parts, Especially in india ,to the General  Assembly of the church of Scotland. GlasGow from1856 to 1896.
1v
المشیر راولپنڈی
جنوری ،مارچ ۱۹۹۷ء


۲
ہندوستانی اخبار نویسی کے عہد میں
 محمد عتیق صدیقی
ص۳۹۶
۳
المشیر
راولپنڈی
ص۶۳
۴
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۵۹ء
ص۷،۸
۵
المشیر 
راولپنڈی
ص۶۳
۶
ایضا


ص۶۴
۷
ایضا




۸
ایضا


ص۶۵
9=Our india Mission,A Gordon  p208
10رپورٹ
سکاچ مشن
۱۸۶۶ء
ص۶۹
۱۱ رپورٹ
سکاچ مشن
 ۱۸۶۶ء
ص۲۹
۱۲ 


ایضا 
ص۲۰ 
13,The church of Scot land ,Home and Foreign  Mission Record. p.242.
۱۴
لاگ بک
سکاچ مشن ہائی سکول
سیالکوٹ
۱۵
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۷۲ء
ص۱۳۷،۱۳۸
۱۳۸
۱۶
ڈسٹرکٹ گیزٹرسیالکوٹ
۸۴،۱۸۸۳ء
ص۴۰
۱۷
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۷۴ء
ص۱۲۷
۱۸
ایضا
۸۷۷اء
ص۱۱۸
۱۹
ایضا
۱۸۸۲ء
ص۹۳
۲۰
ایضا


ص۹۳
The Church of Scotland Home and Foreign Mission Record March i, 2881. p.71.
21
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۸۹ء
ص۱۰۷
۲۲
رپورٹ
۱۸۶۹ء
ص
۲۳
ایضا
۱۸۹۲ء
ص۱۲۵
۲۴
ایضا
۱۸۸۷ء
ص۹۸
۲۵
ایضا
۱۸۷۳ء
ص۱۲۹
۲۶
ایضا
۱۸۶۹ء
ص۱۱۲
۲۷
ایضا
۱۸۷۰ء
ص۱۶۴
۲۸
ایضا
۱۸۷۱ء
ص۱۰۵
۲۹
ایضا
۱۸۷۳ء
ص۱۲۹
۳۰
پنجابی اخبار لاہور
جلد۱۳ ،شمارہ۲۲ٍ
۲۶ مئی ۱۸۷۷ء
31=Report of the punjab Mission Conference held at Lahore .in Dec.Jan.1862,63. Lahore.1863  p.87








32
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۷۶ء
۱۸۷۸ء
ص۱۰،
۱۷۹
۳۳
رپورٹ مجموعی انتظام ممالک پنجاب
۱۸۶۱ء
۱۸۶۰ء
لاہور،
۱۸۶۱ء
ص۲۳
۲۴
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۶۲ء
ص۱۲،
۱۳،۱۴،
35=Church of Scotland  Home and Foreign  Mission
Record..Aug.1892.p.562.
36=our India  Mission ,AGordon p.173,174.
37=........Do.......P.177
38. سراج الاخبار ۔۲۱ مئی ۱۸۹۴ء ص۴
39= Cgurch of Scotland Home and Foreign Mission
Record. Sep.1895. P,547


۴۱
رپورٹ سکاچ مشن
 ۱۸۶۲ء
ص۱۲۔
۱۳
۴۲
گوجرانوالہ
 ڈسٹرکٹ گیزیٹر 
۱۸۹۳ء
۱۸۹۴ء
ص۴۹
۴۳
رپورٹ سکاچ مشن
۱۸۶۶ء
ص۳۰
۴۴
ایضا
۱۸۶۷ء
ص۲۳
۴۵
ایضا
۱۸۶۹ء
ص۱۶۵،۱۶۶
۱۶۶،
۴۶
ایضا
۱۸۷۰ء
ص۱۶۵،۱۷۰
۴۷
ایضا
۱۸۷۳ء
ص۷۹،
۱۴۰
۴۸
ایضا
۱۸۷۳ء
ص ،۱۳۵،۱۳۹
۴۹
ایضا
۱۸۷۴ء
ص۱۷۶
۵۰
ایضا
۱۸۷۵ء
ص۲۳۶
۵۱
ایضا
۱۸۷۶ء
ص۱۳۲
۵۲
ایضا
۱۸۷۷ء
ص۱۲۳
۵۳
ایضا
۱۸۷۸ء
ص ۶۹
۵۴
ایضا
۱۸۸۰ء
ص ۶۹
۵۵
ایضا
۱۸۸۵ء
ص۹۷
۵۶
ایضا
۱۸۸۸ء
ص ۱۰۴
۵۷
ایضا
۱۸۸۹ء
ص۱۱۱
۵۸
ایضا
۱۸۹۰ء
۱۲۰
۵۹
ایضا
۱۸۹۴ء
ص ۱۰۹
۶۰
ایضا
۱۸۹۶ء
ص۱۰۶
۶۱
ایضا
۱۸۸۹ء
ص ۱۱۰،۱۱۱
۶۲
ایضا


ص۱۱۱
۶۳
ایضا


ص۱۱۱
۶۳
راوی ،اے ا،آر 
جرمی،
ایڈوکیٹ لاہور
سے مدد لی گئی،مزنگ روڈ لاہور
۱سکاچ مشن 
کی رپورٹیں:




۱۸۶۶ء
۱۸۶۸ء
۱۸۷۰ء
۱۸۷۳ء
۱۸۸۲ء
۱۸۸۴ء
۱۸۸۶ء
۱۸۸۹ء
۱۸۹۱ء
۱۸۹۲ء




۱۱
المشیر۔راولپنڈی ۔
ص
ص۸۱،۵۱
۵۱
۶۵۔دیدار سنگھ کے نواسے ڈبلیو سی ،بنجمن،حال مقیم راولپنڈی نے کچھ حالات مکتوب کی صورت میں بھیجے تھے۔ اس کے علاوہ سکاچ مشن کی رپورٹیں : ۱۸۸۹ئ، ۱۸۸۴ء ۱۸۸۵ئ۔
۶۶۔ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے:۔
تاریخ سیالکوٹ،منشی امین چند۔ ص۱۷
۱۱،امشیر رالپنڈی ،جنوری ،مارچ ۱۹۷۷ء
۱۱۱۔سکاچ مشن کی رپورٹیں ،۱۸۵۷ء ۱۸۹۲ء
۶۸،رجسٹر مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ صدر۔
۶۹،ان ماخذوں سے مدد لی گئی۔
۱، لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ مملوکہ گوجرانوالہ
(۱۱) سکاچ مشن کی رپورٹیں ۱۸۵۷ء سے ۱۸۹۶ء
۱۱۱) سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزٹیر  ۱۸۸۲ء
1v، المشیر،راولپنڈی جنوری،مارچ ۱۹۷۷ء
v، پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۔۱۸۷۶ء ،۱۸۸۱ء تک
v11) اورنٹئیل کالج میگزین لاہور ۔یونیورسٹی صد سالہ نمبر
(v111) ہیڈ ماسٹر صاحب نمبر ۱۳ سے ۱۶ تک رجسٹر مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سٹی۔
۷۰ ۔۱۸۸۶ء میں کالج کی کلاسوں کا دوبارہ اجراء ہوا تھا۔لدھیانہ میں ۱۸۸۵ء میں ایک مشنری نے کالج کی فرسٹ ایر کلاس شروع کر دی گئی۔دیکھیئے۔فولیو فار من کرسچین کالج لاہور ۔صد سالہ نمبر ص۱۶
۷۱،رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۲ئ ص۹۳ ۷۲۔پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر  ۱۸۹۴ء ۱۸۹۵،ص ۳۷۰
۷۳  ایضا
۷۴۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۰ء ص۱۲۳
۷۵۔ ایضا    ص۱۲۰
۷۶۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۱۸۹۲ء ۱۸۹۳ء ص۳۴۳
۷۷۔لاگ بک ، سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
۷۸۔مرے کالج میگزین سیالکوٹ ۳۹،۱۹۳۸ء ص۳
۷۹ ۔سراج الاخبار ۔۲۹ اپریل ۱۹۰۱ء
۸۰۔ مولوی نیاز علی پسرور کے تھے۔ دیکھیئے تاریخ پسرور ،ص۲۸۳
81.ٖForty years of the punjab  Mission ,young son, p. 75.
۸۲،مرے کالج میگزین ۳۹،۱۹۳۸ء ص۶
۸۳ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۸ء ص۱۰۷
رپورٹ ۱۸۶۹ء کے ص۱۰۶،اور ۱۱۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۶۹ء ایک دوسرا برانچ سکول موجود تھا،جہاں ۹۴ لڑکے پڑھتے تھے۔


۸۴
رپورٹ سکاچ مشن 
۱۸۷۰ء
ص۱۶۹
۸۵
لاگ بک
 سکاچ مشن ہائی سکول
سیالکوٹ
۸۶
رپورٹ
 سکاچ مشن ،۱۸۷۲ء
ص۸۰
۸۷
ایضا
 ۱۸۷۵ء
ص۲۳۸
۸۸
ایضا
۱۸۸۴ء
ص۸۰
۸۹
ایضا




۹۰
ایضا
۱۸۸۵ء
ص ۹۲
91= The Church of Scotland Home and Foreign  Mission
Record .sep .1.,1893
اور رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۴ء ص۱۰۷
92= Our india Mission ..A Gordon P.  181.
سیالکوٹ گیزیٹر ۱۸۹۵ء ۱۸۹۴ء ص۱۵۰
۹۳۔ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے:۔
Our india Mission . A Gordon . p. 117.. 811
11,۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گیزیٹر ۱۸۹۵ئ۱۸۹۴ء ص۳۸
۹۵۔ان رپورٹوں سے مدد لی گئی ہے۔
۱۸۸۸ء ۱۸۸۸۷ء ۱۸۸۸۵ء ۱۸۶۷ء ۱۸۶۶ء ۱۸۶۰ء ۱۸۵۸ء ۱۸۹۴ء
باب ۴
اقبال علم کے زینے پر
ابتدائی تعلیم
شیخ نور محمد سیالکوٹ کی مسجد دودروازہ کے شمال میں کشمیری محلہ میں رہتے تھے۔ ۱۸۶۱ء میں ان کے والد شیخ محمد رفیق نے یہ مکان خریدا تھا۔اسی مکان میں اقبال پیدا ہوئے ۔۱؎
 ۱۸۸۳ء کے لگ بھگ عام مسلمان بچوں کی طرح انہیں محلہ میں قریب ترین مسجد سید حسام الدین میں قرآن پاک ناظرہ پڑھنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ یہ مولوی سید میر حسن کے برادر عم زاد حکیم حسام الدین نے ۱۸۷۶ء میں تعمیر کی تھی۔۲؎ یہاں حکیم صاحب کے بہنوئی سید عمر شاہ بچوں کوقرآن پاک ناظرہ پڑھایا کرتے تھے۔ کرم بی بی نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ کہ عمر شاہ کے مکتب میں انہیں اقبال کے ساتھ پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔۳؎اقبال نے قرآن مجید کا ابتدائی حصہ یہاں پڑھا ہے۔ کچھ عر صہ بعد عمر شاہ نے بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ بند کر دیا۔اقبال مولانا غلام حسن کے پاس پڑھنے کے لئے جانے لگے۔مولانا موصوف شیخ نور محمد کے بہت گہرے دوست تھے۔اور شوالہ تیجہ سنگھ کی مسجد میں مسلمان بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔ اقبال یہاں ۱۸۸۵ء تک پڑھتے رہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ برانچ سکول کی پہلی کچی جماعت میں۱۸۸۳ء داخلہ بھی لے چکے تھے۔۱۸۸۵ء میں جب اقبال نے پہلی پکی پاس کی ۲؎ تو وہ مولانا غلام حسن کے پاس ہی مسجد میںقرآن پڑھتے تھے۔ ایک روز مولوی میر حسن مولانا غلام حسن کو ملنے مسجد میں آئے۔دوران ملاقات انہوں نے اقبال کو دیکھا،استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ شیخ نور محمد کا صاحبزادہ ہے۔مولوی سید میر حسن نے خوداس بچے کو پڑھانے کی پیش کش کی۔مولانا غلام حسن کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟۔میر صاحب نے شیخ نور محمد سے بھی کہا کہ وہ اپنے بچے کو ان کے ہاں پڑھنے کے لئے بھیجا کریں۔اس طرح اقبال مولوی سید میر حسن کے ہاں پڑھنے کے لئے جانے لگے۔۵؎
آج بھی برصغیر پاک وہند میں مسلمان گھرانوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ بچہ مسجد میںقرآن پاک پڑھنے کے ساتھ ساتھ سکول کی پہلی کچی جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ اقبال کے والد نے بھی یہی کیا۔یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔
۲۔پرائمری۔ پہلی کچی جماعت
سیالکوٹ شہر میں سکاچ مشن کا ایک برانچ سکول موجود تھا۶؎۔جہاں ۱۸۷۲ء میں ایک سو پانچ لڑکے پڑھتے تھے۔۷؎۔برانچ سکول اور پرائمری سکول دو الگالگ اصطلاحات ہیں۔
برانچ سکول:
میں صرف دو ابتدائی جماعتیں پڑھائی جاتی تھیں۔یعنی پہلی اور دوسری جماعت۔پہلی جماعت کے دو حصے تھے۔پہلی کچی اور پہلی پکی۔ پہلی کچی کو ان دنوں (Infant class) کہا جاتا تھا۔آج کل اسے نرسری کہتے ہیں۔
پرائمری سکول:
پرائمری سکول : میں ابتدائی چار جماعت پڑھائی جاتی تھی۔۱۸۷۵ء میں ان جماعتوں کو اس طرح پکارا جاتا  تھا:
Ist Lower school
2nd  Class Lower School
3rd  Class :3rd Primary School Vernaular
 4th.  Class : 4Th  Vernacular
or
anglo .vernacular
گزشتہ صدی کی نویں دہائی کے شروع سال میں شہر میں برانچ کے دوسکول موجود تھے۔ایک رنگپورہ میں ،دوسرا قلعہ پر۔ ۱۸۸۲ء میں رنگ پورہ کے سکول کو فنڈ نہ ہونے کے باعث بند کر دیا گیا۔اوراس کے ستر طلباء کو قلعہ پر واقع برانچ سکول میں منتقل کر دیا گیا۔جہاں اسی لڑکے پڑھتے تھے۔۸؎
قلعہ پر واقع برانچ سکول کشمیری محلہ کے قریب تھا۔ اس لیے شیخ نور محمد نے ۱۸۸۲ ء میں اقبال کو اس برانچ سکول کی پہلی کچی (Infant class) میں داخل کرایا۔یہ روایت کمزور ہے کہ مولوی سید میر حسن نے انہیں سکول میں داخل کرایا تھا۔
پہلی کچی جماعت کی ماہوار فیس ایک آنہ (موجودہ چھ نئے پیسے تھی)۹؎
پہلی کچی جماعت میں اقبال نے میجر ڈبلیو آر،ایم ہال رائڈ ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن پنجاب لاہور کا مرتب کردہ اردو قاعدہ پڑھا۔ یہ قاعدہ آٹھ صفحات پر مشتمل تھا۔ سائز ۱۱ضرب ۹ سم، ہر صفحہ پر ۱۸ سطور۔قاعدہ میں تصویریں نہیں تھیں۔
اس جماعت میں حساب کی ابتدائی گنتی سکھا ئی گئی ہوگی۔
پہلی پکی جماعت: ۱۸۸۴ء میں اقبال پہلی کچی جماعت پاس کرکے سکاچ مشن برانچ سکول کی پہلی پکی جماعت میں داخل ہوئے۔ماہوار فیس ایک آنہ تھی۔ برانچ سکول میں دو مسیحی اساتد تعلیم دیتے تھے۔ان کے ناموں کا علم نہیں ہو سکا۔
۱۸۸۴ء میں برانچ سکول کی تعداد ۱۱۲ تھی۔۱۸؎۔ رائے گوپال سنگھ لاہور سرکل کے اسٹنٹ انسپکٹر آف سکولز تھے۔ انہوں نے اپریل ۱۸۸۵ء کی پہلی،دوسری اور تیسری تاریخ کو سکاچ مشن کے پرائمری حصہ کا امتحان پاس کیا۔۸ اپریل ۱۸۸۵ء کو اپنی رپورٹ تحریری طور پر دی۔ رپورٹ میں ہر جماعت کے طلباء کے نام بھی درج کیے ہیں۔جن کا رائے صاحب نے امتحان لیا۔ اس رپورٹ سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ اقبال نے اپریل ۱۸۸۵ء میں پہلی پکی جماعت پاس کی۔۱۱؎
اقبال کی جماعت میں کل ۴۰ لڑکے تھے۔ ان میں سے ۲۴ لڑکے پاس ہوئے۔چھ لڑکوں کو رعایتی نمبر دے کر پاس کیا گیا۔دس لڑکے فیل ہوئے۔فیل ہونے والے لڑکوں کے نام درج نہیں ہے۔ اقبال کے سلسلے میں رپورٹ کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو :
چھوٹی سطح کے امتحان کے لیے چھہتر (76)طلباء تھے ۔ان کی تفصیل یہ ہے :
پہلی جماعت: ۴۰ (کچی اور پکی)
دوسری جماعت : ۳۶
ان میں سے صرف تینتالیس (۴۳) کامیاب ہوئے،یعنی پہلی جماعت میں سے ستائیس (۲۷) پاس ہوئے۔ان میں سے چھ لڑکوں کو رعایتی نمبر دے کر پاس کیا گیا۔دوسری جماعت میں سولہ لڑکے پاس ہوئے۔ ان میں پانچ طلباء کو رعایتی نمبر دے کر پاس کیا گیا۔یہ نتیجہ جو دوسری جماعت کا ہے۔زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔ فیل ہونے طلباء میں زیادہ تعداد ان طلباء کی ہے ۔جو اردو املا میں ناکام ہوئے۔
طلباء ج ولوئر پرائمری سب سٹینڈرڈ کے امتحان میں کامیاب ہوئے:
۱۔اقبال  ۲۔اللہ رکھا
۳۔دیوان چند  ۴۔کریم بخش
۵۔میراں بخش  ۶ ۔جلال الدین
۷۔البرٹ  ۸۔ محمد دین
۹۔لبھو مل  ۱۰۔بشیو داس
۱۱۔فضل حسین  ۱۲۔واجد علی
۱۳۔بلونت سنگھ ۱۴۔دیوان چند
۱۵۔کیلاگ  ۱۶۔رام دھاری
۱۷۔ گیان چند  ۱۸ اللہ رکھا
۱۹۔نرائن داس  ۲۰۔ ہیرا لال
۲۱۔ صادق علی۔ 




رعایت حاصل کرنے والے لڑکے
۲۲۔سوہن لال   ۲۳،بخش اللہ
۲۴ ۔ اصغر علی  ۲۵۔ جھنڈا خان
۲۶۔ محمد علی  ۲۷۔ محمد دین (۱۱)
ہندو ،سکھ ،عیسائی طلباء میں صحیح طور پر تمیز نہیں ہو سکی۔کیونکہ مسیحیت قبول کرنے والے ہندو ،سکھ اپنے نام شاذ ونادر ہی تبدیل کرتے تھے۔ البرٹ اور کیلاگ عیسائی تھے۔اقبال کے ان ہم جماعتوں میں صرف کیلاگ اور جھنڈا خان کی پہچان ہو سکی ہے۔ ان کا تفصیلی ذکر شخصیات میں کر دیا گیا ہے۔ دوسرے لڑکوں کا علم نہیں ہو سکا۔
اقبال اپنی جماعت میں اول رہے۔اس امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو وظیفہ نہیں ملتا تھا۔۱۲؎
پہلی پکی جماعت میں اقبال نے اردو کی پہلی کتاب پڑھی،جسے مولوی محمد حسن اسٹنٹ پروفیسر عربی کالج لاہور نے میجر ہال رائڈ کے حکم سے مرتب کیا تھا اور ماسٹر پیارے لال آشوب کے اتہمام سے سرکاری چھاپہ خانہ سے چھپی تھی۔کتاب کی قیمت ایک آنہ تین پائی تھی۔
دوسری اور تیسری جماعت:
قرین قیاس ہے کہ اقبال نے دوسری اور تیسری جماعت ایک سال میں پاس کیں۔ ۱۸۸۵ء میں وہ پہلی جماعت پاس کرکے مولوی سید میر حسن سے پرائیویٹ طور پر گھر پر پڑھتے لگے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی استعداد میں اضافہ ہوا۔اور اس طرح وہ ایک سال میں دو جماعتیں پاس کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
۱۸۸۶ء میں اقبال نے تیسری جماعت پاس کی۔اس امتحان کو لوئر پرائمری سکول ایگزیمینشین کہا جاتا تھا۔اس امتحان میں اقبال نے کیا پوزیشن حاصل کی تھی۔کچھ علم نہیں۔
دوسری جماعت میں اردو کی دوسری کتاب پڑھی۔
تیسری جماعت میں آپ نے یہ نصاب پڑھا،۱۳؎
۱۔اردو کی تیسری ،چوتھی کتاب:۔ ان کتابوں میں سے اردو کی املا لکھوائی جاتی تھی۔
۲۔ فارسی کی پہلی اور دوسری کتاب۔
حساب ۔ سود مرکب
۳۔ پنجاب اور ہندوستان کا نقشہ
اردو کی تیسری کتاب ماسٹر پیارے لال آشوب سنٹرل بک ڈپو گورنمنٹ پنجاب نے میجر ہال رائڈ کے حکم سے مرتب کی تھی۔۱۸۷۶ء میں کتاب کا پورا ایڈیشن پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا تھا۔کتاب کی قیمت چار آنہ فی جلد تھی۔ کل صفحات ۸۷ تھے۔ کتاب کی ابتداء اردو زبان کی حقیقت سے ہوتی تھی۔
چوتھی جماعت۔۔اپر پرائمری سکول
اپر پرائمری سکول میں دوجماعتیں ہوتی تھیں۔ یعنی چوتھی اور پانچویں جماعت۔ان جماعتوں میں انگریزی اور ورنیکلر دونوں قسم کی تعلیم دی جاتی تھی۔۱۴؎
۱۸۸۷ء میں اقبال نے چوتھی جماعت پاس کی۔چوتھی جماعت میں ایک اسپیشل جماعت بھی ہوا کرتی تھی۔ سکاچ مشن کی چوتھی جماعت میں انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی۔ مذکورہ انگریزی کتاب کا با محاورہ اردو ترجمہ غلام حیدر سیکنڈ ماسٹرپنڈ دادنخان ضلع جہلم نے کیا تھا۔اسی کا ساتواں ایڈیشن ۱۸۸۶ئ۱۵؎ میں چھپا تھا۔ کتاب کے ۴۵ اسباق تھے۔ منشی گلاب سنگھ مالک مطبع مفید لاہور نے اسے طبع کیا تھا۔قیمت فی جلد پانچ آنہ چھ پائی تھی۔
اقبال نے چوتھی جماعت میں انگریزی پڑھی۔ روایت ہے کہ انہوں نے انگریزی کا پہلا سبق سید حامد شاہ سے لیا تھا،۱۶؎
ان دنوں سکول میں جماعتوں کی حد بندی اس طرح تھی۔۱۷؎
پہلی جماعت
فرسٹ کلاس پرائمری کہلاتی تھی۔اسی طرح
دوسری جماعت
 سیکنڈ کلاس پرائمری
تیسری جماعت
تھرڈکلاس پرائمری
چوتھی جماعت
فورتھکلاس پرائمری
پانچویں جماعت
ففتھ کلاس پرائمری
چھٹی جماعت
فرسٹ مڈل
ساتویں جماعت
سیکنڈ مڈل
آٹھویں جماعت
تھرڈ مڈل
نویں جماعت
فورتھ ہائی
دسویں
ففتھ ہائی




چوتھی اور چھٹی کلاس کی ایک اسپیشل جماعت بھی ہوا کرتی تھی۔
پانچویں جماعت ۱۸؎
۱۸۸۷ء میں نے پانچویں جماعت یعنی اپر پرائمری سکول کا امتحان پاس کیا۔امتحان پاس کرنے پر پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے حلقہ کا انسپکٹر آف سکولز باقاعدہ ایک سند جاری کرتا تھا۔اس سند پر امیدوار کو باقاعدہ سرکاری ملازمت مل جاتی تھی۔امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے لڑکے کو ڈسٹرکٹ بورڈ اور مونسپل کمیٹی تین روپے ماہوار وظیفہ دیتی تھی۔۱۹؎
اقبال نے اس امتحان میں کتنے نمبر حاصل کیے۔ ان کی پوزیشن کیا تھی؟۔ کچھ علم نہیں۔یہ روایت درست معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرکے وظیفہ حاصل کیا تھا:۔۲۰؎
پانچویں جماعت میں آپ نے درج ذیل نصاب پڑھ کر اپر پرائمری سکول کا امتحان پاس کیا تھا،۲۰؎
۱۔ انگریزی : فرسٹ ریڈر
۲۔اردو کا انتخاب : گرائمر ،ترکیب نحوی ،ترجمہ
۳۔ حساب : مشق کرنا۔رول آف تھری،مربع کی پیمائش۔سود
۴۔فارسی کا انتخاب : گرامر ،ترکیب نحوی،ترجمہ
۵۔ جغرافیہ :۔ دنیا کے ملکوں کے نام، ان کے دار الحکومت ،اور ان ممالک کی خاص قدرتی تقسیم اور پچھلے اسباق کو دہرانا۔
اپر پرائمری سکول کے امتحان میں نمبروں کی تقسیم اس طرح تھی : ۲۱؎
۱۔انگریزی  ۱۰۰ نمبر
۲۔اردو   ۱۰۰ نمبر
۳۔فارسی   ۷۵ نمبر
۴۔ حساب  ۱۰۰ نمبر
۵۔ جغرافیہ  ۵۰ نمبر
کل نمبر ۴۲۵
رول آف تھری کی تشریح یہ ہے :
RULE OF THREE
(Arith) that rule which directs,when three trems are given how,to find a fourth,which shall have the same ratio to the third term as the second has to the first proportion.
جغرافیہ کی کتاب کا نام مفتاح الارض تھا۔منشی امیر حیدر چند مدرس ریاضی،میونسپل بورڈ سکول بھیرہ نے ۱۸۸۹ء میں امیر الجغرافیہ تالیف کیا تھا، جسے مطبع اسلامیہ لاہور نے مولوی کرم بخش کے اتہمام سے شائع کیا۔اس میں مفتاح الارض کے کئی نقائص کو دور کیا گیا۔
اردو میں اردو کی پانچویں کتاب زیر مطالعہ رہی۔اردو گرامر کے سلسلے میں قواعد اردو پڑھی،جو حسب الحکم ڈاکٹر جی ،ڈبلیو لیٹنر قائم مقام ڈائرکٹر سر رشتہ تعلیم ممالک پنجاب وغیرہ لاہور کے سرکاری مطبع میں ماسٹر پیارے لال آشوب کیوریٹر کے اہتمام سے چھپی تھی۔ اس کا اکیسواں ایڈیشن ۱۸۷۹ء میں ۴۸۰۰ کی تعداد میں ۱۱۶ صفحات پر شائع ہوا تھا۔ کتاب کی قیمت فی جلد پانچ آنے تھی۔
۳۔مڈل
حصہ مڈل میں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کی تعلیم دی جاتی تھی۔
اقبال ۱۸۸۸ء میں اپر پرائمری سکول کا امتحان پاس کرکے حصہ مڈل کی چھٹی جماعت میں داخل ہوگئے۔اقبال نے اپر پرائمری کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا ہوگا۔ اسی لئے ان کے والد نے ان کو مزید تعلیم دلانے کا ارادہ کیا۔ ورنہ اپر پرائمری امتحان میں کامیابی کے بعد ان کو ملازمت کرا سکتے تھے۔
اپریل ۱۸۸۸ء میں اقبال چھٹی جماعت میں پڑھنے لگے۔ یہاں انہیں پہلی بار جماعت میں براہ راست مولوی سید میر حسن سے اردو ،فارسی اور عربی پڑھنے کا موقع ملا۔۲۲؎ چھٹی جماعت میں یہ مضامین پڑھائے جاتے تھے۔
لازمی: انگریزی،اردو،ریاضی، تاریخ وجغرافیہ
آپشنل :  عربی یا فارسی ۔۔ان دونوں مضامین میں سے اقبال نے کس مضمون کا انتخاب کیا،کچھ علم نہیں۔
ساتویں جماعت
۱۸۸۹ء میں اقبال چھٹی جماعت پاس کرکے ساتویں جماعت میں دا خل ہو گئے۔اس جماعت میں بھی آپ کو سید مولوی میر حسن سے عربی،فارسی اور اردو پڑھنے کا موقع میسر ہوا۔
ساتویں جماعت میں جبر ومقابلہ پڑھا۔ سررشتہ تعلیم پنجاب کے زیر اہتمام سرکاری چھاپہ خانہ سے ڈائرکٹر تعلیمات پنجاب نے شائع کیاتھا۔اس کا نواں ایڈیشن ۱۸۸۶ء میں دس ہزار کی تعداد میں ۱۶۳ صفحات پر شائع ہوا۔ اس کی قیمت چار آنے چھ پائی تھی۔
مڈل
آٹھویں جماعت
مارچ ۱۸۹۰ء میں اقبال نے ساتویں جماعت پاس کی۔اپریل ۱۸۹۰ء میں مڈل کے آخری درجہ یعنی آٹھویں جماعت میں ترقی پائی۔
آٹھویں جماعت میں مندرجہ ذیل اساتذہ سے مختلف مضامین پڑھے :۱۴؎
نر سنگھ اور ہرنام سنگھ سے انگریزی پڑھی۔
اردو ،فارسی اور عربی کے استاد مولوی سید میر حسن تھے۔
ماسٹر ہرنام سنگھ سے ریاضی، علم مساحت اور حفظان صحت کے مضامین بھی پڑھے۔
جغرافیہ کے استاد بھی ماسٹر ہرنام سنگھ تھے۔
ہیڈ ماسٹر نرنجن داس سے تاریخ پڑھی۔
اس جماعت میں اقبال سیالکوٹ کی شعری محفلوں میں شرکت کرنے لگے۔اور اپنا کلام شریک مشاعرہ کو سنانے لگے۔
ابتداء میں مڈل کا سالانہ امتحان ڈائریکٹر مدارس سر رشتہ ء تعلیم کے تحت ہوا کرتا تھا۔ ۸۴،۱۸۸۲ء میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ اب یہ امتحان پنجاب یونیورسٹی کے تحت ہو۔۲۵؎ کیونکہ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی ۱۴ ،اکتوبر ۱۸۸۲ء کو قائم ہو چکی تھی۔۲۶؎پہلے سال ہر طالب علم سے امتحان کے لئے ایک روپیہ فیس لی گئی۔۱۸۸۵ء میں دو روپے امتحانی فیس کر دی گئی۔اور ساتھ ہی ۱۸۸۶ء کے لئے تین روپے کا اعلان کر دیا گیا۔۲۷؎ ۱۸۸۷ء میں اس میں اور اضافہ کر دیا گیا۔ اور پانچ روپے فیس ہو گئی۔
امتحان کے لئے داخلہ فارم بھیجنے کی آخری تاریخ ۵ ،نومبر ۱۸۹۰ء تھی۔ فارم کے ساتھ کریکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنا بھی لازمی تھا۔ امتحان کی فیس پانچ روپے ادا کی گئی۔ انگریزی ،اردو ،ہندی ،گرمکھی (پنجابی) میں سے کسی ایک زبان میں طالب علم پرچہ حل کر سکتا تھا۔چھ سے زیادہ مضامین لینے کیا جازت نہیں تھی۔ چار لازمی اور دو اختیاری۔
اکتوبر ،نومبر ۱۸۹۰ء میں پنجاب میں عام بخار کی وبا پھیلی۔بخار نے وبائی صورت اختیار کر لی۔ خصوصا بچے اس وبائی مرض کا شکار ہوئے۔اخبار کے مدیر نے لوگوں کی استدعا یونیورسٹی کے حکام تک پہنچانے کی سعی کی کہ مڈل کا امتحان ملتوی کر دیا جائے۔ یونیورسٹی نے مڈل کے امتحان کے نمبروں میں بھی کچھ رد وبدل کیا۔ اس سلسلے میں ایک خبر ملا حظہ ہو:۔
قابل توجہ پنجاب یونیورسٹی:
’’ خصوصا پچھلے دنوں سے محض بنظر ہمدردی طلباء امتحان کے نمبروں کی تعداد بجائے ساڑھے تین فی صدی کے 1/4 کر دی ہے۔ اس روز طلباء اور ان کے ورثا کو از حد خوشی ہو رہی ہے۔ گزشتہ ماہ سمتبر کے شروع سے تمام پنجاب میں بیماری بخار نے جو تہلکہ برپا کر رکھا ہے۔ اور بے چاری خلق خدا کی جان و مال پر جو تباہی نازل ہو رہی ہے۔ وہ کسی بیان کی محتاج نہیں،اور دنیا میں ایک مدت تک یاد رہنے کے قابل ہے ۔۲۸؎
بچے اس کا شکار ہوئے ۔وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے ہیں۔اس لیے امتحان مڈل جو جنوری ۱۸۹۱ء میں لیا جانے والا تھا۔ اب فروری ۱۸۹۱ء میں لیا جائے۔لیکن یونیورسٹی نے اس استدعا کو منظور نہ کیا۔ کیا اقبال بھی اس وبائی بخار میں مبتلا تھے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
۵ جنوری ۱۸۹۱ء بروز سوموار کو اقبال نے رول نمبر ۱۷۹۹ کے تحت اینگلو ورنیکلر مڈل کا امتحان دیا۔۲۹؎
امتحانی سنٹر سکاچ مشن سکول سیالکوٹ ہی تھا۔ سنٹر کے نگران پادری ینگسن تھے۔کیونکہ اس سے پچھلا امتحان بھی ان کی نگرانی میں ہوا تھا۔۳۰؎ سیالکوٹ میں دوسرا امتحانی سینٹر امریکن مشن سکول تھا۔ سیالکوٹ کے علاوہ پنجاب میں مڈل کے چھبیس دوسرے سینٹر تھے۔
لاہور  دہلی
حصار کرنال
انبالہ شہر  لدھیانہ
جالندھر شہر  کانگڑہ
کولو  ہوشیار پور
امرت سر  گوروداسپور
گوجرانوالہ گجرات
جہلم راولپنڈی
شاہ پور  پشاور
ملتان شہر جھنگ
فیروز پور ڈیرہ اسماعیل خان
بنوں  ڈیرہ غازی خان
پورٹ بلیئر جے پور
مڈل میں یہ مضامین لیے:
لازمی: انگریزی ،اردو ،ریاضی، علم مساحت ،جنرل نالج،جنرل نالج میں تاریخ وجغرافیہ اور ابتدائی حفظان صحت شامل تھی۔
اختیاری: عربی ،فارسی
عربی کے مقابلے میں سنسکرت کامضمون اختیاری تھا۔ ایلی مینٹری سائنس اور اصول اقلیدس،اور الجبرا کے مضامین بھی اختیاری تھے۔اقبال نے صرف عربی اور فارسی بطور اختیاری مضامین لیے۔۳۱؎
۲۶ فروری ۱۸۹۱ء کو مڈل امتحان کے نتائج کا اعلان ہوا۔۴۲؎
اقبال نے اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ ۸۵۰ نمبروں میں سے ۵۷۹ نمبر حاصل کیے۔سکول میں آرٹس کے طلباء میں اول رہے۔سکاچ مشن سکول سے ۱۷ لڑکوں نے مڈل کا امتحان دیا تھا۔ان میں پندرہ لڑکے کام یاب ہوئے۔ دو لڑکے ناکام رہے۔یونیورسٹی کمرہ ا متحان میں لڑکوں کو کاغذ اور سیاہی خود مہیا کرتی تھی۔کاغذ کتاب کی صورت میں بند ہوا کرتے تھے۔اخبار عام لاہور کی اشاعت ۲۲ مارچ ۱۸۸۴ء سے ہم کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ مضمون کے ممتحن کا محنتانہ دوسو روپیہ تھا۔بشرطیکہ امیدواروں کی تعداد دو سو یا اس سے نیچے ہو۔ زیادہ ہونے کی صورت میں ہر سو امیدواروں کے لئے ۵۰ روپے زیادہ۔ادنیٰ مضمون کے لیے پہلی حالت میں پچاس روپے سے لے کر سوروپے تک،دوسری حالت میں ۲۵ روپے سے لے کر ۵۰ روپے تک۔
زبانی امتحان کے لیے جتنی کوڑیاں امیدوار ہوں گے۔اتنے ہی سولہ روپے ملیں گے۔سکاچ مشن سکول کے مڈل کا نتیجہ درج ذیل ہے :۴۳؎
رولنمبر
نام طالبعلم
مذہب
عمر
حاصل کردہ نمبر
اختیاری مضامین جن میں طالب علم پاس ہوا
۱۷۹۹
محمد اقبال
مسلمان
۱۵ برس
۵۷۹
عربی،فارسی
۱۸۰۰
پرودہنداس
ہندو
۱۵سال
۵۴۲
سنسکرت ،سائنس
۱۸۰۱
بھولا ناتھ
ایضا
۱۷ سال
۳۵۷
فارسی،عربی
۱۸۰۲
سیموئیل بانگبٹن
عیسائی
۱۳ سال
۴۱۴
عربی ،سائنس
۱۸۰۳
گنیش داس
ہندو
۱۸سال
۳۶۴
فارسی،سائنس
۱۸۰۴
بسنت بہاری
ہندو
۱۴ سال
۳۳۹
فارسی،سائنس
۱۸۰۵
پران ناتھ
ہندو
۱۵ سال
۲۶۹
۔۔۔۔۔
۱۸۰۶
فیروز دین
مسلمان
۱۳ سال
۳۹۴
عربی، فارسی
۱۸۰۷
تیجہ سنگھ
سکھ
۱۶ سال
۴۲۷
فارسی،سائنس
۱۸۰۸
احمد خان
مسلمان
۱۶ سال
۴۳۱
فارسی،سائنس
۱۸۰۹
عبداللہ
مسلمان
۱۶
۴۳۱
فارسی،سائنس
۱۸۱۰
محمد دین
مسلمان
۱۵ سال
۳۴۸
فارسی،سائنس


۱۸۱۱
محمد حسین
مسلمان
۱۵
۴۳۶
فارسی،سائنس
۱۸۱۲
حاکم خان
مسلمان
۱۵
۳۱۰
سائنس
۱۸۰۵
حیدر خان
مسلمان
۱۸
۳۲۶
سائنس
نتائج کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ آرٹس میں چھ لڑکے تھے۔ان میں اقبال نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ جب کہ سائنس میں نو لڑکوں میں سے پردوہن داس نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔
اقبال مڈل کے امتحان میں کوئی وظیفہ نہ حاصل کر سکے۔اس سال یعنی ۱۸۹۱ء میں سیالکوٹ کے طلباء کے لئے چار وظائف تھے۔ یہ چاروں وظائف میونسپل بورڈ وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول کے تین طلباء نے حاصل کیے۔ان کی تفصیل یہ ہے:






نام طالبعلم
رولنمبر
حاصل کردہ نمبر


کیفیت
۱،گنپت رائے
۱۸۱۷
۶۵۹
سلور میڈل مالیتی بیس روپے 
صوبے میں بہترین طالب علم قرار پایامنشی گلاب سنگھ پروپرائٹر مفید عام پریس اینڈ گورنمنٹ پبلیشرز
۲،گنڈا سنگھ
۱۸۲۳
۶۰۳
انگریزی میں ۱۱۸ نمبر حاصل کیے
۵ روپے
انگریزی میں سب سے زیادہ نمبر حاصل ،کییلالہ چتر مل تھرڈ ماسٹر ایم بی،جے وی ہائی سکول سیالکوٹ کی جانب سے
۳گنپت رائے
۱۸۱۷
۶۵۹
سلور میڈل مالیتی ۱۵ روپے
ضلع سیالکوٹ کے اینگلو ورنیکلر سکولوں میں اول آیا، آغا شہباز خان رئیس سیالکوٹ کی جانب سے دس روپے خریداری کتب
۴،ظفر علی
۱۸۲۷
۵۰۶
سلور میڈل مالیتی ۱۵ جمع دس روپے
سیالکوٹ کے مسلم طلبا میں سائنس میں اول آیا


جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اقبال نے چار لازمی مضامین کے علاوہ عربی اور فارسی دو اختیاری مضامین لیے تھے۔ ہر مضمون کے دو ،دو پرچے دو دو گھنٹے دورانیہ کے تھے۔ کل نمبر۸۵۰ تھے۔۲۵؎امتحان میں پاس ہونے کے لئے یونیورسٹی کے نئے قوانین کے تحت:
انگریزی میں۳۳ فی صد نمبر لازمی تھے۔جب کہ گزشتہ برس ۲۵ فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی تھا۔
۲۔دوسرے سب مضامین میں ۲۵ فیصد نمبر۔
۳۔مجموعی طور پر ۳۳ فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری تھا۔
اختیاری مضمون میں فیل ہونے والے طالب علم کے اختیاری مضمون کے حاصل کردہ نمبر کل نمبروں میںشامل نہیں کیے جاتے تھے۔امتحان میں ڈویژن نہیں دی جاتی تھی۔ بلکہ کامیابی کے کل نمبر بتا دیئے جاتے تھے۔
پرچوں اور ان کے نمبروں کی تقسیم اس طرح تھی:
انگریزی؛
 تین پرچے ۱۷۵ نمبر کے ہوتے تھے۔دو پرچے دو دو گھنٹے دورانیے کے ہوتے اور ایک پرچہ املا کا پندرہ منٹ کا۔
پرچہ اے،ترجمہ انگریزی سے اردو زبانمیں:۵۰ 
نمبر
پرچہ بی ،ترجمہ اردو سے انگریزی میں: ۶۰ نمبر
گرامر: ۴۰ نمبر
پرچہ سی،کیلی گرافی: ۲۵ نمبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل نمبر :    ۱۷۵
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو:
پرچہ اے،دیئے ہوئے پیرے کی تشریح اور کمپوزیشن:  ۶۰ نمبر
گرامر:   ۴۰ نمبر
پرچہ بی کیلی گرافی: ۲۵ نمبر
کل نمبر : ۱۲۵
ریاضی اور مساحت
۱۸۹۰ء میں پنجاب یونیورسٹی نے مڈل کے نصاب میں جو چند تبدیلیاں کی تھیں۔ ۱۸۹۱ء میں ان پر عمل درآمد ہوا۔۴۶؎
۱۸۹۰ء اور اس سے قبل ریاضی اور علم مساحت کے ستر ستر نمبر تھے۔ لیکن ۱۸۹۱ء میں:
پرچہ اے ریاضی ،دوگھنٹہ وقت: ۹۰ نمبر
پرچہ بی علم مساحت دوگھنٹہ وقت: ۵۰ نمبر
 کل نمبر : ۱۴۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنرل نالج:
تین پرچے ہوتے تھے۔ دو پرچے دودو گھنٹے کے اور ایک پرچہ ایک گھنٹہ کا۔
پرچہ اے ،تاریخ ،دوگھنٹے وقت: ۵۰ نمبر
پرچہ بی جغرافیہ: ۵۰ نمبر
پرچہ سی: ابتدائی حفظان صحت: ۴۰ نمبر
کل نمبر: ۱۴۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عربی
پرچہ اے،ترجمہ عربی سے اردو: ۷۵ نمبر
پرچہ بی ترجمہ عربی سے اردو میں:۷۵ نمبر
کل نمبر :(وقت ایک گھنٹہ)  ۱۵۰نمبر
فارسی:
تین پرچے ہوتے تھے۔ دو پرچے آدھ آدھ گھنٹہ کے اور ایک پرچہ ایک گھنٹے کا:
پرچہ اے ترجمہ فارسی سے اردو: ۴۵ نمبر
پرچہ بی ترجمہ اردو سے فارسی میں:۴۵ نمبر
پرچہ گرامر: ۳۰ نمبر
کل نمبر: ۱۲۰ نمبر:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی نصاب میں پہلے پیٹرسن ریڈر (PEARSON  READER) کتاب پڑھائی جاتی تھی۔ ۱۸۸۷ء سے انگریزی کی نئی کتاب پیارے چرن سرکار کی ریڈر پڑھائی جانے لگی۔مذکورہ ریڈر کو منشی گلاب سنگھ مالک ڈپو پنجاب نے شائع کیا تھا۔۳۷؎
جنرل نالج میں تاریخ کے لیے مختصر تاریخ ہند پڑھی جاتی تھی۔اس کا بارہواں ایڈیشن منشی گلاب سنگھ نے مطبع مفید عام لاہور سے ۱۸۰۱ء میں دس ہزار کی تعدادمیں شائع کیا تھا۔ قیمت فی جلد بارہ آنے تھی۔یہ اصل میں لیژج کی انگریزی تاریخ کا اردو ترجمہ ہے۔
پرچہ سی، حفظان صحت کے لئے نصابی کتاب تھی۔(CUNNINGAHAHM<S  SANITARY PRIMER)
اقبال آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ گرمیوں کے دن تھے، مولوی سید میر حسن دوپہر کا کھانا سکول میں کھا رہے تھے۔ اقبال سے پانی لانے کے لئے کہا،اقبال گرم پانی لے آئے۔مولوی صاحب نے پوچھا۔
’’ اقبال سچ بتانا،کہاں سے لائے ہو؟۔ باہر کے مٹکے سے ‘‘
اقبال نے جواب دیا جی ہاں۔
آپ نے فرمایا: تم دنیا کے کام کے نہیں رہے ہو‘‘ ۳۰؎
۴۔انٹرنس
اقبال اپریل ۱۸۹۱ء میں نویں جماعت میں داخل ہو گئے۔مارچ ۱۸۹۲ء میں نویں جماعت کا سکول کا امتحان دیا،تو کامیاب ہونے پر دسویں جماعت میں ترقی پائی۔نویں اور دسویں جماعت میں آپ نے یہ مضمون پڑھے:
لازمی: انگریزی،فارسی،ریاضی،تاریخ وجغرافیہ۔
اختیاری : عربی
۹۴،۱۸۹۱ء تک سکول کے تین ہیڈ ماسٹر رہے تھے۔ ان تینوں سے اقبال نے انگریزی کا مضمون پڑھا۔ ۱۸۹۱ء میں لالہ نرائن داس سے، ۹۲،۱۸۹۳ء میں لالہ جگن ناتھ سے اور ۱۸۹۳ء میں لالہ نرجن داس سے۔
مولوی سید میر حسن عربی ،فارسی کے استاد تھے۔ سیکنڈ ہیڈ ماسٹر ہرنام سنگھ سے ریاضی اور تاریخ وجغرافیہ پڑھا۔
یونیورسٹی کے سالانہ انٹرنس۲۹؎ امتحان سے قبل سکول میں لڑکوں کا آزمائشی امتحان لیا جاتا تھا۔اس میں کامیاب ہونے والے لڑکوں کو یونیورسٹی کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی۔اقبال بھی اس آزمائشی امتحان میں شریک ہوئے اور کامیاب ہوئے۔
پنجاب یونیورسٹی میں انٹرنس کے امتحان کے لیے فارم وصول کرنے کی آخری تاریخ ۴ فروری ۱۸۹۳ء تھی،۴۱؎
ایک مخصوص فارم درخواست کی صورت میں رجسٹرار کے نام پر کرنا پڑتا تھا۔ سکول کا ہیڈ ماسٹر امیدوار کے کوائف ایک سرٹیفکیٹ کی صورت میںرجسٹرار کو ارسال کرتا تھا۔ اس کے علاوہ امیدواروں کی سٹوڈنٹ شپ کا سرٹیفکیٹ بھی دیتا تھا۔ امتحان کی دس روپے فیس ادا کی گئی۔
اقبال نے مارچ کے تیسرے ہفتے سوموار کے روز ۲۰ مارچ۱۸۹۳ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہورکے تحت انٹرنس کا امتحان دیا۔ رول نمبر ۸۸۰ تھا۔ امتحانی سینٹر گجرات تھا۔سیالکوٹ سینٹر نہیں تھا۔ گجرات کے علاوہ دوسرے امتحانی سینٹر یہ تھے۔
لاہور،دہلی، لدھیانہ،امرتسر، ملتان، راولپنڈی، ڈیرہ اسماعیل خان۔
اقبال ریل گاڑی کے ذریعے گجرات گئے۔ گجرات میں ان کے ہونے والے خسر موجود تھے۔ سسرال والوں کے ہاں قیام کرنا شیخ نور محمد جیسے بزرگ اور پارسا شخص کے لئے معیوب تھا۔ انہوں نے بیٹے کو وہاں ٹھہرنے کیا جازت نہ دی۔ بلکہ سکول کے دوسرے لڑکوں کے ہمراہ گجرات کے سکاچ مشن ہائی سکول میں قیام کیا۔کھانے پینے کا انتظام سب لڑکوں نے اکٹھا کیا۔ امتحان کے سلسلے میں گجرات میں قیام دوہفتے کے لگ بھگ رہا۔ اس دوران اقبال دو ایک بار ڈاکٹر عطا محمد کے ہاں ضرور گئے ہوں گے۔ڈاکٹر عطا محمد بھی سکاچ مشن سکول اقبال کو ملنے کے لئے دو ایک بار ضرور گئے ہوں گے۔اور ہونے والے داماد کی خیر وعافیت ضرور معلوم کی ہوگی، نیز یہ بھی معلوم کیا ہوگا کہ پرچے کیسے ہو رہے ہیں؟۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ شیخ نور محمد بھی اس دوران گجرات میں ہی رہے ہوں۔
یکم مئی ۱۸۹۳ء بروز سوموارکو انٹرنس کے نتائج کا اعلان ہوا۔ اقبال نے ۶۷۰ نمبروں میں سے ۴۲۴ نمبر حاصل کیے۔فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔میرٹ کے لحاظ سے یونیورسٹی میں آٹھواں نمبر تھا۔حکومت نے بارہ روپے ماہوار وظیفہ دیا۔امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرنے پر والدین نے انہیں مزید پڑھانے کا ارادہ کیا۔مولوی سید میر حسن نے شیخ نور محمد کو بیٹے کو کالج میں پڑھانے کا بھی مشورہ دیا۔اور اس کے روشن مستقبل کی نشان دہی کی۔ اقبال کو نتیجہ کی اطلاع ۴ مئی ۱۸۹۳ء کو ملی، سید محمد ذکی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب گھوڑے پر سوار ہو چکے تھے۔ بارات گجرات جا رہی تھی۔ کہ تار آیا، میں نے ڈاکٹر صاحب کو دکھایا،اس میں پاس ہونے کی خوش خبری تھی۔۴۲؎
اس سال سارے پنجاب سے ۸۰۱ لڑکوں نے انٹرنس کاامتحان دیا۔ جگا دھری میونسپل بورڈ کاشادی رام گپتا رول نمبر ۱۴۰،امتحان میں۴۵۲ نمبر لے کر یونیورسٹی میں اول رہا۔ اور بارہ روپے ماہوار گورنمنٹ اسکالر شپ اور سولہ روپے ماہوار نابھ جھنڈ سکالر شپ حاصل کیے۔سکاچ مشن سکول سیالکوٹ کے شیخ محمد اقبال نے اور جگن ناتھ کو میرٹ کے لحاظ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر بارہ بارہ روپے ماہوار گورنمنٹ سکالرشپ ملا، یونیورسٹی میں میرٹ کے لحاظ سے کل ۲۰ لڑکوں کو گورنمنٹ سکالر شپ ملا تھا۔
سکاچ مشن سکول سیالکوٹ کا انٹرنس کا نتیجہ ملاحظہ ہو:۔
میرٹ
رولنمبر
نام طالبعلم
مذہب
عمر
حاصل کردہ نمبر
ڈویژن
مضامین جن میں پاس ہوا
۴۴۲
۸۷۹
ایس بی رابرٹس
عیسائی
۱۵ برس
۲۷۱
سیکنڈ
انگریزی ،ت ،فاریس، اردو۔عربی۔اریخ،ریاجی،جغرافیہ۔
۸
۸۸۰
شیخ محمد اقبال
مسلمان
۱۷ سال
۴۲۴
فرسٹ
انگریزی ،ریاجی، تاریخ،جغرافیہ۔عربی، فارسی
۷۷۱
۸۸۱
فیروز دین
مسلمان
۱۵ سال
۲۱۲
 تھرڈ ڈویژن
ایضا
۷
۸۸۲
گوپال داس
ہندو
۱۶ئ۶
۳۵۲
فرسٹ
ایضا
۱۸
۸۸۳
جگن ناتھ
ہندو
ساڑھے پندرہ سال
 ۴۰۴
فرسٹ
سب مضامین


۶۹۹
۸۸۴
ایچاین، رابرٹس
عیسائی
۲۰ سال
۲۳۴
تھرڈ
ایضا
۵۹۵
۸۸۵
کیلاگ ٹہل سنگھ
عیسائی
۱۷ سال
۲۵۰ 
سیکنڈ
ایضا
۴۲۱
۸۸۶
محمد حسین 
مسلمان
۱۹ سال
۲۷۴
سیکنڈ
ایضا
۳۹۸
۸۹۰
تیجہ سنگھ
سکھ
۱۸ سال
۲۷۷
سیکنڈ
ایضا
۵۹۶
۸۹۱
تیجہ سنگھ (۱)
سکھ
۱۸ سال


۲۵۰
۱۱
انگریزی ،ریاضی،تاریخجغرافیہ،فارسی،پنجابی۔
۱۷۴
۸۹۲
محمد حسین()۱
مسلمان
۱۷ برس
۳۱۸
سیکنڈ
ایضا
۲۲
۸۹۳
گنڈا سنگھ
سکھ
۱۷ برس
۳۹۲
فرسٹ
انگریزی،اردو، جغرافیہ، سائنس
۵۲۴
۸۹۵
ودھا رام
ہندو 
۲۰ سال
۲۶۲
سیکنڈ
انگریزی ،ریاضی،سائنس۔ تاریخ،سائنس۔
۳۳۰
۸۹۶
پنڈت کشن لال
ہندو
۱۶
۲۹۳
۱۱
ایضا
۵۰۵
۸۹۷
گنپت رائے
ہندو
۱۷
۲۶۳
سیکنڈ
ایضا
۷۱۰
۸۹۸
پران ناتھ
ہندو
۱۷ برس
۲۳۱
سیکنڈ
انگریزی، ریاضی، تاریخ ،فارسی،
۱۰۰
واضع نہیں
 پردومن داس
ہندو
۱۶
۲۴۰
فرسٹ
انگریزی ،تاریخ، فارسی، جغرافیہ، سائنس
کل ۱۷ لڑکے پاس ہوئے۔آرٹس میں ۱۲ لڑکے اور سائنس میں۵ لڑکے۔آرٹس کے طلباء میں سے اقبال نے ۴۲۴ نمبر لے کر اول پوزیشن حاصل کی۔ اور سائنس میں گنڈا سنگھ نے ۳۹۲ نمبر لے کر اول پوزیشن حاصل کی۔یونیورسٹی کے امتحان میں پاس ہونے کے لئے انگریزی کے مضمون میں ۲۵ فیصد نمبر حاصل کرنے لازمی تھے۔ مجموعی طور پر تمام مضامین میں۳۳ فی صد نمبر حاصل کرنا لازمی تھے۔اقبال کے حاصل کردہ نمبروں کی تفاصیل معلوم نہیں ہو سکی۔
فرسٹ ڈویژن کے لئے ۳۴۰ نمبر یا اس سے زیادہ
 سیکنڈ ڈویژن کے لئے ۲۴۰ نمبر یا اس سے زیادہ
تھرڈ ڈویژن کے لئے ۲۴۰ سے کم نمبر درکار تھے۔
پرچوں اور نمبروں کی تقسیم اس طرح تھی۔۴۵؎
انگریزی
پرچہ اے: وقت تین گھنٹے
ترجمہ انگریزی سے اردو میں: ۳۰ نمبر
ترجمہ اردو سے انگریزی میں: ۴۰ نمبر
پرچہ بی: وقت تین گھنٹے
گرامر ،کمپوزیشن: ۴۵ نمبر
مضمون:   ۲۵ نمبر
پرچہ سی:
  زبانی: ۱۰ نمبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل نمبر ۱۵۰
فارسی پرچہ اے:وقت دو گھنٹے
ترجمہ فارسی سے اردو میں اور دیے ہوئے پیرے کی تشریح : ۶۰ نمبر
پرچہ بی: وقت تین گھنٹے
گرامر: ۲۵ نمبر
پرچہ سی: وقت ۳گھنٹے
ترجمہ اردو سے فارسی میں ۳۵ نمبر 
کل نمبر فارسی کے : ۱۲۰ نمبر
ریاضی:
پرچہ اے: وقت تین گھنٹے
حساب اور الجبرا  ۷۵ نمبر
پرچہ بی:وقت تین گھنٹے
ارشمیدس اور مساحت: ۷۵ نمبر
کل نمبر ریاضی کے : ۱۵۰
تاریخ وجغرافیہ :
پرچہ اے تاریخ : وقت تین گھنٹے: ۵۵ نمبر
پرچہ بی جغرافیہ وقت: تین گھنٹے: ۴۵ نمبر
کل نمبر۱۰۰
پرچہ اے عربی : وقت تین گھنٹے: 
ترجمہ عربی سے اردو میں اور دیئے ہوئے پیرے کی تشریح: ۷۵ نمبر
پرچہ بی عربی : وقت تین گھنٹے: 
گرامر   ۳۵ نمبر
ترجمہ اردو سے عربی میں: ۴۰ نمبر
کل نمبر: ۱۵۰
فارسی
1, Persian Selection for Enterance
۲۔اخلاقی، جلالی، حصہ سیاست مدنی
۳۔ احسن القواعد۔
ریاضی
Arithmetic the whole Algebra to siple Equations Including Ratio and pro portion.
Euclid Books 1,4 easy Deduetion the menstruation of plane Surfaccs including the theory of sur veying with the chain.
تاریخ وجغرافیہ
Out lines of the History of england and india, Genral Geography with that of india in Particular,and the Elements of physical geog raphy.
عربی:
۱۔ مسلم الادب: مرتبہ کرنل ہال رائڈ
۲۔ مقدسۃ الصرف
۳۔ مفتاح الادب
 انگریزی:
 خالد نظیر صوفی اپنی تالیف کتاب درون خانہ کے ص۱۰۵ پر ذکر کرتے ہیں کہ اقبال نے نویں جماعت میں Reading in Poetry کتاب پڑھی تھی۔اس کتاب پر اقبال نے اپنے دستخط کے ساتھ اس طرح لکھا ہے:
This book now belongs to Mohammad Iqbal Student 9th class  S,M . City school.’’
The Royal Reader نویں جماعت میں پڑھی تھی۔اس پر اقبال نے تحریر کیا:
Mohammad Iqbal Student 9th class  Scotch,Mission , sailkot . City school
Learned men,s Englishدسویں جماعت میں پڑھی تھی اس پر اقبال نے اپنے نام کے ساتھ اپنا رول نمبر ۶۷۳ بھی درج کیا ہے:۔
 S.Mohammad Iqbal Student .of 10th class Scotch Mission   school.’  
Sailkot.
اس سال سیالکوٹ کے لئے کوئی انعام مقرر نہیں کیا تھا۔جب کہ ۱۸۹۰ ء میں سیالکوٹ کے انٹرنس لڑکوں کے لئے تین انعام مقرر تھے۔۴۶؎ ایک تمغہ منجاب پادری ینگسن ،ایسے امیدوار کے لئے جو سیالکوٹ کے سکولوں میں اول آئے۔ دوسرا انعام پندرہ روپے کا سردار ہری سنگھ رائے بہادر کی طرف سے ضلع میں اول آنے والے سکھ لڑکے کو۔ تیسرا انعام ۲۵ روپے کا لالہ بھا مل وکیل کی طرف سے جو پنجاب میں قوم بھاٹیہ میں سب سے اول نکلے۔ ینگسن کا پہلا انعام سکاچ مشن سکول کے لڑکے بہاری لال نے،دوسرا انعام مشن سکول کے سنت سنگھ نے حاصل کیا۔ تیسرے انعام کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
۱۸۹۲ء میں اقبال دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔ان کی جماعت میں کل ۱۴ لڑکے تھے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر جگن ناتھ تھے ،جو اسی سکول کے پڑھے ہوئے تھے۔مولوی سید میر حسن کے شاگرد رہ چکے تھے۔ ایک بار دسویں جماعت کے ایک استاد نے لڑکوں کا ٹسٹ لینا چاہا۔ تمام لڑکوں نے ٹسٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔چودہ لڑکوں میں سے صرف ایک لڑکے نے ٹسٹ دیا۔ ہیڈ ماسٹر نے فی کس دس روپے جرمانہ کیا۔ لڑکے سخت پریشان ہوئے۔آخر سب نے سوچا کہ ہیڈ ماسٹر مولوی سید میر حسن کا شاگرد ہے۔ چلو میر صاحب کے پاس چلیں۔شاید کچھ کام بن جائے۔لڑکوں نے میر صاحب کو سارا واقعہ سنایا۔اور سفارش کے لئے عرض کی۔ میر صاحب نے فرمایا کہ میں تو بالکل سفارش نہیں کروں گا۔ تم لوگوں نے ٹھیک نہیں کیا،میں ہوتا تو فی کس بیس روپے جرمانہ کرتا،اب جا کر جرمانہ ادا کرو اور امتحان میں بیٹھو۔
چودہ میں سے ایک محمد حسین کے سوا سب فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئے۔۴۷؎
۵۔انٹر میڈیٹ
انٹرنس کے نتائج کا اعلان یکم مئی ۱۸۹۳ء بروز سوموارکو ہوا۔۴۷؎ لڑکوں کو اس نتیجہ کا کب علم ہوا، معلوم نہیں۔۲ مئی کو سکاچ مشن سکول بذریعہ ڈاک نتیجہ پہنچ گیا ہوگا۔ کیونکہ ۳ مئی کو ایک لڑکا جگن ناتھ سکاچ مشن ہائی سکول کی فرسٹ ایر کلاس میں داخلہ لیتا ہے۔اقبال کو اپنے نتیجے کا دیر سے علم ہوا ہوگا۔ وہ ۴مئی کو دولہا بنے گھوڑے پر سوار تھے۔کہ انہیں امتحان میں کامیابی کا ایک تار موصول ہوا۔ تار میں مبارک باد دی گئی تھی۔ یہ تار غالبا ان کے خسر اور شیخ نور محمد کے سمدھی کا ہوگا۔یعنی ڈاکٹر عطا محمد نے گجرات سیا قبال کی کامیابی پر مبارک باد کا تار دیا ہوگا۔اقبال کی بارات ۴ مئی کو گجرات گئی۔وہ کریم بی بی کو بیاہ کر لائے۔اگلے روز یعنی ۵ مئی کو انہوں نے کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر میں داخل ہونے والے لڑکے یہ تھے۔
تاریخ
نام طالب علم
عمر
نام والد
پیشہ ،پتہ
۳مئی ۱۸۹۳ء
جگن ناتھ
۱۶ سال
بیدی چند
کھتری کانواں کوٹ
۵مئی ۱۸۹۳ء
محمد اقبال
۱۶ سال
نور محمد شیخ
ٹیلر ،سیالکوٹ
۲۳مئی ۱۸۹۳ء
سمکھ سنگھ
۱۸ سال
بی گوبند سنگھ
سروس کپور تھلہ
۲۳مئی ۱۸۹۳ء
گنپت رائے
۹ئ۱۶
جیون مل
ساہوکار ساہووالہ
۲۳مئی ۱۸۹۳ء
عنایت اللہ
۱۸ سال
 جی مصطفیٰ
شیخ ٹھیکدار وزیر آباد
۲۳مئی ۱۸۹۳ء
لہند سنگھ
۲۰سال
وزیر سنگھ
کھتری جاگیر دار سیالکوٹ
۲۳مئی ۱۸۹۳ء
آکر داس 
۱۵ سال
گر بخش رائے
کھتری سروس ایمن آباد
۲۵مئی ۱۸۹۳ء
پرومن داس
۱۶ سال
رادھا کشن
کھتری سروس لاہور
۲۹مئی ۱۸۹۳ء
چند
۷ئ۱۶
لال چند


۲۵مئی ۱۸۹۳ء
اینداس
۱۷ سال
گنیش داس


۳۰مئی ۱۸۹۳ء
حسین
۱۷ سال
عالم شاہ


۳۱مئی ۱۸۹۳ء
گوپال
۱۷ سال
 ایل لدھا مل


یکم جون ۱۸۹۳ء
رابرٹس
۲۰ سال
ایس رابرٹس


۶ جون ۱۸۹۳ء
لچھمن داس
۱۶ سال
بھگوان داس


۶ جون ۱۸۹۳
کیلاگ سنگھ
۱۷ سال
ٹہل سنگھ


۹ جون ۱۸۹۳ء
دلباغ رائے
۱۷ سال
روپ سال
کھتری سروس حافظ آباد
۵ جولائی ۱۸۹۳ء
گوروداس
۱۸ سال
ولیا رام
کھتری سروس ایمن آباد
۲۲ اکتوبر
فضل الہیٰ
۶ئ۱۸
عبد الرسول
کھتری سروس گکھڑ
۷جولائی ۱۸۹۳ء
نرائن داس 
۱۷ سال
گنیش داس
کھتری سروس سیالکوٹ
فرسٹ ایر میں کل ۲۰ طلباء پڑھتے تھے۔ان میں ۴ مسلمان تھے، باقی کے ۱۶ لڑکے غیر مسلم تھے۔
فرسٹ ایر میں ہی اقبال نے مرزا داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔اور ’’زبان دہلی‘‘ جیسے علمی وادبی پرچے میں اشاعت کے لئے اپنا کلام بھیجنے لگے تھے۔
۱۸۹۴ء میں اقبال نے فرسٹ ایر کا امتحان پاس کیا۔اور سیکنڈ ایر میں ترقی پائی۔سیکنڈ ایر کو ان دنوں سئینر ایف اے،کہتے تھے۔فرسٹ ایر اور سیکنڈ ایر میں درج ذیل پروفیسر صاحبان سے مختلف مضامین کی تعلیم حاصل کی۔۵۰؎
ریورنڈ جارج داخ انگریزی کے پروفسیر تھے۔
مولوی سید میر حسن عربی کے پروفیسر تھے
لالہ نرنجن داس سے ریاضی پڑھتے تھے۔
فلاسفی کے پروفیسر بھی ریورنڈ جارج داخ تھے۔ یہ اساتذہ سکول میں بھی لڑکوں کو پڑھاتے تھے۔
تین مضامین لازمی تھے ،اور ایک آپشنل۔اقبال نے انگریزی ،ریاضی اور عربی کے ساتھ فلاسفی کا مضمون آپشنل لیا ۵۱؎
اقبال نے نیا مضمون فلاسفی اختیار کرکے ایک جدت پیدا کی۔والد بزرگوار کی صحبت نے انہیں فلسفہ کی طرف رغبت دلائی تھی۔
اقبال ریاضی میں کمزور تھے۔ اس سلسلے میں ان کے ایک ہم جماعت فضل الہیٰ کی دختر نیک اختر بیگم سلمیٰ تصدق حسین اپنے ایک مکتوب میں فرماتی ہیں:
’’ والد مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ علامہ اقبال میرے کلاس فیلو تھے۔ اور حساب میں کمزور تھے۔اس لیے مجھے حساب میں ان کی مدد کا شرف حاصل ہے۔ اور فارسی ان کا محبوب مضمون تھا۔اس لئے میں ان سے استفادہ حاصل کرتا تھا‘‘ ۔۵۲؎
پنجاب یونیورسٹی میں انٹر میڈیٹ کا امتحان دینے کے لئے داخلہ فارم بھیجنے کی آخری تاریخ ۴ فروری ۱۸۹۵ء تھی۔دس روپے امتحان کی فیس جمع کرائی گئی۔ لاہور امتحانی سینٹر تھا۔پنجاب میں صرف دو امتحانی سینٹر تھے۔ایک لاہور اور دوسرا دہلی۔ کالج کے لڑکوں کے ہمراہ اقبال ریل گاڑی کے ذریعے لاہور پہنچے۔گورنمنٹ کالج لاہور کے قریب ان دنوں فارمن مشن کالج ہوا کرتا تھا۔۵۴؎ اس کالج کے ہوسٹل میں اقبال نے دوسرے لڑکوں کے ساتھ قیام کیا۔گورنمنٹ کالج لاہور کا ہال’’ کمرہ امتحان‘‘ تھا۔۱۸ مارچ ۱۸۹۵ بروزسوموار انٹر میڈیٹ کا امتحان شروع ہوا۔۵۵؎ ۔
اقبال کا رول نمبر ۳۸۳ تھا۔ امتحان کی ڈیٹ شیٹ کا علم نہیں ہو سکا۔امتحان کے سلسلے میں ایک خبر ملاحظہ ہو:۔
’’۲۱ مارچ کو ایف ،اے کا امتحان ریاضی تھا۔ اکثر طالب علموں نے سوالوں کو سخت سمجھا ہے۔ ۲۲ مارچ کو ایف اے والوں کا فلسفہ تھا۔سوالات بالاواسطہ حسب لیاقت تھے۔۵۶؎
۲۷ اپریل ۱۸۹۵ء بروزہفتہ کو انٹر میڈیٹ کے نتائج کا اعلان ہوا۔ اقبال نے سیکنڈ ڈویژن میں کام یابی حاصل کی۔۵۷۰ میں سے ۲۷۶ نمبر حاصل کیے۔ کوئی وظیفہ حاصل نہ کر سکے۔ سکاچ مشن کالج کے صرف چار لڑکے کامیاب ہوئے۔ان کا نتیجہ ملاحظہ ہو:۵۸؎
رولنمبر نام
مذہب ،عمر
حاصل کردہ نمبر ڈویژن
ڈویژن
مضامین
۳۸۲،جگن جگن ناتھ
ہندو ۱۸ سال
۳۳۵
سیکنڈ
انگریزی ،ریاضی ،عربی ،فلاسفی
۳۸۳ شیخ محمد اقبال
مسلمان ۲۰ سال
۲۷۶
سیکنڈ
ایضا
۳۸۵ لچھمن داس نیر
 ہندو ۱۸ سال
۲۱۶
تھرڈ
انگریزی
۳۹۲ ،فضل الہیٰ
مسلمان ۲۱ برس
۲۴۵
 سیکنڈ
انگریزی ،فارسی، ریاضی، عربی، اردو، فلاسفہ ،عربی
پنجاب یونیورسٹی میں۴۶۶ لڑکوں نے انٹر میڈیٹ کا امتحان دیا تھا، جب کہ سوالیہ پرچوں پر چھپائی کی تعداد ۶۵۹ تھی۔امتحان میں ۲۳۳ لڑکے کامیاب ہوئے۔نتیجہ ۵۰ فی صد رہا۔کامیاب طلباء میں ہندو ۱۹۰ ،مسلمان ۴۰ اور عیسائی ۳ تھے۔بارہ لڑکوں نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاہور کا شادی رام ۴۳۴ نمبر حاصل کرکے یونیورسٹی میں اول آیا۔
انگریزی پڑھائی کا دس نمبر کا ایک پرچہ ہوتا تھا۔انگریزی میں پاس ہونے کے لئے ۳۳ فی صد اور کلاسیکی زبان یعنی عربی میں پاس ہونے کے لئے ۲۵ فی صد نمبر درکار تھے۔سب مضامین کے نمبر ملا کر کامیابی کے لئے ۳۳ فی صد نمبر حاصل کرنے لازمی تھے۔ فرسٹ ڈویژن کے لئے ۳۴۰ نمبر یا اس سے زیادہ، سیکنڈ ڈویژن کے لئے ۲۴۰ نمبر یا اس سے زیادہ اور تھرڈ ڈویژن کے لئے ۲۴۰ نمبروں سے کم۔
پرچوں اور اس کے نمبروں کی تقسیم اس طرح تھی:۶۰؎
انگریزی :
پرچہ اے وقت : ۳ گھنٹے
تشریح گرائمر۔نثر اور نظم کا تجزیہ: ۷۰ نمبر
پرچہ بی وقت : ۳ گھنٹے
با محاورہ اردو جملوں کا انگریزی میں ترجمہ:
۲۵ نمبر
مضمون ،کمپوزیشن : ۲۵ نمبر
پرچہ سی:
انگریزی عبارت کی پڑھائی : ۱۰ نمبر
کل نمبر ۱۵۰
ریاضی:
پرچہ اے وقت : ۳ گھنٹے
حساب ،الجبرا ا،قلیدس: ۷۵ نمبر
پرچہ بی وقت : ۳ گھنٹے
(مخروطی ،ٹر گنو میٹری لاگ روم)Conic Section,Trignometry .Logerthm
 کل نمبر ۱۵۰
عربی
پرچہ اے وقت : ۳ گھنٹے
نظم، عربی سے انگریزی میں ترجمہ
نثر کے پیرے کی تشریح گرامر : ۷۵ نمبر
پرچہ بی وقت : ۳ گھنٹے
نثر ،عربی سے انگریزی میں ترجمہ۔ ۴۰ نمبر
انگریزی سے عربی میں ترجمہ:  ۳۵ نمبر
کل نمبر ۱۵۰
فلاسفی:
پرچہ اے وقت : ۳ گھنٹے
Decuctive  logic ۵۵ نمبر
پرچہ بی وقت : ۳ گھنٹے
Elements of Psychology or Elements of Poiltical Economy
۶۵ نمبر
کل نمبر : ۱۲۰
 نصاب 
انگریزی
1.Scott .. Marmion 
تھامس بینی (Bayne) نے اسے ایڈٹ کیا۔ آکسفورڈ کلیریڈون پریس سے ۱۸۹۰ء میں یہ ناول شائع ہوا تھا۔
2. Dickens Tale of Two Cities
3..Sir Richard TEPLE .LORD  LAWRENCE.
اس کتاب کا ایک ایڈیشن ۱۹۰۴ء میں ۲۰۳ صفحات پر شائع ہوا تھا۔
Proverbsand Their Lessions
By Richard  Chenevix trench D,D
Arch Bishop of London.
The proverbs of different nations Comaped: Greek, Roman, Spanish proverbs,machiavellianism  in proverbs, English,Scotch  proverbs, Chinese, localised  proverbs.
5.Longinan ,S, School  Composition (Senior Part)
 ڈیوڈسلمان اس کے مصنف ہیں۔لندن سے لانگ مین گرین اینڈ کمپنی نے اسے ۳۰۵ صفحات پر شائع کیا۔سینئر پارٹ صفحہ ۹۵ سے ۲۹۵ تک ہے۔
اس کتاب پر اقبال نے اپنا نام اس طرح لکھا ہے:۔
S.Mohd  iqbal  F.A  Class Scotch  Mission  College. 7th June  1893.
ریاضی
 1.The Arthmetic
2 .Algebra Quadrative Equations.
Imaginary Expressions. Arthmetic.
Geometrical and Harmonial,
Progressions Permtations and Combinations, Binominal and  Exponential Theorems.
3. Plane Geometry, Euclid Books 1 to 1v
v1 to x1
the more important of the parable and eclipse,
4.Trignometry, methods of measuring  Angles, Trignometrical Ratios and the Simple  relations connecting them, relations beteen trignometrical ratios of Angles differing by mulitplus of right angles  Trignometrical  transformation Solution of triangles, properties of triangies Area of a Circle.
Lodarthms. the properties of Logarthms,legarithmic Series. the use of Logarthms Tables and the proportional Parts.
عربی
The Arabic Selection for the Intermediate Arts Course of the punjab unversity.
مراح الارواح: احمد بن علی
اس کا ایک ایڈیشن میاں محمد نے ۱۸۹۵ء میں دہلی سے ۱۸۴ صفحات پر شائع کیا تھا۔
۳۔ ہدایت الخو
 فلاسفی
Logic as in RAy,s Deductive  logic, Excluding Chapter.
1x Part 111 and APPendix.
2. Psychology as in Jardine,s Elements of Cognition.
3. Political Economy as in Mrs  Faweet,s Political  Economy for Beginners or MarShall,s Economies of Industry.
 کالج میں اقبال نے انگریزی زبان وادب کا گہرا مطالعہ کیا۔ نصابی کتب کے علاوہ آپ نے دوسری ادبی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا تھا۔ مثلا شیکسپئر کا المیہ ڈرامہ کنگ رچرڈ ٹو انگریزی نصاب میں شامل نہیں تھا۔لیکن مذکورہ کتاب کے متن پر اقبال کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے حواشی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کا تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔ اس کتاب پر انہوں نے اپنا نام اس طرح لکھا  ہے:۔
S. Mohammad Iqbal Student Scotch Mission College ,1894
English men of action نصاب میں شامل نہیں تھی۔ لیکن اس کتاب پر بھی اقبال کا نام اس طرح درج ہے:۔ 
S. Mohammad Iqbal Student Scotch 
Mission College , Sial kot.
کالج میں پڑھی جانے والی کتابوں پر اقبال نے راگ کے الاپ بھی لکھ رکھے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کالج کی زندگی میں ہی وہ موسیقی کی باریکیوں سے واقف ہو چکے تھے۔۴۱؎
حواشی
۱۔زندہ رود ۔جاوید اقبال: شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور: ۱۹۷۹ء حصہ اول ص۱۸
۲۔ دانائے راز: ص۹
۳۔نقوش لاہور ۔دسمبر ۱۹۷۷ء اقبال نمبر شمارہ ۱۲۳: ص۱۵
 ڈاکٹر وحید قریشی نے کرم بی بی کا انٹرویو لیا تھا۔اس سے قبل عمر شاہ کا نام کسی نے نہیں سنا تھا۔راقم نے جب مولوی سید میر حسن پر تحقیق کی تو عمر شاہ کا ذکر آیا۔اس طرح کرم بی بی کے کہنے کی تصدیق ہوئی۔
۴۔دیکھیئے راقم کا مقالہ در اقبال ریویو لاہور جولائی ۱۹۸۳ئ:ص۱۳۳
۵۔روزگار فقیر۔فقیر سید وحیدالدین۔لائن آرٹ پریس کراچی ۱۹۶۶ء جلد اول: ص،۲۱
۶۔لاگ بک۔سکاچ مشن ہائی سکول۔سیالکوٹ۔
7= Report on the Schemes of the Church of Scotland For the year 1872   Edinburgh. 1872, P,136.
۸۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۸ئ: ص۸۰
۹۔امریکن مشن سکول سیالکوٹ کے تجسٹر داخل خارج کے مطابق نومبر ۱۸۹۶ء میں اس جماعت کی ماہوار فیس ڈیڑھ آنہ تھی۔
۱۰۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۵ئ: ص۹۲
۱۱۔اقبال کی پہلی جماعت کا نتیجہ کے نام سے یہ رپورٹ پہلی بار مجلہ اقبال ریویو لاہور کے شمارہ جولائی ۱۹۸۳ء میں شائع ہو چکی ہے۔
۱۲۔ رپورٹ مجموعی انتظام ممالک پنجاب ۸۳۔۱۹۸۲ء لاہور: ص۵۷۴۔۵۷۳۔
13=  Report of the Education  Commission, Calcutta,1882. 1883 P.123
14=.........Do................P123
۱۵۔۱۸۷۷ء میں حکومت کے محکمہ تعلیم کے پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی قائم کی جو نصابی کتب شائع کرتی اور اپنے بک ڈپو سے ان کو فروخت کرتی تھی۔ ۱۸۸۴ء میں حکومت نے ٹیکسٹ بک کمپنی کو بند کر دیا اور پرائیویٹ بک سیلرز اور پبلیشرز کو نصابی کتب شائع اور فروخت کرنے کا اختیار دے دیا۔ سب سے پہلے ۱۸۷۷ء میں مفید عام پریس لاہور نے نصابی کتب کی اشاعت کی ابتدا کی۔
۶۔روایات اقبال۔ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی،مجلس ترقی ادب لاہور۔۱۹۷۷ء ص۴۵:
۱۷۔ لاگ بک،سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ۔رپورٹ بابت ۱۸۹۳ء ۱۸۹۴ء
۱۸۔راقم کے دادا سید الہیٰ بخش پسر سید غلام محی الدین (۱۸۹۶ئ۔ ۱۸۸۱ئ) نے سٹی مشن سکول بٹالہ سے مارچ ۱۸۹۴ء میں اپر پرائمری سکول کا امتحان پاس کیا تھا، ہری سنگھ انسپکٹر آف سکولز لاہور سرکل نے انہیں ایک سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔جس کی دونوں جہتوں کی نقل دی جاتی ہے۔ تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس امتحان کا سرٹیفکیٹ کیسا ہوتا تھا۔
۱۹۔رپورٹ مجموعی انتظام ممالک پنجاب وغیرہ۔ ۸۳۔۱۸۸۲ئ: ص۶۱۶
20= Report of the education Commission, Calcutta  1882.P.123
21.۔پنجاب گزٹ ۱۸۸۵ء پارٹ تھری ص۶۵۸
22. Dr. WEBSTER,s Unabridged Dictionary of the English Language.London .vol.11.p.1156,
۲۳۔ لاگ بک۔سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ۔بابت سال ۱۹۸۳ء
۲۴۔ ایضا رپورٹ ۱۸۹۱ئ۔۱۸۹۲ء ۱۸۹۳ء سے مدد لی گئی۔
۲۵۔رپورٹ مجموعی انتظامی ممالک پنجاب ۸۳۔۱۸۸۲ئ: ص۵۷۹
۲۶۔ اورینٹل کالج میگزین لاہور۔یونیورسٹی صد سالہ نمبر،شمارہ خاص ۱۹۸: ص۳۲۱
۲۷۔سراج الاخبار ۔۶ ستمبر ۱۸۸۶ئ: ص۶
۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۴ نومبر ۱۸۹۰ء
۲۹۔پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۹۱۔۱۸۹۰: ص۱۸۹۔
۳۰۔ سراج الاخبار ۔۲۰ جنوری ۱۸۹۱ء
۳۱۔پنجاب گزٹ۔ پارٹ تھری ۲۶ فروری ۱۸۹۱ئ: ص ۲۷۰
۳۲۔پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر : ۹۱،۱۸۹۰ء کے ص۱۷ پر اعلان نتیجہ کی تاریخ ۴ مارچ ۱۸۹۱ء برو بدھ مندرج ہے۔ جب کہ پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء پارٹ تھری ص۲۷۰ میں ۲۶ فروری ۱۸۹۱ء کو نتیجہ شائع ہوا تھا۔
۳۳۔پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء پارٹ تھری ،ص ۲۷۰
۳۴۔ایضا  ص ۶۱۹۔۶۱۸۔
۳۵۔ مضامین اور ان کی تفصیلات کے لئے دیکھیئے۔پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر،۱۸۹۲ء ۱۸۹۱ء ص۲۰۱۔
۳۶۔ اخبار عام لاہور ۲۸ اگست ۱۸۹۰ء
۳۷۔۔سراج الاخبار ۲مئی ۱۸۸۷ء
۳۸۔روایات اقبال۔ ص۲۵
۳۹۔ محکمہ تعلیم میں ابتدا ہی سے میٹرک کو انٹرنس(ANCE Entr) کہا جاتا تھا۔
۱۹۲۱ء میں انٹرنس کو میٹرک کا نام دیا گیا۔( دیکھیئے ہسٹری آف دی پنجاب یونیورسٹی۔جے ایف بروس: ص۲۱۱
۴۰۔سراج الاخبار ۔۶ ستمبر ۱۸۸۶ء
۴۱۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر: ۱۸۹۲ء ۱۸۹۳ء ص: ۱۰۴،۵۸
۴۲۔پنجاب یونیورسٹی کے تحت انٹرنس کا پہلا امتحان اکتوبر ۱۸۷۱ء میں ہوا تھا۔ (جے ایف ،بروس)
۴۳: روایات اقبال : ص ۲۶
۴۴: پنجاب گزٹ ۱۸۹۳ء پارٹ تھری ص۶۹۱،اوراس کے بعد
۴۵۔مضامین اور نمبروں کی تفصیلات کے لئے پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۱۸۹۴ئ۱۸۹۳ء ص۶۰
۴۶: اخبار عام لاہور۔۳۰ جون ۱۸۹۰ء
۴۷؛ روایات اقبال: ص۲۵، انٹرویو سید محمد ذکی
۴۸۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۱۸۹۳۔۱۸۹۲ء ص۹
۴۹: داخلہ جسٹر۔سکاچ مشن کالج سیالکوٹ،مملوکہ مرے کالج سیالکوٹ
۵۰: پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۹۳ئ۔۱۸۹۲
۵۱: پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۹۵،۱۸۹۴ئ: ص۱۰۳
۵۲: راقم کے نام بیگم سلمیٰ تصدق کا مکتوب: محررہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۳ء
۵۳: پنجاب یونیورسٹی لاہور کے تحت انٹر میڈیٹ کا پہلا امتحان ۱۸۸۳ء میں ہوا تھا۔ جے ،ایف بروسس: ص۲۱۰


54: The Folio  F.C.College  Lahore,Centenary  Issue. 1864,1964. P .17
۵۵: پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۔۱۸۹۵۔ ۱۸۹۴ء : ص۱۷
۵۶: رہبر ہند لاہور، ۲۵ مارچ ۱۸۹۵ئ: ص۱۶
۵۷: ایضا   ۶ مئی ۱۸۹۵ئ۔پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر میں نتیجہ کی تاریخ ۲۲ اپریل درج ہے۔
۵۸: پنجاب گزٹ ۱۸۹۵ء پارٹ تھری: ص۹۴۷ اور بعد کے صفحات
۵۹: رہبر ہند۔لاہور،۲۵ مارچ ۱۸۹۵ء
۶۰: پرچوں یعنی مضامین کی تفصیلات کے لیے پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۹۵ئ، ۱۸۹۴ء ص۱۰۳۔
۶۱َ: اقبال درون خانہ۔خالد نظیر صوفی،بزم اقبال لاہور، ۱۹۷۱ئ، ص ۱۰۶
باب ۵
شخصیات
اعزہ واقارب
اکبری بیگم۱؎
اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد کی دختر اور شیخ اعجاز احمد کی بڑی ہمشیرہ ہیں۔ اپنی پھوپھی کے لڑکے شیخ فضل الہیٰ سے بیاہی تھیں۔
۲۔امام بی بی ۲؎
اقبال کی والدہ ماجدہ ہیں۔ سمبڑیال کے کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بڑی نیک، سمجھ دار،عبادت گزار اور پارسا خاتون ہیں۔ ناخواندہ تھیں۔صرف نماز از بر تھی۔ محلہ کی عورتوں میں حسن سلوک کی وجہ سے مقبول اور عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ گھر کاکام کاج خود کرتیں۔جذبہ ایثار ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔خاندان کے تمام افراد ان کو’’ بے جی‘‘ کہتے تھے۔اقبال بھی انہیں ’’ بے جی‘‘ کہتے تھے۔ بقول شیخ اعجاز کے امام بی بی کی شادی ۱۸۵۷ء سے کچھ قبل ہوئی ہوگی۔
اقبال ماں کو بہت چاہتے تھے۔ محبت اور عزت کا مرکز سمجھتے تھے۔ ’’ بے جی‘‘ جب کبھی پیار سے اقبال کو پکارتیں،تو یہ زندگی کی اوج گاہوں سے نیچے اتر آتے اور صحبت مادر میں طفل سادہ سے رہ جاتے۳؎۔
’’ بے جی‘‘ کی تربیت نے ہی اقبال کو اقبال بنایا تھا۔ انجم کی طرح وہ چمک اٹھا،اوراس طرح اس کے اجداد کا گھرانہ سرمایہء عزت ہوا۔ماں اپنے بیٹے کی ساری عمر خدمت کرتی رہی۔اور جب بیٹا ماں کی خدمت کے قابل ہوا تو وہ چل بسیں۴؎ ۔ماں کی خدمت کرنے کی حسرتیں لائق بیٹے کے دل میں ہی رہ گئیں۔
 بے جی ۷۸ برس کی عمر پا کر ۹ نومبر ۱۹۱۴ء کواس دار فانی سے کوچ کر گئیں اور امام صاحب کے قبرستان میں دفن ہوئیں۔اقبال کو شدید صدمہ ہوا۔مہاراجاسر کرشن پرشاد کو لکھتے ہیں:
۔۔۔۔ میرے لئے دنیا کے معاملات میں دل چسپی لینا اوراس دنیا میں بڑھنے کی خواہش کرنا صرف مرحومہ کے دم سے وابستہ تھا۔اب یہ حالت ہے کہ موت کا انتظار ہے‘‘۵؎
ڈاکٹرجمشید علی راٹھور کی والدہ اور امام بی بی چیچری بہنیں تھیں ۔ایک دفعہ دونوں بہنوں میں خدا جانے کیا بات چیت ہوئی؟۔ کہ امام بی بی نے راٹھور صاحب کی والدہ سے کہا؛
’’ میرے اقبال جیسا بچہ پیدا کرو تو مقابلے پر آؤ ۶؎ ۔‘‘
شیخ اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ بے جی کا ایک ہی بڑا بھائی تھا، جو سنا ہے جوان عمری میں بغیر اولاد کے چل بسا تھا۔
۳۔برکت بی بی۷؎
اقبال کے بڑے بھائی عطا محمد کی پہلی شادی راٹھور گھرانے میں ہوئی تھی۔ اس بیوی سے ایک بچی برکت بی بی پیدا ہوئی۔شیخ اعجاز احمد کی پیدائش (۱۸۹۹ئ) سے قبل ان کی شادی ہو چکی تھی۔ ان کا ایک لڑکا تھا جو انتقال کر گیا تھا۔ ایک لڑکی بھی تھی جو شادی شدہ تھی۔ شیخ اعجاز احمد کی والدہ اس کے پاس آیا کرتی تھی۔ بلکہ انہوں نے اس خاتون کو،اس کے خاوند اور اس کے بچوں کو اقبال منزل کے زیریں حصہ میں رہنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔
۴۔زینب بی بی۸؎
اقبال کی سب سے چھوٹی ہمشیرہ ہے۔ بابو غلام رسول سے شادی ہوئی۔بابو صاحب وزیر آباد کے رہنے والے تھے۔ بڑے نیک اور پارسا تھے۔ محکمہ ریلوے فیروز پور میں ملازم تھے۔
زینب بی بی سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔اس لئے سسرال والوں نے اچھا نہ سمجھا۔مجبورا میکے یعنی سیال کوٹ چلی آئیں۔ساس نے بیٹے کی دوسری شادی کر دی۔کچھ عرصہ بعد وہ گھر میں تیسری بہو بھی لے آئی۔ماں کی وفات کے بعد بابو غلام رسول زینب بی بی کو لینے سیالکوٹ آئے ۔ انہوں نے مصالحت کرنا چاہی۔اقبال بھی ان دنوں سیالکوٹ آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بہنوئی کی خواہش کو رد کر دیا اور مصالحت کرنے سے انکار کر دیا۔ شیخ نور محمد نے اقبال کو قرآن کے حوالے سے صلح کر لینے کا مشورہ دیا۔ اقبال رضا مند ہو گئے۔ بابو صاحب اپنی بیوی کو اپنے گھر وزیر آباد لے گئے۔ اور باقی ماندہ زندگی آرام وسکون سے بسر کی۔ زینب بی بی نے وزیر آباد میں وفات پائی۔
۵۔طالع بی بی ۹؎
اقبال کی بڑی ہمشیرہ ہے۔اسکی ولادت ۶ ستمبر ۱۸۷۰ء بتائی جاتی ہے۔ جوان عمری میں ۱۳ جولائی ۱۹۰۲ء کو اس فانی دنیا سے چل بسیں۔شیخ غلام محمد سے بیاہی تھی۔
اولاد: نور احمد، خورشید احمد، ظہور احمد، منظور احمد۔ یہ سب انتقال کر چکے ہیں۔ان کی نسل سیالکوٹ میں رہتی ہے۔
۶۔عبداللہ ۱۰؎
اقبال کے دادا شیخ محمد رفیق کے چھوٹے بھائی تھے۔ موضع جیٹھے کے میں آباد ہو گئے تھے۔ اور وہیں پھلے پھولے۔
اولاد : محمد دین، تاج دین، چراغدین۔
۷۔عبد الرحمنٰ ۱۱؎
 اقبال کے دادا شیخ محمد رفیق کے برادر اکبر ہیں۔سیالکوٹ میں رہتے تھے۔ان کی اولاد بھی سیالکوٹ میں آباد ہے۔
اولاد : محمد حیات۔ احمد
۸ ۔ عطا محمد شیخ ۱۲؎(۱۹۴۰ئ۔۱۸۵۸ئ)
 اقبال کے بڑے بھائی ہیں۔اقبال سے تقریبا سترہ برس بڑے دونوں بھائیوں میں بڑی الفت تھی۔اقبال کی تعلیم کے تمام اخراجات عطا محمد نے برداشت کیے تھے۔ اقبال ہمیشہ اپنے بڑے بھائی کے لیے دعا گو رہے۔ اقبال کے لئے یہ یوسف ثانی، شمع محفل اور اخوت قرار جان تھا۔ شیخ عطا محمد کی محبت نے من وتو کے دفتر کو جلا کر اقبال کی تربیت کی اور جوان کیا۔۱۳؎۔ بھائی کے اخلاقی قرض نے اقبال کو ہندوستان میں رہنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ وہ کسی دوسرے ملک میں جا بستے۔
اقبال کے یہ برادر عزیز اور جان جاں آزادی کے ہنگامہ سے ایک برس بعد یعنی ۱۸۵۷ء میں پیدا ہوئے۔ چونکہ اس زمانے میں سیالکوٹ کی میونسپل کمیٹی معرض وجود میں نہیں آئی تھی۔اور پیدائش کے اندراج کا کوئی بندو بست نہیں تھا،اس لئے عطا محمد کی پیدائش کا اندراج نہیں ملتا۔ابتدائی تعلیم سکا چ مشن سکول میں حاصل کی۔ قیاس ہے کہ گھر کی مالی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ سکول جانا چھوڑ دیا اور محنت مزدوری کرنے لگے۔
شیخ منظور احمد اپنے ہم جماعت اکرام کے حوالے سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ شیخ عطا محمد اپنے چھوٹے بھائی اقبال کے ساتھ اکرام کے باپ اور چچا کے گھر کاغذ کوٹنے جایا کرتے تھے۔ معاوضہ میں ان کو روٹی کھانے کو مل جاتی تھی۔ یہ اس خاندان کی انتہائی غربت کا زمانہ تھا۔روایت ہے کہاس زمانہ میں اقبال نے بھی سکول جانا چھوڑ دیا تھا۔۱۴؎
عطا محمد کا رشتہ راٹھور خاندان میں طے ہو گیا۔ اس کی والدہ بھی راٹھور خاندان سے تھی۔ سسرال والوں نے عطا محمد کو فوج میں بھرتی کرادیا۔عطا محمد ایک بلند قامت اور توانا جسم کے مالک تھے۔اس لیے بھرتی ہونے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔اور پھر راٹھور خاندان کے لوگ فوج کے ملازم رہ چکے تھے۔ اور پنشن خوار تھے۔راٹھور خاندان کا سر براہ عبد الرزاق فوج میں ملازم تھا۔ اور ھسن خدمت کے میں پچاس روپے ماہوار پنشن بھی پاتاتھا۔انگریز حکام کی نظر میںاس کی بڑی عزت تھی۔۱۵؎ ۔عطا محمد نے ملٹری انجئینرنگ سروس میں شمولیت اختیار کی۔جہاں سے وہ تھامسن سول انجئینرنگ کالج رڑکی میں فنی تربیت حاصل کرنے کے لئے بھیجے گئے۔ فوج میں شمولیت ۹ جون ۱۸۸۰ء کو اختیار کی۔
رڑکی کا یہ کالج ۱۸۴۷ء میں قائم ہوا۔۱۶؎ ۔ ۱۸۶۴ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے اس کا الحاق ہوا۔ یہ کالج پبلک ورکس اور سروے شعبہ جات کو اسٹنٹ انجینئر،اوور سئیرز اور سب سروئیر یا سب اوورسیرز مہیا کرتا تھا۔ کالج میں تین جماعتیں ہوتی تھیں۔
۱۔پہلی جماعت انجینئر کلاس کی تھی۔اسے سینئر ڈیپارٹمنٹ بھی کہا جاتا تھا۔ فوج کے افسر اور اعلیٰ درجے کے شہری اس میں داخلہ لے سکتے تھے۔
۲۔ اپر سب آرڈی نیٹ کلاس (UPPER SUBORDINATE CLASS)) میں سب انجینئرز یا اوور سیئیرز کی دو سالہ تربیت دی جاتی تھی۔اس میں داخلہ کے لئے انٹرنس کا انگریزی کا امتحان پاس کرنا لازمی تھا۔
۳۔لوئر سب آرڈی نیٹ کلاس:
یہ جماعت مقامی لوگوں کے لئے تھی۔ یہاں اردو زبان میں ڈیڑھ سال فنی تربیت دی جاتی تھی۔امتحان پاس کرنے والے فرسٹ کلاس سیکنڈ کلاس یا اے کلاس، بی کلاس سب ا وور سیئرز یا سب سرویئرز کہلاتے تھے۔ عمر کی حد ۱۸ اور ۲۲ برس مقرر تھی۔فوج کے جوان جو اس جماعت میں فنی تربیت حاصل کرتے تھے۔ پانچ روپے ماہوار وظیفہ پاتے تھے۔ اے کلاس سب ا وور سیئرز معمولی تعلیم کے حامل ہوتے تھے۔ابتدائی تاریخ وجغرافیہ جانتے تھے۔اور انگریزی حروف کو الفاظ میں استعمال کرنا جانتے تھے۔ اے کلاس سے کمتر کلاس بی کلاس ہوتی تھی۔ جن کی سفارش ایگزیکٹو انجینئر اس طرح کرتا تھا:
That the Canidate is  Useful man required.’’
امیدوار کا حساب کا امتحان لیا جاتا تھا۔اور اس سے لکھوایا بھی جاتا تھا۔
عطا محمد نے تیسری کلاس یعنی لوئر سب آرڈنیٹ کلاس میں داخلہ لیا۔ فوج کی طرف سے تربیت حاصل کرنے کے لیے یہاں بھیجے گئے تھے۔ ۱۸۸۴ء میں عطا محمد نے یہاں سے سب اوور سئیرز کی تربیت حاصل کی۔ ان کی کلاس کے ہیڈ ماسٹر لالہ بہاری لال تھے۔ رڑکی انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس سلسلے میں کہتے ہیں:
’’It is intimated that the old Calendar of Thomason Civil Engineering. College Shows that there was one Student of Sub over seers (milltary),1884.Ata Muhammad,a Swar,s rank of 9th Bengal corps,,
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عطا محمد ۹ بنگال کارپس میں سوار تھے۔اقبال کے خطوط سے پتا چلتا ہے کہ کہ ۱۹۰۲ء میں عطا محمد بلوچستان میں سب ڈویژنل آفیسر تھے۔ یہیں ان کے مخالفین نے ان کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ بنا دیا۔ اقبال بڑے پریشان ہوئے ،بڑی ودڑ دھوپ کی۔ وائسرائے کرزن سے ملے۔ اور یہ جھوٹا مقدمہ ختم کرایا۔۱۸؎ ملازمت کا بڑا حصہ بلوچستان اور صوبہ سرحد کی چھاونیوں میں گزارا۔
دسمبر ۱۹۰۸ء میں ایک بار عطا محمد شدید بیمار پڑگئے۔ اقبال کوتار دے کر بلوایا گیا۔ کثیر روپیہ صرف کرکے ان کا علاج کرایا گیا۔ خدا نے شفا بخشی۔اقبال لاہور سے عطیہ فیضی کو ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:۔
’’ ان کی (بڑے بھائی) موت میرے لیے ہر نقطہ نظر سے بڑی خوفناک ہوتی۔‘‘ ۱۹؎
عطا محمد ۱۹۱۲ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔اس کے بعد سیالکوٹ میں رہائش رکھی۔۱۹۱۷ء سے ۱۹۲۰ء تک محکمہ نے دوبارہ ان کی خدمات حاصل کر لیں۔
عطا محمد سخت مزاج کے تھے۔گھر والوں پر بڑا رعب وجلال تھا۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد سیالکوٹ میں رہائش رکھی۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۴۰ء کو نو بجے شب ۸۲ برس کی عمر میں سیالکوٹ میں انتقال کیا۔۲۰؎
اقبال کی وفات سے کچھ عرصہ قبل دونوں بھائیوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ اقبال کی وفات کے بعد ۳۹۔۱۹۳۸ء میں عطا محمد نے اقبال کے بڑے بیٹے بیرسٹر آفتاب کو کچھ خطوط لکھے تھے۔ ان کے مطالعے سے دونوں بھائیوں کے درمیان کشیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔۲۱؎
عطا محمد کی پہلی شادی راٹھور گھرانے میں عبد الرزاق کی دختر سے ہوئی۔اس سے ایک لڑکی برکت بی بی ہوئی۔دوسری شادی ۸۷۔۱۸۸۶ء میں مہتاب بیگم سے کی۔ اس سے یہ اولاد ہوئی:۔
۱۔ اکبری بیگم
۲۔اعجاز احمد
۳۔ امتیاز احمد
۴۔ مختار احمد
۵۔ عنایت بیگم
۶۔ وسیمہ بیگم
۹۔ عطا محمد شیخ۲۳ (۱۹۲۳ء ۱۸۵۰ئ)
 اقبال کے پہلے خسر اور کریم بی بی کے والد ماجد ہیں۔
ان کے بزرگوں کا آبائی وطن کشمیر ہے۔ ان کے دادا تجارت کی غرض سے کشمیر سے پنجاب میں وارد ہوئے۔اور گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی۔زعفران اور دیگر اجناس کشمیرکے تاجر تھے۔ان کے دادا شیخ عبد اللہ نے سرکار انگریزی کی ملازمت اختیارکی۔ پنجاب کے داروغہ جیل کے عہدہ پر مامور ہوئے۔اور ضلع گجرات میں رہائش اختیار کی۔
شیخ عطا محمد ۲۰ نومبر ۱۸۵۰ء کو پیدا ہوئے۔اول دیسی مکتب میں آٹھ سے چودہ سال کی عمر تک دینی تعلیم حاصل کی۔ قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔پھر سرکاری سکول میں دنیاوی تعلیم کے لیے بھیجے گئے۔ مڈل کا امتحان پاس کرکے میڈیکل سکول لاہور میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل ہوئے۔جولائی ۱۸۷۸ء میں تعلیم مکمل کی۔اور یکم اگست ۱۸۷۸ء کو سرکاری ملازمت اختیار کی۔چند ماہ ملازمت میں گزارے تھے کہ افغانستان کی دوسری لڑائی (۱۸۸۰ئ۔۱۸۷۸ئ) لارڈ لٹن کے دور حکومت میں شروع ہو گئی۔آپ نے جنگ کے موقع پر اپنی خدمات پیش کیں۔ ہری پور ڈسپنسری ضلع ہزارہ میں ۱۵ ستمبر سے ۱۵ دسمبر ۱۸۷۸؁ تک انچارج کی حیثیت سے کام کیا۔ ۱۶ دسمبر ۱۸۷۸ء سے جنوری ۱۸۷۹ء تک میو ہسپتال لاہور میں جنرل ڈیوٹی پر رہے۔اس کے بعد فوج کے سپرد ان کی خدمات کی گئیں۔ مہارجگان پٹیالہ اور جھند کی افواج کے ساتھ بطور اسٹنٹ میڈیکل آفیسر بمقام کوہاٹ ،بنوں وغیرہ تعینات کیا گیا۔جنگ ختم ہونے کے بعد حکومت پنجاب کے تحت میو ہسپتال لاہور میں یکم جولائی سے ۸ ستمبر ۱۸۷۹ء تک خدمات انجام دیں۔اس کے بعد فوج کو دوبارہ آپ کی خدمات کی ضرورت پیش آئی۔قرم فیلڈ فورس میں میڈیکل آفیسر رہے۔ ۹ ستمبر ۱۸۷۹ء سے ۳۱ اکتوبر ۱۸۸۰ء تک قرم میں کام کیا۔ جنگ کے بعد ان کی خدمات کے عوض ان کو فرسٹ گریڈ اسٹنٹ سرجن کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔اور افغانستان میڈل وار بھی عطا ہوا۔ اس کے بعد آپ یکم نومبر ۱۸۸۰ء کو میو ہسپتال لاہور میں ڈیوٹی انجام دینے لگے۔اس کے بعد ان مقامات پر کام کیا۔


علی پورہ ڈسپنسری ضلع مظفر گڑھ
۲۲ جنوری سے ۲۱ اپریل ۱۸۸۱ء
میو ہسپتال لاہور۔جنرل ڈیوٹی
۲۲ اپریل سے ۱۲ مئی ۱۸۸۱ء
سول ہسپتال امرتسر۔بطور انچارج
 ۱۳ مئی سے ۲۶ اکتوبر
سول ہسپتال گجرات،جنرل ڈیوٹی
۲۶ اکتوبر ۱۸۸۱ء سے ۲۱ جنوری ۱۸۸۲ء تک
ڈپٹی میڈیکل آفیسر ،سینٹرل جیل
۲۲ جنوری سے ۱۵ نومبر ۱۸۸۲ء
گجرات کے سرکاری طبیبوں کے انچارج
 ۱۷ نومبر ۱۸۸۲ء سے ۱۹ مارچ ۸۸۳اء تک
اس کے بعد آپ کی خدمات گورنمنٹ آف انڈیا کے پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئیں۔سرکاری ڈسپنسری قلات کے انچارج ۳اپریل ۱۸۸۳ء سے ۱۹ جولائی ۱۸۸۴ء تک رہے۔ یہاں آپ دوسو روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔اس کے بعد آپ کو خصوصی طور ہز میجسٹی وائس کونسل ہدیدہ اور کامران میں طبی خدمات پر تعینات کیا گیا۔طبی خدمات کے علاوہ آپ سیاسی خدمات بھی سر انجام دیتے تھے۔ ہدیدہ ایک بندرگاہ لب سمندر سلطان روم کی سلطنت میں واقع ہے۔ جو سلطان روم کے علاقہ میں ہے۔ہدیدہ امریکہ، اٹلی،روس،اور فرانس وغیرہ کی کونسلیں رہتی تھیں۔سرکارانگریزی کی طرف سے آپ نائب کونسل مقرر ہوئے۔یہاں آپ ۲۷ ستمبر ۱۸۸۴ء سے ۲۴ دسمبر۱۸۹۱ء تک خدمات سرانجام دیتے رہے۔سیکرٹری آف سینٹ نے ان کی خدمات کاا عتراف کیا۔اور ۲۴ مئی ۱۸۸۸ء کو خان بہادر کا خطاب عطا ہوا۔ سلطان روم نے بھی تمغہ عثمانی عطا کیا۔ لیکن سرکاری سطح پر اس کو قبول نہ کر سکے۔زمانہ قیام ہدیدہ میں آپ نے بردہ فروشی کے انسداد میں کوشش بلیغ صرف کی،جس کے لئے فارن آفس لندن کے مراسلوں میں ان کی کوششوں کا شکریہ اور اعتراف کیا گیا۔ ۱۸۹۹ء میں وائسرائے آف انڈیا کے اعزازی سرجن مقرر ہوئے۔
اس کے بعد حکومت پنجاب نے آپ کی خدمات حاصل کر لیں۔ یکم جنوری ۱۸۹۲ء سے نومبر ۱۸۹۲ء تک جنرل ڈیوٹی پر رہے۔چکوال ڈسپنسری میں یکم دسمبر ۱۸۹۲ء سے ۱۶ دسمبر ۱۸۹۲ء تک کام کیا۔ پنڈ دادنخان ڈسپنسری میں ۲۲ دسمبر ۱۸۹۲ء سے ۱۸ اپریل ۱۹۰۱ء تک خدمات انجام دیں۔ جولائی ۱۹۰۰ء میں سینئر گریڈ میں ترقی پائی۔
شاہ پور سول سرجن
۸ مئی سے ۲۲ نومبر ۱۹۰۱ء
ڈیرہ اسماعیل خان سول سرجن
۲۵ نومبر ۱۹۰۱ء سے ۳۰ دسمبر ۱۹۰۲ء تک
گوڑ گاؤںسول سرجن
۲۵ نومبر ۱۹۱۰ء سے ۳۰ دسمبر ۱۹۰۲ء
شاہ پور سول سرجن
۲۲ فروری سے ۲۰ نومبر ۱۹۰۳ء
۳ ماہ کی رخصت
 ۲ نومبر ۱۹۰۳ء سے فروری ۱۹۰۴ء
سول اسپتال راولپنڈی انچارج
۲۴ فروری سے ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ء
ضلع اٹک سول سرجن
یکم اپریل ۱۹۰۴ء سے ۲۰ دسمبر ۱۹۰۴ء تک
سول اسپتال راولپنڈی
۲۱ دسمبر ۱۹۰۴ء سے ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء تک
سول سرجن ڈیرہ اسماعیل خان
۱۲ اپریل ۱۹۰۵ء کو،لیکن مستقل سول سرجن مظفر گڑھ یکم جنوری ۱۹۰۶ء کو مامور ہوئے۔
سول سرجن مظفر گڑھ
۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء سے ۲۱ مئی ۱۹۰۷ء تک
سول سرجن میانوالی دسٹرکٹ
 ۶ جون ۱۹۰۷ء سے یکم دسمبر ۱۹۱۲ء تک
میانوالی ہی سے آپ ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سرکاری ملازمت کے بعد آپ نے نواب سر محمد احمد خان،والی ریاست مالیر کوٹلہ کے ہاں ملازمت اختیار کر لی۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۱۸ء کو آپ ریاست کی ملازمت سے مستعفی ہوگئے۔ خدمات کے عوض نواب صاحب نے خلعت خاص بقدر تین ہزار روپیہ سہ کوٹلہ عطا کیا۔
ڈاکٹر صاحب نے سبک دوشی کے بعد اپنے آبائی مکان کٹرہ شالبا خاں گجرات میں رہائش رکھی۔ان دنوں یہ مکان دو منزلہ تھا۔ محمد اصغر بٹ نے اسے خرید کر دو تین سال قبل یہاں رضی ہاؤس تعمیر کرلیا ہے۔ اس مکان کے بالمقابل پنجابی زبان کے مشہور شاعر سائیں فیروز گجراتی کا مکان ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہی ان کا اکلوتا فرزند ڈاکٹر غلام محمد انتقال کر گیا۔ یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ اس دکھ کو وہ زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکے۔ اور ۶۳ برس کی عمر میں ۱۹۲۳ء میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
ڈاکٹر صاحب بڑے شریف الطبع انسان تھے۔ بڑے فیاض اور سخی تھے۔ غرباء کا علاج بغیر کسی معاوضے کے کرتے تھے۔ حاجت مندوں کی مدد کرنا ان کا محبوب اور پسند یدہ مشغلہ تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی میز کی دراز سے ایک فہرست نکلی ،جس میں ۳۱ بیواؤں کے نام اور پتے اور رقوم وظیفہ درج تھی۔ جن کو آپ ہر ماہ پابندی سے وظائف بھیجا کرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب دینی لحاظ سے بڑے مرتبہ کے انسان تھے۔پرہیز گار اور دیندار تھے۔ سرکاری ملازمت کے دوران ان کی سرکاری قیام گاہ پر مغرب اور عشاء کی نماز اذان اور جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی تھی۔ان نمازوں میں آپ بڑی پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ دینداری ہی کی وجہ سے آپ نے اپنی بڑی صاحبزادی کا رشتہ اقبال سے طے کردیا تھا۔ آپ نے شیخ نور محمد سے دوستی اور رشتہ داری کا ہاتھ بڑھایا۔اور اپنی بڑی صاحبزادی کریم بی بی کا رشتہ اقبال سے طے کر دیا۔ بلا شبہ شیخ نور محمد مال ودولت،عزت وشہرت،علم وفضل اور شہرت کے اعتبار سے خان بہادر ڈاکٹر شیخ عطا محمدصاحب کی ٹکر کے نہ تھے۔ لیکن ان کی نیکی ،شرافت اور پارسائی نے خان بہادر کو رشتہ کرنے کی طرف مائل کیا۔ ان دنوں شرافت اور دینداری ہی انسان کے اعلیٰ وبرتر ہونے کا معیار تھا۔دونوں سمدھی زندگی بھر ایک دوسرے کی عزت کرتے رہے۔
خان بہادر ڈاکٹر عطا محمد صاحب کا کوئی بھائی نہ تھا۔دو بہنیں مہتاب بی بی اور بیگم بی بی تھیں جو ۱۹۳۰ء سے قبل وفات پا گئی تھیں۔
اولاد میں ایک لڑکا اور پانچ لڑکیاں تھیں۔
۱۔غلام محمد: ان کے حالات الگ بیان کر دیئے گئے ہیں۔
۲۔کریم بی بی: اقبال کی پہلی بیوی ہیں۔ ان کے حالات بھی الگ درج کر دیئے گئے ہیں۔
۳۔ نواب بی بی : ۱۹۵۰ء میں انتقال ہوا۔ 
گجرات میں حافظ فضل احمد سے بیاہ ہوا۔ حافظ صاحب ملٹری اکاونٹس میں ملازم تھے۔ حافظ صاحب نے طلاق دے دی تو عنایت اللہ سے نکاح ثانی کرلیا۔
اولاد: نصرت بیگم، تاج بیگم، عصمت بیگم، اور ثروت بیگم
عنایت اللہ محکمہ پولیس سے سب انسپکٹر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے۔
۴۔ فاطمہ بی بی: لاہور میں خواجہ رحیم بخش کے فرزند خواجہ فیروز الدین بیرسٹر سے بیاہی تھیں۔جو گورنمنٹ کالج لاہور میں اقبال کے شاگرد رہ چکے تھے۔ ۱۹۰۹ء میں یہ شادی ہوئی۔ فاطمہ بی بی نے ۱۹۸۲ء میں انتقال کیا۔
اولاد: خواجہ خورشید انور،موسیقی کی دنیا میں نامور شخصیت ہے۔ ۷۲ برس کی عمر میں ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔
خواجہ محمد آصف ۔
(۲) ۔ خواجہ محمد افضل
(۳) خواجہ سلطان احمد
(v۱) انوری بیگم
(v11 ) اصغری بیگم
(۷) نجمہ بیگم
۴۔ حمیدہ بیگم: گجرات کے سید عظمت شاہ اے ایس ،پی سے بیاہی تھیں۔ ۱۹۶۳ء میں وفات پائی۔
اولاد : سید شفقت علی شاہ۔خالدہ بیگم
۵۔ شہزادی بیگم : گجرات کے سید سجاد حیدر بخاری سے بیاہی تھیں۔ سجاد حیدر کابلی دروازہ گجرات میں رہتے تھے۔ شہزادی بیگم نے ۱۹۸۳ء میں لاہور میں انتقال کیا۔
اولاد: پروین بیگم، نسرین بیگم، یاسمین بیگم، سمیں بیگم، شہناز بیگم، اور ایک لڑکا سید پرویز بخاری تھا۔
۱۰۔غلام محمد شیخ ۲۴؎ (۱۸۹۱ء ۱۹۲۴ئ)
اقبال کے برادر نسبتی ہیں۔ خان بہادر ڈاکٹر عطا محمد کے صاحب زادے ہیں۔۱۸۹۱ء کے لگ بھگ گجرات میں پیدا ہوئے۔سکاچ مشن ہائی سکول گجرات میں تعلیم پائی۔ ابتدائی تعلیم گجرات میں حاصل کی۔ لاہور کے میڈیک سکول سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔ اور بعد میں لیور پول یونیورسٹی انگلینڈ میں میڈیسن میں ڈگری حاصل کی۔ طبی تعلیم کے بعد ۱۹۰۹ء میں انڈین میڈیکل سروس میں شمولیت اختیار کی۔پہلی جنگ عظیم کے دوران فرانس میں برٹش گورنمنٹ کی طرف سے خدمات انجام دیں۔فرانس ہی میں آپ بیمار ہو گئے۔بیماری کے دوران ہی آپ وطن واپس آگئے۔ راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال میں تقرری ہوئی ،علاج کے لئے یہاں بھی داخل ہو گئے۔ عمر نے وفا نہ کی۔ عالم شباب میں ۲۹ برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اور قبرستان بھٹیاں میں ان کے بوڑھے باپ نے ان کو سپرد خاک کیا۔
کیپٹن غلام محمد بڑے سعادت مند اور فرمانبردار تھے۔ ان کی والدہ ماجدہ جب خفا ہوتیں تو یہ نیچی نظریں کیے کھڑے رہتے۔جب والدہ زیادہ خفا ہوتیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔مہر سکوت بر لب رہتے تھے۔ کبھی ماں کو جواب نہ دیتے۔ حالانکہ جوان تھے اور شادی شدہ تھے۔
غلام محمد کی پہلی شادی ان کے والدین نے ۱۹۰۹ء میں لاہور میں ایک معزز کشمیری گھرانے میں کی، لڑکی کا نام فہمیدہ بیگم تھا۔ اس سے ایک لڑکا محمد مسعود ۱۹۱۳ء میں پیدا ہوا۔ مسعود نے پنجاب اسمبلی میں ملازت وغیرہ اختیار کی۔ ۱۹۷۱ء میں مسعود نے انتقال کیا۔ یہ بہت ہی نیک اور فرشتہ خصلت انسان تھا۔ غلام محمد نے دوسری شادی پیرس میں ایک فرانسیسی لڑکی ڈورس سے کی تھی۔ روایت ہے کہ اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہوا تھا،جو راولپنڈی میں چل بسا۔
۲۔ غلام محمد ۲۵؎
 اقبال کے چچا ہیں۔ محکمہ نہر میں اوور سیئر تھے۔ روپڑ ضلع انبالہ میں متعین تھے۔شیخ محمد رفیق اپنے بیٹے سے ملنے روپڑ گئے ہوئے تھے۔ کہ وہیں ہیضہ ہوا اور اس موذی مرض سے روپڑ ہی میں چل بسے۔ ہیضہ کی مہلک بیماری میں غلام محمد اور ایک معصوم بچہ بھی انتقال کر گئے۔ یہ بچہ شیخ نور محمد کی بیوی امام بی بی نے اپنی دیورانی کی گود میں ڈال دیا تھا۔کیونکہ شیخ غلام محمد اولاد نرینہ سے محروم تھے۔ شیخ غلام محمد اس بچے کو اپنے ساتھ روپڑ لے گئے تھے۔شیخ غلام محمد کے انتقال کے بعد شیخ نور محمد روپڑ گئے۔ اور بیوہ بھاوجہ اور دو یتیم بچیوں کو سیالکوٹ لے آئے۔ اپنے پاس رکھا ،پالا پوسا ،جوان ہونے پر ان کو بیاہ دیا۔ لڑکیوں کے نام گلاب بی بی اور مہتاب بی بی تھے۔
۱۲۔فاطمہ بی بی ۲۶؎
اقبال کی بڑی بہن ہیں۔ کرم الہیٰ سے شادی ہوئی ،جو سیالکوٹ میں رہتے تھے۔ خاوند سے تعلقات خوش گوار نہ تھے۔اس طرح ساری عمر پریشانیوں میں گزری۔دو لڑکے فضل حق اور فضل الہیٰ تھے۔کرم الہیٰ کوئٹہ میں کاروبار کرتے تھے۔ پہلے سپورٹس کی دکان تھی، پھر موٹروں کی مرمت کے لئے گیراج بھی کھول لیا۔ پھر موٹروں کے پرزے اور موٹریں فروخت کرنے لگے۔ کرایہ پر کاریں بھی دیا کرتے تھے۔
۱۳۔کریم بی بی ۲۷؎ (۱۹۵۸ئ۔۱۸۷۶ئ)
اقبال کی چھوٹی بہن ہیں۔روایت ہے کہ آپ اقبال سے تین برس چھوٹی تھیں۔ ان کی تاریخ ولادت ۱۴ نومبر ۱۸۷۶ء بتائی جاتی ہے۔ اقبال ان کو پندرہ روپے ماہوار سیال کوٹ بھیجا کرتے تھے۔ کریم بی بی نے یکم جولائی ۱۹۵۸ء کو وفات پائی۔اس کی احمد دین سے شادی ہوئی تھی۔ احمد دین موضع نت ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔
اولاد: ظفر الحق۔ محمد سرور ۔ محمد اصغر
۱۴۔کریم بی بی ۲۸؎ (۱۹۴۷ء ۔ ۱۸۷۷ئ)
 اقبال کی پہلی بیوی ہیں۔گجرات کے ڈاکٹر شیخ عطا محمد کی بڑی صاحب زادی اور بیرسٹر آفتاب اقبال کی والدہ ماجدہ ہیں۔ کریم بی بی ۱۸۷۷ء میں گجرات میں پیدا ہوئیں۔ان دنوں ان کے والد شیخ عطا محمد لاہور کے میڈیکل سکول میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ روایت ہے کہ کریم بی بی اپنے والد کے ساتھ جدہ اور کامران میں رہی تھیں۔ صحیح صورت حال یہ ہے کہ ان کے والد ستمبر ۱۸۸۴ء سے دسمبر ۱۸۹۱ء تک ہدیدہ (HADEEDA) میں انگریزی حکومت کی طرف سے نائب کونسل تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر عطا محمد اپنے بیوی اور بچوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہوں۔
ڈاکٹر شیخ عطا محمد نے بیٹی کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔کلام الہیٰ کے ھافظ باپ نے بیٹی کو کلام الہیٰ ہی سے روشناس کرانا بہتر سمجھا۔اور پھر ان دنوں گجرات میں تعلیم نسواں کا تو کوئی ادارہ ہی نہ تھا۔لڑکوں کی تعلیم کی باگ ڈور بھی سکاچ مشن جیسے مشنری ادارہ کے سپرد تھی۔ جن کا اولین مقصد دین مسیحیت کی تبلیغ تھا۔ڈاکٹر عطا محمد ایک پکے دین دار انسان تھے۔ کریم بی بی حسن وسیرت میں کسی سے کم نہ تھیں۔ خاندان کی اعلیٰ روایات کی وہ حامل تھیں۔ شرفاء کے عادات واطوار ان کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ دل کی سخی اور فیاض تھیں۔
شیخ نور محمد اور ڈاکٹر شیخ عطا محمد نے ایک دوسرے کے مزاج اور طبیعتوں کو پسند کیا تھا۔اور اس طرح ان دونوں نے بھی اس رشتہ کو پسند کیا تھا۔ ۴ مئی ۱۸۹۳ء کو شیخ نور محمد اپنے بیٹے محمد اقبال کی بارات لے کر گجرات آئے۔برات ریل گاڑی کے ذریعے گجرات گئی۔اقبال ابھی گھر پر ہی سہرا سجائے گھوڑے پر سوار تھے کہ سید محمد ذکی نے ان کو انٹرنس میں کامیابی کی تار پڑھ کر سنائی۔شیخ نور محمد بیٹے کی کامیابی پر پھولے نہیں سماتے تھے۔ براتیوں نے انہیں مبارک باد دی۔ مولوی سید میر حسن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے بھی شیخ صاحب کو مبارک باد دی۔ زنانہ میں بھی کامیابی کی خوشخبری پہنچائی گئی۔ عورتوں نے بھی امام بی بی کو مبارک باد دی اور اسے نیک شگون لیا۔برات تقریبا بیس پچیس افراد پر مشتمل تھی۔ مثلا شیخ نور محمد، عطامحمد، اقبال کی بہنیں، فاطمی بی بی، طالع بی بی، فاطمہ بی بی اور طالع بی بی کے خاوند،شیخ غلام محمد اور مولوی سید میر حسن، سید محمد تقی،سید محمد ذکی، حکیم سید حسام الدین، سید حامد شاہ، سید عمر شاہ، حاجی نور محمد ولد حاتممیر، سیالکوٹی،قوم کشمیری، حکیم کرم دین ولد عبد الغفور،وزیر آبادی، شیخ میران بخش،میراں بخش جلوہ۔
نکاح نامہ میںمولوی سید میر حسن،حکیم کرم دین والد عبد الغفار وزیر آبادی، حاجی نور احمد ولد حاتم میر سیالکوٹی، اور اقبال دولہا کے نام درج ہیں۔بوٹا ممبر میونسپل کمیٹی کا گجرات کا نام بھی درج ہے۔ دربار شاہ دولہ گجرات کی مسجد میں ان دنوں حافظ غلام احمد امام وخطیب تھے۔انہوں نے نکاح پڑھایا۔ان کا نام بھی درج ہے۔اقبال کی والدہ سیالکوٹ میں گھر پر ہی رہ گئی ہوں گی۔ گھر کے دوسرے سب افراد بارات میں ضرور گئے ہوں گے۔ ان کے علاوہ اقبال کے قریبی دوست محمدتقی، محمد ذکی، شیخ نور محمد کے بہترین دوست اور ساتھی حکیم حسام الدین اور سید عمر شاہ اقبال کے انگریزی کے اولین استاد سید حامد شاہ اور شیخ میراں بخش اور میراں بخش جلوہ بھی براتیوں میں شامل ہوں گے۔ نکاح نامہ میں جو ایک نام نہیں پڑھا جاتا تھا۔وہ شیخ اللہ بخش ولد میراں بخش سکنہ سیالکوٹ کا ہے۔ نکاح میں دو ہزار روپے حق مہر لکھا گیا۔ محمد اقبال ولد نور محمد المعروف شیخ نتھو قوم شیخ ساکن سیالکوٹ نکاح نامہ میں درج ہے۔
کریم بی بی کو شیخ نور محمد اور امام بی بی بہت چاہتے تھے۔ کریم بی بی کی اطاعت اور فرمانبرداری نے خسر اور ساس کا دل موہ لیا تھا۔ا قبال کے یورپ جانے تک میاں بیوی کے تعلقات بڑے خوشگوار تھے۔ ۱۹۰۹ء کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی ،جو دور نہ ہو سکی۔
کریم بی بی نے ستر برس کی عمر میں ۲۸ فروری ۱۹۴۷ء کو وفات پائی۔ وفات کے وقت وہ اپنے بیٹے بیرسٹر آفتاب اقبال اور بہو رشیدہ بیگم کے پاس لاہور میں تھیں۔
بیرسٹر صاحب ان دنوں گرینڈ ٹرنک روڈ پر باگبان پورہ میں رہتے تھے۔ کریم بی بی کو باغبان پورہ قبرستان میں دفن کیا گیا۔کریم بی بی سے اقبال کی یہ اولاد ہوئی۔
۱۔معراج بیگم:
۱۸۹۵ء میں پیدا ہوئی۔ مقام پیدائش اور صحیح تاریخ پیدائش کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔خدا نے انہیں صورت وسیرت سے نوازا تھا۔زندگی نے وفا نہ کی۔ ۱۹ برس کی عمر میں ۱۹۱۴ء میں چل بسی۔ روایت ہے کہ ان کا انتقال ۱۹۱۴ء میں ہوا تھا۔سیالکوٹ میں دادی یعنی بے جی کے قریب دفن ہوئی۔
اقبال ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ میری یہ بچی میری اولاد میں سب سے زیادہ ذہین ہو گی۔ اور شیخ نور محمد کا ارشاد تھا کہ یہ بچی جس گھر میں جائے گی۔اس گھر میں روشنی کا باعث ہو گی۔
۲۔آفتاب اقبال
آپ ۲۲ جون ۱۸۹۸ء کو پنڈ دادنخان میں پیدا ہوئے۔ان دنوں ان کے نانا ڈاکٹر شیخ عطا محمد ملازمت کے سلسلے میں وہاں قیام پذیر تھے۔ آفتاب اقبال نے ابتدائی تعلیم سکاچ مشن سکول سیالکوٹ سے حاصل کی،مولوی سید میر حسن سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد سینٹ سٹیفنز کالج دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں سے آپ نے بی،اے آنرز اول درجہ میں کیا۔ ۱۹۲۱ء میں فلسفہ میں ایم،اے کی ڈگری لی۔ ان کے ننہال والوں نے ان کو اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن بھیج دیا۔ ۱۹۲۳ء میں لندن یونیورسٹی سے بی اے آنرز کیا۔ ۱۹۲۴ء میں فلسفہ میں ایم ،اے کیا۔ ۱۹۲۶ء سے ۱۹۲۹ء تک مدرسہ السنہ شرقیہ لندن یونیورسٹی میں اردو زبان وادب کے لیکچرار رہے۔ ۱۹۳۱ء میں لنکن انز سے بیرسٹری کی ڈگری لی۔ اسلامیہ کالج کلکتہ یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج لاہور میں پروفیسر رہے۔ ۱۹۴۲ء میں لاہور ہائی کورٹ میں قانونی پریکٹس کی ابتداء کی۔۱۹۴۷ء میں کراچی چلے گئے۔ اور وہاں پریکٹس کرنے لگے۔ ۱۹۷۹ء میں لندن میں انتقال ہوا۔
آفتاب اقبال کا کہنا ہے:
’’ میرے والدین نے میری پرورش کی،دادا ،دادی اور نانا ،نانی نے مجھے تربیت دی۔۔۔ میں اپنے عظیم باپ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا پہلا بیٹا ہوں۔اور اس لحاظ سے میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں۔کہ مجھے اپنے باپ اور اپنے دادا کی صحبت میں رہنے کا زریں موقع ان کی اولاد میں سے سب سے زیادہ حاصل ہوا۔۔۔۔
۳۔ایک لڑکا اور تھا،جو پیدائش کے چند لمحوں بعد ہی اللہ کو پیارا ہو گیا تھا۔
نکاح نامہ کی تحریر
منکہ محمد اقبال ولد نور محمد المعروف شیخ نتھو قوم شیخ ساکن سیالکوٹ کا ہوں، جو کہ اس وقت عقد نکاح من مقرر ہمراہ مسمات کریم بی بی دختر شیخ عطا محمد صاحب ڈاکٹر رئیس گجرات بمقابلہ مہر مبلغ دو ہزار ۶۱۔۱۱ کہ نصف جن کے مبلغ ایک ہزار روپیہ صرف ملکہ معظمہ قیصر ہند دام اقبالہا ہوتے ہیں۔نصف آن معجل اور نصف غیر موجل منعقد ہوا ہے۔ لہذا این حصہ کلمہ بطریق نکاح نامہ کے لیے چاہیں۔ نامہ کے بالمشافہ گواہاں لکھ دی کہ آئندہ کے واسطے سند رہے۔ مورخہ ۴ مئی ۱۸۹۳ء
العبد
دستخط محمد اقبال ولد شیخ نور محمد سیالکوٹ
گواہ
بوٹا ممبر کمیٹی ساکن گجرات بقلم خود
گواہ کرم دین ولد عبد الغفار ساکن وزیر آباد بقلم خود شیخ اللہ بخش ولد میر بخش سکنہ سیالکوٹ
مہر عدالت انگریزی و اردو
گواہ
میر حسن بقلم خود
مولوی میر حسن ولد محمد شاہ ساکن سیالکوٹ
عرضی نویس ۱۲۷
محمد الدین بمقام گجرات
تحریر یافت
 نکاح خوان حافظ غلام احمد صاحب
امام مسجد دربار شاہ دولہ صاحب
۵۔ گلاب بی بی۲۶؎
شیخ غلام محمد کی لڑکی ہے۔ اقبال کی چچا زاد بہن ہے۔ ان کی شادی ۱۸۹۹ء سے قبل ہو چکی تھی۔ خاوند کے نام کا علم نہیں،ان کی ایک دختر مہراں بی بی تھی۔ مزید حالات معلوم نہیں ہو سکے۔
۱۶۔محمد رفیق شیخ ۳۰؎
اقبال کے دادا اور شیخ نور محمد کے والد بزرگ وار ہیں۔اپنے دور میں شیخ رفیقا کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔روایت ہے کہ شیخ محمد رفیق گزشتہ صدی کے ابتدا میں سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیٹکاں میں رہائش رکھی۔ کشمیر کی بنی ہوئی ٹوپیوں اور دھسوں کا کاروبار کرتے تھے۔شیخ محمد رفیق کی پہلی شادی سیالکوٹ کے ایک کشمیری گھرانے میں ہوئی۔اس سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس بیوی کے انتقال کر جانے کے بعد دوسری شادی جلال پور جٹاں کے ایک کشمیری گھرانے میں ہوئی۔یہ بیوی بڑی خوب صورت تھی۔ خوبصورتی کی وجہ سے اس کا نام ’’گجری‘‘ پڑ گیا تھا۔ اس بیوی سے دس بچے ہوئے جو سب انتقال کر گئے۔ گیارھویں نور محمد ہوئے۔نور محمد کے بعد غلام محمد پیدا ہوئے۔
شیخ محمد رفیق نے کاروبار میں کچھ روپیہ پس انداز کرکے ۱۸۶۱ء کے قریب موجودہ جدی مکان خریدا اور یہاں مستقل رہائش اختیار کی۔محمد رفیق کے دوبیٹے تھے۔نور محمد اور غلام محمد۔ نور محمد باپ کے ساتھ کاروبار میں شریک رہے۔ اور غلام محمد نے ملازمت اختیار کر لی۔ غلام محمد محکمہ نہر میں اوور سئیر تھے۔ اور روپڑ میں تعینات تھے۔کہ شیخ محمد رفیق ان کو ملنے کے لئے روپڑ گئے۔ وہیں ہیضہ کی مہلک وبا پھیلی ،جس میں دونوں باپ ،بیٹا چل بسے۔اور وہیں دفن ہوئے۔
۱۷۔ محمد رمضان ۳۱؎
 اقبال کے دادا شیخ محمد رفیق کے بھائی ہیں۔ سیالکوٹ میں رہتے تھے۔
۱۸ مہتاب بی بی ۱۸؎
اقبال کے چچا شیخ غلام محمد کی لڑکی ہے۔ ان کے خاوند کا نام معلوم نہیں۔ان کا ایک لڑکا حیات محمد تھا،مزید معلومات نہیں مل سکیں۔


۱۹ نور محمد شیخ ۳۳؎ ( ۱۹۳۰ئ۔۱۸۳۷ئ)
 اقبال کے والد بزرگوار ہیں۔نور محمد کے والد کا نام شیخ محمد رفیق اور دادا کا نام شیخ جمال الدین تھا۔ نور محمد ۱۸۳۷ء کے لگ بھگ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ باپ کے کاروبار میں شریک رہے۔ بڑے ہوئے تو خیاطی کا کام شروع کیا۔ سیالکوٹ کے ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر سید وزیر علی کے ہاں کپڑے سینے پر مامور ہوئے۔بعد میں بزازی کی دکان کھول لی۔برقعوں کی ٹوپیاں بھی سینے لگے۔
شیخ نور محمد نے سکھوں کا آخری دور دیکھا۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے ہنگامہ کے وقت آپ جوان تھے۔ انہوں نے انگریزوں کے ظلم واستبداد کا ابتدائی زمانہ دیکھا۔جب انہوں نے اپنی سلطنت مضبوط کرنے کے لئے ہندوستانیوں پر ظلم وستم کیے۔ ہنگامہ کے فرو ہونے پرسیالکوٹ کے لوگوں کو سر عام پھانسیاں دی گئیں۔ گولیوں سے اڑایا گیا۔ کوڑوں سے لوگوں کے جسموں کو لہو لہان کیا گیا۔ اور سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ بکریوں کی طرح زندان میں ڈال دیا گیا۔
شیخ صاحب قرآن پاک ناظرہ پڑھے ہوئے تھے۔ نماز روزے کے بڑے پابند،شروع جونای ہی سے باریش تھے۔اہل اللہ کی مجالس میں بڑے ذوق شوق سے شرکت کرتے تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت بلا ناغہ کرتے تھے۔ اپنے بیٹے اقبال کو تلاوت کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ اقبال کہتے:
’’ کیوں نہ تم اس کی طرح تلاوت کرو،جیسے یہ تم پر نازل ہو رہا ہو۔ ایسا کرو گے تو یہ تمہاری رگ وپے میں سرایت کر جائے گا۔‘‘
شیخ نور محمد نہایت وجہیہ صورت کے مالک تھے۔ سرخ رنگ، کشادہ پیشانی، ستوان ناک، روشن آنکھیں اور نورانی چہرہ تھا۔ اچھے قد آور تھے۔ اپنے دور میں شیخ نتھو کے نام سے مشہور تھے۔ نتھو ٹوپیاں والا بھی کہلائے جاتے تھے۔ان کا ناک چھدا ہوا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے باپ کے ہاں دس بچے پیدا ہو کر مر چکے تھے۔ نور محمد گیارھویں تھے۔ نظر بد سے بچانے کے لئے ان کی والدہ نے ان کا ناک چھید دیا تھا۔ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ کے رجسٹر پیدائش واموات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۸۰۔۱۸۷۰ء کے دور میں شہر سیالکوٹ میں نتھو نام کے کئی شخص تھے۔ مثلا:
۱۔نتھو ولد
محلہ نیکا پور
پیشہ کاغذ سازی
۲۔ نتھو
محلہ رنگ پور
پیشہ کاغذ سازی
۳۔ نتھو
محلہ کھٹیکاں
پیشہ کاغذ سازی
۴۔ نتھو
محلہ میانہ پورہ
آرائیں
۵۔ نتھو
محلہ پورہ پیراں
کمہار
۶۔ نتھو
رنگ پور
لوہار
۷۔ نتھوولد غلام حسین
محلہ رنگ پور
 پیشہ جولاہا
۸۔ نتھو
میانہ پور
موچی
۹۔ نتھو ولد بورا
اٹاری
بافند
۱۰۔ نتھو ولد علی بخش
 سالو گوجر
زمیندار
۱۱۔ نتھو ولد جواہر
رنگ پورہ
ہندو سنار
۱۲۔ نتھو
جنڈانوالہ 
بافند
۱۳۔ نتھو
ٹبہ ککے زئیاں
 معمار ،ترکھان
۱۴۔ نتھو 
سالو گوجر
حجام
۱۵۔ نتھو
لوہاراں
حجام
۱۶۔ نتھوولد بارا
امام صاحب
کمہار
۱۷۔ نتھو ولد عمر بخش
جنڈانوالہ 
کشمیری
۱۸۔نتھو ولد حسن محمد
لوہاراں
لوہار
۱۸۔نتھوولد بوڑا
مسلمان گوجر


۲۰۔نتھو ولد لدھا
مفئیاں


۲۱۔نتھو ولد بھولا
کتوریونکا


۲۲۔نتھو ولد قادر شاہ
رنگ پورہ
فقیر
۲۳۔نتھو ولد مراد شاہ
رنگ پورہ
زمیندار
 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نتھو ان دنوں عام نام تھا۔ اقبال ان کو میاں جی کہتے تھے۔ ان کی بزرگی سے بڑے متاثر تھے۔ اقبال اپنے بھتیجے شیخ اعجاز احمد کو میاں جی کی صحبت میں بیٹھنے کی تلقین کرتے تھے۔
میاں جی کے دوستوں میں مولوی سید میر حسن،سید عمر شاہ اور حکیم حسام الدین،مولانا غلام حسن، مولوی عبد الکریم،غلام احمد قادیانی، کریم بخش پہلوان، حافظ میراں بخش،میراں بخش عطار وغیرہ شامل تھے۔
میاں جی نے ۱۷ اگست ۱۹۳۰ء کو سیالکوٹ میں انتقال کیا۔قبرستان امام صاحب میں دفن کیا گیا۔
سکول اور کالج کے ساتھی
۱۔احمد خان
 اقبال کے ساتھ سکاچ مشن سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ رول نمبر ۱۸۰۸ تھا۔ امتحان میں ۴۳۱ نمبر حاصل کیے۔ فارسی اور سائنس کے طالب علم تھے، مزید حالات دستیاب نہ ہو سکے۔


۲۔اکر راس
ایمن آباد کا رہنے والا تھا۔اس کے باپ کا نام گز بخش تھا۔ کھتری تھا، کالج کے ہوسٹل میں رہتا تھا۔ ۲۳ مئی ۱۸۹۳ء کو سکاچ مشن کالج کی فرسٹ ائیر میں داخل ہوا۔ یونیورسٹی کے امتحان میں ناکام رہا۔
۳۔آئند داس
 باپ کا نام گنئیش داس تھا۔اقبال کے ساتھ سکاچ مشن کالج انٹر میڈیٹ میں پڑھتا تھا۔اس نے ۲۹ مئی ۱۸۹۳ء کو کالج کی فرسٹ ائیر کلاس میں داخلہ لیا۔سالانہ امتحان میں ناکام رہا۔
۴۔ایچ این رابرٹس
پادری اور مدرس رابرٹ سیموئیل کا لڑکا تھا۔ ۲۰ برس کی عمر میں رول نمبر ۸۸۴ کے تحت میٹرک کا امتحان تھرڈ دویژن میں پاس کیا۔امتحان میں۲۳۴ نمبر حاصل کیے۔مضامین میں فارسی اور اردو تھے۔ اپنے چھوٹے بھائی سیموئیل بانگبٹن رابرٹس کے ساتھ یکم جون ۱۸۹۳ء کو سکاچ مشن سکول کی فرسٹ ائیر میں داخل ہوا۔سالانہ امتحان میں کام یاب نہ ہوسکا۔ مزید حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔
۵۔بسنت بہاری
 سکاچ مشن سکول سے اقبال کے ساتھ ۱۸۹۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔رولنمبر ۱۸۰۴ تھا اور ۳۳۹ نمبر حاصل کیے۔
۶۔ بشارت احمد ڈاکٹر
اقبال کے ساتھ ۱۸۹۱ء میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ ۱۸۹۲ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انٹرنس پاس کرنے کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انٹرنس کے امتحان سے قبل یا تو تعلیم ادھوری چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ یا کسی اور سکول میں داخلہ لے لیا تھا۔
بشارت احمد کے آباء اجداد سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔صدر میں ان کی رہائش تھی، لیکن کنک منڈی میں واقع سکاچ مشن سکول میں پڑھتے تھے۔ اپنے خود نوشت حالات میں ۱۸۹۱ء کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔:
’’ میرے ہم جماعتوں میں مولوی قائم الدین مرحوم اور ڈاکٹر محمد اقبال بھی تھے۔ پادری ینگسن ہمارے پرنسپل تھے۔ مولوی قائم الدین مرحوم اور ڈاکٹر محمد اقبال انجیل کے گھنٹہ میں اکثر بحث ومباحثہ کیاکرتے تھے۔مگر مسیح کی حیات کے مسئلہ میں اور ان کی فضیلت کے بارے میں جو گفتگو ہوتی تھی۔اس میں پادری صاحب کے مقابل میں ان کا رنگ پھیکا پڑ جاتا تھا۔اور ایک دفعہ تو ایسا غضب ہوا کہ جب پادری ینگسن قرآن مجید کی آیت:
اذ قال اللہ عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی۔۔۔۔ پیش کرکے مسیح کی فضیلت دکھا رہے تھے تو ڈاکٹر اقبال کچھ ایسے زچ ہوئے کہ کہنے لگے:
’’یہ آیت قرآنی نہیں ہے‘‘یہ پادری کی صریح فتح تھی،کیونکہ آیت قرآن مجید میں موجود تھی۔ ہمیں بڑی شرمندگی ہوئی۔میں دل میں کڑھتا رہا۔ اور کبھی کبھی نعوذ باللہ خدا تک سے ناراض ہوتا رہا۔ کہ اس نے مسیح کو ناحق آسمان پر چڑھا کر مسلمانوں کو عیسائیوں کے سامنے ذلیل کر وادیا۔۱؎
بشارت احمد نے لاہور کے میڈیکل سکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔اور مشرقی افریقہ چلے گئے۔چند سال بعد وطن واپس آکر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔۱۹۰۴ء میں لندن گھیپ ضلع کیمبل پور میں اسٹنٹ سرجن تھے۔طاعون کے دنوں(۱۹۰۶ئ) میں شکر گڑھ وضلع گورداسپور (موجودہ ضلع سیالکوٹ) میں تعینات تھے۔ حکومت نے خان بہادر کا خطاب دیا تھا۔
بشارت احمد ۲۱ اپریل ۱۹۴۳ء کو ۶۶ برس کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کر گئے۔آپ قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔
۷۔بھولا ناتھ
سکاچ مشن سکول سے اقبال کے ساتھ ۱۸۹۱ء میں رول نمبر ۱۸۰۱ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔سکاچ مشن سکول میں ہی اقبال کے ساتھ انٹرنس پڑھتے تھے۔ ۱۸۹۲ ء میں ۲۳۱ نمبر لے کر انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔
۹۔ پردومن داس
ہندو کھتری گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ ان کا باپ رادھا کشن لاہور میں ملازمت کرتا تھا۔ اقبال کے ساتھ مڈل،انٹرنس اور ایف اے میں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ پردو من داس نے سکاچ مشن سکول سے ۱۸۶۱ء میں رول نمبر ۱۸۰۰ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔امتحان میں ۵۴۲ نمبر حاصل کرکے سکول میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ سنسکرت اور سائنس کے طالب علم تھے۔ ۱۸۹۲ء میں اسی سکول سے انٹرنس کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔امتحان میں ۲۴۰ نمبر حاصل کرکے سکول میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔مضامین فارسی اور سائنس تھے۔ ۲۵ مئی ۱۸۹۳ء کو سکاچ مشن سکول کے فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ مزید حالات نہیں مل سکے۔




۱۰،تیجہ سنگھ
 سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ سکاچ مشن سکول میں اقبال کے ساتھ مڈل اور انٹرنس تک تعلیم حاصل کی۔۱۸۹۱ء میں رول نمبر۱۸۰۷ کے تحت مڈل کیا۔ امتحان میں ۴۲۷ نمبر حاصل کیے۔ ۱۸۹۲ء میں اقبال کے ساتھ انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔رولنمبر ۸۹۱ تھا۔۲۵۰ نمبر حاصل کیے۔انٹرنس میں مضامین پنجابی اور فارسی تھے۔
۱۱۔تیجہ سنگھ ٹو
 سکھ تھا۔ اقبال کے ساتھ ۱۸۹۳ء میں رول نمبر ۸۹۰ کے تحت انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ امتحان میں ۲۷۷ نمبر حاصل کیے۔ ڈویژن سیکنڈ تھی۔ فارسی اور پنجابی پڑھتا تھا۔
۱۲ جھنڈے خان
بلند قامت اور خوش قامت جوان تھا۔ بیماری میں ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔سکاچ مشن سکول واقع قلعہ میںاقبال کے ساتھ پہلی جماعت میں پڑھتے تھے۔ اقبال کے ساتھ اپریل ۱۸۸۵ء میں انہوں نے پہلی جماعت پاس کی۔اس جماعت میں ان کا نام جھنڈا خان درج تھا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جھنڈے خان نے صرف چند ابتدائی جماعتوں تک تعلیم حاصل کی۔تعلیم ادھوری چھوڑ کر دنیاوی کاروبار میں لگ گئے۔ لاہور میں جب ان سے ملاقات ہوئی،تو ان کی بلند قامتی کو دیکھ کر علمدار خان کا خطاب دیا۔۳؎ مزید حالات نہیں مل سکے۔




۱۳ جگن ناتھ
موضع کانواں لٹ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ان کا باپ بیدی چند کھتری گاؤں کا ایک امیر آدمی تھا۔
جگن ناتھ نے وکٹوریہ جوبلی میموریل ہائی سکول سیال کوٹ سے ۱۸۹۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔رول نمبر ۱۸۲۵ تھا۔ اس کے بعد سکاچ مشن ہائی سکول میں داخل ہو گئے۔اقبال کے ساتھ نویں اور دسویں جماعتیں پڑھیں۔۱۸۹۲ء میں رول نمبر ۸۸۲ کے تحت انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔امتحان میں۴۰۴ نمبر حاصل کیے۔ فارسی اور عربی پڑھتے تھے۔اس طرح میر حسن کے شاگرد تھے۔یونیورسٹی میں میرٹ کے لحاظ سے اٹھارواں نمبر تھا۔ بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ حاصل کیا۔ سکول میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ جگن ناتھ پہلا لڑکا ہے۔ جس نے ۲ مئی ۱۸۹۳ء کوسکاچ مشن سکول کی فرسٹ ائیر کی کلاس میں داخلہ لیا۔اقبال کے ساتھ ۱۸۹۵ء کے تحت انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ ۳۳۵ نمبر حاصل کرکے کالج میں اول رہا۔ اور یونیورسٹی میں اول نمبر پر رہا۔ کالج میں عربی اور فلاسفی کے مضامین لیے تھے۔ایف اے کرنے کے بعد جگن ناتھ نے محکمہ پولیس کی ملازمت اختیار کر لی۔ایک وقت میں وہ دہلی میں تھانیدار کے عہدے پر فائز تھے۔میر حسن اپنے بیٹے کے ساتھ دہلی جاتے ہوئے ان کے پاس گئے تھے۔ جگن ناتھ کے اہل خانہ نے ان کی بڑی خاطر مدارت کی۔گاڑی لے کر سارے شہر کی سیر کرائی اور بہت سے تحفے دے کر رخصت کیا۔جگن ناتھ کے تین بیٹے رام جی داس،کب داس، اور گوپال داس تھے۔۴؎




۱۴۔چند
اس کے باپ کا نام لال چند تھا۔سکاچ مشن سکول میں اقبال کے ساتھ پڑھتا تھا۔۲۹ مئی ۱۸۹۳ء کو فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا تھا۔ یونیورسٹی کا سالانہ امتحان میں ناکام رہا۔
حاکم خان
سکاچ مشن سکول سے ۱۸۹۱ء میںاقبال کے ساتھ مڈل کیا۔رول نمبر ۱۸۱۲ تھا۔امتحان میں ۳۱۰ نمبر حاصل کیے۔ سائنس کے طالب علم تھے۔
۱۶۔حیدر خان
اقبال کے ساتھ مڈل میں پڑھتے تھے۔ ۱۸۹۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ فارسی پڑھتے تھے۔
۱۷۔دلباغ رائے
دلباغ حافظ آباد کا ہندو کھتری تھا۔ اس کا باپ روپ سہائے تھا۔ دلباغ رائے نے ۱۸۹۱ء میں میونسپل بورڈ وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول سیالکوٹ سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ امتحان میں ۴۴۵ نمبر حاصل کیے۔مضامین اور سائنس تھے۔سکاچ مشن کالج میں اقبال کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا۔ ۹ جون ۱۸۹۳ء کو فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی کے امتحان میںکام یاب نہ ہوسکا۔
۱۸۔سمکھ سنگھ
سکھ تھا۔ اس کا باپ بی گوبند سنگھ تھا۔ ریاست کپور تھلہ میں ملازمت کرتا تھا۔ سکاچ مشن کالج کی فرسٹ ایر میں ۲۳ مئی ۱۸۹۳ء کوداخلہ لیا۔ یونیورسٹی کے امتحان میں ناکام رہا۔
۱۹۔سیموئیل بابنگٹن رابرٹس
پادری مدرس سیموئیل رابرٹس کے صاحبزادے اور ایچ این رابرٹس کے بھائی تھے۔ اقبال کے ساتھ سکا چ مشن سکول وکالج میں پڑھتے تھے۔ تیرہ برس کی عمر میں ۱۸۹۱ء میں سکا چ مشن سکول وکالج سے رول نمبر۱۸۰۲ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔ امتحان میں۴۱۴ نمبر حاصل کیے۔عربی اور سائنس پڑھتے تھے۔ ۱۸۹۳ء میں اسی سکول سے ۲۷۱ نمبر لے کر سیکنڈ ڈویژن میں انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ یکم جون ۱۸۹۳ء کو سکا چ مشن سکول وکالج کی فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا۔ مزید حالات نہیں مل سکے۔
۲۰۔عبداللہ
اقبال کے مڈل کے ساتھی تھے۔ ۱۸۹۱ء میں رول نمبر ۱۸۰۹ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔ حاصل کردہ نمبر۳۲۹ تھے۔آپشنل کے دو مضامین میں سے صرف فارسی میں پاس ہو سکے تھے۔
۲۱۔عنایت اللہ۵۱
اقبال کے کالج کے ساتھی تھے۔ان کے والد حاجی غلام مصطفیٰ وزیر آباد شہر کے صاحب ثروت ککے زئی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔شہر کے مشرقی حصہ میں محلہ شیخاں میں رہائش پذیر تھے۔حاجی صاحب عمارتی لکڑی کے بڑے تاجر تھے۔
عنایت اللہ ۱۸۷۵ء کے لگ بھگ وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔پنجاب یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ۲۳ مئی ۱۸۹۳ء کو سکا چ مشن سکول وکالج کی فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ داخلہ کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ ۱۸۹۵ء میں یونیورسٹی کے ایف اے کے امتحان میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔عنایت اللہ کے فرزند ملک عبد الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ۱۸۹۷۔۱۸۹۸ء میں علی گڑھ سے بی اے کیاتھا۔ حصول تعلیم کے بعد ایک سال سیکرٹری میونسپل کمیٹی حضرور رہے۔بعد میں آبائی پیشے تجارت کو اپنا لیا۔ مدتوں بلدیہ وزیر آباد کے ممبر رہے۔
اولاد: ملک عبد الرحمٰن : پ ۱۹۰۵ء فوجی کینٹین کے ٹھیکدار تھے۔ مدتوں وزیر آباد کمیٹی کے ممبر رہے۔ ان دنوں جناح کالونی وزیر آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ ملک کالا خان کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔
۲۲فضل الہیٰ
اقبال کے کالج کے ساتھی ہیں۔بیگم سلمیٰ تصدق کے والد اور جسٹس اسلم ریاض صاحب کے نانا ہیں۔
فضل الہیٰ کے والد عبد الرسول پسر فیض رسول گکھڑ کے ایک قدیم راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔فضل الہیٰ ۱۸۷۳ء میں گکھڑ میں پیدا ہوئے۔۱۸۹۱ء میں مڈل انگریزی کا امتحان پاس کیا۔بقول بیگم سلمیٰ تصدق حسین ۱۸۹۳ء میں دہلی سے انٹرنس کیا۔ ۲۲ اکتوبر ۱۸۹۳ء کوسکا چ مشن سکول وکالج کی فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ داخلہ کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال چھ ماہ کی تھی۔فضل الہیٰ ریاضی میں لائق اور فارسی میں کمزور تھے۔جب کہ اقبال ریاضی میں کمزور اور فارسی میں اعلیٰ استعداد کے حامل تھے۔ فضل الہیٰ ریاضی میں اقبال کی مدد کیا کرتے تھے۔ اور فارسی میں مدد لیا کرتے تھے۔۶؎
فضل الہیٰ نے اقبال کے ساتھ ۱۸۹۵ء میں انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ رول نمبر ۳۹۲ اور امتحان میں۲۴۵ نمبر تھے۔مضامین میں انگریزی ،ریاضی،فارسی اور عربی تھے۔یونیورسٹی میں میرٹ کے لحاظ سے ان کا نمبر ۱۳۶ تھا۔حصول تعلیم کے بعد آپ کو تحصیل دار کے عہدے کی پیش کش کی گئی۔لیکن انہوں نے درس وتدریس کو ترجیح دی۔فوج میں انگریز افسروں کو اردو اور فارسی پڑھانے سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ملازمت سے سبک دوشی کے وقت آپ رسال پور میں تھے۔ سبکدوشی کے بعد آپ نے فیروز پورہ میں رہائش اختیار کی۔ بعد میں اچھرہ لاہور چلے آئے۔ اور یہیں ۱۹۴۳ء کے اوائل میں موسم سرما میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔قبرستان شیر شاہ شادمان لاہور میں ان کی قبر ہے۔ 
فضل الہیٰ اردو کے شاعر تھے۔ بیدل ان کا تخلص تھا۔ اقبال کے ساتھ سکا چ مشن کالج سیالکوٹ میں پڑھتے تھے۔اقبال کے ساتھ سیالکوٹ کے مشاعروں میں ضرور حصہ لیتے ہوں گے۔طرح مشاعروں میں بڑے ذوق شوق سے شرکت کرتے تھے۔مئی ۱۹۱۶ء کے ایک طرحی مشاعرے میں پڑھی گئی غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
کوچہ زلف میں پھرتا ہے یہ کیوں سودائی
باندھ لینا دل دیوانہ کو زنجیر کے ساتھ
کیا کہوں فلک پیر ہے یہ احسان تیرا
مجھ کو پالا نہ پڑا اس بت بے پیر کے ساتھ
روبرو ہو فلک پیر تو اتنا پوچھوں
تجھکو نسبت ہے کہاں کی بت بے پیر کے ساتھ
بخش دے بیدل عاصی کو طفیل احمد
در پہ آیا ہے تیرے سینکڑوں تقصیر کے ساتھ
 انجمن حمایت اسلام لاہور کے پچاسویں جلسہ میں آپ نے یہ نظم پڑھی تھی۔ جس میں انجمن کی علمی اور سماجی خدمات کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اے انجمن قوم تجھے لاکھ مبارک
حق نے تیرے اخلاص کو قبول کیا ہے
یہ نخل مراد آج ہوا پچاس برس کا
کیا خوبی تقدیر سے پھولا ہے پھلا ہے
اللہ کے بھروسے پہ یہ کل پودا لگایا تھا
آج اس کے کرم سے یہ ثمر دار ہوا ہے
بے بہرہ تھا لاہور میں علوم وفنون سے
مشہور جو اب مرکز تہذیب ہوا ہے
فضل الہیٰ کے بڑے بھائی کرم الہیٰ سیالکوٹ شہر کے کوتوال تھے۔چھوٹے بھائی محمد عظیم تھے۔
فضل الہیٰ کی اولاد: عبد الرشید ۱۹۱۷ء ۱۸۹۸ئ۔۱۸۱۷ئ۔۱۸۹۷ء ان کے لڑکے ڈاکٹر محمد شریف اچھرہ لاہور میں پریکٹس کرتے ہیں۔
۲۔ عبد العزیز: ۱۹۴۷ء میں راولپنڈی میں انتقال کیا۔
۲۔ محمدی بیگم: وفات راولپنڈی ۱۹۴۳ء
۴۔سلمیٰ بیگم: بقید حیات ہیں۔بیگم سلمیٰ تصدق کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہیں۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔بیگم صاحبہ ۱۱ اگست ۱۹۰۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔پرائیویٹ طور پر تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۲۲ء میں ڈاکٹر تصدق حسین خالد سے ان کی شادی ہوئی۔ ان کے صاحب زادے جناب جسٹس اسلم ریاض حسین پاکستان سپریم کورٹ کے جج ہیں۔ بیگم صاحبہ ان دنوں ۹۔ فین روڈ لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔شاد مان لنک روڈ لاہور میں جامعہ عائشہ قائم کیا ہے۔ مجموعہ کلام شائع ہو چکا ہے۔
۲۲ ۔فیروز دین
اقبال کے ساتھ سکاچ مشن سکول میں مڈل اور انٹرنس کے طالب علم تھے۔ فیروز دین نے ۱۸۹۱ء میں رول نمبر ۸۰۶ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔۳۹۴ نمبر حاصل کیے۔ عربی اور فارسی پڑھتے تھے۔۱۸۹۳ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔رول نمبر۱۸۸۱ تھا حاصل کردہ نمبر ۲۱۴ ،تھرڈ دویژن تھی۔ آپشنل کے دو مضامین میں سے صرف فارسی میں پاس ہو سکے تھے۔
۲۴۔قائم الدین مولوی۷؎
ڈاکٹر بشارت احمد راوی ہیں۔ کہ وہ اور مولوی قائم الدین ۱۸۹۱ء میں اقبال کے ہم جماعت تھے۔اس روایت کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی مزید معلومات حاصل ہو سکی ہیں۔
۲۵۔کشن لال پنڈت
اقبال کے سکول کے ساتھی تھے۔ ۱۸۹۳ء میں سکاچ مشن سکول سے رول نمبر ۸۹۰ کے تحت انٹرنس کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ امتحان میں ۲۹۳ نمبر حاصل کیے۔ فارسی اور سائنس پڑھتے تھے۔




۲۶،کیلاگ سنگھ ۸؎
پادری ومدرس ٹہل سنگھ کے بیٹے تھے۔ ۱۸۷۶ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔سکاچ مشن کے برانچ سکول میں پہلی جماعت میں داخل ہوئے۔اقبال بھی اس سال پہلی جماعت میں داخل ہوئے تھے۔ اپریل ۱۸۸۵ء میں پہلی جماعت پاس کی۔ سکاچ مشن سکول سے ۱۸۹۳ء میں سیکنڈ ڈویژن میں انٹرنس کی، رول نمبر ۸۰۵ تھا۔حاصل کردہ نمبر ۲۰۵ تھے۔ مضامین میں اردو اور فارسی لیے تھے۔ انٹرنس پاس کرنے کے بعد سکاچ مشن سکول وکالج کی فرسٹ ایر میں ۶ جون کو ۱۸۹۳ء میں داخلہ لیا۔داخلہ کے وقت عمر اٹھارہ برس تھی۔ تعلیم کے سلسلے میں بعد کی معلومات نہیں مل سکیں۔اقبال کے ساتھ انہوں نے ۱۸۹۵ء میں سکاچ مشن کالج سے انٹر میڈیٹ نہیں کیا تھا۔
حصول تعلیم کے بعد محکمہ تعلیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ ۳۰ جون ۱۸۹۵ء کو سولہ سالہ ہیلن بنت لیورز (HELEN  LEURS) سے سیالکوٹ میں شادی کی۔پادری ولیم اسکاٹ نے نکاح پڑھایا۔۹۰۰اء کے لگ بھگ ضلع سرگودھا کے چک نمبر ۸۴ میں زرعی اراضی خرید کر مستقل طور پر چک ہی میں رہنے لگے۔کیلاگ صاحب کے دو لڑکے تھے۔ (Bertie  Kellag, Archie Kellag)اور ایک لڑکی Eta Kellag تھی۔ایٹا کیلاگ Morric  Spence سے بیاہی تھی۔ جو جسٹس کیانی مرحوم کے ہم جماعت تھے۔مسٹر مورک نے ۱۹۳۵ء میں اسلام قبول کیا۔ اور ان کے دوست جسٹس کیانی نے ان کا اسلامی نام غلام مصطفیٰ منصور رکھا تھا۔ منصور صاحب مجسٹریٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔
۲۷۔گنپت رائے۹ ؔ
اقبال کے ساتھ سکاچ مشن سکول وکالج میں پڑھتے تھے۔ موضع ساہو والا ضلع سیالکوٹ کے سچدیو اروڑا گھرانے سے تعلق تھا۔ان کا باپ جیون مل پیشے کے لحاظ سے سنار تھا۔ گاؤں کا ایک بڑا زمین دار تھا۔گنپت رائے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ابتدائی تعلیم اور مڈل کی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟۔ کچھ علم نہیں۔ ۱۸۹۱ء میں سکاچ مشن سکول میں نویں جماعت میں داخل ہوئے۔اس طرح اقبال کے ساتھ ۱۸۹۵ء میں انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ رول نمبر ۸۹۷ تھا۔ کل نمبر ۲۶۳ اور تھرڈ ڈویژن تھی۔اس کے بعد ۲۳ مئی ۱۸۹۳ء کو سکاچ مشن کالج کی فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ سیکنڈ ڈویژن میں ڈی اے وی کالج لاہور میں دا خل ہو گئے۔وہاں سے رول نمبر ۶۶ کے تحت ۱۸۹۵ء میں۲۹۱ نمبر حاصل کیے۔اورانٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔انٹر میڈیٹ میں ان کے آپشنل مضامین فارسی اور کیمسٹری تھے۔بعد میں بی اے کی ڈگری لی۔ گنپت رائے حصول تعلیم کے بعد محکمہ ڈاک میں ملازم ہو گئے۔ ۲۸۔۱۹۲۷ء میں ملتان کے ریلوے میل سروس کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔ ۱۹۳۰ء میں سکھر میں سپرنٹنڈنٹ ڈاکخانہ جات تھے ۔اسی سال ان کا تبادلہ جہلم ہو گیا۔جہاں سے وہ ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔اولاد مین سے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔
اولاد : بابو رگھو ناتھ رائے: سیالکوٹ کی چھاؤنی میں ڈینٹل سرجن تھا۔
۲۔رام رتن سچدیو۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ۳۲۔۱۹۳۱ء میں ایم بی بی ،ایس کی ڈگری لی۔
۳۔اقبال رائے سچدیو: پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل، بی کیا تھا۔ تقسیم ملک کے بعد نئی دہلی ہجرت کر گئے۔
۲۸۔گرو داس
اقبال کے ساتھ سکاچ مشن کالج میں پڑھتا تھا۔گروداس ایمن آباد کے متمول ہندو رلیا رام کا لڑکا تھا۔مڈل اور انٹرنس کی تعلیم کہاں سے حاصل کی۔کچھ معلوم نہیں۔ سکاچ مشن سکول کالج سیالکوٹ میںتعلیم حاصل کرنے کے لیے ۵ جولائی ۱۸۹۳ء کوفرسٹ ایر میں داخل ہوا۔یونیورسٹی کے امتحان میں ناکام رہا۔ مزید حالات معلوم نہیں ہو سکے۔
۲۹۔گنڈا سنگھ
سکھ تھا۔وکٹوریہ جوبلی میموریل بورڈ سکول سیالکوٹ سے۱۸۹۱ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔رولنمبر ۱۸۲۳ تھا۔امتحان میں۶۰۳ نمبر حاصل کرکے سکول میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ضلع سیالکوٹ کے لڑکوں میں سب سے زیادہ انگریزی میں (۱۷۵ میں سے ۱۱۸)نمبر حاصل کیے۔اس طرح اپنے سکول کے تھرڈ ماسٹر لالہ چتر مل کی طرف سے پانچ سوروپیہ کا انعام حاصل کیا۔۱۰؎ 
مڈل کرنے کے بعد سکاچ مشن سکول میں داخل ہو گئے۔ اقبال کے ساتھ انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ ۱۸۹۳ء میں رول نمبر ۸۹۳ کے تحت انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔امتحان میں۳۹۲ نمبر حاصل کرکے فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوا۔فارسی اور سائنس کے مضامین لیے تھے۔ یونیورسٹی میں بائیسواں نمبر تھا۔
۳۰گنیش داس
 اقبال کے ساتھ آٹھویں جماعت میں سکاچ مشن سکول میں پڑھتا تھا۔ ۱۸۹۱ء میں رول نمبر ۱۸۰۳ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔ ۳۶۴ نمبر حاصل کیے۔فارسی اور سائنس کے مضامین لیے تھے۔ ۱۸۹۱ء میں اٹھارہ برس کی عمر تھی۔
۳۱۔گوپال داس
اقبال کے ساتھ انٹر میڈیٹ میںسکاچ مشن سکول وکالج میں پڑھتا تھا۔فرسٹ ایر میں ۳۱ مئی ۱۸۹۳ء کو داخل ہوا تھا۔ باپ کا نام لالہ لدھا مل تھا۔اور داخلہ کے وقت عمر ۱۷ برس تھی۔
۳۲۔لچھمن داس
لچھمن داس کے باپ کا نام بھگوان داس تھا۔نارووال کا رہنے والا تھا۔ سکاچ مشن سکول نارووال سے مڈل کا امتحان پاس کیا تھا۔رول نمبر ۱۷۸۰ تھا اور کل نمبر ۴۹۹ حاصل کیے۔مضامین میں فارسی اور سائنس لیے تھے۔ انٹرنس کا علم نہیں ہو سکا۔انٹرنس کرنے کے بعد سکاچ مشن سکول وکالج کی فرسٹ ائیر میں ۶ جون ۱۸۹۳ء کوداخلہ لیا۔
عمر سولہ برسکی تھی۔ ۱۸۹۵ء میں انٹر میڈیٹ کا امتحان تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا۔رول نمبر ۳۸۵ تھا امتحان میں۲۱۶ نمبر حاصل کیے۔ یونیورسٹی میں ۷۶ میرٹ تھا۔ مضامین فارسی اور فلاسفی تھے۔
لچھمن داس کالج میں اردو میں شعر کہتے تھے۔ اقبال کے ہمراہ سیالکوٹ کے مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔
۳۳۔لہند سنگھ
 سیالکوٹ کے کھتری جاگیردار وزیر سنگھ کا بیٹا تھا۔ ۲۳ مئی ۱۸۹۳ء کو سکاچ مشن سکول وکالج کی فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ داخلے کے وقت عمر بیس سال تھی۔ یونیورسٹی کے امتحان میں ناکام رہا۔ مزید معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
۳۴۔محمد حسین ڈاکٹر۱۱؎ (۱۹۳۹ئ۔۱۸۷۸ئ)
 اقبال کے ساتھ سکاچ مشن سکول وکالج میں پڑھتے تھے۔ ان کا آبائی گاؤں ’’کالہ چیچی‘‘ تحصیل شکر گڑھ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے والد ماجد سید عالم شاہ اسٹنٹ سیٹلمنٹ کمشنر تھے۔ حکومت برطانیہ نے عالم شاہ کو خان بہادر کے خطاب سے نوازا تھا۔
محمد حسین ۱۸۷۸ء میں لکی مروت ضلع بنوں میں پیدا ہوئے۔ان دنوں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں لکی مروت میں تعینات تھے۔لکی مروت میں بچپن گزارا۔ سکاچ مشن سکول وکالج سیالکوٹ سے ۱۸۹۱ء میں مڈل کیا۔رول نمبر۱۸۱۱ تھا۔امتحان میں۴۳۶ نمبر حاصل کیے۔سکول مین تیسری پوزیشن حاصل کی۔فارسی اور سائنس پڑھتے تھے۔ اسی سکول میں ۱۸۹۳ء میں رول نمبر ۸۹۲ کے تحت انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔امتحان میں۳۱۸ نمبر حاصل کیے۔ سیکنڈ ڈویژن حاصل کی، فارسی اور سائنس کے طالب علم تھے۔ ۳۰ مئی ۱۸۹۳ء کو سکاچ مشن سکول وکالج میں داخلہ لیا۔ کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑی۔ اور میڈیکل سکول لاہور میں داخلہ لے لیا۔ ۱۸۹۹ء میں ایم ایل ایس کی سند حاصل کی۔میڈیکل کی تعلیم کے بعد لاہور میں پریکٹس کرنے لگے۔ایک معالج کی حیثیت لاہور میں ان کی اچھی شہرت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے علاج میں شفا بخشی تھی۔علامہ اقبال نے مولانا گرامی کو کئی بار لکھا کہ وہ لاہور آکر ڈاکٹر محمد حسین سے اپنا علاج کروائیں۔ کیونکہ وہ اچھے طبیب ہیں۱۳؎
اقبال کے چند خطوط ان کے نام ہیں،مری کے قریب ساحلی سینی ٹوریم آپ نے ہی بنایا ہے۔۱۳؎
ڈاکٹر صاحب نے ۲۶ اپریل ۱۹۳۹ء کو وفات پائی۔ ان کے لڑکے کرنل ڈاکٹر بشیر حسین ریٹائرڈ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز (مغربی پاکستان) ہیں۔
۳۵۔محمد دین ۱۴؎
اقبال کے ساتھ ۱۸۹۱ء میں ۱۵ برس کی عمر میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔رولنمبر ۱۸۱۰ تھا اور ۳۴۸ نمبر حاصل کیے تھے۔ فارسی اور سائنس مضامین لیے تھے۔ زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
۳۶۔نرائن داس
اقبال کے ساتھ سکا چ مشن کالج میں پڑھتا تھا۔ نرائن داس کا باپ گنیش داس سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔اور ہندو کھتری تھا۔اور ملازمت کرتا تھا۔نرائن داس نے امریکن مشن سکول سے ۱۸۹۱ء میں رول نمبر ۱۷۶۴ کے تحت مڈل کا امتحان پاس کیا۔امتحان میں ۳۶۸ نمبر حاصل کیے۔انٹر نس کے متعلق علم نہیں ہو سکا۔ انٹرنس کے بعد ۵ جولائی ۱۸۹۳ء کو سکا چ مشن کالج کی فرسٹ ایر میں داخل ہوا۔یونیورسٹی کے انٹر میڈیٹ امتحان میں ناکام رہا۔
۳۷۔ودھاوا رام
ہندو تھا۔ اقبال کے ساتھ سکا چ مشن سکول و کالج میں پڑھتا تھا۔ ۱۸۹۳ء میں انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔رول نمبر۸۹۵ تھا۔ امتحان میں۲۶۲ نمبر حاصل کیے۔ڈویژن سیکنڈ تھی۔فارسی اور سائنس کا طالب علم تھا۔عمر ۱۹ برس ۷ ماہ تھی۔مزید حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔
پہلی جماعت کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ سالانہ امتحان اپریل ۱۸۸۵ء میں کل ۲۷ لڑکے پاس ہوئے تھے۔اقبال کے علاوہ۲۶ دوسرے لڑکے تھے۔ان لڑکوں میں سے کیلاگ اور جھنڈا خان کی نشان دہی ہو سکی۔ اس لیے اقبال کے ساتھ پہلی جماعت میں پڑھنے والے ان ۲۴ لڑکوں کے حالات زندگی پردہ راز میں ہیں۔
اللہ رکھا، دیوان چند، کریم بخش،میراں بخش ،جلال دین، البرٹ، محمد دین،لبھو مل، بشوداس،فضل حسین، واجد علی،بلونت سنگھ،دیوان چند،رام دھاری،گیان چند،اللہ رکھا، نرائن داس،ہیرا لال، صادق علی،سوہن لال، بخش اللہ،اصغر علی، محمد علی، محمد دین۔
سکاچ مشن کے پادری واساتذہ
۱۔احمد شفیع
آپ سید امتیاز علی تاج کے نانا اور مولوی سید ممتاز علی کی بیوی محمدی بیگم کے والد ہیں۔مولوی سید میر حسن کے صاحبزادے سید محمد ذکی ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’غدر کے بعد احمد شفیع نام کے ایک صاحب پھرتے پھراتے خستہ حال سیالکوٹ پہنچے۔وہ اپنے والد اور بھائی سے جدا ہو گئے تھے۔ان کے پاس گزر اوقات کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ ایک انگریز کی کوٹھی کے پاس سے گزر رہے تھے کہ وہ ایک آدمی سے باتیں کر رہا تھا۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اردو کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ یہ بھی تیار ہوگئے۔اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور دس روپے ماہوار تنخواہ مقرر ہو گئی۔کبوتروں والی مسجد میں رہنے لگے۔پھرکچھ دنوں بعد ان کا بھائی محمد شفیع پہنچ گیا۔اور تین جمعہ بعد باپ بھی مل گیا۔ پھر احمد شفیع کی ترقی کا دور شروع ہوا۔ پہلے وزیر آباد میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ پھر محکمہ تعلیم کا کو کر مال کے محکمہ میں ملازمت کر لی۔وہیں کمشنر کے سرشتہ دار ہو گئے۔اور افسر مال کے عہدہ پر پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔۔۔ والد صاحب (میر حسن) ان سے ملتے ملاتے رہے۔اس وقت سے اردو بولنے کا محاورہ ہوا۔۱؎
ریورنڈ پیٹرسن نے مئی ۱۸۶۵ء میں گجرات میںسکا چ مشن کی ایک شاخ قائم کی۔حکومت نے شہر کا مڈل سکول بھی مشن کی تحویل میں دے دیا۔ احمد شفیع سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔۲؎ 
یہاں آپ ۱۸۷۱ء تک رہے۔ ۱۸۷۲ء میں آپ کا تبادلہ وزیر آباد کے سکاچ مشن سکول میں کر دیا گیا۔جہاں آپ نے ۱۸۷۶ء تک تعلیم خدمات انجام دیں۔۱۸۷۷ء میں ان کی جگہ ایک عیسائی برج لال کو سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا گیا۔۳؎ ۔ ۱۸۷۳ء کی رپورٹ میں ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
 He is the most paintaking and his ability as teacher is of  high order.Iregret to observe,however that he hasin some cases discoverd asad want of firmnessin his official dealings with hissubordinates,aweakness which i may ascribe to his false delicacy of feelings,,.
۲۔اے مارکس۵؎
مسیحی نام الیگزینڈر مارکس ہے۔ہندو گھرانے سے تعلق تھا۔ ہندوانہ نام پرتھوی راج ہے۔بہار اور کلکتہ کے قریب ریاست جھریہ کے راجا تھے۔ ان کے جد اعلیٰ درلاب رائے تھے۔ جو نواب سراج الدولہ کے دور میں خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔پرتھوی راج نے کلکتہ یونیورسٹی میں دوران تعلیم ایک انگریز پروفیسر سے متاثر ہو کر عیسائیت قبول کر لی۔ اورا لیگزینڈر مارکس مسیحی نام قبول 
کیا۔ تبدیلی مذہب کے وقت آپ شادی شدہ تھے۔اور دو بچوں کے باپ تھے۔ان کے عزیزوں نے ان کو قتل کرنے کی کوشش کی، جان بچانے کے لئے پنجاب کا رخ کیا۔ اور گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں سیالکوٹ چلے آئے۔ سکاچ مشن میں ملازم ہو گئے۔ ۱۸۹۵ء میں سکا چ مشن سکول سیالکوٹ صدر کے ہیڈ ماسٹر تھے۔۶؎
لیکن یہاں کی آب وہوا آپ کو راس نہ آئی اور بیمار ہو گئے۔اور اسی بیماری میں انتقال کر گئے۔
اولاد:۱۔سی ایس مارکس: فار من کرسچین کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کیا۔ انبالہ ،گجرات اور سرگودھا وغیرہ میں ہیڈ ماسٹر رہے۔ ۱۹۷۳ء میں لاہور میں وفات پائی۔ان کی دختر مس انجیلا مارکس لاہور ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ ہیں۔اور لاء کالج میں پروفیسر بھی ہیں ۔
۲۔دلو وتنی مارکس: سولہ برس کی عمر میں وفات پائی۔
۲۔کلاڈیہ مارکس
۳۔جارجیانہ مارکس:گجرات میں رہتی تھیں۔
۵۔ایتھیل پرسی: (Etheal PERCy) گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ،اے کیا۔نتیجہ نکلنے سے پہلے چل بسے۔
۳۔امام دین۷؎
۹۴۔۱۸۹۳ء میں نرسری کے بچوں کو پڑھاتے تھے۔ یعنی برانچ سکول میں مدرس تھے۔ تعلیمی قابلیت جونئیر ورنیکلر تھی۔ فارسی میں گریڈ اول حاصل کیا تھا۔ بارہ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ عیسائی تھے۔۸؎
۴۔امام دین شہباز
پادری آئی ڈی شہباز کے نام سے مشہور تھے۔ شہر کے خوجہ گھرانے سے تعلق تھا۔ باریش انسان تھے۔ تعلیمی قابلیت جونئیر ورنیکلر تھی۔ ۱۸۹۳ء میں جغرافیہ، اور حساب پڑھایا کرتے تھے۔ ۳۲ روپے مشاہرہ پاتے تھے۔ آخری عمر میں سکول میں بائیبل پڑھانے پر مامور ہوئے تھے۔ امریکی مشن سے تعلق تھا۔ امریکی مشن نے انہیں پہلی بار مقامی پادری مقرر کیا تھا۔ پہلی بار زبور کا منظوم پنجابی ترجمہ کیا۔ جس کے صلے میں امریکی یونیورسٹی نے انہیں ڈی،ڈی ،کی ڈگری دی۔دوسری بار یہ منظوم ترجمہ ۱۹۱۹ء میں اور تیسری بار یہ منظوم ترجمہ ۱۹۲۵ء میں شائع ہوا۔اس کا اکیسیواں ایڈیشن اپریل ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا۔
پنجابی شعر کہنے کا صاف ستھرا زوق رکھتے تھے۔ شہباز تخلص کرتے تھے۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۱ء کو مولوی محمد انعام علی ڈویژنل وسیشن جج سیالکوٹ کو شہریوں نے ٹاون ہال میں ایک الوداعی پارٹی دی۔دیوان چرن داس، بوبو سنت سنگھ وکلاء کے علاوہ پادری انعام دین شہباز پارٹی کے منتظمین تھے۔۹؎ ۔ سکاچ مشن کے زنانہ ہسپتال کی رسم افتتاح ۳۰ دسمبر ۱۸۸۹ء کو منعقد ہوئی تھی۔ سب سے پہلے پادری شہباز نے سالانہ رپورٹ پڑھی۳؎
پادری صاحب کی بیوی کا نام مریم تھا۔ ایک دختر سوسن،تین لڑکے ڈینیل،سیموئیل،اور بنجمن تھے۔
کرسچین ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بارہ پتھر سیالکوٹ کے ہیڈ ماسٹر جیکب سردار خان کا کہنا ہے۔ کہ شہباز صاحب زرگر تھے۔ سکاچ مشن کی رپورٹ مئی ۱۸۷۷ء میں زرگر گھرانے کے امام دین کے دین مسیح قبولکرنے کا ذکر اس طرح آتا ہے:۔
,,On th e27th february,,Writes Mr Harper, We had a very Intresting and important baptism.It was that of ayoung muhammadan by name Imam   ud  din. He was Student in our school, reading in the highest class in the middle school, and is ayoung man of far more than ordinary  intelligence and ability.Fpr some time  a amarked change  in his life and character had been observed, and to me it was abundantly  evident during my daily Gospel instrucation was aheart intrest. After atime he began to seek the socity of the cristians and opened up the State of his heart,and his whishes to confessy Christ. on the 27th three marriages,So that the hunter Memorial Church, was quite full,and in the presence of all the Solemnly recived baptism,and took up the cross of christ. We resolved to keep him in our own house for some time to prevent violence,but yet so as to be present to facc the storm.The young man from the city Carried back tidings at once of what had happend.
His father is the chief Moh ammedan Gold smith in the city, and is said to be very wealthy: and certainly the family holds no mean position among their coreligionists,So that the tiding moved the whole city. very early next morning three of his brothers came asking an intrview, with him and the scene that  followed is not easlly described.As soon as he appeared,one brother burst in to aflood of tears.the elder broter, who represented his father, reasoned with him.He offered him money as much as he could wish and un bounded with licence in sin. he tried all sorts of per suasions abd threats. in vain. the young man stood firm and so far as hisemotions would allow him reasoned with them. At length.when veryartific failed. his elder brother took  up ahand ful of earth and threw it over him,(symbolical) of burying,and said that benceforth he... would be dead to them and to his family. on this another brother, who had been weeping loudly and bitterly allthe time broke in to an uncontroliable passions,and wanted to kill him,I however hurried the young man away, and his brother was restrained from violence .,, ( p119,,,120)
۵۔ اے ایم ایمرسن
لدھیانہ کے مشن سکول سے ۱۸۶۹ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے تحت انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔۱۳؎ مزید تعلیم کوئین کالج بنارس سے حاصل کی۔ مقامی مسیحی گھرانوں میں نا کا گھرانہ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔مئی ۱۸۷۶ء میں سکا چ مشن سکول سیالکوٹ سٹی کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے ۱۳؎
۶۔برج لال بابو
۶۸۔۱۸۶۷ء میں سکا چ مشن سکول گجرات کے برانچ سکول گجرات کے ہیڈ ماسٹر تھے۱۴؎
۱۸۷۰ء میں آپ سیالکوٹ تبدیل ہو کر آگئے۔اور یہاں مسیحیت کی تبلیغ کرنے پر مامور ہوئے۔۱۵؎ ۔دو سال بعد ان سے درس وتدریس کی خدمات لی جانے لگیں۔ ۱۸۷۲ء میں ریورنڈ جیمز پی لینگ کے وقت برج لال سکا چ مشن سکول سٹی کے ہیڈ ماسٹر تھے۔سکول کی نویں اور دسویں جماعت ان کے تحت تھیں۔لینگ ان کے متعلق کہتا ہے:
 ،، Brij Lal the Second master, being christan of most talents and aptitude for teaching,and an honour,to the christian Church .,,
۱۸۷۵ء میں گجرات تبدیل ہو گئے۔اور سکا چ مشن سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ سکول میں درس وتدریس کے علاوہ آپ شہر اور دیہاتوں میں بھی تبلیغ کیا کرتے تھے۔۱۸؎
۱۸۷۹ء تک آپ نے گجرات میں کام کیا۔
۷۔پربھو داس سنگھ
پی ڈی سنگھ کے نام سے مشہور تھے۔ بنارس کے رہنے والے تھے۔۱۹؎ ۷۸ ۔۱۹۷۷ ء میںسکا چ مشن سکول سیالکوٹ سٹی میں مدرس تھے۔ ۱۸۷۷ء ۱۸۷۸ء میں ایک سال کے لیے ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کام کیا۔۲۱؎ ۱۸۹۲ء میں آپ گجرات تبدیل ہو گئے۔۲۲؎ اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکی کہ اقبال نے ان سے سکول میں کچھ پڑھا تھا ،یا نہیں، ان کا ایک لڑکا ہری سنگھ ۳ برس کی عمر میں ۱۵ اپریل ۱۸۸۱ء کو سیالکوٹ مین چل بسا تھا۔۲۴؎
پربھو داس بعد میں بیر سٹر ہو گئے تھے۔ اور وکالت کے پیشے کو اپنا لیا تھا ۲۴؎
۸۔تھامس ہنٹر ۲۵؎ (۱۸۵۷ء ۔۱۸۲۷ئ)
 ۴ دسمبر ۱۸۲۷ء کو ابردین (ABERDEEN) میں پیدا ہوئے۔ ایڈنبرگ میں علم الہیات (THEOLOGY) کی تعلیم حاصل کی۔ اور ایک مشنری سوسائٹی کے صدر مقرر ہوئے،چرچ آف سکاٹ لینڈ کی فارن مشن کمیٹی نے ۱۸۵۵ء میں ہندوستان میں مشن کی شاخ قائم کرنے کے لئے ان کو منتخب کیا۔ اگست ۱۸۵۵ء میں پنجاب آنے کے لئے بحری سفر پرروانہ ہوئے۔چند ماہ بمبئی میں گزارے،بمبئی کی جنرل اسمبلی انسٹی ٹیوشن میں درس دیتے تھے۔ مقامی لوگوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لوگ ان سے بڑے متاثر تھے۔ نو ماہ قیام کے دوران انہوں نے سات آدمیوں کو دین مسیح میں داخل کیا۔ان میں نصر اللہ اور محمد اسماعیل بھی تھے۔ جنہوں نے بعد میں مشنری کی حیثیت سے پنجاب میں خدمات سر انجام دیں۔
ہنڑ محمد اسماعیل کے ہمراہ وسط جنوری ۱۸۵۷ء میںکراچی، ملتان،جہلم،گجرات کے راستے سیالکوٹ پہنچے۔سیالکوٹ چھاؤنی میں ایک بنگلہ کرایہ پر لے کر رہائش رکھی۔ہنٹر نے سیالکوٹ پہنچنے پر پہلا خط ۲۴ جنوری ۱۸۵۷ء کو سکاچ مشن کے صدر دفتر سکاٹ لینڈ روانہ کیا۔ دوسرا خط ۲۸ فروری ۱۸۵۷ء کو لکھا۔ اس خط میں ہنٹر نے سدر دفتر کو مطلع کیا کہ اس نے سیالکوٹ میں دو ورنیکلر سکول قائم کیے ہیں۔ایک سکول لڑکوں کے لئے،اور دوسرا لڑکیوں کے لئے جس میں پانچ لڑکیاں پڑھ رہی ہیں۔ہنٹر کی بیوی لڑکیوں کو تعلیم دیتی تھی۔ ان سکولوں میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔محمد اسماعیل دونوں سکولوں میں بچوں کو اردو پڑھاتا تھا۔ہنٹر کو محمدا سماعیل کا بڑا تعاون حاصل رہا۔امریکن مشن پہلے سے ہی سیالکوٹ میں موجود تھا۔ اس مشن نے بھی ہنٹر سے مکمل تعاون کیا۔
جولائی ۱۸۵۷ء میں ملک کی کئی فوجی چھاؤنیو ں میں بغاوت کر دی۔ اس بغاوت کو فرو کرنے کے لئے صوبہ پنجاب میں فوجیوں سے ہتھیار چھین لینے کے احکامات جاری ہوئے۔جہلم کی مقامی رجمنٹ نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ مگر ان سے زبردستی ہتھیار چھین لیے گئے۔ یہ فوجی جوان سیالکوٹ چلے آئے اور یہاں بغاوت کے شعلوں کو ہوا دی۔امریکن مشنری تو پہلے ہی سیالکوٹ چھوڑ کر لاہور قلعہ میں پناہ لینے کے لئے جا چکے تھے۔ ہنٹر کو جب جہلم کے واقعات کا علم ہوا تو اس نے ۸ جولائی کو مشن ہاؤس چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اور بیوی بچہ کو لے کر ایک بنگلہ میں پناہ لی۔ جو چھاؤنی سے تھوڑے فاصلے پر لاہور جانے والی سڑک پر واقع تھا۔ نصف شب کو اسے خطرے کا احساس ہوا۔ اس نے بھاگ جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن اس پر عمل پیرا نہ ہوسکا۔ ۹ جولائی کو علی الصبح ہنٹر نے فائرنگ کی آواز سنی۔ اس نے اپنی گاڑی تیار کی،اور لاہور قلعہ میں پناہ لینے کے لئے روانہ ہوئے ۔لیکن راستے میں باغیوں کو پا کر وہ واپس سیالکوٹ آگئے۔اور سیالکوٹ کے قلعہ میں پنای لینے کے لئے روانہ ہوئے۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ جیل کے پاس سے وہ گزر رہے تھے کہ باغیوں نے انہیں آلیا۔باغی جیل سے قیدیوں کو رہا کرا رہے تھے۔ انہوں نے ہنٹر کو گولی کا نشانہ بنایا۔ہنٹر کے چہرے کے پرخچے اڑ گئے۔ ہنٹر کی بیوی پستول کی گولی سے زخمی ہوئی۔اس دوران جیل کے مسلمان محافظ نے دوڑ کر تلوار سے ہنٹر کی بیوی اور بچے کا سر قلم کر دیا۔ چند دنوں بعد محمد اسماعیل اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے کہتا ہے:
It was on the morning of thursday the 9th instant that mr Hunter ,s Bearer came to me with the melancholy news that they were all murdered by the rebellious and cruel sepoys. This heard .rending news excited grief and terror in my mind,and i began to cry aloud.,,
سکاچ مشن نے ان کی موت کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔میاں بیوی کی یاد میں سیالکوٹ میں ایک چرچ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مارچ ۱۸۶۰ء میں پیٹرسن اور ٹیلر جب سیالکوٹ آئے تو انہوں نے آتے ہی ہنٹر میموریل چرچ کے لئے قطعہ اراضی حاصل کر لیا۔ ۱۸۶۶ء میں یہ چرچ تعمیر ہوا۔ مقامی مسیحی لوگ اس میں عبادت کرنے لگے۔
ہنٹر اس کی بیوی اور بچہ کے علاوہ اور بھی انگریز حکام اس ہنامہ میں قتل ہوئے۔مثلا طبی شعبہ میں۲۷؎
ڈاکٹر گراہم سپرنٹنڈنگ سرجن
جے گراہم  سیئنر سرجن
ہنگامہ کے فرو ہونے پر جب انگریزوں نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تو سیالکوٹ میں باغیوں کو عبرت ناک سزائیں دیں۔ان میں کئی بے گناہ انسان بھی مارے گئے۔سرکاری ا عداد وشمار ملاحظہ ہوں۔


پھانسی دی گئی
گولی سے اڑایا گیا
جیل
کوڑے لگائے
سرکاری ملازم فوجی سکول
۱۹
۱۴۱
۱۱




۲






CAMP FOLLOW
ERS
ANd OTHERS


۱۳
۹۲۸


میزان
۳۴
۱۴۱
۱۱
۹۲۸
اصل سزا پانے والوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔
۹۔تیرتھ رام
 کسی سکول کے پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ سکول میں سنسکرت پڑھاتے تھے۔ ۱۸۹۳ء میں پندرہ روپے مشاہرہ پاتے تھے۔ ۱۹۱۸ء میں چالیس روپے ماہوار تنخواہ مقرر ہوگئی تھی۔


۱۰۔تیرتھ رام پنڈت
سکاچ مشن کالج میں ۱۸۹۳ء میں سنسکرت کی تعلیم دی جانے لگی تھی۔ پنڈت تیرتھ رام سنسکرت پڑھانے پر مامور ہوئے۲۸؎
اس سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔۱۹۱۸ء میں چالیس روپے تنخواہ پاتے تھے۔
۱۱۔ٹہل سنگھ پادری
 یہ پہلے سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بعد میں دین مسیح قبول کر لیا۔ ابتدائی حالات معلوم نہیں ہو سکے۔
مشن کی رپورٹ بابت ماہ مئی ۱۸۷۶ میں ٹہل سنگھ کا ذکر مسیحی اساتذہ کی فہرست میں آتا ہے۔۳۰؎۔سکول میں دوسرے مسیحی اساتذہ کی طرح ٹہل سنگھ بھی بچوں کو بائیبل پڑھایا کرتے تھے۔۱۸۸۶ء میں ہنٹر پورہ میں جب دس مسیحی گھرانوں کو بسایا گیا،تو ٹہل سنگھ ان کو دینی تعلیم دینے پر مامور ہوئے۔۳۱؎
۱۸۸۷ء کے شروع میں ان کو تبلیغی خدمات کے لئے منتخب کیا گیا۳۲؎ ۔ ضلع سیالکوٹ کا شمالی حصہ ان کی نگرانی میں دیا گیا۔ اور انہیں مقامی پادری مقرر کیا گیا۔سیالکوٹ چھاؤنی کے چرچ بھی ان کی نگرانی میں تھے۔تبلیغ کرتے ہوئے ٹہل سنگھ جموں تک پہنچ جاتے تھے۔۳۴؎ کبھی کبھار ڈاکٹر ینگسن کے ساتھ گاؤں اور شہروں میں تبلیغ کا موقع مل جاتا تھا۔ ۱۸۸۶ء میں سکاچ مشن سکول سٹی کے ہیڈ ماسٹر تھے۔مذکورہ سال کے ماہ فروری میں ایک ماہ کے لئے ان کو سیالکوٹ کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔اس سال آپ کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔۳۵؎ ۔ جون ۱۸۸۴ء میں حکومت نے ان کو کمیٹی کا ممبر نامزد کیاتھا ۳۶؎۔
۲۲ نومبر ۱۸۸۶ء کو صبح آٹھ بجے شہزادی ڈیوک آف کینٹ بذریعہ گاڑی سیالکوٹ آئے۔ان کو گیارہ توپوں کی سلامی دی گئی۔ ٹہل سنگھ نے شہزادہ کی خدمت میں سیالکوٹ کے شہریوں کی جانب سے ایک ایڈریس پیش کیا تھا۔۳۷؎
ٹہل سنگھ کا ایک لڑکا کیلاگ سنگھ تھا۔ جس نے اقبال کے ساتھ پہلی جماعت سے انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔۳۸؎۔بارہ پتھر سیالکوٹ میں ٹہل سنگھ کی ایک بڑی کوٹھی بھی تھی۔ بعد میں اس کے ورثا نے فروخت کر دی تھی۔
۱۲۔ جان ٹیلر
تعلیمی قابلیت ایم،اے تھی۔ سیالکوٹ میں سکاچ مشن قائم کرنے کے سلسلے میں ان کی کوششوں کو بڑا دخل حاصل ہے۔ان کے ابتدائی حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔
جان ٹیلر دوسرے مشنری رابرٹ پیٹرسن کے ہمراہ ۱۸۶۰ء میں بمبئی پہنچے۔پھر بحری جہاز سے کراچی آئے۔کراچی سے دریائے سندھ سے کشتی کے ذریعے ۱۰ مارچ کو ملتان پہنچے۔ ملتان میں ایک شب قیام کرنے کے بعد ۱۶ مارچ کو برو جمعہ لاہور پہنچے۔۳۹؎ ۔یہاں چند گھنٹے آرام کرنے کے بعد عازم سیالکوٹ ہوئے۔ ۱۷ مارچ کو سیالکوٹ پہنچے ۔یہاں پہلے سال دونوں نے مل کر اردو زبان سیکھی۔مشنری کاموں میں بھر پور حصہ لیا۔ پیٹرسن تو گجرات چلے گئے۔ ٹیلر سیالکوٹ میں رہ گئے۔امریکن مشن سکول کی جگہ سکاچ مشن کا ایک سکول قائم کیا۔ ۱۸۶۶ ء میں ٹیلر بیمار ہو گئے۔ تندرست ہونے پر پھر مشنری کاموں میں حصہ لینے لگے۔ لیکن ہندوستان کی آب وہوا ان کو راس نہ آئی۔بیماری نے پھر حملے کیے ۔صحت جواب دینے لگی۔۱۸۶۷ء میں سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ کئی ماہ بیمار رہنے کے بعد مارچ ۱۸۶۸ء میں انتقال کر گئے۔ مرنے سے دو روز قبل آنجہانی نے سیالکوٹ جانے کا خیال ظاہر کیا تھا۔ تاکہ وہ وہاں مقامی زبان یعنی اردو میں تبلیغ کر سکیں۔۴۰؎ جان ٹیلر کی یاد میں ٹیلر میموریل ڈسٹرکٹ سکیم کے تحت ۱۸۶۸ء میں موضع ملیا نوالہ ضلع سیالکوٹ میں پہلا سٹیشن قائم کیا گیا۔اس مرکز میں منشی یعقوب اور اس کی بیوی کو بسایا گیا۔یہ دونوں یتیم خانہ میں پلے اور پڑھے تھے۔ ریورنڈ ڈبلیو مڈ لٹن (MIDDLETION) اور کراچی کے سینٹ اینڈریوز کانگریشن نے مرکز کے قیام میں فراخ دلانہ مالی امداد کی۔۴۱؎
۱۳۔جان ہوچی سن
ایڈن برگ انسٹی ٹیوشن سے میڈیکل مشنری کی تربیت حاصل کی ۴۲؎
سکاچ مشن نے ڈاکٹر ہوچی سن کی زیر نگرانی ۱۸۷۰ء میں سیالکوٹ میں ایک طبی مرکز قائم کیا،جہاں لوگوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس مرکز کی پہلی سالانہ رپورٹ ۲۱ اکتوبر ۱۸۷۱ء کو پیش کی تھی۔ طبی سہولتوں کے لئے اس مرکز کا مقصد سیدھے سادے لوگوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنا بھی تھا :
Also the preaching of the ,, Gospel of the Kingdom,,in Conformity with that word which Saith Heal the Sick,and say in to them. the Kingdom of God is come nigh unto you.
شہر میں ڈسپنسری کھولنے کے علاوہ باہر دیہات میں بھی جاتے تھے۔ اور لوگوں کو طبی امداد بھی مہیا کرتے تھے۔ ۱۸۷۳ء میں ڈاکٹر صاحب کا تبادلہ چمبہ ہو گیا۔ مشنری کاموں کے علاوہ آپ نے مشن کی اجازت سے کئی برس تک ریاست کے طبی شعبہ کینگرانی بھیکی۔۱۸۸۸ء میں آپ پھر سیالکوٹ آگئے۔اور مستقل طور پر لوگوں کو طبی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے چھ بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال قائم کر دیا۔مریضوں کے چھوٹے اور بڑے آپریشن بھی کرنے لگے۔موسم گرما انڈور مریضوں کی تعداد سولہ تک پہنچ جاتی تھی۔باہر برآمدے میں کسی دوسری مناسب جگہ پر مریض بستر لگا لیتے تھے۔۱۸۹۱ء میں نئے وارڈ تعمیر کیے گئے۔اور بارہ بستروں کی گنجائش پیدا کی گئی۔موسم گرما میں ہسپتال ہی میں سارا وقت صرف کیا جاتا۔ باہر دیہاتوں میں کم جاتے۔جموں اور اس کا علاقہ بھی ان کے ماتحت تھا۔وہاں کے لوگوں کو بھی علاج معالجہ کی سہولتیں مہیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کا ایک اسٹنٹ ایک مقامی عیسائی فضل دین تھا جو ان کی غیر حاضری میں ہسپتال میں مریضوں کو دوائیں وغیرہ بھی دیتا تھا۔ مریضوں کا چارٹ ملاحظہ ہو:
سال
نئے مریض
پرانے مریض
آپریشن
بڑے اپریشن
دوران تبلیغ
۱۸۹۸ء
۴۰۰۰








۱۸۹۰
۰۶۵۶
۰۴۲۲۱
۴۰۰


۴۰۰
۱۸۹۱
۵۲۹۹
۵۷۰۱۱
۸۸۳
۳۸
۲۰۰۰
۱۸۹۲
۱۲۲۳۳
۱۲۷۶۷
۹۰۳
۱۰۶
۲۰۰۰
۱۸۹۳
۱۲۶۸۰
۱۳۳۲۰
۸۷۰
۱۳۵
۲۰۰۰
۱۸۹۴
۱۹۰


۸۸۷۰
۹۳


۱۸۹۴ء میں ڈاکٹر صاحب دوبارہ چمبہ تبدیل ہو گئے ،ستمبر کے مہینے میں وہاں ایک ڈسپنسری قائم کی۔چمبہ ریاست کے ہندو راجا کے طبی مشیر مقرر ہوئے۔سیالکوٹ میں ہسپتال کا کام فضل دین کے سپرد ہوا۔ ڈسپنسری میں مریضوں کو دیکھنے سے پہلے ڈاکٹر ہوچی سن ان کو ایک وعظ کیاک رتے تھے۔ اس میں ان کو مسیحیت قبول کرنے کی دعوت دی جاتی تھی۔:
And every mornoing before benning work we try to lead their thoughts away from their bodily ashes and pains to the all important subject of sin and its remedy, they all listen with attention,and this is the more encouraging that most of them are Mohammedans,and do not like to hear the name of christ,every thing is evoided which is likely to cause ubnecessary irritation but these are some truths which we can not refrain from stating,and one of them is the divinity of christ,,.
۱۴،جگن ناتھ
سکاچ مشن سکول سیالکوٹ کے قدیم طالب علم تھے۔ یہاں سے مڈل کرکے ملازمت کا آغاز کیا۔ دوران ملازمت یونیورسٹی کے امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کیے۔۱۸۹۵ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی اے کیا۔۴۶؎
۱۸۹۳ء میں آپ سکاچ مشن سکول سٹی میں مدرس تھے۔ اور پچاس روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔انگریزی کے استاد تھے۔۴۸؎
۹۳۔۱۸۹۲ء میں آپ سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔ ۹۵۔۱۸۹۴ء میں لالہ نرنجن داس کے جانے کے بعد آپ پھر ہیڈ ماسٹر تعینات ہوئے تھے۔ ۱۸۹۶ء میں جے اسماعیل ہیڈ ماسٹر بن کر آگئے۔ آپ پھر بطور مدرس کام کرنے لگے۔۔۹۴ئ۔۱۸۹۳ء میں مختلف جماعتوں کو اس طرح پڑھاتے تھے۔:۴۸؎
دسویں جماعت انگریزی 
نویں جماعت  انگریزی ترجمہ اردو سے انگریزی 
آٹھویں جماعت  انگریزی  
ساتویں جماعت  انگریزی 
محلہ دھارو وال میںرہائش رکھتے تھے۔ سکاچ مشن سکول کی ملازمت سے مستعفی ہو کر ۱۹۰۹ء کے قریب گنڈا سنگھ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔میر حسن کے لائق شاگردوں میں سے تھے۔ اور منیر احمد کو پرائیویٹ طور پر پڑھایا کرتے تھے۔۴۹؎
۱۵۔جواہر مل
تعلیمی قابلیت جونئیر ورنیکلر تھی۔فارسی میں سیکنڈ گریڈ حاصل کیا تھا۔سٹی سکول میں انگریزی اور اردو پڑھاتے تھے۔
۹۴۔۱۹۹۳ء میں ۲۵ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔۵۰؎
بقول پروفیسر فیض احمد قریشی:
’’ آپ فارسی کے استاد تھے۔ نماز فجر کے بعد ہوسٹل میں لڑکوں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے۔
۱۶۔جیمز پی لینگ (۱۹۳۹ئ۔۱۸۴۷ئ)
 گلاسکو کے رہنے والے تھے۔ سن پیدائش ۱۸۴۷ء ہے۔ان کے والد اور دو بھائی فارن مشن کمیٹی میں پادری تھے۔ لینگ بھی سکاچ مشن کے پادری کی حیثیت جنوری ۱۸۶۸ء میں سیالکوٹ آئے۔ پہلے سال اردو زبان سیکھی۔ اور پیٹرسن کے ساتھ مل کر سیالکوٹ چھاؤنی میں فوجیوں کو مذہبی لیکچر دیئے۔ پیٹرسن کے چلے جانے کے بعد جنوری ۱۸۶۹ء میں سکاچ مشن سکول سٹی کے مینجر مقرر ہوئے۔سکول میں دو تین گھنٹہ روزانہ لڑکوںکو پڑھاتے تھے۔ موسم خزاں میں کچھ عرصہ کے لیے گجرات کے مرکز میں کام کیا۔
۲ فروری ۱۸۶۹ء کو پی، لینگ نے ہندوستانی فوج کے ایک کرنل کی دختر سی شادی کی۔۷۱۔۱۸۷۰ء میں سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ کے ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کام کیا۔کیونکہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے کوئی نیا ہیڈ ماسٹر مقرر نہیں کیا جا سکتا تھا۔محمد اسماعیل ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کی تنخواہ کوئیا ور اداراہ برداشت کرتا تھا۔۱۸۷۰ء میں لینگ اور محمد سماعیل کے مابین ایک جھگڑا پیدا ہو گیا۔جس کے نتیجے میں لینگ کو بمبئی تبدیل کر دیا گیا۔اس کے بعد وہ کبھی پنجاب نہ آئے۔ جنوری ۱۸۷۵ء میں وہ مشن سے مستعفی ہو گئے۔ اور مدراس میں فوج کے پادری مقرر ہوئے۔۱۸۷۸ء میں واپس سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ ۱۹۳۹ء میں ڈنکلڈ(DUNKLED) میں انتقال ہوا۔
لینگ سیالکوٹ میں مشن کے سیکرٹری اور خزانچی تھے۔ دوسو ستر روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔اسماعیل کی مدد سے وہ اردو میں وعظ کیا کرتے تھے۔
۱۷۔حاکم سنگھ۵۲؎
سکھ مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ عیسائی ہونے پر امریکن پریزبائٹرین چرچ سالکوٹ سے منسلک ہوا۔ مذکورہ چرچ میں وہ مناد تھا۔چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس نے امریکی مشن سے قطع تعلق کر لیا۔ اور سکاچ مشن میں شمولیت اختیار کر لی۔
۵۶ برس کی عمر میں یہ۱۸۸۷ء میں سکاچ مشن سکول سٹی میں مدرس تھا۔۱۸۸۷ء کے ماہ مارچ میں پنجاب کے کارسپانڈنگ بورڈ نے فارن کمیٹی سے استدعا کی،کہ وہ جنرل اسمبلی سے حاکم سنگھ کو مبلغ بنائے جانے کی اجازت لے کر دے۔اور اسے منسٹری کا عہدہ دیا جائے۔ تاکہ وہ دیہاتوں میں جا کر مسیحیت قبول کرنے والوں کی دیکھ بھال کر سکے۔ ۵ دسمبر ۱۸۸۷ء کو مشن نے اسے مقامی پادری مقرر کر دیا۔اور وزیر آباد تبدیل کر دیا۔ اس نے وزیر آباد کے دیہاتوں سے ۲۷ لوگوں کو مسیحیت میں شامل کیا۔حاکم سنگھ کی بیوی نے وزیر آباد میں ۱۸۸۸ء میں سکاچ مشن کے تحت لڑکیوں کا ایک سکول قائم کیا۔ جہاں ۲۷ لڑکیاں پڑھتی تھیں۔ ۱۸۹۰ء میں حاکم سنگھ نے وزیر آباد میں ایک چرچ تعمیر کیا۔ وزیر آباد کی شاخ کے ساتھ گیارہ تعلیمی ادارے منسلک تھے۔حاکم سنگھ ان اداروں کا منتظم تھا۔
۱۸۔رابرٹ پیٹرسن ۵۳؎ (۱۹۲۰ء ۱۸۲۶ئ)
ان کے والد کا نام الیگزینڈر پیٹرسن تھا۔ رابرٹ پیٹرسن ۱۶ نومبر ۱۸۲۶ء کو ایسٹکلبرائڈ میں پیدا ہوئے۔بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ حصول تعلیم کے بعد سکاچ مشن میں شامل ہو گئے۔جان ٹیلر کے ہمراہ ۱۸ مارچ ۱۸۶۰ء کو سیالکوٹ آئے۔ یہاں مشن کی شاخ قائم کی۔سیالکوٹ سے ۲۹ مارچ ۱۸۶۰ء کو آپ نے پہلا خط اپنے صدر دفتر سکاٹ لینڈ تحریر کیا۔اس میں اپنے سفر کی مکمل رودائد تحریر کی۔ پیٹرسن ہی نے مولوی سید میر حسن کو سکاچ مشن میں بطور استاد ملازمت دی تھی۔ رابرٹ میکچین پیٹرسن نے جب میر حسن کو اپنے والد رابرٹ پیٹرسن کے انتقال کی خبر دی تو میر حسن کو بڑا رنج ہوا۔ بقول رابرٹ میکچین پیٹرسن :
How sever was his grief when he heard that his old friend whom he called his patron, was not more,I was touched and comforted by his jenuine 
sympathy .54
مئی ۱۸۶۵ء میں پیٹرسن نے گجرات میں بھی سکاچ مشن کا ایک مرکز قائم کیا۔ سرکاری سکول بھی اپنی تحویل میں لے کر شروع کیا۔ ۱۸۶۱ء کے وسط میں ناسازی طبیعت کی بناء پر واپس سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ وہاں منسٹر آف گلاسفورڈ مقرر ہوئے۔سکاٹ لینڈ میں ہی ۳ اگست ۱۹۲۰ء کو انتقال کیا۔
دسمبر ۱۸۶۲ء کو اور جنوری ۱۸۶۳ء میں لاہور میں ایک پنجاب مشنری کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ پیٹرسن نے سکاچ مشن سیا لکوٹ کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ ان کا ایک لڑکا رابرٹ میکچین پٰٹرسن تھا۔۵۵؎
۱۹۔رابرٹ میکچین پیٹرسن ۵۶؎ (۱۹۴۲ء ۱۸۶۲ئ)
 میکچین ۵ اگست ۱۸۶۲ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان دنوں ان کے ان کے والدرابرٹ میکچین پیٹرسن سکاچ مشنری کی حیثیت سے سیالکوٹ میں مقیم تھے۔ رابرٹ میکچین پیٹرسن نے ہملٹن اکادمی اور گلاسکو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۸۲ء میں ایم ،اے اور ۱۸۸۵ء میں بی ،ڈی کی ڈگری لی۔ہملٹن پریز بائیٹر ین نے ۲۵ ستمبر ۱۸۸۵ء کو انہیں تبلیغ کے لیے منتخب کیا۔ اسی سال وہ سیالکوٹ آئے۔ریورنڈ ولیم ہارپر کی جگہ ان کا تقرر ہوا۔ کچھ عرصہ سیالکوٹ رہنے کے بعد گجرات تبدیل ہو گئے۔ جہاں آپ نے ۱۸۹۲ء تک مشنری خدمات سر انجام دیں۔ ۱۹۲۶ء میں حکومت ہند نے انہیں برٹش ایمپائر کے خطاب سے نوازا۔۱۹۴۰ء تک رابرٹ سکاچ مشن سے وابستہ رہے۔ ۵ جون ۱۹۴۲ء کو سری نگر میں وفات پائی۔
میر حسن ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔میر حسن کی و فات کے بعدمرے کالج میگزین کے میر حسن نمبر میں میکچین نے انگریزی میں ایک مضمون لکھا۔جس میں میر صاحب کے متعلق اپنے جذبات واحساسات کا اظہارکیا تھا۔۵۷
میکچین نے پہلی شادی ۱۸۸۵ء میں مس امیلیہ (AMELTDA) بنت ریورنڈ جان آدم سن سے کی۔ امیلیہ ۱۸۹۴ء میں وفات پا گئی۔اس سے یہ اولاد ہوئی۔
۱۔امیلی (EMILY)  پ ۔۸۷۔ ۱۸۸۶ء
۲۔ایلسین سیٹون (ELLISON STEVEN)  پ ۱۸۸۸ء گجرات کے ڈؤ میموریل ہسپتال میں نرس تھی۔
۳۔ رابرٹ میکیچین ریپلی ( R,M  RIPLEY) پ: ۸۸۸اء آخر
۴۔ جین ۱۹۲۲ء ۱۹۸۰ء
۵۔ ایرک (ERIC)    1910 ... 1892...
ایمیلیہ کے مرنے کے بعد میکچین نے دوسری شادی حنا بیٹرائس (BEATRICE) بنت جے ،ایس ،اسٹیفن سے ۲۱ اپریل ۱۸۹۶ء کو کی۔اس سے یہ ا ولاد ہوئی۔
۱۔ اسٹینلے میکیچین : ۱۰ مارچ ۱۸۹۷ ء کو گجرات میں پیدا ہوئی ۔ایڈنبرگ سے ایم اے، بی ،ایس سی کی رائل نیوی میں لیٖفٹیننٹ انسٹرکٹر تھا۔
۲۔ حنا بیٹرائس : پ ۱۸۹۸۔دارجلنگ میں ٹیچر تھی۔
۳۔ جار جینا الزبتھ : پ ۱۹۰۰ء
۴۔ کیتھ نارمن: پ ۱۹۰۲ء
۵۔ مارگریٹ اینڈ رسن : پ ۱۹۰۳ء
۲۰۔سکاٹ ولیم ۵۸؎ ( 1936.. 1866)
ہوسٹن کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد کا نام ولیم سکاٹ اور ماں کا نام الزبتھ تھا۔سکاٹ ۲۴ نومبر ۱۸۶۶ء کو پیدا ہوئے۔ ڈالر اکادمی اور یونیورسٹی آف سینڈ انڈریوز میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۸۸ء میں ایم،اے کیا۔ ۱۸۹۰ء میں گلاسکو میں بی ڈی کی ڈگری لی۔ مئی ۱۸۹۱ء میں سٹرلنگ کی پریز بائیٹریں نے انہیں لائسسنس دیا۔ فالڈ ہاؤس (FAULD HOUSE) میں اسٹنٹ کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۲۴ ستمبر ۱۸۹۱ء کو ان کو بطور مشنری سیالکوٹ بھیجا گیا۔ یہاں وہ ۲۸ نومبر ۱۸۹۱ء کو پہنچے۔ ان کے اخراجات شہر ڈنڈی (SUNDEE)کی Cngregation of St. Mark نے برداشت کیے۔
سیالکوٹ آتے ہی ڈسکہ میں سکاچ مشن کے مرکز کے انچارج مقرر ہوئے۔ ڈسکہ کے مشن سکول ا ور قرب وجوار کے دیہات میںتبلیغی کام ان کے سپرد تھا۔مارچ ۱۹۱۶ء میں مرے کالج سیالکوٹ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔۱۹۲۳ء تک پرنسپل رہے۔ حکومت نے ان کی تعلیمی خدمات کے صلے میں ۱۹۲۶ء میں قیصر ہند کے میڈل سے نوازا۔ ۱۹۲۶ء میں مشنری خدمات سے سبکدوش ہوئے،اسی سال گلاسکو یونیورسٹی نے انہیں ڈی،ڈی ،کی ڈگری دی۔ سبک دوشی کے بعد آپ رابرٹس میموریل چرچ کراس مارکیٹ ایڈنبرگ میں تعینات ہوئے۔۱۹۲۷ء میں دوبارہ پنجاب چلے آئے۔ ۱۹۲۶ء میں وفات پائی۔
سکاٹ ولیم نے ۲۸ اکتوبر ۱۸۹۵ء کو میری ایلس سے شادی کی۔اولاد یہ ہوئی۔
۱۔ ولیم رسل : ۴: ۱۴ ستمبر ۱۸۹۶ء
۲۔ ولیم میکنزی : کالیمپانگ میں مشنری تھا
۳۔ چارلس گرانٹ: ڈنلوپ کمپنی بمبئی میں ملازم تھا۔
۴۔ ڈیوڈ لیزلی : پ ۲۶ نومبر ۱۹۰۲ء
۵۔ ایلزبتھ مئی : پ ۲۶ جنوری ۱۹۰۵ء
۶۔ جیمز مرے : پ ، ۱۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء
۷۔ مارگریٹ ایلی نور: پ ۱۸ جولائی ۱۹۱۲ء
۲۱۔ سندر داس ۵۹؎
سندر داس ۱۸۹۳ء میں سکاچ مشن سکول میں مدرس تھے۔ اردو ،انگریزی،اور جغرافیہ کے استاد تھے۔ سولہ روپے مشاہرہ پاتے تھے۔
۲۲۔ سوسن مل ۶۰؎
 سکاچ مشن سکول میں ۱۸۹۳ء میں مدرس تھے۔ ۲۵ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ مزید حالات نہیں مل سکے۔
۲۳۔سیموئیل رابرٹس ۶۱؎
 اصل نام شکرا (SYKRA) تھا۔ چھوٹا ناگپور کے ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ روز گار کے سلسلے میں کالم پانگ (KALIM  PONG) کے جنوب میں DOOARS کے علاقہ میں آیا اور چائے کے باغ میں کام کرنے لگا۔اپنے ہم وطنوں کی طرح شکرا اسی علاقہ میں رہنے لگا۔اس کے دو پڑوسی ہو چکے تھے۔ شکرا کو بھی ناگپور کے مناد نے مسیحیت کی تعلیم دی۔ شکرا نے مسیحیت قبول کرلی۔ اور مسیحی نام سیموئیل رابرٹس اختیار کیا۔
خیال ہے کہ روز گار کے سلسلے میں یہ پھر اس ملک سے نکلے اور پھرتے پھراتے پنجاب سیالکوٹ میں چلے آئے۔اپریل ۱۸۸۴ء میں مشنری سربراہ ریورنڈ ہارپر نے گوندل کے سکاچ مشن مرکز میں ان کو ملازم رکھا۔ہارپر ان کے متعلق کہتا ہے:
,, A middle aged catechist of  Experience and a man of good. education , good abilty and high christian character.,,
گوندل میں دو ہزار ہندو لوگ آباد تھے۔ گوندل دریائے چناب کے کنارے سیالکوٹ سے نو میل دور شمال میں واقع ہے۔ گوندل کے قرب وجوار میں کئی چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں۔ابتدا میں گوندل کے لوگوں نے رابرٹس کو شک کی نظروں سے دیکھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیا۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے اس کو بلا کرایہ رہائش کے لئے مکان دے دیا۔ مشن کے لئے ایک عمارت بلا کرایہ بھی دی۔ ڈسٹرکٹ نے عمارت کے لئے دوصد روپیہ مالی امداد دی۔ گوندل کے لوگوں نے بھی ۳۰ روپے مالی امداد دی۔اس کے علاوہ سکول کے لیے ایک قطعہ اراضی خرید کر بھی دیا۔ ۱۸۸۴ء میں سکول میں ۴۵ لڑکے پڑھتے تھے۔ ماہوار فیس ساڑھے تین روپیہ حاصل ہوتی تھی۔ سکول میں رابرٹس کے ہمراہ ایک ہندو مدرس بھی تھا۔ رابرٹس گوندل میں باقاعدگی کے ساتھ تبلیغ بھی کرتا تھا۔کبھی کبھار وہ دیہات میں بھی تبلیغ کرنے چلا جاتا تھا۔۱۸۸۵ء میں گوندل میں ہندوؤں کا ایک گرو آیا۔ گاؤں کے تمام ہندو جمع ہوئے۔گرو نے گوندل میں ایک نائب مقرر کیا۔ رابرٹس نے اس اجتماع میں مسیحیت کی تبلیغ کی۔
۱۸۸۹ء میں رابرٹس سیالکوٹ صدر کے سکول میں تبدیل ہو گیا۔ یہاں یہ ۱۸۹۲ء تک ہیڈ ماسٹر رہا۔ ۱۸۹۲ء میں سٹی سکول میں سیکنڈ ماسٹر متعین ہوا۔ رابرٹس انگریزی کا استاد تھا۔پانچویں جماعت اور اسپیشل جونیئر کلاس کو انگریزی پڑھاتا تھا۔اس کے دو لڑکے سیموئیل بانگبٹن رابرٹس اور ایچ ،این رابرٹس تھے۔ جو اقبال کے ساتھ سکول وکالج میں پڑھتے تھے۔
۲۴۔شیخ احمد ۶۲؎
 شیخ صاحب کسی درس گاہ کے پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ قیاس ہے کہ کسی مسجد میں عربی ،فارسی کی مروجہ کتب کی تعلیم حاصل کی ہو گی۔ ۱۸۹۲ء میں سکاچ مشن میں استاد تھے۔ حساب اور اردو پڑھاتے تھے۔ ۲۳ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔
۲۵۔غلام علی۶۳؎ (۱۹۲۷ء ۱۸۵۲ئ)
غلام علی کے والد محمد ابراہیم سیالکوٹ کے پورہ ہیرا میں کاغذ سازی کیا کرتے تھے۔ان کے آبا واجداد موضع، بھٹہ دان،ضلع رحیم یار خان کے رہنے والے تھے۔جد اعلیٰ بھٹہ نام کا ایک قلعہ دار تھا۔اس کے سات لڑکے تھے۔ ان میں سے پانچ لڑکے فیروز شاہ تغلق (۱۳۸۸ئ۔ ۱۳۵۱ئ) کے دور میں ملتان آگئے۔ان میں سے محمد صادق نقل مکانی کرکے پنجاب سیالکوٹ آگیا۔محمد صادق ایک صاحب علم ودانش شخص تھے۔حاکم وقت کے دربار میںملازمت مل گئی۔دہلی سے مغل شہنشاہ کا ایک فرمان سیالکوٹ کے حاکم کے نام آیا۔ یہ فرمان ایک خفیہ تحریر تھا۔ محمد صادق اس پیغام کی تحریر پڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ حاکم نے انہیں انعام واکرام سے نوازا۔ تقریبا ۳۰ دیہات عطا کیے۔ سیالکوٹ سے دس میل دور شمال مغرب میں ’’کوٹلی بھٹہ‘‘ آباد کرکے مستقل طور پر رہائش پذیر ہوئے۔عہد سکھ میں محمد صادق نے سیالکوٹ کے محلہ ہیرا پور میں بود وباش اختیار کی۔ یہیں ان کی نسل سے محمد ابراہیم پیدا ہوئے۔محمد ابراہیم غلام علی کے والد ماجد ہیں۔
غلام علی تقریبا ۱۸۵۲ء میں پیدا ہوئے۔مقامی درس گاہ سے تعلیم حاصل کی۔ حصول تعلیم کے بعد درس وتدریس کو اپنا پیشہ بنایا۔ ۱۸۶۷ء میں سکاچ مشن میں مدرس ہو گئے۔ پہلے دو سال سکاچ مشن سکول گجرات میں بچوں کو تعلیم دی۔۱۸۶۹ء میں تبدیل ہو کر سیالکوٹ آگئے۔ ساری عمر سکاچ مشن سٹی سکول سیالکوٹ میں مدرسیکی۔۱۹۲۴ء میں مشن کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ ۱۹۲۷ء کے قریب انتقال کیا۔تاریخ،جغرافیہ اور حساب کے استاد تھے۔ ۱۸۹۳ء کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ ماسٹر غلام علی کی تعلیمی قابلیت سیئنر اینگلو ورنیکلر تھے۔ اور ۳۳ روپے مشاہرہ پاتے تھے۔انگریزی میں پڑھایا کرتے تھے۔ ۱۹۱۸ء میں سائنس اور ریاضی پڑھایا کرتے تھے۔اور ۶۳ روپے ماہوار تنخواہ تھی۔ حکمت سے بھی گہرا شغف تھا۔عورتوں اور بچوں کے علاج میں ماہرانہ استعداد رکھتے تھے۔اولاد کے سلسلے میں آپ بڑے خوش قسمت انسان ہیں۔ کہ ان کی اولاد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت کی حامل ہے۔ ان کی ا ولاد یعنی لڑکوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
علی اکبر: مدرس تھے۔ بعد میں درویشی اختیار کر لی۔ اردو اور پنجابی میں شعر کتے تھے۔مولائی تخلص کرتے تھے۔ ۳۹۔۱۹۳۸ء میں وفات پائی۔
۲۔ علی اصغر: محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔




۳۔ محمد اقبال شیدائی: ۶۴؎ (۱۹۷۴ء ۔۱۸۸۸ئ)
 مرے کالج سیالکوٹ سے ۱۹۱۷ء مین بی اے کیا۔مولوی سید میر حسن کے تلامذہ میں سے تھے۔ کالج میں دوران تعلیم ان کا کلام مرے کالج میگزین کی زینت کا باعث بنتا تھا۔ دوران تعلیم آزادی وطن اور انگریزی دشمنی کی تحریکوں میں پیش پیش تھے۔اس سلسلے میں کابل، ماسکو اور انقرہ گئے۔ ۱۹۲۳ء میں روم پہنچے۔ دیار غیر میں تاجرانہ زندگی بسر کی۔ آزادی وطن کے بعد اکتوبر ۱۹۴۷ء میں کراچی سے واپس سیالکوٹ تشریف لائے۔ایک بار ایک بین الاقوامی ادارے میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔محمد نادر شاہ والی افغانستان کے گہرے دوستوں میں سے تھے۔دونوں میں خط وکتابت کا سلسلہ بھی قائم تھا۔
۴۔ ڈاکٹر محمد جمال بھٹہ:
 ۱۰ دسمبر۱۹۰۵ء کو پیدا ہوئے۔ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔ملتان میں نشتر میڈیکل کالج قائم کرنے میں ان کی کوششوں کو بڑا دخل حاصل ہے۔ مذکورہ کالج کے آپ ہی پہلے پرنسپل مقرر ہوئے تھے۔یہاں سے سبک دوشی کے بعد اس کالج سے کسی نہ کسی حیثیت سے تعلق قائم رکھا ہے۔ ان دنوں ملتان میں رہائش پذیر ہیں۔
۲۶۔کرم چند۶۵؎
عیسائی تھے۔ ۱۸۷۸ء میں سکاچ مشن سکول سٹی سیالکوٹ میں مدرس تھے۔ ۱۸۷۹ء میں صدر کے سکول میں تبدیل کر دیا گیا۔۱۸۸۱ء میں گوندل میں سکاچ مشن کے مرکز کے انچارج بن گئے۔گوندل کے مشن سکول میں بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔ ۸۴۔۱۸۸۳ء میں سیالکوٹ کے صدر سکول میں تعیناتی ہوئی۔۱۸۸۶ء میں جموں ملازمت کے سلسلے میں چلے گئے۔ ایک برس بعد واپس چلے آئے۔اور سٹی سکول میں مدرس ہو گئے۔۱۸۹۵ء تک آپ سکول میں موجود تھے۔ لوئر پرائمری کے پانچ پیریڈ لیا کرتے تھے۔ دوبارہ لوئر پرائمری کو اردو کی پڑھائی ار لکھائی کراتے تھے۔
کرم چند سیالکوٹ کے ایک قدیم ہندو گھرانے کا فرد تھا۔ سیکر (SEKIR) ذات سے تعلق رکھتا تھا۔برہمن کے بعد اس ذات کا درجہ ہے۔سیالکوٹ میں اس ذات کا یہی واحد گھرانا تھا۔نتھو مل کی تبلیغ کے بعد کرم چند نے فروری ۱۸۷۷ء میں مسیحیت قبول کرلی۔اس کی تبدیلی مذہب نے شہر کے ہندوؤں میں ایک تہلکہ سا مچا دیا۔ یہ شادی شدہ تھا۔ بیوی امیر خاندان سے تھی۔وہ اسیچ چھوڑ کر میکے چلی گئی۔کرم چند نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بالکل چھوڑ دیا۔ کرم چند کی تبدیلی مذہب پر شہر کے ہنودؤں نے مشن کے مقابلے پر اپنا ایک سکول کھولا۔
کرم چند کے عیسائیت قبول کرنے کا واقعہ ملا حظہ کریں:
The case of the third adult was very interesting.His name is kurm chand.and mr Harper thus write of his convertion.He is the first citizen of sail kot. who has been converted to christianiaty,when a few conversions occur among the lowest and most despised of the people. they attract ,but little atention among the heathen themselves,but when defection occur among the rich and esteamed,the commotion is great. The significance of the young man Conversion arises from two things viZ ,his paculiar
caste and the wealth. and position of his family. He belonged to the seikai caste, Next to the Brahmans. this is the highest of all caste.but the Conversion of Brahman would have been a small metter tot his.The caste  is an extermly rare one at least in the north of india,there belong only afew families belonging to it in the whol of the punjab,from the brahmans dowen words all regard them with feelings of respect and reverness. For a member of this caste to become a christian was a thing of un knowen. in that provencc at least.and has accordingly been a cause of great alarm.His is the only family of this caste in sail kot, and in addition to caste.influeence.they add the influeence o fwealth. the young man was also married to the only child of  a wealthy family. She has left him , and goen back to her owen place,and her owen family. this young man is Sincerity could not well be more strngly attested to than it has been. He has given up his father and mother, and brothers and sisers,wealth and honours,and his name is now cast out as evil.The Hindoos in the city have recently given us a very practical proof of now deeply.they feel in the matter, by starting a Hindoo school.in opposition to ours.
Report Scotch mission,may ,1887  P. 121
27۔ لچھمن داس لالہ ۷۶
 سیال کوٹ کے مضا فات سے آیا کرتے تھے۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں سکاچ مشن سکول میں مدرس تھے۔ ریاضی کے استاد تھے۔ اور ۲۵ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ جولائی ۱۹۰۸ء سے دسمبر ۱۹۱۲ء تک سکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں ہیڈ ماسٹر تھے۔۶۷؎
اور پچاس روپے مشاہرہ پاتے تھے۔ ۳۵۔۱۹۳۰ء کے درمیانی عرصے میں ان کا سیالکوٹ انتقال ہو گیا۔
۲۸۔محمد اسماعیل ۶۸؎ ( ۱۸۷۳ء ۱۸۳۶ئ)
سکاچ مشن کے مراکز بمبئی ،سیالکوٹ،اور گجرات میں ان کی مشنری خدمات کے سلسلے میں انہیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
محمد اسماعیل بمبئی کے سادات گھرانے کا فرد تھا۔باپ کا نام قطب دین تھا۔ جس کا پیشہ کان کنی تھا۔اسمعیل نے ابتداء میں قرآن مجید اور بہت سی ابتدائی اور متعدد فارسی کی کتابیں پڑھیں۔باپ کی مخالفت کے باوجود اس کی دادی نے اسے انگلش میڈیم سکول میں پڑھنے کے لئے بھیج دیا۔ یہ سکول پہلے سرکاری سکول تھا۔ بعد میں سکاچ مشن کا یہ جنرل اسمبلی انسٹی ٹیوشن بن گیا۔ یہاں لڑکوں کو بائیبل لازمی پڑھائی جاتی تھی۔اسمعیل کئی برس یہاں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس دوران دسمبر ۱۸۵۵ء میں سکاٹ لینڈ سے ریورنڈ تھامس ہنٹر بمبئی آیا۔اور جنرل اسمبلی انسٹی ٹیوشن کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ جنوری ۱۸۵۶ء میں چار ہندوستانی طلباء نے مطالبہ کیا کہ ان کے لئے کسی ہندوستانی مسلمان مدرس کا انتظام کیا جائے۔ ہنٹر نے قابل اور فاضل اسمعیل کا تقرر کر دیا۔ کیونکہ ہنٹر اور دوسرے مشنری کے لوگ اسمعیل کی شرافت ،ذہانت اور قابلیت سے بہت متاثر تھے۔ اسمعیل سکول میں لڑکوںکو اردو پڑھاتا تھا۔ اسے بائیبل بھی پڑھانے کے لئے ہدایت کی گئی۔ ہنٹر کی تبلیغی سرگرمیوں نے اسے دین مسیح کی طرف راغب کیا۔وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ صرف مسیحیت ہی میں نجات ہے۔۱۸ برس کی عمر میں اس نے دین مسیح قبول کر لیا۔ بمبئی میں یہ پہلا کونکی مسلمان تھا،جس نے مسیحیت قبول کی۔ شہر میں بڑے غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔اس کے عزیزوں نے قانونی طریقہ سے اسمعیل کو دوبارہ دائرہ اسلام میں لانے کی سعی کی، لیکن کام یابی نہ ہو سکی۔ جنوری ۱۸۵۷ء میں ہنٹر اسعیل کو اپنے ہمراہ سیالکوٹ لے آیا۔سیالکوٹ میں دو پرائمری سکول قائم کیے گئے تو اسمعیل ان دونوں سکولوں میں اردو پڑھانے لگا۔
ہنٹر اور دوسرے انگریز ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کے تشدد کا نشانہ بنے۔ ۹ جولائی ۱۸۵۷ء کو بروز جمعرات جب صبح کے وقت ہنٹر کے ملازم نے اسمعیل کو ہنٹر،اس کے بیوی اور بچہ کے قتل کی خبر دی تو وہ زار زار رونے لگا۔ ملازم نے اسے بلند آواز میں رونے سے منع کیا۔ اور بتایا کہ اس کی جان بھی خطرہ میں ہے۔ وہ اسمعیل کو شہر سے باہر مضافات میں لے گیا۔ امن وامان قائم ہونے پر وہ دونوں شہر واپس آگئے۔مشن ہاؤس میں پھٹی ہوئی کتابوں کے سوا کچھ نہ ملا۔ا س موقع پر اس نے اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کیا۔اسی دوران بمبئی سے نصر اللہ سیالکوٹ پہنچ گیا۔ لاہور سے امریکن مشنری بھی سیالکوٹ آگئے۔ امریکی مشنری ریورنڈ اینڈ ریو گورڈن نے اسمعیل کی مالی معاونت کی۔اس کے علاوہ گورڈن نے امریکن مشن سکول اسمعیل کی تحویل میں دے دیا۔ اسمعیل یہاں بچوں کو پڑھانے لگا۔
 اسمعیل نے چرچ آف سکاٹ لینڈ کو سیالکوٹ میں دوبارہ کھولنے کے لئے لکھا۔اور اپنی خدمات کی پیش کش کی۔جنوری ۱۸۶۰ء میں اسمعیل بمبئی میں موجود تھا۔ خیال ہے کہ وہ اپنے عزیز واقارب کو ملنے گیا ہوگا۔ کیونکہ ہنگامہ آ زادی کی خون ریزی نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بمبئی میں اسے سکاچ مشن کے مشنری جان ٹیلر اور رابرٹ پیٹرسن ملے۔ اسمعیل ان دونوںکے ہمراہ بمبئی سے کراچی بذریعہ بحری جہاز آیا۔ کراچی سے دریائے سندھ میں کشتی کے ذریعے ملتان پہنچے۔جہاں سے یہ تینوں لوگ بیل گاڑی اور گھوڑوں پر سوار ہو کر ۱۸ مارچ ۱۸۶۰ء کو سیالکوٹ میں وارد ہوئے۔۱۸۶۰ء کے اواخر میں سیالکوٹ چھاؤنی میں لڑکوں کے لئے ایک سکول کھولا گیا۔ اسمعیل اس کا ہیڈ ماسٹر مقرر ہوا۔ یہاں وہ ۱۸۶۲ء تک رہا۔ سیالکوٹ میں قیام کے دوران اس نے ۱۰ مئی ۱۸۶۱ء کو ایک یتیم لڑکی سیلی (SALLY) سے شادی کی۔ اس کا نکاح جان ٹیلر نے پڑھایا۔ اکتوبر ۱۸۶۲ء کو اسمعیل کو وزیر آباد تبدیل کر دیا گیا۔ ۱۵ جنوری ۱۸۶۳ء کو حکومت نے وزیر آباد کا سرکاری سکول سکاچ مشن کے سپرد کر دیا۔ اسمعیل نے مشن کے پہلے قائم کردہ سکول اور سرکاری سکول کو مدغم کرکے ایک سکول بنا دیا۔اکتوبر ۱۸۶۳ء میں اسمعیل مشن کی ملازمت سے مستعفی ہوگیا۔ اور سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔نور پور ضلع بٹالہ کے گورنمنٹ ضلع سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر ہوا۔ تین چار برس وہ یہاں رہا۔ دوران ملازمت وہ مسیحیت کی تبلیغ کرتا رہا۔
جان ٹیلر ۱۸۶۷ء میں واپس سکاٹ لینڈ چلا گیا۔پیٹرسن کی استدعا پر اسمعیل سرکاری ملازمت سے مستعفی ہو گیا۔ اور مشن کی خدمت پر کمر بستہ ہو گیا۔ اسی سال حکومت نے اسے سول سروس میں عہدہ دینے کی پیش کش کی۔ڈسٹرکٹ جج کا عہدہ تھا، تنخواہ معقول تھی۔اس نے انکار کر دیا۔ اور مشن میں شمولیت کو ترجیح دی۔سکاچ مشن ہائی سکول کنک منڈی میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہو گیا۔ اور پچاس روپے ماہوار مشاہرہ بھی پانے لگا۔ اسمعیل یہاں بائیبل بھی پڑھاتا تھا۔ اور انگریزی بھی پڑھاتا تھا۔ اسمعیل ہی کے دور میں حکومت نے اپنا ضلع سکول مشن کے سپرد کر دیا۔ اسمعیل نے دونوں سکولوں کو مدغم کرکے ایک سکول بنا دیا۔ ۱۸۶۹ء میں جب مشن سکول کے اساتذہ کی تنخواہوں کے نئے اسکیل بنائے گئے تو اسمعیل کی تنخواہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ جنوری ۱۸۶۸ء میں ایک نیا مشنری جیمز پی لینگ سکاٹ لینڈ سے سیالکوٹ آیا۔اور سٹی سکولکے مینجر کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔علاوہ ازیں سکاچ مشن کا سیکرٹری اور خزانچی بھی تھا۔سٹی سکول کا ہیڈ ماسٹر اسمعیل ہی تھا۔ وہ سکول کے تعلیمی معیار کو بلند سے بلند تر کرنے کی سعی میں رہتا۔مئی ۱۸۷۰ء میں جیمز لینگ اور اسمعیل میں ان بن ہوگئی۔ وجہ تنازعہ مذہبی اختیارات ومراعات تھیں۔اسمعیل اپنے حقوق پر بضد رہا۔ لینگ نے مئی جون ۱۸۷۰ء کی تنخواہ بھی اسمعیل کو ادا نہ کیں ۔معاملہ مشن کے اعلیٰ حکام تک پہنچا۔تنازعہ کو ختم کرنے کی کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔۱۸۷۱ء میں اسمعیل کو گجرات تبدیل کر دیا گیا۔اور وہاں کے مشن ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر ہوا۔ اس کے علاوہ تبلیغی فرائض بھی سرانجام دیتا رہا۔ گجرات ہی میں دوتین ماہ معیادی بخار میں مبتلا رہ کر ۳۷ برس کی عمر میں ۱۶ اکتوبر ۱۸۷۳ء کو چل بسا۔ گجرات ہی میں سپرد خاک کیا گیا۔
اسمعیل کی وفات کے بعد اس کی بیوہ سیالکوٹ آگئی،اور یہاں کے گرلز اسکول کی ہیڈ مسٹرس مقرر ہوئی۔کچھ عرصہ بعد اس نے مارک ڈیوڈ سنگھ سے ۲۶ دسمبر ۱۸۸۲ء کو عقد ثانی کر لیا۔مارک پیشہ کے لحاظ سے ایک کلرک تھا۔۱۸۸۳ء میں سیلی اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔
اسمعیل کی پہلی لڑکی سارہ جین یکم مئی ۱۸۶۳ء کو پیدا ہوئی۔سیلی نے اسمعیل کی وفات کے بعد لڑکی کا نام سارہ اسمعیل رکھ دیا۔ نور پور میں ملازمت کے دوران ایک لڑکا یعقوب پیدا ہوا۔ دوسرا لڑکا یوسف گجرات میں یکم اپریل ۱۸۷۱ء کو پیدا ہوا۔ جو ۱۸۹۶ء میں سکاچ مشن ہائی سکول سٹی کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ تیسرا لڑکا اسمعیل کی وفات کے بعد ۲۷ اپریل ۱۸۷۴ء کو پیدا ہوا۔
۲۹۔محمد علی ۶۹؎
یہ شخص ابتدا میں ایک مسجد میں بچوںکو پڑھایا کرتا تھا۔ جنوری ۱۸۶۹ء میں سکاچ مشن نے ان کو اپنے سکول میں آٹھ روپے مشاہرے پر ملازم رکھ لیا۔ سٹی برانچ سکول کا معائنہ کرتے وقت انسپکٹر آف سکولز نے اپنی معائنہ رپورٹ میں مورخہ ۳۰ جون ۱۸۶۹ء میں ان کا ذکر کیا تھا۔
۳۰۔میر حسن سید ۷۰؎ (۱۹۲۹ء ۔۱۸۴۴ئ)
 یہ وہ بزرگ استاد ہے، جن کا ذکر اقبال نے کھلے اور واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
مولوی سید میر حسن کے والد کا نام سید محمد شاہ اور دادا کا نام سید ظہور اللہ ہے۔ حکیم سید حسام الدین کے برادر عم زاد تھے۔ ۱۸ اپریل ۱۸۴۴ء کو فیروز والا ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ چھوٹی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ضلع سیالکوٹ سے ۱۸۶۱ء میں ورنیکلر کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ فارسی میں فرسٹ گریڈ حاصل کیا۔ حصول تعلیم کے بعد دو برس تک ضلع سکول کی ملازمت کی۔۱۸۶۳ء میں سکاچ مشن کے تعلیمی شعبے میں ملازم ہو گئے۔ اور پہلی تقرری سکاچ مشن سکول وزیر آباد میں ہی ہوئی۔۱۸۶۹ء میں آپ سیالکوٹ کے سکاچ مشن سکول میں تبدیل ہو کر آگئے۔ سکول میں آپ عربی اور فارسی پڑھایا کرتے تھے۔ حصہ مڈل، ہائی اور کالج میں اقبال کو ان سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ ۱۸۸۹ء میں جب سکاچ مشن کالج قائم ہوا تو آپ کالج کے طلبا کوعربی اور فارسی پڑھانے لگے۔۱۹۲۸ء میں کالج کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔آخری عمر میں آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۲۹ء کو وفات پائی۔ 
آپ کے تین صاحبزادے ڈاکٹر علی تقی، محمد ذکی، اور محمد تقی ہیں۔ محمد تقی اور محمد ذکی اقبال کے بچپن کے دوست تھے۔
میر صاحب گھر پر مسلمان بچوں کوقرآن وحدیث کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ غیر مسلم طلبا بھی سکول وکالج کی نصابی کتب پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ میر صاحب کو کتب بینی کا شوق بچپن سے تھا۔ ان کے پاس اچھا خاصا ذخیرہ کتب تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء اس کتب خانے کی حفاطت نہ کر سکے۔
۳۱۔نرسنگ داس ۷۱؎
اگست ۱۸۹۱ء میں سکاچ مشن سکول سیالکوٹ سٹی کے ہیڈ ماسٹر تھے۔تعلیمی قابلیت بی اے تھی۔اس سے زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
۳۲۔ نرنجن داس لالہ ۷۲؎
سکاچ مشن سکول سیالکوٹ کے قدیم طالب علم تھے۔ مولوی سید میر حسن کے شاگردوں میں سے تھے۔تعلیمی قابلیت بی ،اے تھی۔ سکاچ مشن سکول وکالج سیالکوٹ میں اقبال کے زمانہ طالب علمی میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔؎ اقبال نے ان سے ریاضی کا مضمون پڑھا تھا۔ سٹی سکول میں ۱۸۹۳ء ۹۴ میں ہیڈ ماسٹر بھی تھے۔ اور ایک سوروپیہ مشاہرہ پاتے تھے۔۷۳؎
محکمہ تعلیم کی ملازمت کو چھوڑ کو سول سروس کو اپنایا۔اور سول جج کے عہدے سے سبک دوش ہوئے ۔
حکومت نے رائے صاحب کے خطاب سے نوازا ۔
۳۳۔نصر اللہ
 نصر اللہ موضع مہر۷۴؎ ضلع شکار پور میں (اب ضلع سکھر) میں پیدا ہوئے۔ ۵۵۔۱۸۵۴ء میں روز گار کے سلسلے میں بمبئی پہنچا۔ یہاں اٹھارہ ماہ تک مسیحیت سے متعلق معلومات حاصل کرتا رہا۔ ریورنڈ تھامس ہنٹر دسمبر ۱۸۵۵ء کو بمبئی پہنچے۔ نصر اللہ ان سے ملا تو ہنٹر نے بڑی سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں اس کے خلوص ومحبت کو دیکھتے ہوئے اسے خوش آمدید کہا۔ مارچ ۱۸۵۶ء میں نصر اللہ اپنا آبائی دین چھوڑ کر مسیحیت میں داخل ہو گیا۔ ۱۷ جولائی کو اس نے تبدیلی مذہب کا اعلان کیا۔ بمبئی میں قیام کے دوران نصر اللہ نے شادی کی۔ایک بچی پیدا ہوئی۔ ۱۸۷۷ء کے ہنگامہ کے دوران جب ہنٹر کے قتل ہونے کے بعد محمد اسمعیل اپنے آپ کو اکیلا محسوس کر رہا تھا،اور ایک مخلص اور ہمدرد شخص کی تلاش میں تھا۔ کہ ان دنوں نصر اللہ بمبئی سے سیالکوٹ پہنچ گیا۔ اسمعیل کو بڑا حوصلہ ہوا۔ سیالکوٹ میں ۳ فروری ۱۸۶۱ء کو نصر اللہ،اس کی بیوی اور بیٹی کی رسم بپتسما ہوئی ۷۵؎
۱۸۶۱ء ۶۲ ، میں نصر اللہ ریورنڈ پیٹرسن کا مناد (CATECHIST)تھا۔ ۱۸۶۸ء میں سکاچ مشن (ہائی) سٹی سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر ہوا۔۷۷؎۔ ۱۸۶۹ء میں اسے یہاں سے تبدیل کر دیا گیا۔اور سرکاری ملازمت اختیار کرنے کی اجازت دے دی گئی۔۷۸؎
اس کے بعد کے حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔
۳۴۔نور دین ۷۹؎
 خاص شہر سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔۱۵ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔۱۸۹۳ء میں سکاچ مشن سکول میں مدرس تھے۔ اردو ،عربی اور جغرافیہ پڑھاتے تھے۔
۳۵۔واخ جارج ۸۰؎
سکاچ مشن کالج میں علامہ اقبال کے انگریزی اور فلسفہ کے استاد تھے۔ اور کالج کے پرنسپل بھی تھے۔
واخ کے باپ کا نام جارج واخ اور ماں کا نام میری سٹارک تھا۔ واخ ۲۲ اکتوبر ۱۸۵۷ء کو سلامنان (SLAMANNAN) میں پیدا ہوئے۔مقامی فری چرچ سکول اور فری چرچ ٹریننگ کالج میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۷۸ء سے ۱۸۸۲ء تک ایڈن برگ یونیورسٹی کے طالب علم رہے۔ ۱۸۸۲ء میں ایم اے کیا۔ آپ پہلے شخص ہیں ،جنہوں نے ایم ،اے کی سند لی۔ ان دنوں ایم،اے کے ان مضامین کی تعلیم دی جاتی تھی:۔ ۸۱؎
Latin,Greek,mathematics, Logic, Metaphysics,Moral, Philosophy,Natural, Philosophy, Rhetoric, 
and english, Literature.
 1885  ء میں بی ڈی کی سند لی۔ ۱۸۸۳ء سے فروری ۱۸۹۰ء تک ایک مقامی مشن (Limerigg mission) میں کام کیا۔ مارچ ۱۸۹۰ء میں سکاچ مشن کے تحت سیالکوٹ آئے۔ پہلے میاں بیوی نے مقامی زبان اردو سیکھی۔ڈلہوزی میں مقیم فوجیوں میں تین ماہ کام کیا۔ ۱۸۹۱ء میں نیگسن فرلو سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ ان کی غیر حاضری میں داخ سیالکوٹ میں سکاچ مشن کے منتظم اعلیٰ کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ مشن کالج میں طلباء کو پڑھانے بھی لگے۔ شہر کے چرچ میں عبادت کراتے،اور مشن سکول کا نظم ونسق بھی اپنے ہاتھوں میں لیا۔ سکول کے ۲۷ ہندو اور ۱۲ مسلمان طلباء کے دوہوسٹلوں کا انتظام بھی ان کے پاس تھا۔سیالکوٹ اور ڈلہوزی میں مقیم فوجیوں میں وعظ بھی کرتے۔۲۸ نومبر ۱۸۹۱ء کو ایک نئے مشنری ولیم سکاٹ سیالکوٹ آئے۔ سکاٹ کے ساتھ مل کر مشنری کام کیے۔ ۱۸۹۳ء میں واخ پرلو فر سکاٹ لینڈ چلے گئے۔۱۸۹۴ء میں سیالکوٹ لوٹے۔ کالج ا ور سکول کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لیا۔ کالج میںانگریزی،فلسفہ اور پولٹیکل اکانمی پڑھانے لگے۔اقبال ان سے یہ مضامین پڑھتے تھے۔ سکول میں بچوں کو بائیبل پڑھاتے تھے۔ ۱۹۱۴ء تک آپ سکاچ مشن کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات بجا لاتے رہے۔ ان کے دور میں کالج اپنی نئی عمارت میں منتقل ہوا۔ اور مرے کالج کا نام پایا۔
سیالکوٹ میں قیام کے دوران جان ڈائکس (DYKES) کی دختر جین (JANE) سے ۲۸ فروری ۱۸۹۰ء کو شادی ہوئی۔جین ۳ مئی ۱۸۹۷ء کو چل بسی۔ اس سے ایک بچی جین پیٹرک ۶ فروری ۱۸۹۶ء کو پیدا ہوئی۔ واخ نے دوسری شادی جان ہاگ (HOGG) کی دختر جین سے کی۔ ۷ دسمبر ۱۸۹۹ء کو اس سے تین لڑکیاں اور دو لڑکے پیدا ہوئے؛۔
۱۔ جان سی ای: پ ۲نومبر ۱۹۰۰
۲۔ جان ہاگ : پ: ۳۰ جولائی ۱۹۰۲ء
۳۔ کرسٹینا سٹرلنگ: پ، ۳۰ جولائی ۱۹۰۳ء
۴۔ ڈیوڈ سٹارک ریڈ : پ، ہ۱ جنوری ۱۹۰۶ء
۵۔ میری سٹارک : پ، ۲۳ نومبر ۱۹۱۱
 ریورنڈ واخ صاحب صاحب تصنیف تھے۔
1.First Catehism (In Hindustani)Sailkot 1896,
2.The uses of the Definite Artiles,Madras ,1906,
3.The History of the marray Collaege Sailkot, 1899 ,1910, Lahore 1910
4. Notes on the Layreate Peotry Book 111 Lahore  1912 .
5.Inveter of ruling Frame for punjab States. Sailkot.1911
۳۶۔ہارپر ولیم ۸۲؎
 ہارپر ۲۸ مارچ ۱۸۴۷ء کو ابر دین شائر (ABEREDEEN SHIRE) میں پیدا ہوا۔اس کے والد کا نام جارج ہارپر تھا۔ ولیم ہارپر نے ۱۸۷۰ء میں ابر دین یونیورسٹی سے ایم،اے کیا۔۱۸۷۳ء میں بی ڈی کی سند لی۔اسی سال اس کو مشنری کی حیثیت سے پنجاب بھیج دیا گیا۔ جنوری ۱۸۷۴ء میں ہارپر گجرات آیا۔دو ماہ گجرات خدمات انجام دینے کے بعد سیالکوٹ آگیا۔ اور یہاں مشنری خدمات انجام دینے لگا۔گوپال چند کے ہمراہ تبلیغ دین کے لئے شہر بھی جایا کرتا تھا۔سٹی سکاچ مشن سکول کی آخری سات جماعتوں کو ہر روز ادھ گھنٹہ بائبل کی تعلیم دیتا۔اس کی غیر حاضری میں سکول کے ہیڈ ماسٹر اور گوپال چند دینی تعلیم دیتے تھے۔ شہر سے باہر مشن کے دوسرے مراکز میں بھی جایا کرتے تھے۔ ہارپر ہی نے گوندل کے سکاچ مشن مرکز میں سیموئیل رابرٹس کو ملازم رکھا تھا۔ ۸۲۔۱۸۸۱ء کو ملازم رکھا تھا۔۸۲۔۱۸۸۱ء میں حکومت ہند نے ہندوستان میں تعلیم کے متعلق ایک تحقیقاتی کمشن قائم کیا۔ہارپر نے سیالکوٹ کی تعلیمی حالت کے سلسلے میںمذکورہ کمشن کو مطلوبہ معلومات فراہم کی تھیں۔۸۳؎
۱۸۸۱ء ۱۸۸۰ ء میں ہارپر نے اردو زبان میں تثلیث پر ایک کتابچہ لکھا۔ جس کے سات ہزار نسخے تقسیم کے لئے رکھے گئے تھے۔
ہارپر ۱۸۸۵ء میں فرلو پر واپس سکاٹ لینڈ چلا گیا۔ ۸۸۷اء میں وہ مدارس میں تعینات ہوا۔ ۱۸۹۳ء میں ملازمت چھوڑ کر نیوزی لینڈ چلا گیا۔ غالبا اس کا انتقال ہو گیا۔ ہارپر کے سکاٹ لینڈ جانے کے موقع پر سکاچ مشن سکول میں ایک تقریب منعقد ہوئی تھی۔ ہارپر کی تعریف میں سکول کے ایک لڑکے نے چند اشعار بھی پڑھے تھے۔۸۴؎
۳۷۔ ہرنام سنگھ
۹۴۔۱۸۹۳ء میں سکاچ مشن سکول میں سیکنڈ ماسٹر تھے۔ اسی روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔ففتھ ہائی یعنی دسویں جماعت کو ریاضی،سائنس اور جغرافیہ پڑھاتے تھے۔ تھرڈ مڈل یعنی آٹھویں جماعت کو انگریزی پڑھاتے تھے۔۸۵؎۔ ۱۸۹۴ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی اے کیا۔ سیکنڈ ڈویژن حاصل کی۔ اقبال کے دور میں سکاچ مشن کالج میں فزکس اور کیمسٹری پڑھاتے تھے۔۸۷؎۔۱۹۰۱ء میں آپ سکاچ مشن سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ۲۳ اپریل ۱۹۰۱ء کو سکاچ مشن کالج کے نئے کمروں کی افتتاحی تقریب میں حاضرین کے سامنے پادری جارج واخ کی انگریزی تقریر کا اردو ترجمہ پڑھ کر سنایا تھا۔۸۸؎
۳۸۔ہزیکیہ ڈیوڈ ۸۹؎
 آپ ۱۸۷۶ء میں سکاچ مشن سکول سٹی کے ہیڈ ماسٹر ہوئے تھے۔ آپ کییعلیمی قابلیت بی ،اے تھی۔۱۸۸۲ء تک آپ نے ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
۳۹۔ینگسن ڈاکٹر ۹۰؎ (۱۹۲۰ئ۔ ۱۸۵۲ئ)
 ان کے والد کا نام الیگزینڈر ینگسن اور ماںکا نام ہیلن تھا۔ ینگسن ۲۶ مارچ ۱۸۵۲ء کو پیٹنر لیگو (PITSLIGO)  کے مقام پر پیدا ہوئے۔ مختلف تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ابر دین یونیورسٹی سے ۱۸۷۳ء میں ایم،اے کیا۔۱۸۸۴ء میں بی ڈی کی سند لی۔۱۸۹۳ء میں ڈی ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
دسمبر ۱۸۷۵ء میں مشنری کی حیثیت سے پنجاب آئے۔ گجرات اور وزیر آباد کے سکاچ مشن مراکز کا انتظام سنبھالا۔ گجرات میں رہائش رکھی۔ مقامی زبان یعنی اردو سیکھی۔ پانچویں اور چھٹی جماعت کو بائبل پڑھاتے تھے۔ کبھی کبھی شہر گجرات اور شہر وزیر آباد میں تبلیغ کے لئے جایا کرتے تھے۔ جلال پور جٹاں میں بھی تبلیغ کے لئے جانے لگے تھے۔ ۱۸۸۵ء میں ولیم ہارپر سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ انکی جگہ ینگسنس ۱۸۸۵ء ہی میں سیالکوٹ چلے آئے۔سیالکوٹ ،ڈسکہ اور موترا تبلیغ کے لئے جانے لگے۔ نتھو مل کے ہمراہ بوگریاں اور ودھالہ بھی تبلیغ کے لئے جانے لگے تھے۔
ینگسن کے دور میں ۱۸۸۷ء میں پنجاب کے لیٖٹیننٹ گورنر سر الفریڈ لائل نے سکاچ مشن سکول سٹی کا معائنہ کیا تھا۔ ۱۸۸۵ء میں حکومت نے لاہور میں ایک تعلیمی کانفرنس بلائی تھی۔کانفرنس میں تعلیمی کوڈ کو زیر بحث لایا گیا۔کانفرنس میں حکومت نے جن اصحاب کو مدعو کیا تھا۔ ینگسن ان میں سے ایک تھے۔ سکھوں کے متبرک شہر امرتسر میں اپریل ۱۸۹۰ء میں پنجاب کے مشنریوں کی ایک کانفرنس ہوئی۔اس کانفرنس کا مقصد پنجاب کے تمام پریژبائیرین چرچر کو یکجا کرنا تھا۔نیگسن نے اس میں شرکت کی۔
۱۸۹۱ء میں نیگسن رخصت پر وطن چلے گئے۔ ان کی جگہ جارج واخ مشنری بن گئے۔اسی دوران ولیم اسکارٹ بھی ۲۸ نومبر کو سیالکوٹ پہنچ گئے۔ سکاٹ واخ مشنری کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے۔ ۲۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو نیگسن وطن سے واپس سیالکوٹ آگئے۔ اور اپنی سابقہ ذمہ داریوں کو سنبھال لیا۔ ۱۸۹۵ء میںنیگسین کو سکاچ مشن کالج کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا۔ اور شہر اور موضعات میں تبلیغی فرائض سونپے گئے ۔ جون 1895ء میں نیگسن سکاٹ لینڈ چلے گئے ۔ مشن نے ان کی مشنری خدمات کو ڈپٹی کے نام سے موسوم کیا۔ ان کی جگہ ریورنڈ تھا مس گراہم ببلی نومبر کے مہینے میں مشزی سربراہ کی حثیت سے سیالکوٹ آئے۔
ڈاکٹر نیگسن مشن ہاؤس سیالکوٹ میں ڈسکہ کے تھیو لاجیکل سکول کے تربیت یافتہ مسیحی طلبا کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ساتویں جماعت سے بارہویں جماعت تک کے طلباء کو بائبل پڑھایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر نیگسن نے ۶۔۱۹۰۵ء میں پریژبائٹرین چرچ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ۱۹۰۷ء میں آپ مشن کی ملازمت سے سبک دوش ہوگئے۔ لیکن اس کے باوجود پھر ہندوستان آگئے۔ ار زندگی کے آخری ایام تک مشنری خدمات انجام دیتے رہے۔ ۲۷ جون ۱۹۲۰ء کو ڈاکٹر نیگسن صاحب اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ضلع شیخو پورہ میں ان کی یاد میں ایک گاؤں ینگسن آباد آباد کیا گیا۔
ڈاکٹر نیگسن صاحب نے ولیم مئیر کی دختر ہیلن سے ۳جولائی ۱۸۷۶ء کو شادی کی۔اولاد میں چھ لڑکے الیگزینڈر،ولیم جان،جیمز،رابرٹ اور ارنسٹ اور چار لڑکیاں ہیلن، مارگریٹ،الزبتھ اور میری ہوئیں۔
ڈاکٹر نیگسن صاحب درج ذیل کتابوں کے مصنف بھی ہیں :
۱۔حقیقی قربانی HAQIQI  QURBANI ۲۔قواعد یونانی QAWIAD I..YUNANI
۳۔ست گر  Letters to the Sikhs
۴۔ چوہڑوں کی تاریخ The History of the CHUHRAS
۵۔ پنجاب مشن کے چالیس سال ایڈنبرگ
Forty years of the punjab Mission
دیگر ہم عصراور نمایاں شخصیات
۱۔ اللہ بخش ۱؎
اس کے باپ کا نام قادر بخش تھا۔ ۱۸۹۲ء میں شیخ نور محمد کے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہائش پذیر تھا۔
۲۔اللہ دتہ ۲؎
مسجد دودروازہ سیالکوٹ کے قریب شیر فروش تھا۔اقبال کا بچپن کا دوست تھا۔ ہم محلہ ہونے کی وجہ سے ساتھ کھیلتے تھے۔اقبال لوہر سے جب کبھی سیالکوٹ آتے تو اللہ دتہ سے ضرور ملتے اور کبوتروں پر گفتگو ہوتی ۔
۳۔ بال مکند
 سکاچ مشن سکول کا قدیم طالب علم تھا۔میر حسن کا شاگرد تھا۔۱۸۹۴ء میں پنجابیونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ۳؎
مزید دیکھیئے تالیف مولوی سید میر حسن،حیات وافکار ۔ص۲۰۰
۴۔بدھ سنگھ ۴؎
سردار بدھ سنگھ شہر میں بڑے اثر ورسوخ کے مالک تھے۔ ۱۸۸۴ء میں سکھوں کی ایک تنظیم سنگھ سبھا قائم کی۔ اس کے تحت سردار صاحب نے ایک ایلگلو ورنیکر سکول بھی قائم کیا۔یکم مارچ ۱۸۸۷ء میں جب میونسپل کمیٹی سیالکوٹ نے اپنا ایک سکول کھولا تو اس میں گرو سنگھ سبھا کا مدرسہ بھی مدغم کر لیا۔ سردار بدھ سنگھ کو اس نئے سکول کا پہلا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔ ۱۸۹۲ء میں میو نسپل کمیٹی کے اس سکول کو ہائی کا درجہ دے دیا گیا تو حصہ پرائمری کے انچارج سردار بدھ سنگھ ہی تھے۔ اور ہائی حصہ کے بابو مولا مل ہی تھے۔ کشمیری محلہ میں رہتے تھے۔ گلی بدھ سنگھ اب بھی موجود ہے۔
۵۔بہاری لال
سکاچ مشن سکول کا مایہ ناز طالب علم ہے۔ ۱۸۹۰ء سے پنجاب یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ ڈاکٹر ینگسن کا انعام حاصل کیا۔حکومت نے بارہ روپے ماہوار وطیفہ دیا۔ ۱۸۹۲ء میں فرسٹ ڈویژن میں انٹر میڈیٹ کیا۔مضامین انگریزی ،ریاضی کے علاوہ عربی اور سائنس تھے۔ ۱۸۹۴ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ یونیورسٹی بھر میں عربی میں اول آئے۔ وظیفہ حاصل کیا۔ ۱۸۹۵ء میں دینا نگر کے سکول میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔اگلے برس ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز کے نائب کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۸۹۷ء میں قصور کے ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت قانون کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۰۱ء میں قائم مقام منصف ہوئے۔۱۹۰۷ء میں ناہم (NAHAM)ریاست کے سیکرٹری آ ف سٹیٹ مقرر ہوئے۔  ۱۹۰۹ء میں BIATRA کے ڈپٹی کمشنر اور دو برس بعد اسٹیٹ کونسل بیکا نیر کے سیکرٹری ہوئے ۷؎۔اس کے بعد کے حالات کا علم نہیں۔
۶۔بھیم سین
 جسٹس کنور سین کے والد ماجد ہیں۔سیالکوٹ کے معروف وکیل تھے۔ ۴ دسمبر ۱۸۶۸ء کو وکیل درجہ دوئم کی حیثیت سے ان کا اندراج ہوا تھا۔۸؎
۱۸۹۴ء میں آپ سرکاری وکیل تھے۔ بڑے کٹر آریہ سماجی تھے۔ میر حسن کے بڑے دوست تھے۔دونوں دوست سیر کے لئے اکٹھے باہر جایا کرتے تھے۔ شطرنج کی بازی بھی لگایا کرتے تھے۔۹؎ بھیم سین کے نانا مٹھن لال بٹالہ شہر میں ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر تھے۔۱۰؎
۷۔جوتی رام ۱۱؎
 سکاچ مشن سکول و کالج سے ۱۸۸۹ء میں انٹرنس کیا۔۱۸۹۹ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی اے کیا۔ ۱۹۰۰ء میں آپ کرسچین ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بارہ پتھر سیالکوٹ کے سیکنڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ ۱۹۰۷ء میں امریکن مشن سکول راولپنڈی میں ملازمت اختیار کی۔۱۹۰۸ء میں آپ سیالکوٹ آئے۔ اور گورنمنٹ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔
۸۔ جھنڈا سنگھ اوبیرائے
 سیالکوٹ کے مشہور اوبیرائے گھرانے کا فرد تھا۔سردار گنڈا سنگھ کا بھائی تھا۔ سنگھ سبھا کا سرگرم کارکن تھا۔۱۳؎
۱۹۰۹ء میں سیالکوٹ میں دو مسلمان لڑکیوں نے عیسائیت قبول کر لی۔ شہر کے مسلمانوں نے بڑے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مشن سکول سے لڑکیاں اٹھا لی جائیں۔ ان میں ایک لڑکی نابالغ تھی۔ سردار جھنڈا سنگھ نے اس نابالغ لڑکی کا گارڈین بننے کی درخواست عدالت میں دے دی۔عدالت نے ان کی استدعا کو قبول کیا۔ اور نابالغ لڑکی ان کی حفاظت میں دے دی۔۱۳؎ سردار جھنڈا سنگھ تقسیم ملک سے پہلے وفات پا گیا تھا۔
۹۔چراغ۱۴؎
 کیا چراغ اقبال کے ساتھیوں میں سے تھا؟۔ کسی مصدقہ تحریر سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔چراغ بڑا اچھا ہارمونیم بجاتا تھا۔اقبال اس کے فن سے خوش ہوتے تھے۔ سیالکوٹ سے یہ لاہور چلا گیا تھا۔اور مولوی محبوب عالم کے پاس پیسہ اخبار کے دفتر میں بطور دفتری کام کرنے لگا تھا۔ چراغ ہی کے ذریعے اقبال مولوی محبوب عالم سے متعارف ہوا تھا۔
۱۰۔چراغ شاہ سید
چراغ شاہ سیدا قبال کے والد شیخ نور محمد کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔ ان کے والد ماجد کا نام سید محمد شاہ اور دادا کا نام سید محمود شاہ تھا۔ گجرات کے ایک گاؤں بوکن کے رہنے والے تھے۔ ۱۸۳۰ء کے لگ بھگ بوکن میں پیدا ہوئے۔ابتدائی درسی کتب اپنے والد ماجد سے پڑھیں۔ سن شعور کو پہنچے تو سیالکوٹ چلے آئے۔اور کبوتراں والی مسجد میں مولانا غلام مرتضے کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے۔ دوران تعلیم مولانا غلام مرتضے کی کوششوں سے فیروز والا ضلع شیخو پورہ کے ایک علمی گھرانے میں ان کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد شاہ صاحب کبوتراں والی مسجد کے متصل مستقل طور پر رہنے لگے۔آپ کے زمانہ تدریس میں ہی انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تھا۔مولانا غلام مرتضے کی رحلت کے بعد چراغ شاہ سید ہی ان کے جانشین ہوئے اور مذکورہ مسجد میں قرآن وحدیث کا درس دینے لگے۔
مولانا غلام حسن اور مولانا فیضی سے بھی آپ کے بہت اچھے تعلقات تھے۔گجرات اعوان شریف کے حضرت سلطان محمود (م۱۹۱۹ئ) میں جب کبھی سیا لکوٹ تشریف لاتے تو اکثر چراغ شاہ سید کے ہاں قیام کرتے تھے۔ یہیں شیخ نور محمد کی آپ سے شناسائی ہوئی اور بیعت کی۔ چراغ شاہ سید نے ۱۳۰۴ ھجری میں گجرات میں وفات پائی۔


۱۱۔ چڑت سنگھ سردار
سکاچ مشن سکول کے قدیم طالب علم ہیں۔مولوی سید میر حسن کے شاگرد تھے۔سردار چڑت سنگھ نے ۱۸۷۴ء میں سکا چ مشن سکول سیالکوٹ سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔۱۶؎ ۱۸۹۸ء میں آپ سیالکوٹ میں اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔۱۷؎ طبیعیت میں فرعونیت تھی۔ ۱۹۱۴ء میں سیال کوٹ میں سیئنر جج دیوانی تھے۔۱۸؎ ۱۹۱۵ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو کر پنشن پائی۔
۱۲۔حامد شاہ سید
 مولوی سید میر حسن کے برادر عم سید حسام الدین کے بڑے لڑکے ہیں۔سکاچ مشن سکول سے تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۷۷ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔۱۹؎ ۔اس کے بعد ڈی ،سی ،آفس سیالکوٹ میں ملازم ہو گئے۔ ۱۹۱۵ء میں ڈپٹی کمشنر کے فارسی دفتر کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر مسٹر ایبٹ ان کا بڑا احترام کرتا تھا۔۲۰؎ ۔ حامد شاہ نے ستر برس کی عمر میں ۱۹۱۹ء میں وفات پائی۔ان کی بیوی حاکم بی بی نے سینتیس برس کی عمر میں ۱۸۸۴ء کو انتقال کیا۔
روایت ہے کہ ا قبال نے ان سے انگریزی کا پہلا سبق لیا تھا۔۲۲؎ ۔حامد شاہ بڑے ساف گو انسان تھے۔ حق پرستی کی وجہ سے لوگ ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔۲۳؎ ۔حامدشاہ اردو میں شعر کہتے تھے۔ اس وقت شہر کے مشاعروں میں اپنا کلام سنا کر داد تحسین وصول کیا کرتے تھے۔ حامد شاہ ن ے مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کر لی تھی۔ مرزا صاحب کی جانشینی کے سلسلے میں حامد شاہ بھی امیدوار تھے۔ ایک دفعہ حامد شاہ نے اقبال کو مرزائی ہونے کی دعوت دی۔ اقبال نے صاف انکار کر دیا۔ اقبال نے ۴۰ اشعار پر مشتمل ایک منظوم شکل میں جواب دیا۔ اس کے دو شعر ملاحظہ ہوں:۔
بھائیوں میں بگاڑ ہو جس سے
اس عبادت کو کیا سراہوں میں
بت پرستی تو ایک مذہب ہے
کفر غفلت کو جانتا ہوں میں۲۴؎
حامد شاہ کو اقبال کا انکار برا لگا۔ ایک منظوم شکل میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ کہ اقبال نے ان کی دعوت کو کیوں ٹھکرایا؟۔ اس منظوم دعوت کا پہلا شعر ملا حظہ ہو:۔
جانب حق سے حق نما ہوں میں
آمیرے پاس با خدا ہوں میں
 مقطع حاضر ہے:
میرا پا بوس کیوں نہ ہو اقبال
حماد نائب خدا ہوں میں۲۵؎
اولاد:۔ سید احمد، محمد قاسم، عبد الحمید، سید جلیل ،سید جمیل، سید مسعود، سید محمود، آمنہ، نعیمہ، محمودہ ۔
۱۳۔ حسام الدین حکیم ۲۶؎ (۱۹۱۳ء ۔۱۸۳۹ئ)
مولوی سید میر حسن کے برادر عم اور سید حامد شاہ کے والد بزرگوار تھے۔حسام الدین کے والد کا نام میر فیض (۱۸۹۵ئ۔ ۱۸۵۷ئ) اور دادا کا نام میر ظہور اللہ ہے۔ محلہ کشمیری سیالکوٹ میں ان کے نام سے منسوب ایک کوچہ بھی ہے۔
حکیم حسام الدین ۱۸۳۹ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔طب میں تعلیم حاصل کرکے نام پیدا کیا۔ اپنے دور میں چوٹی کے حکماء میں شمار ہوتے تھے۔ اپنے پیشے میں بڑے مخلص اور دیانت دار تھے۔ راست باز اور بات کے کھرے تھے۔ اپنے دور میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ہیضہ کے فوری مرض میں ۱۵ اگست ۱۹۱۳ء کو سیالکوٹ میں وفات پائی۔ان کے کچھ لڑکوں نے ان کی زندگی میں ہی شہرت حاصل کر لی تھی۔
اولاد : ۔ حامد شاہ، رشید شاہ، سعید شاہ، محمود شاہ، حمیرہ بیگم، سعیدہ بیگم، محمودہ بیگم۔
۱۴۔حسین شاہ ۲۷؎
 مولوی سید میر حسن کے چچا سید نعمت اللہ کے لڑکے تھے۔ اولاد میں تین لڑکے محمد شریف، سید انعام اللہ، اور محمد اسحاق تھے۔ حسین شاہ نے ۱۹۲۴ء میں وفات پائی۔انکی بیوی عائشہ بی بی ۱۹۴۰ء میں چل بسیں۔
۱۵۔خوشیا ۲۸؎
 چاچا خوشیا کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان کا نام خوشی محمد تھا۔ روایت ہے کہ یہ سکاچ مشن ہائی سکول میں اقبال کے ہم جماعت تھے۔ مگر اس روایت کی تحریری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔اقبال ان کے ساتھ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔لاہور سے جب کبھی سیالکوٹ جاتے تو ان سے ضرور ملتے اور خوب باتیں ہوتیں۔
ایک بار چاچا خوشیا میلہ چراغاں دیکھنے لاہور گئے۔واپسی پر اقبال سے ملنے بھاٹی دروازہ گئے۔ بھاٹی دروازہ کے باہر وہ سوڈا پینے لگے تھے۔ دفعتہ ایک تانگا آ کر رکا۔ آواز آئی ،خوشیا تم یہاں کہاں؟۔اقبال ٹانگے سے اترے اور خوشیا کو ساتھ گھر لے گئے۔ خوشیا نے کہا یار تو تو بڑا آدمی بن گیا ہے۔ اقبال نے جواب دیا ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن بچپن کی دوستی اور خلوص شاید دوبارہ میسر نہ ہو سکے۔


۱۶۔ دیوان چند
پنجاب کی صحافت میں یہ شخصیت بڑی ہمہ گیر اہمیت کی حامل ہے۔منشی صاحب کا سن ولادت اور مقام ولادت کا تو علم نہیں۔یہ زندگی کے ابتدا میں وزیر آباد میں تحصیل دار تھے۔۲۹؎ ۔ ملازمت چھوڑ کر یا مستعفی ہو کر سیالکوٹ چلے آئے۔اور یہاں رفاہ عامہ پریس قائم کرکے اخبار نکالنے لگے۔ اخبار ورسائل کے سلسلے میں ان کا ذکرکر دیا گیا ہے۔ اخبار کے علاوہ منشی صاحب نے سید بلھے شاہ کی کافیوں کا اردو ترجمہ گنجینہ معرفت کے نام سے کیا۔۳۰؎
منشی صاحب کو حکومت نے جون ۱۸۹۰ء میں رائے صاحب کے خطاب سے نوازا۳۱؎۔ اس سال آپ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ کے چیئر میں تھے۔۳۲؎۔ان کے دولڑکے منشی گیان چند اور مشی برج لال تھے۔
۱۷۔روپ لالہ ۳۳؎
سناتن دھرم کا صدر اور خزانچی تھا۔ ۱۷ جنوری ۱۹۰۴ء کو سیالکوٹ میں انتقال کیا۔
۱۸ سمندا خان
اس کے باپ کا نام وزیر خان تھا۔۱۸۹۲ء میں اقبال کے والد شیخ نور محمد کے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔۲۴؎۔ میر حسن کے آخری فرزند سید مظہر کی فوتیدگی کا اندران سمندا خان نے ہی ۳ مارچ ۱۸۸۷ء کو میونسپل کمیٹی سیالکوٹ میں کرایا تھا۔ ۳۵؎




 ۱۹ ۔سنت رام ڈھینگرا
 سکا چ مشن سکول کے قدیم طالب علم رہے۔ ۱۸۹۹ء میں فارمن کرسچین کالج لاہور سے بی ،اے کیا۔۱۹۱۴ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سیالکوٹ میں کلرک ،مدرس کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۳۶؎
اپریل ۱۹۱۹ء سے مارچ ۱۹۳۷ء تک آپ نے سکاچ مشن سکول سیالکوٹ صدر میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کام کیا۔۳۷؎
۲۰۔ شیر محمد مولانا ۳۸؎
 قطب الدین کے گھر ۱۸۲۰ء کے لگ بھگ بن باجوہ میں پیدا ہوئے۔۱۸۵۰ء میں مسجد دودروازہ میں امام،خطیب اور مدرس مقرر وہئے۔مسجد میں بچوں کو قرآن اور حدیث کی تعلیم دیتے تھے۔ مولوی سید میر حسن نے بھی ان سے تعلیم حاصل کی۔ شیر محمد کی وفات کے بعد ان کے لڑکے مولانا محمد مزمل سید میر حسن کے ہم عصر وہم عمر تھے۔
۲۱۔ عبد الرزاق
ان کا آبائی وطن کشمیر تھا۔راٹھور راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ عبد الرزاق کے والد کا نام عبد الرحیم ہے۔ سکھ عہد کے آخر یا انگریزی عہد کے ابتداء میں عبدا لرازاق کشمیر سے سیالکوٹ چلا آیا۔ ۱۸۵۷ء سے قبل اس نے سیالکوٹ چھاؤنی میں چھ روپے ماہوار پر فوج میں ملازمت شروع کر لی۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ کے دوران ۱۶ انگریز مردوں اور عورتوں کو ایک روز تک کوئلہ کے کمرے میں چھپائے رکھا۔ اور ان کو کھانا کھلایا۔ باغی سپاہیوں کو شک ہو گیا کہ عبد الرزاق نے انگریزوں کو پناہ دی ہے۔ سپا ہی اسے چھاؤنی لے گئے۔ کہ وہ انہیں چھپے ہوئے انگریزوں کا پتا بتا دے۔مگر عبد الرزاق نے بتانے سے انکار کر دیا۔ وہ انگریزوں کا وفا دار رہا۔وہ جسمانی لحاظ سے ایک جوان اور طاقت ور انسان تھا۔ ایک مانا ہوا پہلوان بھی تھا۔اس لئے وہ ان سے دب نہ سکا۔سپاہی ناکام رہے۔ان پناہ لینے والوں میں ایک میجر سنڈرس تھا۔ اس نے عبد الرزاق کو ایک تعارفی خط بھی دیا تھا۔ امن وامان قائم ہونے پر عبد الرزاق کو انعام واکرام سے نوازا گیا۔حکومت نے پچاس روپے ماہوار تک دو نسل کے لئے پنشن عطا کی۔۳۹؎عبد الرزاق ۱۸۸۴ء تک بقید حیات تھا۔ عبد الرزاق کے بعد اس کے بیٹے کریم بخش کو پنشن ملتی رہی۔ عبدا لرزاق کا دوسرا بیٹا رحیم بخش تھا۔عبد الرزاق کی ایک لڑکی تھی جو اقبال کے بھائی عطا محمد سے بیاہی گئی تھی۔ کریم بخش بھی اپنے دور کا شہ زور پہلوان تھا۔ستارہ ہند کا خطاب ملا تھا۔
کریم بخش کے لڑکے پرعفیسر ڈاکٹر جمشید علی راٹھور (۱۹۵۸ء ۔۱۸۸۲ئ) تھے۔جنہوں نے مرے کالج سیالکوٹ میں ہزاروں طالبان علم کو علم سے سیراب کیا۔۴۰؎
عبد الصمد غلام محمد۴۱؎
ان کے والد کا نام عمر بخش تھا۔ صمدی پریس کے مالک تھے۔ رنگ پورہ سیالکوٹ میں ان کی پریس تھی۔ عربی،فارسی،اردو اور پنجابی میں شعر کہتے تھے۔ اور عبد الصمد تخلص کرتے تھے۔مطبع صمدی سے انہوں نے ’’ثمرہ مراد‘‘ ۳۶ صفحات پر شائع کیا۔یہ عربی ،فارسی،اردو اور پنجابی مناجات کا مجموعہ ہے۔ دوسرے شعراء کی مناجات کے ساتھ عبد الصمد نے اپنی مناجات بھی دی ہیں۔ان کی اردو مناجات کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔
رکھ عبد الصمد کو تو اپنے در کاہی گدا
اور تصدق ذات پاک اپنے کے تو اے کبریا
ان کا کلام اتنا معیاری نہیں،کلام میں پختگی نہیں۔ان کی دوسری کتاب’’ نالہ غربائ‘‘ صمدی پریس سیالکوٹ سے ۱۲۷۹ ھج میں شائع ہوئی تھی۔انہون نے اپنے مطبع اپنی ایک تالیف تواریخ سیالکوٹ بھی شائع کی تھی۔
۲۳۔عبد الکریم مولوی۴۲؎
ابتدا میں شہر سیالکوٹ میں کتب فروشی سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد میں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑی دکان بنا لی۔ عبد الکریم نے ۱۸۹۸ء میں پندرہ روزہ ایک نیم مذہبی رسالہ انوار السلام جاری کیا۔ اس میں آریہ سماجیوں اور عیسائیوں کے اسلام پر اعتراجات کے مدلل جوابات دیے جاتے تھے۔
مولوی صاحب دو ماہ بیماری میں مبتلا رہ کر ۱۱ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو بروز سہ شنبہ دن کے ڈھائی بجے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ مفید عام پریس بھی قائم کیا تھا۔
۲۴۔عشق پیچہ
اصل نام گلاب اور تخلص عشق پیچہ تھا۔ کشمیری بٹ گھرانے سے تعلق تھا۔۴۳؎۔اردو اور فارسی میں خوب شعر کہتے تھے۔۱۸۵۷ء میں جوان تھے۔ میر حسن ان دنوں ابھی بچے تھے۔ ہم محلہ ہونے کی وجہ سے میر حسن نے ان کو عالم شباب میں دیکھا تھا۔عشق پیچہ اس وقت مشاعروں کی جان تھے۔ ان کی زیر صدارت شعر وشاعری کی محفلیں جمتی تھیں۔ اقبال کا ابتدائی کلام یقینا ان کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ اور اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہوگا۔عشق پیچہ نے ایک طویل عمر پا کر ۲۴ مئی ۱۸۹۵ء کو سیالکوٹ میں انتقال کیا۔۴۴؎ مولوی میر حسن ان کو اچھی طرح جانتے تھے۔ میر صاحب کو ان کا یہ شعر یاد تھا۔
کسی کے ترکی وتازی ہارے ٹٹو ہیں
کسی کے شالے دوشالے ہمارے پٹو ہیں
ایک مخمس کریلوں کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا،جس کا نام کریلے نامہ تھا۔یہ مصرع
ع، سچپوچھو تو ہوتے ہیں مزیدار کریلے
مخمس کے آخر میں آتا ہے۔۴۵؎
عشق پیچہ کا ایک لڑکا غلام حسین تھا۔جس کے ہاں ایک لڑکی ۴ دسمبر ۱۸۸۱ء کو تولد ہوئی تھی۔ غلام حسن کا پیشہ رنگ ریزی تھا۔۴۶؎
۲۵۔علی نقی سید (۱۹۳۵ئ۔ ۱۸۶۵ئ)
 مولانا سیدمیر حسن کے بڑے صاحب زادے تھے۔ اقبال سے تقریبا دس برس بڑے تھے۔ سکول کی تعلیم سکاچ مشن سکول سے حاصل کی۔ لاہور کے میڈیکل اسکول سے میڈیکل اسٹنٹ کا امتحان پاس کرکے ۱۸۸۶ء میں فوج کی میڈیکل برانچ میں ملازم ہو گئے۔ اور ۱۵ لانسر میں تعیناتی ہوئی۔مختلف جگہوں پر کام کیا۔ دسمبر۱۹۱۱ء میں آپ کو خان صاحب کا خطاب ملا۔ ان دنوں آپ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے ساتھ کیمپ ڈسپنسری کے انچارج تھے۔ اور سئینر سب اسٹنٹ انجئینر تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب نے تیسرے شاہی دربار منعقدہ ۱۲ دسمبر ۱۹۱۱ء کو ایک وفد کے ہمراہ شرکت کی تھی۔۴۷؎۔ ۱۹۱۸ء میںاعزازی اسٹنٹ سرجن مقرر ہوئے۔۱۹۱۹ء میں سردار بہادر کا خطاب ملا تھا۔ ۱۹۲۲ء میں اعزازی کیپٹن ہوئے۔ فوج کی ملازمت کا بڑا حصہ (۱۹۰۵ء ۱۹۲۵ئ) گورنر ہاؤس پنجاب لاہور میں بطور میڈیکل انچارج گزارا۔۱۹۲۶ء میں ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔سیالکوٹ آبائی گھر میں رہائش پذیر ہوئے۔ ۱۹۳۵ء میں سیالکوٹ میں وفات پائی۔۴۸؎
اقبال کے بڑے گہرے دوست تھے۔ دونوں اکٹھے ہی کبوتر اڑایا کرتے تھے۔ علی نقی کے صاحب زادے سید عبد اللہ شاہ (1978ئ1889ئ) بھی اقبال کے احباب میں سے تھے۔
۲۶۔عمر شاہ ۴۹؎
ْمولوی سید میر حسن کے تایا سید نعمت اللہ کے لڑکے اور میر ظہور اللہ کے پوتے تھے۔حکیم حسام الدین کے بہنوئی تھے۔ عمر شاہ گزشتہ صدی کی ساتویں آٹھویں دہائی میں مسجد حکیم حسام الدین میں مسلمان لڑکے اور لڑکیوں کو قرآن مجید ناظرہ پڑھایا کرتے تھے۔سیالکوٹ کی کرم بی بی راوی ہیں کہ اس نے اقبال نے سب سے پہلے عمر شاہ کے مکتب میں پڑھنے کی ابتداء کی تھی۔ یہ روایت حقیقت پر مبنی ہے۔
عمر شاہ نے ۵۷ برس کی عمر میں ۲جون ۱۹۱۲ء کو انتقال کیا۔ ان کی زوجہ مہتاب بی بی نے ۱۹۱۰ء میں وفات پائی۔ عمر شاہ کی دولڑکیاں تھیں ،بڑی لڑکی رقیہ بیگم نے سولہ برس کی عمر میں وفات پائی۔دوسری لڑکی صفیہ بیگم (۱۹۶۶ئ۔ ۱۸۷۰ئ) تھی۔
۶۷۔غلام احمد مرزا
اردو اخبار وزیر الملک کے مہتمم اور مالک تھے۔ میونسپل کمیٹی کے ممبر تھے۔ ان کی جگہ منشی غلام قادر فصیح ۱۰ اکتوبر ۱۸۹۴ء کو کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے۔۵۰؎ مرزا صاحب نے ستمبر ۱۸۹۵ء میں سیالکوٹ میں انتقال کیا۔۵۱؎ ۔ظفر المطبع کے مالک تھے۔
۲۸۔غلام حسن مولانا۵۲؎ (۱۹۱۸ء ۱۸۴۸ئ)
ساہو والہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد حاجی مولوی کرم الہیٰ ایک اچھے طبیب اور خوش نویس تھے۔ دین اسلام کی ترویج واشاعت بھی ان کی زندگی کا مقصد تھا۔
مولانا غلام حسن ۱۸۴۸ء میں ساہووالہ میں پیدا ہوئے۔ سیالکوٹ مسجد کبوتراں والی میں مولانا غلام مرتضے سے تعلیم حاصل کی۔ علم حدیث کی تعلیم وزیر آباد میں حافظ عبد المنان سے کی۔ ان کی طبیعت نہایت ذکی اور حافظہ بہت قوی تھا۔ تھوڑی ہی مدت میں نصاب تعلیم ختم کرلیا۔ حصول تعلیم کے بعد شوالہ تیجہ سنگھ کی مسجد میں امامت کرنے لگے۔ یہ زمانہ ۱۸۸۰ء کے لگ بھگ کا ہے۔مسجد میں مسلمان بچوں کو دینی تعلیم بھی دینے لگے۔ یہاں آپ تقریبا بیس سال تک پڑھاتے رہے۔ یہیں اقبال نے ان سے کچھ عرصہ تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے بعد آپ قریبی مسجد اہل حدیث میں بچوں کو پڑھانے لگے۔ مزید برآں امامت اور خطابت بھی کیا کرتے تھے۔اسلامیہ ہائی سکول سیالکوٹ میں بطور ’’مدرس‘‘ ملازم ہو گئے۔ لڑکوں کوعربی اور دینیات پڑھاتے تھے۔ آغا محمد شہباز خان کے لڑکوں آغا محمد اکبر اور آغا محمد اصغر کو ان کے گھر پڑھایا کرتے تھے۔۵۳؎
مولانا بڑے خوب صورت انسان تھے۔ طبیعت برد بار اور با مذاق تھی۔ خووش طبع اور بے تعصب تھے۔اتباع سنت میں آپ کا عمل نہایت پختہ تھا۔ متوکل اور قانع تھے۔ فتوی میں آپ کی حق گوئی مسلم تھی۔مولوی سید میر حسن، شیخ نور محمد، اور حکیم حسام الدین سے گہری دوستی تھی۔مولانا کئی دینی کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کے کتب خانے میں احادیث اور تفاسیر کا ذخیرہ تھا۔ آپ نے ستر برس کی عمر ۱۸ جنوری ۱۹۱۸ء کو وفات پائی۔
آپ کے شاگردوں میں علامہ محمد اقبال، مولانا ابرہیم میر، مولوی ظفر اقبال، اور خان بہادر مولوی فیروز الدین خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔دین اسلام سے متعلق آپ متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔
اولاد :مولوی عبد الواحد:۔ سیالکوٹ سے کلرک آف کورٹ کے عہدہ سے ۱۹۶۰ء میں سبک دوش ہوئے۔اولاد نرینہ سے محروم تھے۔ والد کی وفات کے بعد مسجد اہل حدیث میں امام وخطیب رہے۔ ۱۹۶۵ء میں اس فانی دنیا سے کوچ کیا۔
۲۔ مولوی محمد عبد اللہ:۔ محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ ان کی بیوی زینب بی بی حافظ عبد المنان وزیر آبادی کی صاحب زادی تھیں۔ ۶۶۔ ۱۹۶۵ء میں انتقال ہوا۔ ان کے لڑکے جسٹس محمد منیر فاروقی ہیں۔
۳۔ فاطمہ بیگم : ان کے خاوند عبد العزیز پسر رحیم بخش امریکن مشن سکول سیالکوٹ میںمدرس تھے۔ سر محمد ظفر اللہ عبد العزیز کے شاگردوں میں سے ہیں۔
۴۔عزیز بیگم:۔ ان کے خاوند ڈاکٹر مفتی محمد شاہ نواز ایم، آر سی پی لندن تھے۔ اور عثمانیہ میڈیکل کالج دکن میں پروفیسر پتھیالوجی تھے۔
۲۹۔غلام قادر فصیح ۵۴؎ (۱۹۱۲ء ۔۱۸۶۰ئ)
 کشمیر کے ایک مشہور قریشی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دادا حافظ قائم دین عرف ولی اللہ عہد شباب میں اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ کشمیر سے نقل مکانی کرکے سیالکوٹ آگئے۔یہاں شادی کرلی۔ ایک لڑکا عبد اللہ پیدا ہوا۔ دو سال بعد حافظ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ان کی جوان بیوہ نے جامکے ‘‘ میں عقد ثانی کر لیا۔ عبد اللہ کچھ عرصہ جامکے اپنی والدہ کے پاس رہے۔پھر سیالکوٹ آگئے اور یہاں کاغذ سازی کرنے لگے۔ اس عبد اللہ کے گھر ۱۸۶۰ء میں غلام قادر فصیح پیدا ہوئے۔ امریکن مشن سکول میں تعلیم حاصل کی۔ کیونکہ اس سکول میں ان کے بڑے بھائی مولوی محمد علی ہیڈ اورئنیٹیل ٹیچر تھے۔ غلام قادر نے حصول تعلیم کے بعد تصنیف وتالیف اور اشاعت کتب کی طرف رجوع کیا۔ ایک چھاپہ خانہ ’’پنجاب پریس‘‘ کے نام سے قائم کیا۔ تاریخ اسلام سے ان کو خصوصی لگاؤ تھا۔ تاریخ اسلام کے نام سے ایک رسالہ نکالتے تھے۔ اقبال اس رسالے کے متعلق کہتے ہیں :۔
’’ یہ رسالہ ہر مسلمان کے گھر پہنچنا چاہیئے۔ایسی ہی تحریرون سے قوم میں بیداری پیدا ہوتی ہے۔میں اسے پڑھتا ہوں تو چشم پر آب ہو جاتا ہوں۔۶۵؎
چار جلدوں میں تاریخ اسلام لکھی، ۱۹۱۲ء میں سیالکوٹ میں وفات پائی۔ان کے صاحبزادے مولوی ظفر اقبال ہیں۔ جو عربی زبان وادب کے معروف استاد ہیں۔
۳۰۔غلام محمد ۵۶؎
 اپریل ۱۸۸۲ء میں سکاچ مشن ہائیس کول سیالکوٹ سے لوئر پرائمری یعنی تیسری جماعت کا امتحان پاس کیا۔۵۷؎ ۔ ۱۸۵۷ء سے اسی سکول سے انٹرنس کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔۵۷؎ حکومت نے با رہ روپے ماہوار وظیفہ عطا کیا۔ ۱۸۹۷ء میں پرائیویٹ بی ،اے کیا۔۵۸؎۔ ۱۹۰۵ء میں آپ امریکن مشن سکول سیالکوٹ میں ریاضی،سائنس اور عربی کے استاد تھے۔ راولپنڈی میں اسلامیہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ آپ اپنے دور کے کامیاب ترین ہیڈ ماسٹر تھے۔آپ کی تعلیم کے اخراجات مولوی سید میر حسن نے برداشت کیے۔محکمہ تعلیم سے سبلدوشی کے بعد انجمن حمایت اسلام لاہور سے منسلک ہو گئے۔ اور اس کی جنرل کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔
غلام نے انگریزی میں ایک کتاب لکھی(Islam is practice) جو ۱۹۴ صفحات پر مشتمل تھی۔کتاب میں اسلامی تاریخ کے ایک سو ایسے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ جو اسلامکی روح کو اجاگر کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس مختصر کتاب کا تعارف لکھا ہے۔


۳۱۔ غلام محمد شگفتہ
 عشق پیچہ کے دولڑکے تھے۔ اردو میں شعر کہتے تھے۔ باپ سے اصلاح لیتے تھے۔ میراں بخش جلوہ کے ہاں ۱۸۸۷ء میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا۔ شگفتہ نے ایک قطعہ تاریخ لکھا تھا۔۵۹؎
۳۲۔غلام مرتضیٰ مولانا
محلہ کشمیری سیالکوٹ میں ایک مسجد ہے۔ جہاں دسویں صدی ہجری کے اواخر میں غالبا ملا کمال درس دیا کرتے تھے۔ قدیم زمانہ سے اس مسجد کا نام مسجد کبوتراں والی چلا آتا ہے۔ ۱۸۵۰ء کے لگ بھگ یہاں مولانا غلام مرتضی قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ صرف ونحو کی تعلیم بھی دیتے تھے۔اس کے علاوہ آپ یہاں کے امام اور خطیب بھی تھے۔ مولانا میر حسن کو ان سے تلمذ کا فخر حاصل رہا ہے۔میرحسن اپنے مکتوب میں محمد دین فوق کو لکھتے ہیں:۔
’’میری طفولیت کے زمانہ میں یہاں (سیالکوٹ) میں دو درسگاہیں تھیں۔‘‘ ایک مسجد کبوتراں والی ،جس میں مولانا غلام مرتضیٰ جو نہایت پارسا، قانع، صابر اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ اور صورت وسیرت سے بزرگ تھے۔ایسے بزرگانہ اخلاق کا آدمی میں نے نہیں دیکھا۔دوسرے چوک بازار کی مسجد میں مولوی شیر محمد صاحب جو مولوی غلام مرتضیٰ سے عمر میں بڑھے تھے۔۶۰؎
مولوی سید میر حسن کے علاوہ مولوی سید چراغ شاہ اور ساہوالہ کے محمد حیدر پسر محمد اکبر بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ محمد حیدر نے ان سے صرف ونحو اور منطق کی تعلیم حاصل کی تھی۔۶۳؎
مولانا غلام مرتضیٰ کا سن وفات معلوم نہیں ہو سکا۔ان کے بعد فیض دین امامت کرنے لگے۔ فیض دین کے دور میں ہی مسجد کبوتراں والی میں ستمبر ۱۸۸۶ء میں وہابی ،سنی کے درمیان تنازعہ ملکیت شروع ہوا تھا۔۶۴؎
۳۳۔ غلامی سیالکوٹی
 اصل نام اور حالات زندگی معلوم نہیں ہو سکے۔ اردو اور فارسی کے شاعر تھے۔ اردو شاعری میں مولانا عشق پیچہ سے اصلاح لیتے تھے۔ میراں بخش جلوہ سے معاصرانہ چپلقش تھی۔۶۵؎ ۔ سراج الاخبار جہلم میں ان کا اخبار چھپتا تھا۔رسالہ گلدستہ سخن میں ان کا فارسی کلام شائع ہوتا تھا۔۶۶؎
۳۴۔فیض الدین
بقول سر محمد ظفر اللہ
ان کا خاندان پشت در پشت سے اپنے علم وفضل کے باعث سیالکوٹ میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔شہر کی دوبڑی مساجد کی تولیت ان کے سپرد تھی۔۶۷؎
ان کے آبا واجداد اور ان کی ابتدائی زندگی صیغہ راز میں ہے۔ مولانا غلام مرتضیٰ کی وفات کے بعد فیض الدین مسجد کبوتراں والی میں امامت کیا کرتے تھے۔ بچوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتے تھے۔ ظفر اللہ نے ان سے قرآن مجید اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔اور اس طرح یہ ظفر اللہ کے استاد تھے۔۶۸؎
 ستمبر ۸۶۶اء میں شہر میں وہابی سنی فرقوں میں تنازعہ ہو گیا۔حکام نے اندیشہ نقص امن کے تحت مسجد کو وقتی طور پر بند کر دیا۔ پولیس کی موجودگی میں ستمبر ۱۸۸۶ء میں شہر کے مسلمانوں نے مسجد میں عید الا الضحٰی کی نماز ادا کی۔ اکتوبر ۱۸۸۶ء میں مسجد عام نمازیوں کے لئے مولانا فیض الدین کی اس یقین دہانی پر کھول دی گئی کہ
’’ بلند آواز سے آمین نہ کہوں گا۔منطقی طریقوں پر چلوں گا۔ وہابیت کا نام نہ لوں گا ‘‘ ۶۹؎
۱۹۰۴ء میں آپ نے مرزا غلام مرتضیٰ احمد قادیانی کی بیعت اختیار کر لی۔۷۰؎
۱۹۲۶ء میں انتقال کیا۔
۳۵۔قادر بخش
میاں حیات محمد کے لڑکے اور مشہور اہل حدیث مولوی محمد ابراہیم میر کے والد بزرگوار تھے۔ میاں پور یعنی میانہ پور میں رہتے تھے۔ وہیں علامہ عبد الحکیم کی مسجد کے قریب ایک مسجد تعمیر کی۔ ۱۸۸۷ء میں آپ حلقہ میاں پور سے میونسپل کمیٹی کے ممبر منتخب ہوئے تھے۔۷۱؎
۳۶۔قائم علی
 ان کے آبا واجداد ،وطن اور ابتدائی زندگی کے حالات معلوم نہیں ہو سکے۔ اور نہ ہی ان کی ابتدائی زندگی کے متعلق معلومات حاصل ہو سکیں۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ کے دوران میں شہر سیالکوٹ میں ایکسٹرا اسٹنٹ کے عہدہ پر فائز تھے۔ ہنگامہ کے دوران انگریز ڈپٹی کمشنر اور دوسرے انگریز حکام نے انہیں قابل اعتماد نہ سمجھا۔۷۲؎ ۔۱۸۶۵ء کے لگ بھگ آپ یہاں سے تبدیل ہو گئے۔ اور ان کی جگہ ڈپٹی وزیر علی آئے تھے۔ قرین قیاس ہے کہ ڈپٹی قائم علی تخیلات کے مصنف سید افضل علی کے نانا تھے۔ وزیر علی بھی ان کے عزیز معلوم ہوتے ہیں۔




۲۷۔کنور سین
 سیالکوٹ کے مشہور وکیل بھیم سین کے لڑکے تھے۔کنور سین نے مولوی سید میر حسن سے الف،ب پڑھنے کی ابتداء کی۔۷۳؎ ۔ یعنی مولوی صاحب ان کے پہلے استاد ہیں۔
سکاچ مشن کے برانچ سکول سے مارچ ۱۸۸۴ء میں لوئر پرائمری فرسٹ سیکشن پاس کیا۔ ۱۸۹۱ء میں سکاچ مشن سکول سے انٹرنس کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔اور ایک تمغہ حاصل کیا۔ ۱۸۹۳ء میں سکاچ مشن سکول وکالج سے انٹر میڈیٹ کیا۔ فزیکل سائنس کے مضمون میں یونیورسٹی میں اول آئے۔ ۱۸۹۵ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ،اے آنرز کی ڈگری لی۔ اور یونیورصتی بھر میں اول رہے۔ آرنلڈ سلور میڈل حاصل کیا۔حکومت نے وظیفہ عطا کیا۔ ۱۸۹۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فزکس میں ایم، ایس ،سی کی ڈگری لی۔ حصول تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں ڈیمانسٹر یٹر مقرر ہوئے۔۱۸۹۷ء میں آپ نے ایم،اے انگریزی کیا۔ اسی سال آپ اسٹنٹ پروفیسر آف سائنس مقرر ہوئے۔قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن گئے۔ ۱۸۹۸ء میں لنکزان (LINCOLN ,s INN)میں داخلہ لیا۔ ۱۹۰۱ء میں قانون کی ا علی ڈگری لے کر وطن لوٹے۔ آئی ،سی ایس کے مقابلے کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔عربی ان کا خاص مضمون تھا۔ مقابلہ میں عربی کے پرچہ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ ۱۹۱۵ء میں یونیورسٹی لاء کالج میں پرنسپل تھے۔ بعد میں جموں کشمیر ہائی کورٹ میں چیف جسٹس ہوئے۔حکومت نے ’’رائے بہادر‘‘ اور ’’اسی،آئی،ای‘‘ کے خطابات سے نوازا۔
کنور سین کو عربی زبان وادب پر مکمل عبور حاصل تھا۔ بقول سید نذیر نیازی کنور سین گفتگو میں آیات کریمہ کا استعمال کرتے تھے۔۷۴؎
۳۸۔ کھڑک سمگھ سردار
سکاچ مشن سکول کا قدیم طالب علم تھا۔ سیالکوٹ کے محلہ سہار نانوالہ میں رہتا تھا۔ ملک کی آزادی کے سلسلے میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
کھڑک سنگھ سردار ہری سنگھ کا لڑکا اور سردار شیر سنگھ کا بھائی تھا۔ ۱۸۸۹ء سکاچ مشن سکول سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔۷۵؎ ۔ ۱۸۹۲ء میں سکاچ مشن کالج سے فرسٹ ڈویژن میں انٹر میڈیٹ کیا۔اور بارہ روپے ماہوار وظیفہ پایا۔۷۶؎
۱۸۹۴ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی ،اے کیا۔۷۷؎ ۔ ۱۹۰۸ء میںسیکرٹری میونسپل فیض آباد اور ۱۹۱۲ء میں سیکرٹری میونسپل کمیٹی سیالکوٹ تھا۔ ۱۹۱۰ء میں سکھوں کی تعلیمی کانفرنس کا صدر مقرر ہوا۔خالصہ ہائی سکول سیالکوٹ کی انتظامی کمیٹی کا صدر بھی تھا۔۷۸؎
 آزادی وطن کے لئے عملا حصہ بھی لیا۔ آل انڈیا کانگرس کا فعال رکن تھا۔۱۹۳۰ء میں سیال کوٹ کی کانگرس شاخ کا صدر چنا گیا۔۱۹۲۳ء میں پنجاب یونیورسٹی کی صوبائی کانگرس کا صدر منتخب ہوا۔ تحریک خلافت میں پیش پیش رہا۔وراثت میں ایک بڑی جائیداد ملی۔ وعدہ کا بڑا پکا تھا۔ دہلی سے پنڈت مایا دھاری اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ ایک بار دو گماشتہ نے دو لاکھ روپیہ اڑا لیا۔ جس کا مقدمہ دائر ہو گیا۔ جب ان کو یقین ہو گیا کہ یہ رقم ہضم نہیں ہو گی۔ تو گلے میں کپڑا ڈال کر بابا کھڑک سنگھ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر فریادی ہوئے۔معلوم کرنے پر کہنے لگے کہ آپ ہماری بات مان لیں گے۔ انہوں نے کہا میں مان لوں گا‘‘۔اور پھر کہا کہ آپ کچھ رقم کم کردیں گے۔ وعدہ کیا میں انکار نہیں کرو ں گا۔مان لوں گا۔ پھر کہا کہ آپ معاف کردیں۔کل رقم اصل معہ خرچہ،ہرجہ عدالت معاف کر دیا۔جب بڑے بھائی کے شیر خان کے پسران نے سنا تو حاضر خدمت ہو کر کہا چچا جان یہ کیا کردیا؟۔ جواب دیا کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور منہ سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آتی۔ اور نہ ہی بچپن واپس ہوتا ہے۔میری جائیداد میں سے وصول کر لو۔ ۷۹؎
کھڑک سنگھ مولوی میر حسن کا بڑا احترام کرتا تھا۔میر صاحب کی وفات پر رنج وغم کا اظہار کرنے کے بعد کہا۔وہ خوب آدمی تھا۔ خدا مغفرت کرے۔ ۸۰؎ 
کھڑک سنگھ کا بڑا لڑکا پرتھی پال سنگھ تھا۔جس کی شادی بڑی دھول دھام سے ۲۹ دسمبر۱۹۱۶ء کو ہوئی۔۸۱؎ ۔لیکن افسوس کہ وہ شادی کے چند سال بعد چل بسا۔
بانا کھڑک سنگھ تقسیم ملک کے بعد راجپورہ روڈ دہلی میں مستقل طور پر قیام پذیر ہوا۔ ۱۹۵۵ء کے قریب دہلی میں انتقال کر گیا۔
۳۹۔گلاب سنگھ۸۳؎
 سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ ہندوؤں کی تنظیم سناتن کا بانی تھا۔گلاب سنگھ نے ۱۸۹۱ء میں مڈل کے یونیورسٹی کے امتحان میں صوبہ پنجاب میں اول رہے۔ پنجاب میں اول آنے والے طالب علم کے لئے ایک سلور میڈل مالیتی بیس روپے کا انعام مقرر تھا۔مذکورہ سال میونسپل بورڈ وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول سیالکوٹ کے طالب علم گنپت رائے نے یہ میڈل حاصل کیاتھا۔ گلاب سنگھ بڑا مستقل مزاج،فراخ دل اور فیاض انسان تھا۔ دھرم اور خیرات کے کاموں میں دل کھول کر روپیہ صرف کرتا تھا۔
ملکہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقعہ پر ۱۸۹۸ء میں حکومت نے ان کو رائے صاحب کا خطاب عطا کیا۔ ۲۲ جنوری ۱۸۹۷ء اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔
گلاب سنگھ نے مدرس کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد میں نویں دہائی میں لاہور میں ’’رفاہ عام‘‘ کے نام سے ایک چھاپہ خانہ قائم کرکے نصابی کتب چھاپنے لگا۔ جو آزادی وطن تک قائم رہا۔
اس کے دو لڑکے موہن لال اورسوہن لال تھے۔گلاب سنگھ کی وفات کے وقت سوہن لال ۲۷ برس کا تھا۔باپ کے مرنے کے بعد اس نے باپ کا کاروبار سنبھالا۔ اردو بازار اس کے نام پر موہن لال رو ڈ کہلاتا تھا۔سوہن لال کو حکومت نے رائے بہادر کے خطاب سے نوازا تھا۔
۴۰۔گنپت رائے ۸۳؎
میونسپل بورڈ وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول سیالکوٹ کا طالب علم تھا۔ ۱۸۹۱ء میں یونیورسٹی سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ ۶۵۹ نمبر حاصل کرکے صوبہ میں بہترین طالب علم قرار پایا۔ میڈل اور ۳۵ روپے انعام حاصل کیا۔
۴۱۔گنڈا سنگھ اوبیرائے۸۴؎
اوبیرائے گھرانے کا سر بر آوردہ شخص تھا۔سردار منگل سنگھ کا بڑا لڑکا تھا۔ گنڈا سنگھ ۱۸۷۴ء کے قریب سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ سکاچ مشن سکول میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۹۱ء میں سیکنڈ ڈویژن میں انٹرنس کیا۔ رول نمبر ۷۶۱ تھا۔ا متحان میں۳۲۱ نمبر حاصل کیے۔ میرٹ کے لحاظ سے ۱۱۳ واں نمبر تھا۔
حصول تعلیم کے بعد سکاچ مشن سکول میں مدرس مقرر ہو گیا۔روایت ہے کہ ھاجی پورہ کا ایک مستری صدر میں مقیم مشنری پادریوں کے ٹینس کھیل کے ریکٹ مرمت کرتا تھا۔یہ مستری اس سلسلے میں منشی گنڈا سنگھ سے خطوط وغیرہ لکھوایا کرتا تھا۔ گنڈا سنگھ نے غیر ملکیوں کی اس ضرورت کو محسوس کیا۔ کچھ عرصہ بعد مستریوں سے ریکٹ بنوا کر خود سپلائی کرنے لگا۔ اس سے پہلے مشنری لوگ یورپ سے ریکٹ منگویا کرتے تھے۔ وہ سکول کی ملازمت سے مستعفی ہو گیا اور ریکٹ بنانے کا کام کرنے لگا۔چند سال بعد اوبیرائے لمیٹڈ کے نام سے ایک فیکٹری بنا کر وسیع پیمانے پر اس کی تیاری شروع کر دی۔چند ہی سالوں میں اس فرم نے شہرت حاصل کر لی۔ یہاں تک کہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی اس کی بڑی شہرت اور کھپت ہونے لگی۔لاہور میں ۱۹۰۳ء میں ایک تعلیمی نمائش منعقد ہوئی تھی۔ میسرز گنڈا سنگھ اوبیرائے کمپنی نے انعام حاصل کیا۔ پیرس کی نمائش منعقدہ ۱۹۰۰ء میں بھیا س کمپنی کو بروئنز میڈل ملا۔ کلکتہ کی نمائش ۱۸۹۷ء میں سونے کا تمغہ ملا۔اس کے علاوہ متعدد نمائشوں میں اس کی کار کردگی کو سراہا گیا۔اور تعریفی اسناد اور میڈل دیئے گئے۔
گنڈا سنگھ اپنے وسیع کاروبار کی بدولت سیالکوٹ کا ایک امیر ترین شخص ہو گیا۔اس نے ’’گنڈا سنگھ ہائی سکول ‘‘ قائم کیا۔ یہ سکول تقسیم ملک تک قائم رہا۔ ۱۹۲۹ء میں سکاچ مشن سکول کے قدیم طالب علم اور مدرس جگن ناتھ اس سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔۸۵؎
اولاد : بلدیو سنگھ اوبیرائے
۲۔ ہر دیو سنگھ عرف ہیڈو (HEdo)
3.۔ سنگت سنگھ
گنڈا سنگھ کئی برس تک شہر میں اعزازی مجسٹریٹ رہا۔
۴۲۔گنڈا سنگھ منشی ۸۶
منشی گنڈا سنگھ ۱۸۹۳ء میں میونسپل بورڈ ہائی سکول سیالکوٹ میں مدرس تھے۔ آپ نے جماعت سوئم کے طلباء کے لیے گلشن پنجاب کے نام سے ایک جغرافیہ کی کتاب لکھی تھی۔
۴۳۔گیان چند
منشی دیوان چند کا لڑکا تھا۔ باپ کے ساتھ وکٹوریہ پیپر میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ ۱۸۹۴ء میں اس کا اپنا ایک پریس وکٹوریہ پریس موجود تھا۔۸۷؎
سیالکوٹ کی ایک عدالت نے مارچ ۱۸۹۰ء میں کسی جرم پر اسے پچاس روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ ۸۸؎۔ ۱۹۰۱ء میں گیان چند ڈسٹرکٹ بورڈ کا نائب صدر تھا۔۸۹؎
۴۴۔ لابھ مل
 لالہ لابھ مل سیالکوٹ کا ایک وکیل تھا۔ قوم بھاٹیہ سے تعلق رکھتا تھا۔۱۸۹۰ء میں لالہ صاحب نے سیالکوٹ کے اس طالب علم کے لئے ۲۵ روپے ماہوار وظیفہ کا اعلان کیا۔ جو قوم بھاٹیہ میں انٹرنس کے امتحان میں اول رہے۔۹۰؎
۴۵۔ لالہ دین پہلوان
پہلوان تھا۔ شہر میں اکھاڑہ تھا۔ اپنے فن میں کامل استاد تھا۔کشتی کے مقابلوں کے لئے شاگردوں کو تیار کیاکرتا تھا۔اقبال اس کے اکھاڑے میں باقاعدہ جایا کرتے تھے۔بعد میں یہ تعلقات گہری دوستی میں تبدیل ہو گئے۔ اس دوستی کا اقبال نے ہمیشہ پاس رکھا۔ جب کبھی سیالکوٹ آتے،تو لال دین سے ضرور ملتے،اور پہلوانوں سے متعلق گفتگو ہوتی۔لالہ پہلوان کے نام سے مشہور تھا،لالو کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا۔۹۲؎




لدھا سنگھ
لدھا سنگھ شہر کا پہلاگریجویٹ شخص تھا۔ ۱۸۹۲ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ سیکنڈ ڈویژن میں بی،اے کیا۔۹۳؎۔
۱۹۰۴ء میں میونسپل بورڈ ہائی سکول سیالکوٹ کا ہیڈ ماسٹر تھا۔۹۴؎
۴۷۔ لدھے شاہ
 سید ابوتراب پسر شاہ سلطان کے لڑکے ہیں۔سید ابوتراب،مولوی سید میر حسن کے دادا سید میر قاسم کے بھائی تھے۔۹۵؎ لدھے شاہ نے۸۸۸اء میں میونسپل بورڈ سیالکوٹ کے انتخاب میں حصہ لیا۔ اور کثرت رائے سے منتخب ہوئے۔۹۶؎
لدھے شاہ کے لڑکے محمد شاہ نے ۱۵ ستمبر ۱۸۸۶ء کو سیالکوٹ میں انتقال کیا۔۹۷؎
۴۸۔ لہنا سنگھ ۹۸؎
 ۱۸۸۹ء میں سکاچ مشن سکول سیالکوٹ سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔۱۸۹۳ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ۔اے کی سند حاصل کی۔فلسفہ کے مضمون میں یونیورسٹی بھر میں اول رہا۔اور حکومت سے وظیفہ حاصل کیا۔ ۱۸۹۳ء ہی میں خالصہ ہائی سکول امرتسر میں سیکنڈ ماسٹر مقرر ہوا۔ ۱۸۹۶ء تک اس سکول میں رہا۔ ۱۸۹۶ء میں منصفی کا امتحان پاس کرکے اگلے سال منصف ہو گیا۔ ۱۹۰۶ء میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے عہدہ پر ترقی پا گیا۔ جولائی ۱۹۰۹ء میں قائم مقام ڈسٹرکٹ جج وایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مقرر ہوا۔




۴۹۔ محمد ابراہیم ۹۹؎ (۱۹۵۶ء ۔۱۸۷۴ئ)
سیالکوٹ کی بڑی عالم فاضل وبزرگ شخصیت ہے۔مستری قادر بخش کا لڑکا تھا۔ میان پورہ میں رہتے تھے۔ ابراہیم اپریل ۱۹۷۴ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔۲۰ برس کی عمر میں سکاچ مشن سکول سے انٹرنس کیا۔ مولوی سید میر حسن کے ذہین شاگرد تھے۔کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن والد کی خواہش پر کالج کی تعلیم چھوڑ دی۔ اور دینی تعلیم کے لئے سید میر حسن اور مولانا غلام حسن کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔ وزیر آباد کے حافظ عبد المنان سے علم حدیث حاصل کیا۔دینی علوم کے حصول کے بعد دین اسلام کی ترویج واشاعت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لینے لگے۔اس بات کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کہ ۱۹۱۵ء میںمسجد مستری قادر بخش میں ۲۱۸ اشخاص آپ کے ہاتھ پر مشرف با اسلام ہوئے۔ان نو مسلموں کی قومیت ’’شیخ شمسی‘‘ قرار دی۔۱۰۰؎
اقبال کے گہرے دوست تھے۔ اکٹھے سیر وتفریح کے لئے جایا کرتے تھے۔ اور مختلف مسائل پر بحث کیا کرتے تھے۔۱۰۱؎
۱۲ جنوری ۱۹۵۶ء کو سیالکوٹ میں انتقال کیا۔ متعدد دینی کتابوں کے مصنف ہیں۔حدیث پر مکمل جامع کتاب ’’تاریخ اہل حدیث‘‘ تحریر کی ہے۔
۵۰۔ محمد اسماعیل ۱۰۲؎
نام محمد اسماعیل تخلص ساغر،اردو میں شعر کہتے تھے۔ سراج الاخبار میں ان کا کلام شائع ہوتا تھا۔سیالکوٹ کے شعری محفلوں میں شرکت کرتے تھے۔اور اپنے کلام کی داد پاتے تھے۔ ۱۲ جون ۱۸۹۵ء کو بابو غلام حیدر سپرنٹنڈنٹ ڈی، سی آفس سیالکوٹ کے لڑکے احمد خان کی شادی ہوئی،اس موقع پر ساغر نے دس اشعار پر مشتمل ایک سہرا لکھا۔ اس کا آخری شعر ملا حظہ ہو:۔
ساغر زار کی اب تو ہے دعا یہ حق سے
 اے جواں بخت مبارک تجھی سر پر سہرا
۵۱۔ محمد باقر ۱۰۳؎ (۱۹۲۵ئ۔۱۸۷۹ئ)
سیالکوٹ شہر کی معروف شخصیت آغا شہباز خان کے پوتے اور آغا سردار محمد اکبر خان کے بڑے صاحب زادے ہیں۔ محمد باقر ۱۸۷۹ء کو سیال کوٹ میں پیدا ہوئے۔سکول میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۰۳ء سے ۱۹۱۱ء تک شہر کے اعزازی مجسٹریٹ رہے۔ ۱۹۰۵ء میں سیا لکوٹ اوراس کے قرب وجوار دیہاتوںمیں طاعون کی مہلک بیماری پھیلی۔آغا صاحب نے اس موقع پر لوگوں کی بڑی خدمت کی۔ حکومت نے ان کے اس فعل کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔اور تحریری طور پر تعریف کی۔ ۱۹۱۱ء سے ۱۹۲۳ء تک انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کے نائب صدر رہے۔ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ میں اعلیٰ خدمات کے صلے میں حکومت نے تعریفی سند دی۔
غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ان کا بہترین مشغلہ تھا۔کوئی سائل آتا یا دیکھتے کہ اس کی کوئی ضرورت ہے تو بلا تکلف قیمتی سے قیمتی چیز اس کی نذر کر دیتے۔اقبال کو ان کی یہ ادا بہت پسند تھی۔۱۰۴؎
آغا محمد باقر نے ۲۹ اگست ۱۹۲۵ء کو وفات پائی۔
اولاد: آغا محمد ناصر خان =۱۹۳۵ء ۔۱۸۹۹ء
۲۔ آغا ممتاز علی خان۔ ۱۹۵۵ء ۔۱۹۰۸
۳۔ ممتاز جان (دختر پ،) اکتوبر ۱۹۱۰ء بقید حیات ہیں۔
۴۔آغا سرفراز علی خان پ، ۱۰ نومبر،۱۹۱۳ء حیات ہیں
۶۔ نصرت سلطان (دختر) ۱۹۷۸ء ۔۱۹۱۸ء
۵۲۔ محمد تقی سید ۱۰۵؎ (۱۹۵۲ء ۔ ۱۸۷۲ئ)
مولانا سید میر حسن کے منجھلے صاحب زادے ہیں۔سکاچ مشن سکول میں اقبال سے چند جماعتیں آگے تھے۔ کبوتر بازی اور دوسرے کھیلوں میں اقبال کے ساتھی تھے۔
محمد تقی تقریبا ۱۸۷۲ء میں پیدا ہوئے۔سکاچ مشن سکول سے مڈل پاس کرکے لاہور کے میڈیکل سکول میں داخل ہو گئے۔ مگر چند ماہ کے بعد میڈیکل سکول کو خیر باد کہہ دیا۔ اور سلوتری سکول میں داخلہ لیا۔
۱۹۰۱ء میں آپ نے سلوتری سکول سے تین سال کا امتحان پاس کیا۔ اور ڈپلومہ حاصل کیا۔اور لاہور کے مذبح خانے سے سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے۔ملازمت کا سارا زمانہ لاہور میں گزارا۔ ۳۸۔۱۹۳۷ء میں ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ ۸ مئی ۱۹۵۲ء کو لاہور میں انتقال کیا۔
اقبال کے راز داں تھے۔ بڑی گہری دوستی تھی۔اقبال جب تعلیم کے لئے انگلستان گئے۔تو محمد تقی کو باقاعدہ خط لکھا کرتے تھے۔ اقبال کے ذریعے سر عبد القادر سے بھی دوستانہ روابط قائم ہوگئے تھے۔۱۰۶؎
۵۳۔ محمد ذکی سید۱۰۷؎ (۱۹۶۸ء ۔۱۸۷۴ئ)
مولوی سید میر حسن کے سب سے چھوٹے صاحب زادے تھے۔ ۱۸۷۴ء میں پیدا ہوئے۔ سکاچ مشن سکول سے انٹرنس کرنے کے بعد محکمہ ڈاک میں ملازمت اختیار کرلی۔ ملازمت کا سارا عرصہ سیالکوٹ ہی میں گزارا۔ ۱۹۱۹ء میں کچھ عرصہ کے لئے ان کا تبادلہ جموں ہو گیا۔ میر حسن ان کو بہت عزیز جانتے تھے۔اقبال کے بڑے گہرے دوست تھے۔ کھیل کود میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے۔ محمد ذکی نے ۱۹۶۸ء میں سیالکوٹ میں وفات پائی۔
۵۴۔محمد شہباز خان آغا۔۱۰۸؎ (۱۸۹۸ئ۔۱۸۰۸ئ)
گزشتہ صدی کے نصف آخر میں بڑی معروف اور ہر دل عزیز شخصیت تھی۔ اپنے پرائے سب قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔شہر کے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
آغا صاحب کے والد ماجد کا نام محمد رمضان تھا۔قزلباش گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔انیسوین صدی کے ابتدائی سالوں میں یہ گھرانا قبائلی علاقے میں آباد تھا۔شہباز خان قبائلی علاقہ میں ۱۸۰۸ء میں پیدا ہوئے۔ ۴۳ئ۔ ۱۸۳۹ء میں انگریزوں اور افغانوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ کے دوران شہباز خان اپنے خاندان کو چھوڑ کر ہندوستان میں آگئے۔ اور سیالکوٹ میں مستقل طور پر آباد ہو گئے۔
آغا صاحب پڑھے لکھے نہیں تھے۔ مگر قابل اور ذہین واقع ہوئے تھے۔پبلک ورکس کا شعبہ پہلے پی، ڈبلیو، ڈی ) پہلے فوج کے تحت ہوا کرتا تھا۔ آغا صاحب نے پہلے اس شعبہ میں بطور ایجنٹ کام کیا۔بعد میں باقاعدہ ملازمت اختیار کرلی۔ سب اسسٹنٹ اوورسئیر مقرر ہوئے۔ ۲۰ نومبر ۱۸۵۷ء سے ۱۹ اگست ۱۸۵۸ء تک ملتان ڈویژن میں کام کیا۔ہنگامہ ء آزادی میں اور اس کے بعد جس طرح مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔آغا صاحب انگریزوں کی ملازمت سے متنفر ہو گئے۔ اور پبلک ورکس کی چھ سالہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے۔ چیف انجئینر پنجاب نے اگست ۱۸۵۸ء کو ان کا استعفیٰ منظور کیا۔مستعفی ہونے کی وجہ سے آغا صاحب کا نا خواندہ اور اکاؤنٹس کا نہ جاننا بیان کیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے سیالکوٹ میں رہائش رکھی۔تعمیراتی کام شروع کیا۔سرکاری عمارتوں کی تعمیر کا کام ٹھیکہ پر کرنے لگے۔ ۱۸۶۲ء میں آغا صاحب نے سیالکوٹ صدر میں پادریوں سے دو کوٹھیاں خریدیں اور کچھ عرصہ بعد دو اور کا اضافہ کیا۔اسی عرصہ میں حلقہ اٹاری میں اراضی خریدی۔کوٹھی ہرنا رائین میں اراضی خریدی،بہت تھوڑے عرصے میں صاحب جائیداد بن گئے۔ مسلمانوں کے فلاح وبہبود کے کاموں میں حصہ لینے لگے۔خاص کر تعلیم کے میدان میں ان کی بڑی حوصلہ افزائی کی۔ ۱۸۹۱ء میں ضلع سیالکوٹ کے اینگلو ورنیکلر طلباء میں اول آنے والے طالب علم کے لئے انعام میں ایک میڈل مالیتی پندرہ روپے اور دس روپے خریداری کتب کے لئے دیئے۔ مسجد دو دروازہ کی مرمت پہلی بار ۱۲۶۹ء میں بہ زمانہ منشی بشارت علی تحصیل دار نے کرائی تھی۔ دوسری بار آغا صاحب نے ۱۳۰۶ ھجری میں یا اس کے قریب کسی سال میں بہ لاگت کثیر مرمت کرائی تھی۔
آغا صاحب ناخواندہ ہونے کی وجہ سے دست خط نہیں کر سکتے تھے۔ آخری عمر میں دستخط کرنے لگے تھے۔آپ نے ۴ مارچ ۱۸۹۸ء میں سیالکوٹ میں انتقال کیا۔ وفات کے دوسرے روز صبح آٹھ بجے نماز جنازہ ہوئی۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔شہر سیالکوٹ میں اڈہ شہباز خان ایک مشہور جگہ ہے۔ان دنوں ان کے پڑ پوتے آغا ذوالفقار خان اور آغا سرفراز علی خان رہائش پذیر ہیں۔آزادی وطن سے قبل شہباز خانمنزل سیاسی تحریکوں کا بہت بڑا مرکز تھے۔ آغا صاحب کی اولاد یہ ہے:۔
اولاد: ۱۔ آغا سردار خانا : عالم جوانی میں ۶ مارچ ۱۸۹۳ء کو وفات پائی۔
آغا محمد باقر: اور آغا صفدر ان کے صاحب زادے ہیں۔
۲۔ آغا محمد اصغر: عالم جوانی میں ۱۸ اگست ۱۸۹۶ء کو انتقال کیا۔
۳۔ شہزادی بیگم : ۱۹۳۵ء میں انتقال ہوا۔
۵۵۔محمد فیروز الدین ۱۰۹؎
 ڈسکہ کے رہنے والے تھے۔ مولوی امام دین کے لڑکے ہیں۔نسبا قریشی صدیقی ہیں۔پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل پاس کرکے محکمہ تعلیم میں مدرس کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ قرین قیاس ہے کہ میونسپل بورڈ وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول میں پہلی تقرری ہوئی۔گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ملازمت کا آغاز کیا۔اردو اور پنجابی میں شعر کہتے تھے۔ اور فیروز تخلص کرتے تھے۔عربی میں بھی فاضلانہ استعداد حاصل تھی۔اپنے دور کے بڑے مشہور شاعر تھے۔ الطاف حسین کی پیروی میں مسدس‘‘ اصلاح قوم کی تحریک کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی جو انجمن حمایت اسلام لاہور کے رسالہ بابت ماہ جون میں شائع ہوئی تھی۔۱۱۰؎
سیالکوٹ کے مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔قرآن مجید کے کچھ حصوں کا آپ نے منظوم ترجمہ بھی کیا تھا۔اردو لغت بھی مرتب کی تھی جو ’’فیروز لغات‘‘ کے نام سے تعلیمی حلقوں میں بڑی مقبول رہی۔فیروز الدین مولوی سید میر حسن کے گہرے دوست تھے۔ آپ نے ۱۹۱۳ء میں سیالکوٹ میں وفات پائی۔
۵۶۔محمود شاہ سید ۱۱۱؎ (پ،۱۸۷۲ئ)
سید حامد شاہ کے برادر خورد اور حکیم حسام الدین کے لڑکے ہیں۔ ۳ اکتوبر ۱۸۷۲ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے،جوانی ہی میں ۲۶ اکتوبر ۱۸۹۶ء کو اس دار فانی سے چل بسے۔۱۱۲؎۔تپ دق کاموذی مرض جان لیوا ثابت ہوا۔انجمن اسلامیہ سیالکوٹ کے قیام میں ان کی کوششوں کو بڑا دخل ہے۔انجمن کے ابتدائی اجلاس منعقدہ مارچ ۱۸۹۰ء میں آپ نے اسلام کے موضوع پر پر مغز تقریر کی تھی۔۱۱۳؎ ۔ محمود شاہ کے لڑکے عبدالاسلام دم ۔۱۹۶۰ء کرکٹ کے کھیل میں ملکی شہرت کے حامی تھے۔
۵۷۔ مولا مل
سیالکوٹ شہر کے اصل باشندے تھے۔ حصول تعلیم کے بعد ملازمت اختیار کرلی۔ ۱۸۶۹ء میں سکاچ مشن سکول گجرات میں انگریزی کے استاد تھے۔۱۱۴؎ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملازمت سے مستعفی ہونے کے بعد پھر پڑھنے لگے تھے۔ ۱۸۷۸ء میں سکاچ مشن سکول سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔۱۱۵؎ اس کے بعد دوبارہ محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔ گورنمنٹ اینگلو ورنیکلر مڈل سکول پسرور میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ان کی کوششوں سے پسرور کا مڈل سکول ہائی سکول بنا تھا۔ یہ ۱۸۹۱ء کے قریب کی بات ہے۔ پسرور کے بعد ان کا تبادلہ سیالکوٹ ہو گیا۔ اور ۱۵ اپریل ۱۸۹۲ء کو وکٹوریہ جوبلی سکول سیالکوٹ کے عارضی ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔۱۴ فروری ۱۸۹۳ء کو میونسپل کمیٹی کے اجلاس میں انہیں اس سکول میں مستقل ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا گیا۔اور ایک سوروپیہ ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی۔۱۱۶؎ 
انتظامی لحاظ سے آپ ایک مانے ہوئے ہیڈ ماسٹر تھے۔ لوگوں میں بڑے ہر دل عزیز تھے۔
۵۸۔میراں بخش
 میراں بخش مہاراجہ جموں کشمیر کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔ بعد میں وزیر خزانہ ہوئے۔خیانت کے جرم میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔بعد میں سیالکوٹ میں رہائش اختیار کی۔سیالکوٹ کی میونسپل کمیٹی کے ممبر منتخب ہوئے۔ ۱۸۹۴ء میں انجمن سلامیہ سیالکوٹ کے صدر تھے۔۱۱۷؎ اسی سال سیالکوٹ میں ڈپٹی نذیر احمد کے آنے کی خبر تھی۔شیخ صاحب نے بڑی مسرت کا اظہار کیا۔ اور اس موقع پر اپنی جانب سے دو ہزار روپیہ چندہ دیا۔۱۱۸؎ 
ضلع سیالکوٹ کے مسلمانوں نے ۴ اپریل ۱۸۹۷ء کو سیالکوٹ میں مکہ معظمہ کی ڈائمنڈ جوبلی بڑے شان دار طریقے سے منائی۔کئی ہزار کامجمع تھا۔ منشی غلام قادر، فصیح،بابو محبوب عالم سپرنٹنڈنٹ دفتر ڈپٹی کمشنر اور شیخ میراں بخش کی کوششوں سے یہ عظیم اجتماع منعقد ہو سکاتھا۔
شیخ صاحب کے لڑکے شیخ وزیر اللہ کی شادی ۱۸۸۶ء میں بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔میراں بخش جلوہ نے سہرا پڑھا۔۱۱۹؎
۵۹۔ میراں بخش جلوہ
قصاب برادری سے تعلق تھا۔ اصل نام میراں بخش اورتخلص جلوہ سیالکوٹی کرتے تھے۔ گزشتہ صدی کے ربع آخر میں اردو میں شعر کہتے تھے۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسوں میں نظمیں پڑھتے تھے۔اپنے زمانے میں سیالکوٹ کے بڑے معروف شخصیت تھے۔ شہر کی تقریبات میں ہمیشہ ہمیشہ پیس پیس رہتے تھے۔بڑے خوش خط تھے۔ سیالکوٹ کی ضلع کچپری میں وثیقہ نویس تھے۔ جہلم کے اخبار سراج الاخبار سیالکوٹ میں رپورٹر تھے۔ ۱۹۰۲ء کے دہلی دربار میں ان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔۱۲۰؎ وثیقہ نویسی کے بعد میراں بخش جلوہ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ۱۹۰۱ء میں آپ منشی رائے بنارسی داس سب جج کے منشی تھے۔۱۲۱؎ 
سکاچ مشن کے نئے کمروں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ۲۳ اپریل ۱۹۰۱ء کو میراں بخش جلوہ نے ایک نظم بھی پڑھی تھی۔۱۲۲؎
سیالکوٹ کی شہری محفلوں کی جان تھے۔ ان کا ایک لڑکا ۲۷ اپریل ۱۸۸۷ء کو پیدا ہوا تھا۔ غلام محمد شگفتہ نے سراج الاخبار کے شمارہ ۴ مئی ۱۸۸۷ء میں قطع تاریخ لکھا۔ یہ بچہ زیادہ دیر تک زندہ نہ رہ سکا۔ ۱۲ نومبر ۱۸۸۷ء کو چل بسا۔ دوسرا لڑکا اکبر علی جواں عمری میں ہی ۱۹۰۷ء میں چل بسا۔ جلوہ کو سخت صدمہ پہنچا۔ جلوہ کو اس کے احباب نے تعزیت نامے نظم ونثر دونوں میں لکھے۔جسے انہوں نے یاد گار اکبر کے نام سے طبع کروایا۔اس کتاب سے جلوہ کی تصانیف کا بھی پتہ چلتا ہے۔مثلا گلشن نعت،جلوہ حق، تھفہ جلوہ، نوحہ جات جلوہ، دیوان جلوہ۔
۶۰۔نور اللہ شاہ (۱۹۴۸ئ۔ ۱۸۶۳ئ)
 مولوی سید چراغ شاہ کے صاحب زادے ہیں۔ ۱۸۶۳ء کے قریب پیدا ہوئے اور ۱۹۴۸ء میں وفات پائی۔شاہ صاحب اردو ،فارسی اور پنجابی میں شعر کہتے تھے۔ سید نور محمد قادری نے ان کی تالیف ’’ چشم نور‘‘ ۱۹۷۹ء میں دوبار شائع کی۔ اس مجموعہ میں حجرت قاضی سلطان محمود صاحب کی منقبت میں نور اللہ کے فارسی،اردو اور پنجابی قصائد ہیں۔
۶۱۔نور الحسن نقشبندی
 محلہ خراسیاں سیالکوٹ میں ۱۸۶۰ء میں پیدا ہوئے۔ان کے والد مولانا محمد علی قادری بڑے پائے کے بزرگ تھے۔ نور الحسن نے ابتدائی کتب اپنے والد ماجد سے پڑھیں۔ کوٹلی لوہاراں کے مولانا عبد الرحمن سے فقہہ کی تعلیم حاصل کی۔ نور الحسن پنجابی کے اچھے شاعر تھے۔ ان کا کلام مولوی امام دین قادری (م،۱۹۶۱ئ) کی تصنیف نصرۃ الحق میں شامل ہے۔۱۲۳؎
۶۲۔نہال چند لالہ
 سیالکوٹ کے معروف وکیل تھے۔سرکاری طور پر ۱۳ اگست ۱۸۹۰ء سے بطورایدوکیٹ ان کا اجلاس ہوا۔ ان کی رہائش گاہ پر ۱۳ اکتوبر ۱۸۹۳ء کو نیشنل کانگرس کا جلسہ ہوا تھا۔۱۲۵؎ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نہال چند سیالکوٹ میں نیشنل کانگرس کو قائم کرنے والے تھے۔
۶۳۔ نہال سنگھ
 اپریل ۱۸۸۲ء میں سکا چ مشن سیالکوٹ سے لوئر پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ ۱۲۶؎ میونسپل بورڈ ہائی سکول سیالکوٹ سے ۱۸۸۹ء میں انٹرنس کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ اور بارہ روپے ماہوار وظیفہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ الفریڈ نابھہ جھنگ کا سولہ روپے ماہوار وظیفہ بھی حاصل کیا۔۱۲۷؎ ۔ سکاچ مشن کالج سے انٹر میڈیٹ کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم،اے عربی کی سند اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ بطور ڈپٹی کمشنر آپ کی تقرری ہوئی۔ بعد میں ریاست پٹیالہ کے وزیر مقرر ہوئے۔ حکومت نے سردار بہادر کے خطاب سے نوازا۔ مولوی سید میر حسن کے شاگرد تھے۔نہال سنگھ میر صاحب کی بڑی عزت وقدر کرتے تھے۔ اپنے استاد کی خاطر وتواضع کرنا اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے۔۱۲۸؎
۶۴۔ وزیر علی سید
بلگرام (اودھ) کے رہنے والے تھے۔ سید زادے تھے۔ پنجاب میں انگریزی حکومت کے ابتدائی دور میں دیوانی فوج داری اور مال کے محکموں کے لئے کچھ افسر یوپی (بھارت) سے لائے گئے تھے۔وزیر علی بھی ان میں سے ایک تھے۔ ۱۸۶۵ء میں ان کا تبادلہ سیالکوٹ ہوا تھا۔امور ضلع کا انتظام وانصرام بڑی حد تک ان کے سپرد تھا۔ بقول سید نذیر نیازی پہلی بار سیالکوٹ میں انہوں نے سنگر سلائی مشین منگوائی تھی۔۱۲۹؎
 شیخ اعجاز کے بیان کے مطابق رزق حلال پر گفتگو کے درمیان شیخ نور محمد نے بتایا کہ ڈپٹی وزیر علی کے ہاں کچھ عرصہ ملازمت کے بعد انہیں ذاتی تجربہ سے ا حساس ہوا کہ ڈپٹی صاحب کے ہاں پارچہ دوزی کاکام تو برائے نام تھا۔ یا اتنا نہیں تھا کہ ا نہیں ایک ایک ہمہ وقت خیاط کی ضرورت ہو۔ ہاں البتہ حاضر باشی اور مصاحبت کا کام زیادہ تھا۔
ڈپٹی صاحب کو تصوف سے لگاؤ تھا۔ اور اپنی فرصت کے اوقات میں وہ اکثر شیخ نور محمد سے اس موضوع پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ اسی بنا پر شیخ نور محمد کے دل میں ہیشہ یہ خلش رہتی کہ انہیں جو تنخواہ پارچہ دوزی کے لئے ملتی ہے۔ اس کا بیشتر حصہ رزق حلال نہیں۔ دو ایک مرتبہ ڈپٹی صاحب سے ترک ملازمت کی اجازت چاہی۔ لیکن ڈپٹی صاحب نے ٹال دیا۔ ایک دن انہوں نے شیخ نور محمد کے اصرار پر ان سے کہا کہ آپ کو ہمارے ہاں کوئی تکلیف ہو۔جو آپ یہ ملازمت چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اگر تکلیف بیان کر دی جائے تو اس کا ازالہ کر دیا جائے گا۔بہ عالم مجبوری شیخ صاحب نے اپنی دلی خلش کا اظہار کیا۔ جسے سن کر بہت متاثر ہوئے اور ترک ملازمت کی اجازت دے دی۔ جب شیخ نور محمد رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ملازم کو حکم دیا کہ سلائی مشین جو انہوں نے اپنے خرچ پر منگوائی تھی۔ شیخ نور محمد کے ہاں پہنچا دی جائے۔ مشین آخر ان کی ملکیت تھی۔ اس لیے شیخ نور محمد نے اعتراض کیا۔ وہ کہنے لگے مجھے تو اب اس کی ضرورت نہیں اور آپ کے کام کی چیز ہے۔ مزید برآں آپ ہمارا کام بھی تو کیا کریں گے۔۱۳۰؎
وزیر علی سیالکوٹ میں ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کے عہدہ پر فائز تھے۔ ڈپٹی صاحب کے نام سے مشہور تھے۔سیالکوٹ میں بارہ برس ملازمت کرنے کے بعد ۵۵ برس کی عمر میں ۴ اگست ۱۸۷۷ء کو ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔اور پنشن پائی۔۱۳۱؎
مقام اخبار رفاہ عام نے اپنے اخبار ۲۴ جون ۱۸۷۷ء کو اپنے اخبار کے مضمون میں ان کی شاندار خدمات اور ہر دل عزیزی کا بڑے اچھے لفظوں میں ذکر کیا ہے۔ پنجابی اخبار لاہور نے ۳۱ جولائی ۱۸۷۷ء کی اشاعت میں ان کا ذکر کیا ہے۔
قیاس ہے کہ سبکدوشی کے بعد ڈپٹی صاحب اپنے آبائی وطن واپس چلے گئے تھے۔ لیکن میونسپل کمیٹی سیالکوٹ کے رجسٹر پیدائش سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ایک لڑکا سید محمد علی تھا۔ سید محمد علی کے ہاں ایک لڑکا ۲۹ جون ۱۸۸۰ء کو پیدا ہواتھا۔ ڈپٹی وزیر علی صاحب کی حسن کارکردگی کی بنا پر حکومت نے ان کو خان بہادر کا خطاب دیا۔میونسپل کمیٹی سیالکوٹ نے ۱۸۸۷ء میں ڈپٹی وزیر علی صاحب کا مکان کرایہ پر لے کر ایک سکول قائم کیاتھا۔ ۱۳۲؎
جو گورنمنٹ ہائی سکول کی ابتدائی شکل تھی۔ ڈپٹی وزیر علی صاحب سے اب بھی ایک محلہ ڈپٹی صاحب اور ایک باغ ڈپٹی صاحب اب بھی سیالکوٹ میں موجود ہے۔
۶۵۔ہری سنگھ سردار
 سیالکوٹ چھاؤنی میں ہری سنگھ سردار کی رہائش تھی۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ آزادی کے دوران سردار ہری سنگھ نے انگریزوں کی بڑی مدد کی۔ اس کے صلے میں حکومت نے انہیں ۱۸۹۰ء میں تین سوپچاس ایکڑ اراضی بر لب دریا ئے راوی عطا کی۔۱۳۳؎سرگودھا اور لائل پور میں بھی ان کی اراضی تھی۔ جس سے ہزاروں روپے آمدنی ہوتی تھی۔۱۳۴؎
ہری سنگھ کو حکومت نے رائے بہادر کا خطاب بھی دیا تھا۔ سردار ہری سنگھ شہر کا ایک بہت بڑا امیر شخص تھا۔معاشرہ میں اے اعلیٰ مقام حاصل تھا۔اس کے دو لڑکے سردار شیر سنگھ اور سردار کھڑک سنگھ تھے۔ سردار شیر سنگھ فوج میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھا۔ اور حکومت نے اس کو بھی رائے بہادر کا خطاب دیا تھا۔ شیر سنگھ نے ۱۹۱۰ء کے لگ بھگ انتقال کیا۔ شیر سنگھ کے تین لڑکے سندر سنگھ، نرمل سنگھ، اور گوپال سنگھ تھے۔ اور دو لڑکیاں تھیں۔
۶۶۔ہیم راج
 سکاچ مشن سکول وکالج کے تعلیم یافتہ تھے۔ ۱۸۹۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی ،اے کیا۔۱۳۵؎ ۔ محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی۔ انسپکٹر آف سکولز کے عہدے سے سبک دوش ہوئے۔
مولوی سید میر حسن ان کو بہت چاہتے تھے۔ یہ بھی اپنے استاد کو بہت چاہتے تھے۔اور میر صاحب کو بہت عزیز جانتے تھے۔ میر حسن نے اپنے لڑکوں کے ساتھ ایک تسویر اتروائی تھی۔ ان کے ساتھ ہیم راج بھی تصویر میں شامل تھا۔۱۳۶؎
حواشی
اعزہ واقارب
۱۔زندہ رود  جاوید اقبال
۲۔ ایضا
دانائے راز سید نذیر نیازی
۳۔ بانگ درا ۔ والدہ مرحومہ کی یاد میں۔  ص۲۵۵
پورا شعر یوں ہے:
زندگی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہم
۴۔ بانگ درا۔والدہ مرھومہ کی یاد میں پورا شعر یوں ہے :
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تری خدمت کے جب قابل ہوا تو چل بسی
۵۔ صحیفہ،مجلس ترقی ادب لاہور
اکتوبر ۱۹۷۳ء ص ۳
۶۔ روایات اقبال
 ص۵۴
۷۔ ایضا 
ص ۶۶
۸۔ زندہ رود 
جاوید اقبال
۹،اقبال درون خانہ
 خالد نظیر صوفی ۔ص۱۵۵
زندہ رود ۔
 جاوید اقبال
۱۰۔ ایضا
ص۱۰،۱۱
۱۱ ایضا 
۱۱
۱۲۔ ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے:۔
۱۔روز گار فقیر۔
۲۔ زندہ رود ،جاوید اقبال
۳۔ اقبال درون خانہ ،خالد نظیر صوفی
۱۳۔ بانگ درا ۔۔ التجائے مسافر
 وہ میرا یوسف ثانی،وہ شمع محفل عشق
 ہوئی ہے جس کو اخوت قرار جاں مجھ کو
۱۴۔روایات اقبال ۔ص ۱۸۰،۱۸۱
15..Our India Mission . P. 151,164.
۱۶۔پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر۔۱۸۸۷ء ۱۸۸۶ء ص،۲۳۲، ۲۳۳، ۲۳۹،
۱۷۔ راقم کے نام وائس چانسلر ،یونیورسٹی آف رڑکی۔رڑکی بھارت کے سیکر تری مسز پال پی پی کا مکتوب۔محررہ ۲۲ دسمبر ۱۹۸۳ء
۱۸۔ مکاتیب اقبال، شیخ عطا اللہ، شیخ محمد اشرف کشمیری بازار لاہور
ص۵، مکتوب ۲  ص۶ مکتوب ۳
۱۹۔ اقبال ۔عطیہ بیگم، اقبال اکادمی کراچی، ۱۹۵۶ء ص۳۴
۲۰۔رجسٹر اموات۔میونسپل کمیٹی سیالکوٹ ۔حوالہ نمبر ۲۲۱۵
۲۱۔شیخ عطا محمد صاحب کے خطوط۔مرتبہ سید حامد جلالی نقوی۔کراچی ستمبر ۱۹۶۹ء
۲۲۔ اقبال درون خانہ ۔خالد نظیر صوفی ،ص ۱۸،۱۹
۲۳۔ رشیدہ بیگم ،بیگم آفتاب اقبال حال مقیم ۳۳ ماڈرن ہاؤسنگ سوسائٹی۔ ٹیپو سلطان روڈ کراچی نمبر ۸ نے مدد دی۔ بیگم صاحبہ نے چند دستاویزات بھی بھیجی تھیں۔ جن کی مدد سے ان کے حالات مرتب کرنے میں سہولت پیدا ہوئی۔اس کے علاوہ علامہ اقبال اور ان کی پہلی بیوی سے بھی مدد لی گئی ہے۔
۲۴۔ رشیدہ بیگم ،بیگم آفتاب اقبالکراچی نے مدد کی۔ علامہ اقبال اور ان کی پہلی بیوی سے بھی مدد لی گئی۔
۲۵۔زندہ رود   جاوید اقبال
۲۷۔  ایضا   ص۴۲
اقبال درون خانہ ص۱۵۸،۱۵۹
۲۸۔ رشیدہ بیگم، بہو علامہ اقبال کراچی نے مدد کی ہے۔ تفصیلات کے لئے دیکھیے : علامہ اقبال اور ان کی پہلی بیوی:۔
۲۹۔ زندہ رود جاوید اقبال
۳۰۔ ایضا  ص۱۰،۱۱،۱۲، ۱۸
۳۱۔  ایضا
 ۳۲۔  ایضا
۳۳۔  ان ماخذوں سے مددلی گئی
زندہ رود ۔جاوید اقبال
 دانائے راز۔سید نذیر نیازی
 روزگار فقیر ۔فقیر سید وحید الدین
 اقبال۔ عطیہ بیگم
علامہ اقبال اور ان کی پہلی بیوی
رجسٹر پیدائش واموات ۔میونسپل کمیٹی سیالکوٹ
۲۔ سکول اور کالج کے ساتھی
ا، مڈل کے ساتھی کے لئے دیکھیے: پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء پارٹ تھری ،ص ۲۷۰
ب : انٹرنس کے ساتھی کے لئے دیکھیئے:۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۳ء پارٹ تھری ،ص ۶۹۱
اوراس کے بعد
ج۔ انٹرمیڈیٹ کے ساتھی کے لئے دیکھیئے:۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۵ء پارٹ تھری ،ص ۹۴۸ اوراس کے بعد رجسٹر داخل کارج مرے کالج سیالکوٹ۔
۱۔یاد رفتگان ۔احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ۔س ن ۔حصہ اول ،ص۱۴۰
۲۔ دانائے راز ۔سید نذیر نیازی ،ص۷۵
۳۔ایضا    ایضا
۴۔ روایات اقبال۔ ص۱۹
۵۔ عنایت اللہ کے منجھلے لڑکے ملک فضل الرحمن حال مقیم وزیر آباد نے زبانی ھالات بتائے تھے۔
۶۔ فضل الہیٰ کی دختر بیگم سلمیٰ تصدق حسین نے انٹرویو کے دوران اپنے والد کے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ اس کے علاوہ بیگم صاحبہ کا راقم کے نام ایک مکتوب محررہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۳ء کلام بیدل بیگم صاحبہ کے بھتیجے ڈاکٹر محمد شریف پسر عبد الرشید نے مہیا کیا ہے۔
۷۔ یاد رفتگان ۔لاہور ص۱۴۰
۸۔ پنجاب گزٹ اور رجسٹر داخل خارج مرے کالج کے علاوہ ان اصحاب سے معلومات حاصل کیں:۔
۱۔ایس،ایس البرٹ۔ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر وائی ،ایم ،سی اے لاہور۔
۲۔ جے ایف الہیٰ ۲۵۴ [ اے ون گلبرگ تھری لاہور
۳۔ شادی رجسٹر سکاچ مشن بارہ پتھر سیالکوٹ
۹۔ بھارت کے اردو انگریزی اخبارات میں مراسلے شائع کروائے تھے۔ سردار کرتار سنگھ چیمہ ،حال مقیم ۱۷۸ ماڈل ٹاؤن لدھیانہ نے ہند سماچار جالندھر کا شمارہ ،۲۱ اپریل ۱۹۸۳ء میں میرا مراسلہ اقبال پر تحقیق میں مدد کیجیئے پڑھ کر حالات لکھ کر ارسال کیے اور اخبار کا تراشہ بھی بھیجا۔
۱۰۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۳ء پارٹ تھری ص ۶۱۹
۱۱۔ یاد رفتگان لاہور ص ۹۸ پر درج ہے کہ سولہ سال کی عمر میں میٹرک پاس کرکے میڈیکل کالج لاہور سے ایل، ایم،ا یس ۱۸۹۹ء میں کیا۔ جب کہ سکاچ مشن کالج سیالکوٹ کے رجسٹر داخلہ میں ان کا داخلے کا اندراج ہے۔
۱۳۔۱۲۔خطوط اقبال، مرتبہ رفیع الدین ہاشمی۔مکتبہ خیابان ادب لاہور ۱۹۷۶ء ص۱۳۶
۱۴۔ ان کو پروفیسر محمد دین بھٹی مرے کالج سیالکوٹ نہ سمجھ لیا جائے۔پروفیسر بھٹی ۱۳ فروری ۱۸۸۲ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ اور ان کا انتقال ۱۹۷۵ء میں ہوا۔
۱۵۔اقبال کی پہلی جماعت کا نتیجہ ،اقبال ریوویو لاہور ۔جولائی ۱۹۸۳ء
۳۔ سکا چ مشن کے پادری واساتذہ
۱۔ روایات اقبال  ص۱۶،۱۷
۲۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۶ء ص۱۲۳
۳۔  ایضا  ۱۸۷۷ء ص۱۲۳
۴۔ ایضا   ۱۸۷۳ء  ص۱۲۹
۵۔ مس انجلا مارکس ،ایدوکیٹ لاہور ہائی کورٹ لاہور نے معلومات فراہم کیں۔
۶۔ رپورٹ ۱۸۹۶ء ص ۱۲۰
۷۔ لاگ بک سکاچ مشن سکول سیالکوٹ گوجرانوالہ۔
۸۔ ایضا
۹۔سراج الاخبار ۔ ۴ نومبر ۱۹۰۱ء
۱۰۔ سراج الاخبار ۶ جنوری ۱۸۹۰ء
۱۱۔ اقبال اکادمی پاکستان لاہور کے لائبریرین مسٹر ڈینیل بی مل نے کچھ معلومات فراہم کیں۔
۱۳۔کلکتہ یونیورسٹی کیلنڈر ۔۱۸۷۲، ۷۳ ء کلکتہ ۱۸۷۱ئ ص۳۴۵
۱۳۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۳ء ص۱۲۷
۱۴۔ ایضا   ۱۸۶۸ء  ص ۱۰۹
۱۵۔ایضا  ۱۸۷۰ء ص۱۶۰
۱۶۔ ایضا  ۱۸۷۳ء ص ۴۷۹  
۱۷۔ ایضا   ۱۸۷۲ء ص۱۳۶ 
۱۸۔ ایضا  ۱۸۷۵ء ص ۲۳۴۔۲۳۵
۱۹۔ روایات اقبال ص۱۹۲۔صحیح نام پربھوداس سنگھ ہے۔ سکاچ مشن کی رپورٹوں میں یہ نام ہے۔
۲۰۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۸ء ص۱۴
۲۱۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۸ء ص۱۰۶
۲۲۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۳ء ص۱۲۵
۲۳۔ رجسٹر اموات مملوکہ سکاچ مشن بارہ پتھر
۲۴۔روایات اقبال ص۱۹۲
۲۵۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۵۷ئ۔۱۸۵۸ء
 المشیر راولپنڈی جنوری مارچ ۹۷۷اء ص۵۹،۸۳ سے مدد لی گئی ہے۔
26.Record of the intelligence Depart ment During the mutiny of 1857 , Sir Willin  MUIR,  EDiN BURGH ,1902. Vol,11,1..384
27.. MUtiny Records.Reports, Lahore  1911.P. 277. 278. 288.
۲۸۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
۲۹۔ رجسٹر تنخواہ مملوکہ مرے کالج سیالکوٹ
۳۰۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۶ء ص۱۳۰
۳۱۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۷ء ص۹۷،۹۸
۳۲۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۸۹ء ص۱۰۹
۳۳۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۰ء ص۱۲۲
۳۵، سراج الاخبار ۸ فروری ۱۸۸۶ء
۳۶، سراج الاخبار ۱۱ جون۱۸۸۴ء
۳۷، سراج الاخبار ۲۹ نومبر ۱۸۸۴ء
۳۸۔ رپورٹ ۔پہلی جماعت پاس کرنے کا نتیجہ
۳۹۔ رپورٹ سکاچ مشن اپنڈکس ۱۲۔۱۳
۴۰۔رپورٹ سکاچ مشن اپنڈکس د۲،تین، ۱۱۳
۴۱۔ رپورٹ سکاچ مشن اپنڈکس ۱۸۶۹ء ص۱۱۶،۱۸۷۰ء ص ۹۷
۴۳۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۲ء سیالکوٹ میڈیکل مشن کی پہلی سالانہ رپورٹ ۔ص ۱۳۸۔
۴۴۔ ریاست چمبہ کی آبادی ۲ لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔مشن نے ۱۸۶۵ء میں یہاں اپنی شاخ قائم کی تھی۔
۴۵۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۹۳ء ص۱۲۰
46. Diretory of GRADUATES of the University of the Punjab , Calcutta . 1919 .p.53.
۴۷۔ لاگ بک رپورٹ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
۴۸۔ ایضا 
۴۹۔ مکتوب مولوی سید میر حسن بنام سید محمد عبد اللہ طالب علم مشن کالج لاہور
محررہ ۲۸ فروری ۱۹۰۹
۵۰۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
۵۱۔ ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے۔
رپورٹیں سکاچ مشن ۱۸۶۸ء ۱۸۷۴ء
 المشیر راولپنڈی جنوری مارچ ۱۹۷۷ء
۵۲۔ سکاچ مشن کی ان رپورٹوں سے مدد لی گئی ہے۔ ۱۸۸۸ء ۱۸۸۹ء ۱۸۹۱ء ۱۸۹۶ء
۵۳،سکاچ مشن کی رپورٹیں ۱۸۶۰ء سے ۱۸۶۹ء تک
۵۴۔ مرے کالج میگزین،میر حسن نمبر،حصہ انگریزی ص۱۱
55. Report of the punjab Conerence held at Lahore ,In December Jan, 1862..63. Lodiana 1863
56.Fastel Ecclesiae, H  , Scott   D D
Edinburgh, 1928, Vol.11. 705
۵۷۔ مرے کالج میگزین۔میر حسن نمبر ص۱۱،۱۲۔
 اور سکاچ مشن کی رپورٹیں ۱۸۹۱ء سے ۱۸۹۶ء تک
۵۹۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
 ۶۰۔ ایضا 
۶۱۔ ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے:۔
۱۔ رپورٹ سکاچ مشن،۱۸۸۴ء ۱۸۸۵ء ۱۸۹۲ء ۱۸۹۳ء ۱۸۹۴ء
۲۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
111. The Church of Scotland Home and Foregin  Mission  Record , May 1895, P.130
لاگ بک
۶۳۔ ڈاکٹر محمد جمال بھٹہ حال مقیم ملتان نے انٹر ویو کے دوران معلومات فراہم کی تھیں۔
لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ اور رجسٹر تنخواہ مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول سٹی سیالکوٹ سے بھی مدد لی گئی ہے۔
۶۴۔ قومی زبان کراچی۔مارچ ۱۹۸۲ء ص۱۷،۲۵
۶۵۔ ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے:
۱۔رپورٹ سکاچ مشن،۱۸۷۷ء ۱۸۷۸ء ۱۸۷۹ء ۱۸۸۱ء ۱۸۸۴ء ۱۸۸۷ء ۱۸۸۸ء
۲۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
۶۶۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ۔۶۷۔ رجسٹر تنخواہ مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول صدر
۶۸۔ سیالکوٹ کے سابق بشپ ولیم جی ینگ کے مضمون سے مدد لی گئی ہے۔ جو انگریزی میں المشیر راولپنڈی جنوری ،مارچ ۱۹۷۷ء ص۵۹ سے ۸۴ پر۔۔۔۔۔
Our Young Conuert کے نام سے چھپا تھا۔
۲۔سکاچ مشن کی رپورٹیں ۱۸۶۲ء سے ۱۸۷۴ء تک
۳۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ
۶۹۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ۔رپورٹ ۳۰ جنوری ۱۸۶۹ء
۷۰۔ تفصیل کے لئے دیکھیئے راقم کی تالیف:
علامہ اقبال کے استاد شمس العلماء مولوی سید میر حسن (حیات وافکار) اقبال اکادمی پاکستان لاہور ۱۹۸۱ء
۷۱۔لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ رپورٹ ۶،۷ اگست ۱۸۹۱ء
۷۲۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۔۹۵۔۱۸۹۴ء ص۳۷۰
۷۳۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ رپورٹ ۱۸۹۳ء
۷۴۔ المشیر راولپنڈی جنوری ،مارچ ۱۹۷۷ء ص۶۰
۷۵۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۱ء ص۶
۷۶۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۲ء ص ۱۲
۷۷۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۷ء ص ۲۰۔ ۱۸۶۸ء ص۱۰۶
۷۸۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۹ء ص ۱۲۳
المشیر راولپنڈی ۱۹۷۷ء ص ۶۹
۷۹۔ لاگ بک، رپورٹ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ۔ص۸۰
۲۔ رپورٹ سکاچ مشن،۱۸۹۰ء ۱۸۹۱ء ۱۸۹۳ء ۱۸۹۴ء ۱۸۹۵ء
۸۱۔ راقم کے نام ایڈنبرگ یونیورسٹی ،ایڈن برگ کا مکتوب محررہ یکم مئی ۱۹۸۴ء
۸۲۔سکاچ مشن کی رپورٹیں ۱۸۷۴ء سے ۱۸۸۵ء تک اور
Fasti Ecelesiae .H, Scot ,Vol. v11.p. 695
علامہ اقبال کے استاد شمس العلماء مولوی سید میر حسن (حیات افکار القلوب) اقبال اکادمی پاکستان لاہور۔ ۱۹۸۱ء
۷۱۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ۔رپورٹ ۶ ،۷ اگست ۱۸۹۱ء
۷۲۔پنجابیونیورسٹی کیلنڈر۔۱۸۹۴ء ۔۱۸۹۵ء ص۳۷۰
۷۳۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ۱۸۹۳ء
۷۴۔ المشیر راولپنڈی جنوری مارچ ۹۷۷اء ص۶۰
۷۵۔ رپورٹ سکاچ مشن ہائی سکول ۱۸۶۱ء ص۶
۷۶۔ رپورٹسکاچ مشن ۱۸۶۲ء ص۱۲
۷۷۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۷ء ص۲۰،۱۸۶۸ء ص۱۰۶
۷۸۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۶۹ء ص۱۲۳
 المشیر راولپنڈی ۱۹۷۷ء ص ۶۹
 لاگ بک ۔ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ۔۸۰
۲۔ رپورٹ سکاچ مشن ،۱۸۹۰ء ۱۸۹۱ء ۱۸۹۳ء ۱۸۹۴ء ۱۸۹۵ء
۸۱۔ راقم کے نام ایڈن برگ یونیورسٹی ،ایڈن برگ کا مکتوب محررہ یکم مئی ۱۹۸۴ء
۲۸۲۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۴ء سے ۱۸۸۵ء تک اور
Fasti Ecciesiae, H,Scot Vol.v11, P,695
83. Report of the Indian Education Commision , Calcutta P, 638
۸۴۔مرے کالج میگزین،میر حسن نمبر ۲
۸۵۔لاگ بک ،۲۔ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ۔
86. Dirextory of the Graduates of the punjab University P. 48
۸۷۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۔۹۴،۱۸۹۳ء ص۳۷
۸۸۔سراج الاخبار ۱۹ اپریل ۱۹۰۱ء
۸۹۔ ۲۔ رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۵ء ص۱۳۰
۹۰۔ ان ماخذوں سے مدد لی گئی ہے۔
سکاچ مشن کی رپورٹیں ۱۸۷۶ء سے ۱۸۹۶ء تک
11.Fasti Eccesiae
دیگر ہم عصر اور نمایاں شخصیات
۱۔رجسٹر مملوکہ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ
۲۔دانائے راز سید نذیر نیازی ص۷۴
۳۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ۔۱۸۹۵ء ۱۸۹۴ء ص۲۵۹
۴۔ سراج الاخبار ۔۲۸ مئی ۱۸۹۴ء
۵۔ سراج الاخبار ۔ ۲۴ جنوری ۱۸۸۷ء
۵۔اخبار عام۔۳ جون ۱۸۹۰ء
6. Directory og Graduates of the punjab University  . P. 120.
۷۔ مرے کالج میگزین سیالکوٹ ۔جلد نمبر ۱،۲ دسمبر ۱۹۱۵ء
۸۔ مرے کالج میگزین سیالکوٹ ۔جلد نمبر ۱،۶،اپریل ۱۹۱۶ء
پنجاب گزٹ ۱۸۸۰ء پارٹ ٹو ص۱۹۱
۹۔ مرے کالج میگزین ،میر حسن نمبر،حصہ انگریزی ص۲
۱۰۔ حیات طیبہ عبد القادر ص۲۹
۱۱۔ مرے کالج میگزین جلد ۱نمبر۵ مارچ ۱۹۱۶ء ص۱۶
۱۲۔سراج الاخبار ،۴ مئی ۱۹۰۹ء
۱۳۔سراج الاخبار ،۱۱ مئی ۱۹۰۹ء
۱۴۔ اقبال ریویو اقبال اکادمی کراچی جنوری ۱۹۶۳ء ص۱
۱۵۔ امروز لاہور۔ اقبال نمبر ۱،۲۱، اپریل ۱۹۸۱ء
۱۶۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر۔۱۸۷۸ء ۱۸۷۷ء ص۱۲۷
۱۷۔۱۲۔سراج الاخبار ،۱۴ مارچ ۱۸۹۸ء
۱۸۔ تحدیث نعمت ،محمد ظفر اللہ خان،ڈھاکہ ۱۹۷۱ء ص۱۲۰
۱۹۔ لاگ بک ۔ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ۔ رپورٹ ۸ مئی ۱۸۷۷ء
۲۰۔۱۸۔ تحدیث نعمت ،محمد ظفر اللہ ص۱۲۳،
۲۱۔ رجسٹر اموات میونسپل کمیٹی سیالکوٹ۔حوالہ نمبر ۵۲۳
۲۲۔ روایات اقبال ص۴۵
۲۳۔ روایات اقبال ص۴۶
۲۴۔ معاصرین اقبال کی نظر میں۔محمد عبد اللہ قریشی ص۲۳۴
۲۵۔ معاصرین اقبال کی نظر میں۔محمد عبد اللہ قریشی ص۲۴۱
۲۶۔علامہ اقبال کے استاد شمس العلماء مولوی سید میر حسن ص۱۵
۲۷۔علامہ اقبال کے استاد شمس العلماء مولوی سید میر حسن ص۱۴
۲۸۔ دانائے راز ۔سید نذیر نیازی ص۷۶
29. Journalism in Pakistan. ABDUSSALAM ,Khurshid Lahore. 1964.P.71,
 30.............Do......................P,71
۳۱۔سراج الاخبار ۱۶ جون ۱۸۹۰ء
۳۲۔سراج الاخبار ۱۶ جون ۱۸۹۰ء
۳۳۔سراج الاخبار یکم فروری ۱۹۰۴ء
۳۴۔ رجسٹر مملوکہ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ
۳۵۔ رجسٹر اموات میونسپل کمیٹی سیالکوٹ
36.6. Directory og Graduates of the punjab University  .  P107.
 ۳۷ رجسٹر تنخواہ مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ صدر
۳۸۔ مولوی سید میر حسن ص۲۷،۲۸،
39.Oyr India Mission. P.151.164
۳۸۔ مولوی سید میر حسن ص، ۲۰۲،۲۰۳،۲۰۴،
۴۱۔ان ماخذوں سے مدد لی گئی۔
۴۲۔ ۱۔تواریخ سیالکوٹ،عبد الصمد غلام، صمدی پریس رنگ پور، سیالکوٹ
۲۔ ثمرہ مراد ۔عبد الصمد غلام محمد، در مطبع صمدی سیالکوٹ ۱۸۷۱ء
 ۳۔ نالہء غربا ، مطبع صمدی سیالکوٹ ۱۲۷۹ء
۴۲۔ کشمیر میگزین ،جلد ۱نمبر ۳، مارچ ۱۹۰۶ء ص۳
۴۴۔ عشق پیچہ کے پڑ پوتے خواجہ سلیم بٹ صدر پاکستان ٹرانسپورٹ ورکرز یونین،دفتر پنجاب ڈرائیور ریسٹ ہاؤس۔اڈہ بادامی باغ لاہور نے سرسری معلومات فراہم کی ہیں۔
۴۴۔ سراج الاخبار ۔ ۳جون ۱۸۹۵ء
۴۵۔نقوش لاہور۔مکاتیب نمبر،جلددوم،نومبر۱۹۵۷ء س۵۰۸
۴۶۔ رجسٹر پیدائش میونسپل کمیٹی سیالکوٹ نمبر ۱۱۶۵
۴۷۔ تاریخ دربار دہلی ۱۹۱۱ء
۴۸۔تفصیلات کے لئے دیکھیئے،مولوی میر حسن ص:۲۲۰،۲۲۵
۴۹۔ان ماخذوں سے مدد لی گئی۔
۱۔مولوی سید میر حسن :ص۱۷
۲۔نقوش لاہور اقبال نمبر جلد ۲شمارہ ۱۲۳، دسمبر۱۹۷۷ء ص۱۵
۳۔رجسٹر اموات۔میونسپل کمیٹی سیالکوٹ حوالہ ۵۱۳
۵۰۔ سراج الاخبار ۱۵ اکتوبر ۱۸۹۴ء
۵۱۔ سراج الاخبار ۱۶ ستمبر ۱۸۹۵ء
۵۲۔ مولانا غلام حسن کے پڑ پوتے جسٹس محمد منیر فاروقی صاحب،حال مقیم شاد مان لاہور نے انٹر ویو کے دوران تفصیلی حالات سے آگاہ کیا۔
۵۳۔روایات اقبال ،ص۷
۵۴۔ منشی غلام قادر فصیح اور ان کی ا دبی خدمات۔محمد صادق متعلم ایم،اے ۱۹۷۲ء جامعہ پنجاب سے مدد لی گئی ہے۔اس کے علاوہ : مولوی سید میر حسن ۔ص۲۱۰
۵۵۔ دانائے راز۔ سید نذیر نیازی ص۲۷۸
۵۶۔ مولوی سید میر حسن ص۲۱۰،۲۱۱
۵۷۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ ۔رپورٹ ۶ اپریل ۱۸۸۲ء
58;  Directory of Graduates .P. 38
۵۹۔ سراج الاخبار   ۹ مئی ۱۸۸۷ء ص۷
۶۰۔ نقوش لاہور،مکاتیب نمبر جلد ۲ ص ۸۰۵
۶۱۔رجسٹر پیدائش میونسپل کمیٹی سیالکوٹ حوالہ نمبر ۵۰۰
۶۲۔مولوی سید میر حسن ص۱۵۸
۶۳۔ علمائے ساہووالہ (سیالکوٹ) کا ایک غیر مطبوعہ تذکرہ ۔ص ۳۵
۶۴۔سراج الاخبار دسمبر ۱۹۰۴ء
۶۵۔سراج الاخبار ۲۷ مارچ ۱۷۸۸ء
۶۶۔ گلدستہ سخن مطبع انجمن پنجاب لاہور۔اپریل ۱۸۸۷ء نمبر ۵، ص۹
۶۷۔ تحدیث نعمت ص۱۹۶
۶۸۔ تحدیث نعمت ص ۶
۶۹۔ سراج الاخبار ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء
۷۰۔ سراج الاخبار ۱۸ اکتوبر ۱۸۸۶ء
۷۱۔ تحدیث نعمت ص۶
۷۲۔ سراج الاخبار ۲۸ مارچ ۱۸۸۶ء
۷۳۔مرے کالج میگزین ،میر حسن نمبر،حصہ انگریزی ص،۶
مولوی سید میر حسن۔ ص۲۱۲، ۲۱۳، ۲۱۴،
۷۴۔ دانائے راز سید نذیر نیازی
۷۵۔ مرے کالج میگزین جلد ۱نمبر ۵۔مارچ ۱۹۱۶ء ص۱۶
۷۶۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۲ئ۔پارٹ تھری ص۵۸۱
77. Directory of Graduates . P..62
۷۸۔ مرے کالج میگزین ،جلد ۱نمبر ۵، مارچ ۱۹۱۶ء ص۱۶
۷۹۔ راقم کے نام پنڈت مایا دھاری پسروری ،حال مقیم مکان نمبر ۱۶/۲۰۲ گلی نمبر ۷ جوشی روڈ قرول باغ۔دہلی (بھارت) کا مکتوب محررہ ۱۰ ستمبر ۱۹۸۱ء
۸۰۔ مرے کالج میگزین،میر حسن نمبر ص۱۴،(حصہ انگریزی)
۸۱۔ سراج الاخبار ۱۵ جنوری ۱۹۱۷ء
۸۲۔ درج ذیل ماخذوں سے مدد لی گئی ہے۔
سراج الاخبار  ۱۵ جنوری ۱۹۱۷ء
محمد عبد اللہ قریشی کا کہنا ہے کہ گلاب سنگھ قصور کا رہنے والا تھا۔ثبوت میں وہ کوئی تحریر پیش نہیں کر سکے۔ محمد الدین فوق وغیرہ سے انھوں نے ایسا سنا تھا،لیکن راقم کے خیال کے مطابق وہ سیالکوٹ شہر کا تھا۔
۸۳۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء ،پارٹ تھری ص ۶۱۸،۶۱۹
۸۳۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء ،پارٹ تھری ص ۵۴۹
84. Punjab Educational EXhibition , Lahore  . 1903 . P.4
۸۵۔ مرے کالج میگزین ،میر حسن نمبر ،حصہ انگریزی ۔ص ۴،۵،۶
۸۶۔ سراج الاخبار ۔ ۱۲ اگست ۱۹۰۱ء
۸۷۔ سیالکوٹ دسٹرکٹ گیزیٹر
۸۸۔ اخبار عام ۔۳جون ۱۸۹۰ء
۸۹۔ سراج الاخبار ۔ ۱۲ اگست ۱۹۰۱ء
۹۰۔ اخبار عام ۳۰ جون ۱۸۹۰ء
۹۱۔ دانائے راز ۔سید نذیر نیازی ص۶۷
۹۲۔ روایات اقبال ۔ص ۱۹۹، ۲۰۰
۹۳۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر ، ۵۹، ۱۸۹۴ء ص۲۹۱
۹۴۔ سراج الاخبار  ۱۹ نومبر ۱۹۰۴ء
۹۵۔ مولوی سید میر حسن ص۱۲
۹۶۔ سراج الاخبار  ۲۰ جولائی ۱۸۸۸ء
۹۷۔ رجسٹر اموات ،میونسپل کمیٹی سیالکوٹ ،حوالہ نمبر ۷۱۷
۹۸۔ مرے کالج میگزین جلد ۱،نمبر ۲ دسمبر ۱۹۱۵ء ص ۱۳
۹۹۔ مولوی سید میر حسن ص۱۹۶، ۱۹۷
۱۰۰۔ سراج الاخبار  ۲۱ مئی ۱۹۱۵ء
۱۰۱ ۔ دانائے راز  ص۱۷
۱۰۲۔ سراج الاخبار  یکم جولائی ۱۵۹۸ء
۱۰۳۔محمد باقر سے متعلق آغا ذوالفقار علی خان،اڈہ شہباز خان سیالکوٹ نے معلومات فراہم کیں۔
۱۰۴۔ دانائے راز ،سید نذیر نیازی۔ص۷۱
۱۰۵ ۔ مولوی سید میر حسن ص۲۲۶
۱۰۶۔ دانائے راز ص ۲۰۶
۱۰۷۔ مولوی سید میر حسن  ص ۲۲۶،۲۳۰
۱۰۸۔آغا ذوالفقار علی خان سیالکوٹ نے معلومات فراہم کی ہیں۔
۱۰۹۔ مولوی سید میر حسن ص۱۸۷
۱۱۰۔ رسالہ انجمن حمایت اسلام،جلد ،۱ نمبر ۶، ص۵
۱۱۱۔مولوی سید میر حسن ص ۱۶
۱۱۲۔ رجسٹر اموات میونسپل کمیٹی سیالکوٹ حوالہ نمبر ۱۱۶۸
۱۱۳۔سراج الاخبار ۔۲۴ مارچ ۱۸۹۰ء
۱۱۴۔رپورٹ سکاچ مشن ۱۸۷۰ء ص۱۶۵۔
۱۱۵۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر۔۱۸۸۳ء ۸۴ ، ص۲۹۹
۱۱۶۔ سراج الاخبار ۱۳ مارچ ۱۸۹۳ء
۱۱۷۔ سراج الاخبار ۱۹ فروری ۱۸۹۴ء
۱۱۸۔ سراج الاخبار ۲۳ اپریل ۱۸۹۴ء
۱۱۶۔ سراج الاخبار ۲۹نومبر ۱۸۶۸ء
۱۱۷۔ سراج الاخبار ۱۹ فروری ۱۸۹۴ء
۱۱۸۔ سراج الاخبار ۲۳ اپریل ۱۸۹۴ء
۱۱۹۔ سراج الاخبار ۲۹ نومبر ۱۸۸۶ء
۱۲۰۔ سراج الاخبار یکم فروری ۱۹۰۴ء
۱۲۱ ۔ سراج الاخبار ۱۵ اپریل ۱۹۸۱ء
۱۲۲۔ سراج الاخبار ۲۹ اپریل ۱۹۰۱ء
۱۲۳ ۔کھوج اورنٹئیل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور،جلد ۴ نمبر ۱، جولائی ۱۹۸۱ء ص۳۹
۱۲۴۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۲ء پارٹ تھری ص ۱۲۴
۱۲۵۔ سراج الاخبار ، ۳۰ اکتوبر ۱۸۹۳ء
۱۲۶۔ لاگ بک،سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ،رپورٹ ۶ ،اپریل ۱۸۸۲ء
۱۲۷۔ پنجاب یونیورسٹی کیلنڈر۔ ۱۸۹۰ء ،۱۸۸۹ء ص ۲۵۴،۲۵۷
۱۲۸۔ مولوی سید میر حسن ص۲۱۷،۲۱۸۔
۱۲۹۔ دانائے راز ۔ص ۱،۲ فٹ نوٹ
۱۳۰ ۔ زندہ رود جاوید اقبال ص۵۱، ۵۲
۱۳۱ ۔پنجابی اخبار،لاہور جلد ۱۳،نمبر ۳۰، ۲۱ جولائی ۱۸۷۷ ء
۱۳۲۔ سراج الاخبار ۲۴ جنوری ۱۸۸۷ئ۳ ۱۳۳۔ اخبار عام لاہور ۸ اپریل ۱۸۹۰ء
۱۳۴۔ راقم کے نام پنڈت مایا دھاری پسروری کا مکتوب محررہ ۸ ستمبر ۱۹۸۱ء
135. Directory of GRaduates . P. 49
۱۳۶۔ مولوی سید میر حسن ،ص ۲۱۸
باب۶
 سکول وکالج کا نصاب
۱۔ اردو کا قاعدہ ۔پہلی کچی جماعت کے لئے۔
۲۔ پہلی جماعت پاس کرنے کی رپورٹ ۔۸ اپریل ۱۸۸۵ء
۳۔ اردو کی پہلی کتاب
۴۔ اردو کی تیسری کتاب
۵۔ چوتھی جماعت کی انگریزی کی کتاب کا اردو ترجمہ
۶۔ آٹھویں جماعت کی اردو کی کتاب
۷۔ تحفۃ الادب
۸۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۱ء پارٹ تھری مڈل کا نتیجہ
۹۔ مڈل کی پنجاب یونیورسٹی کی سند
۱۰۔ مقدمۃ الصرف ۔انٹرنس کے لیے
۱۱۔ مختصر تاریخ ہند
۱۲۔ درخواست وفارم برائے امتحان انٹرنس ۱۸۹۳ء
۱۳۔ امتحانی پرچہ انٹرنس انگریزی اے
۱۴۔ امتحانی پرچہ انٹرنس انگریزی بی
 ۱۵۔ امتحانی پرچہ انٹرنس ریاضی اے
۱۵۔ امتحانی پرچہ انٹرنس ریاضی بی
۱۷۔ امتحانی پرچہ انٹرنس تاریخ
۱۸۔ امتحانی پرچہ انٹرنس جغرافیہ
۱۹۔ امتحانی پرچہ انٹرنس فارسی اے
۲۰۔ امتحانی پرچہ انٹرنس فارسی بی
۲۱۔ امتحانی پرچہ انٹرنس عربی اے
۲۲۔ امتحانی پرچہ انٹرنس عربی بی
۲۳۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۳ء پارٹ تھری انٹرنس کا نتیجہ
۲۴۔انٹرنس کی سند پنجاب یونیورسٹی
۲۵۔ نصاب انٹر میڈیٹ انگریزی
۲۶۔ نصاب انٹر میڈیٹ انگریزی
۲۷۔ نصاب انٹر میڈیٹ انگریزی
۲۸۔نصاب انٹر میڈیٹ انگریزی
۲۹۔نصاب انٹر میڈیٹ انگریزی
۳۰۔درخواست وفارم برائے امتحان انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ء
۳۱۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ء انگریزی اے
۳۲۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ء انگریزی بی
۳۳۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ ریاضی اے
۳۴۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ ریاضی بی
۳۵۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ء عربی اے
۳۶۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ء عربی بی
۳۷۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۱۸۹۵ء فلاسفی اے
۳۸۔ امتحانی پرچے انٹر میڈیٹ ۹۵ ۱۸ء فلاسفی بی
۳۹۔ پنجاب گزٹ ۱۸۹۵ء پارٹ تھری انٹر میڈیٹ کا نتیجہ
۴۰۔ انٹر میڈیٹ کی سند پنجاب یونیورسٹی
۴۱۔شیخ عطا محمد برادر اقبال کے سلسلے میں رڑکی یونیورسٹی کا ایک خط
۴۲۔ نکاح نامہ
۴۳۔ اقبال کے خسر شیخ عطا محمد ڈاکٹر خان بہادر کی ریاست مالیر کوٹلہ میں خدمات کا اعتراف ،نواب کی طرف سے۔
۴۴۔ تصویر شیخ عطا محمد خان بہادر
۴۵۔ تصویر کریم بی بی زوجہ اقبال بنت ڈاکٹر شیخ عطا محمد
۴۶۔ جان ٹیلر کا ملتان سے مکتوب اپنے صدر دفتر کو محررہ ۱۰ مارچ ۱۸۶۰ء
۴۷۔ رابرٹ پیٹرسن کا سیالکوٹ پہنچنے پر صدر دفتر کو مکتوب ،محررہ ۲۹ مارچ ۱۸۶۰ء
۴۸۔ سکاچ مشن کی رپورٹ ۱۸۹۰ء
 سکا چ مشن کالج کے قیام کا ذکر
۴۹۔ سکاچ مشن کی رپورٹ مئی ۱۸۶۶ء سیالکوٹ سٹی میں امریکن مشن کا خاتمہ اور سکاچ مشن سکول سٹی کا اجراء
۱۵۰۔ اپر پرائمری سکول سرٹیفکیٹ ۱۸۹۴ء
٭٭٭
کتابیات
کتب
۱۔اقبال عطیہ بیگم اقبال اکادمی کراچی ۱۹۵۶ء
۲۔ اقبال درون خانہ خالد نظیر صوفی بزم اقبال لاہور ۱۹۷۱ء
۳۔بانگ درا شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور جولائی ۱۹۵۷ء
۴۔تاریخ پسرور  ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین سنگ میل پبلیکیشنز لاہور ۸۱ء ۱۹۱۱ء
۵۔ تاریخ دربار دہلی  
۶۔ تاریخ سیالکو ٹ ر شید نیاز سیالکوٹ۱۹۵۸ء
۷۔ تحدیث نعمت محمد ظفر اللہ خان ڈاھاکہ۱۹۷۱ء
۸۔ تواریخ سیالکوٹ عبد الصمد غلام محمد 
۹، ثمرہ مرادعبد الصمد غلام محمد مطبع صمدی سیالکوٹ  ۱۸۷۱ء
۱۰،چند یادیں ،چند تاثرات   
۱۱۔  حیات جاویدالطاف حسین حالی 
۱۲۔ حیات طیبہ  شیخ عبد القادر گجراتی پرنٹر وپبلشرز   ۱۹۶۰ء
۱۳، خطوط اقبال رفیع الدین ہاشمی مکتبہ خیابان ادب لاہور ۱۹۷۶ء
۱۴،دانائے راز سید نذیر نیازی اقبال اکادمی لاہو  ۱۹۷۹ء
۱۵۔رپورٹ مجموعی انتظام ممالک پنجاب۱۶/۱۸۶۱ ۸۳/۱۸۸۲ء
   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۔ رجسٹر اموات ۔سیالکوٹ میونسپل کمیٹی
۱۷۔ رجسٹرپیدائش ۔سیالکوٹ میونسپل کمیٹی۔
۱۸۔ رجسٹر تنخواہ مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سٹی
۱۹۔ رجسٹر تنخواہ مملوکہ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سٹی۔صدر
۲۰۔ رجسٹر داخل خارج امریکن مشن سکول سیالکوٹ مملوکہ سکاچ مشن سکول سیالکوٹ سٹی
۲۱۔ رجسٹر داخل خارج مرے کالج سیالکوٹ
۲۲۔ روایات اقبال۔ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی،مجلس ترقی ادب لاہور ۱۹۷۹ء
۲۳۔روز گار فقیر فقیر سید وحید الدین کراچی ۱۹۶۶ء جلد اول
۲۴۔زندہ رود  جاوید اقبال۔شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۷۹ء جلد اول
۲۵۔شیخ عطا محمد کے خطوط مرتبہ سید حامد جلالی نقوی کراچی ستمبر ۱۹۶۹ء
۲۶۔علامہ اقبال کے استاد ۔شمس العلماء مولوی سید میر حسن (حیات وافکار)
ڈاکٹر سید سلطان محمود حسین اقبال اکادمی لاہور ۱۹۸۱ء
۲۷۔ علامہ اقبال اور ان کی پہلی بیوی مرتبہ سید حامد جلالی نقوی ۔کراچی۔
۲۸۔ کلاسیکی ادب کا تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر وحید قریشی ،مکتبہ ادب جدید لاہور ۶۵ء
۲۹۔ لاگ بک سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ مملوکہ تھولا جیکل سیمینٹری گوجرانوالہ
۳۰۔ معاصرین اقبال کی نظر میںمحمد عبد اللہ قریشی ۔مجلس ترقی ادب لاہور
۳۱۔ مکاتیب اقبال  شیخ عطا محمد لاہور ۱۹۵۱ء
۳۲۔ مکتوب مولوی سید میر حسن بنام سید محمد عبد اللہ لاہور
۳۳۔ملک العلماء علامہ عبد الحکیم مع تواریخ سیالکوٹ محمد دین فوق
۳۴۔ منشی غلام قادر فصیح اور ان کی ا دبی خدمات۔
۳۵۔نالہء غربا عبد الصمد غلام محمد صمدی پریس سیالکوٹ ۱۲۷۹ء
۳۶۔ ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں) محمد عتیق صدیقی انجمن ترقی اردو ہند علی گڑھ ۔۱۹۵۷ء
۳۷۔یاد رفتگاناحمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور
اخبارات
۱۔اخبار عام۔ لاہورمارچ ۱۸۸۴ء اپریل ،جون ،اگست
۲۔ امروز لاہور ۲۱ اپریل ۱۹۸۱ء ۱۶ فروری ۱۹۸۱ء
۳۔ پنجابی اخبار لاہور ۱۸۷۷ء
۴۔رہبر ہند لاہور مارچ ۱۸۹۵ء
۵۔ سراج الاخبار ،جہلم ۱۸۷۷ء سے ۱۹۱۷ء تک
رسائل
۱۔اقبال ریویو اقبال اکادمی پاکستان لاہور جولائی ۱۹۸۳ئ 
۲۔ المشیر کرسچین سٹڈی سینٹر راولپنڈی جنوری ،مارچ ۱۹۷۷ئ 
۳۔ اورنٹیل کالج میگزین پنجاب یونیورسٹی صد سالہ نمبر ،لاہور ۱۹۸۲ء جلد ۵۸
۴۔ رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور جلد۱۱ نمبر۶ 
۵۔صحیفہ مجلس ترقی ادب لاہور اکتوبر ۱۹۷۳ئ 
۶۔ قومی زبان انجمن ترقی اردو کراچی ۱۹۶۷ء ۱۹۸۲ئ 
۷۔ کشمیر درپن ستمبر ۱۹۰۳ء
۸۔ کشمیری میگزین مارچ ۱۹۰۶ئ 
۹۔ گلدستہ سخن مطبع انجمن پنجاب لاہور اپریل ۱۸۸۰ئ 
۱۰۔ مرے کالج میگزین مرے کالج سیالکوٹ ،۱۹۱۵ء ۱۹۱۶ء ۱۹۳۸ئ 
۱۱۔ مرے کالج میگزین مرے کالج سیالکوٹ ، میر حسن نمبر جنوری ۱۹۲۰ئ 
۱۲۔ نقوش لاہور مکاتیب نمبر جلد ۲ نومبر ۱۹۵۷ئ 
۱۳۔ نقوش لاہور اقبال نمبر جلد ۲ دسمبر ۱۹۷۷ئ 


 اختتام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔The End



0 comments:

تبصرہ تحریر کریں: