Tuesday, 9 June 2015

مہم کاروں کی تربیت

داستانوں کے ساتھ مسئلہ یہی نہیں کہ وہ افسانہ ہیں بلکہ اصل دشواری یہ تلاش ہے کہ ان میں حقیقت کتنی ہے اور غیر حقیقی عنصر کتنا ۔ ایک داستان کالج کی تعلیم بیچ میں چھوڑنے والے ایک جوڑے کے بارے میں یوں ہے کہ انھیں ایک دن اچانک گیرج میں کوئی خیال آیا یا انھوں نے رات بھرجاری پزاپارٹیوں کے دوران کوئی خفیہ کوڈ وضع کیا اور دنیا بدل ڈالی۔
ہاں یہ حقیقتاََ ہواہے۔ہمارے سامنے’’ ایپل‘‘ سے لے کر ’’فیس بک ‘‘تک ایسی مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ لیکن اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کسی اچھے خیال کو تجارتی سچائی میں تبدیل کرنا ہنرمندی اورعلم کے ایک محتاط مجموعے کا تقاضہ کرتاہے جن کے سیکھنے کی بہترین جگہیں بالعموم ایسی درسگاہیں ہیں جن میں مہم کاری کے مبہم تصور پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
مہم کارانہ مسابقت

امریکی مہم کاری سے متعلق تعلیم کا ایک نمایاں وصف یہاں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے منعقد کروائے جانے والے مقابلوں کی تعداد اور اقسام بھی ہے۔ مثال کے طورپر مساچیوسٹس کے بَیب سن کالج میں طلبہ ایک سالانہ ’’راکٹ پچ‘‘ مقابلے میں شریک ہوتے ہیں جس میں شرکا کو تین منٹ کا وقت دیا جاتا ہے۔ اس قلیل وقت میں انھیں اپنی بات کہنے کے لئے تین پاور پوائنٹ سلائڈس کے استعمال کی اجازت تو ہوتی ہے مگر وہ کوئی سوال نہیں کرسکتے۔ ا س کالج کے’ انٹرپرینرتھَوٹ اینڈ ایکشن بی ای ٹی اے چیلنج‘ میں زیادہ وسیع اوربڑی نمائندگی ہوتی ہے اورفائنل میں۲۰۰۰۰ڈالر کا انعام بھی دیا جاتاہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کالج مقابلوں میں حصہ لینے والے کتنے اندراجات پائدارتجارت میں تبدیل ہوتے ہیں لیکن ان سے اس چیز کی جھلک ضرور مل جاتی ہے کہ نمایاں طورپر متنوع میدانوں میں کس طرح مہم کاری پر مبنی تعلیم نمایاں اختراعی ہیئت اختیار کر لیتی ہے۔ اسٹرن اسکول کے سوشل وینچر مقابلے میں۵۰۰۰۰ڈالر کا انعام جیتنے والی کمپنی نیوٹرا سیوٹیکل مارکیٹ سولوشنس ہے جس کی پہلی مصنوعات ایسی گولی ہے جو روایتی طور پر آئرن کی تکمیل کے لئے دی جانے والی ادویات سے بہتر ہے اور جسے حاملہ ہندوستانی عورت کے جسم میں آئرن کی مقامی کمی کی کاعلاج کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سان انٹونیو ٹیکنالوجی وِنچر مقابلے میں لیٹوسولوشنس کو ایک لاکھ ڈالر کا انعام ملا ۔انعام یافتہ لیٹو سولوشنس کی ٹیم میں آٹھ طلبہ تھے جنھوں نے ایک ایسا ابتدائی نمونہ تیار کیا ہے جومصنوعی اعضا کے لئے حرارتی برقی کولنگ سسٹم کا استعمال کرتا ہے اور اس طور پر جلد کی چھوت والی بیماری اور پھپھولوں کا اندیشہ کم ہو جاتا ہے۔ لیکن لیٹو نے یہ مقابلہ صرف اس ٹیکنالوجی کے بَل پر نہیں جیتا بلکہ اس کے پاس انتہائی ہوشیاری سے تیارشدہ تجارتی منصوبہ بھی تھا کہ کمپنی اپنی اس اختراع کوکس طرح ایک منافع بخش تجارت میں تبدیل کرے گی۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے میں مہم کاری سے متعلق لیسٹر سنٹرکے بی پلان مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو سیلی کون ویلی کے مہم کاروں سے سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں اوروہ تمسکات میں سرمایہ لگانے کے خواہش مند حضرات کے سامنے اپنے خیال یا مصنوعات کی نمائش کر سکتے ہیں۔ —ہاورڈ سنکوٹا
افزائش پزیر صنعت
پچھلی دہائی میں مہم کاری سے متعلق کورس کروانے والے امریکی اسکولوں کی تعداد میں بے شمار اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مسوری کے کَینسس میں واقع کَوف مین فاؤنڈیشن نے دریافت کیا ہے کہ امریکہ کے ۲۰۰۰کالجوں اوریونیورسٹیوں میں مہم کاری کی تدریس کا نظم ہے ۔یہ تعداد پورے ملک میں قائم تعلیمی اداروں کی تعداد کی دوتہائی کے برابر ہے۔عالمی سطح پر بات کریں تو۲۰۱۲ کی عالمی مہم کاری نگرانی رپورٹ کے تخمینے کے مطابق ۵۴ ملکوں میں تقریباََ ۴۰۰ ملین مہم کار سرگرمِ عمل ہیں۔
مہم کاری سے متعلق ہم عصر تعلیم نے نہ صرف ترقی کی ہے بلکہ بزنس اسکول کی اپنی شناسا سرحدوں سے باہربھی پھیل چکی ہے۔ اوریہ اس حدتک ہوا ہے کہ پہل کرنے اور جوکھم مول لینے جیسے مہم کار رویے اب لبرل آرٹس اورسائنس کے مختلف نصابوں کے علاوہ انجینئر نگ ،ڈاکڑی اور وکالت کی پیشہ ورانہ پڑھائی میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
مساچیوسٹس کے ویلسلی میں بَیب سن کالج میں مہم کار ڈیویزن کی سربراہ کَینڈیڈابَرَش کاکہنا ہے کہ اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ مہم کاری کا اصل نصاب بنیادی طورپر وہی ہے جوپہلے تھایعنی اب بھی ساری توجہ اسی چیز پرمرکوزہے کہ کوئی کاروبار کیسے شروع کیااورچلایاجائے،تجارت کامنصوبہ کیسے بنایاجائے اوراپنے کاروبار کو کیسے بڑھایاجائے۔
بے یقینی کا درس
ہارورڈ بزنس اسکول میں مہم جوئی کی تعریف’’ وسائل کی حد سے باہر موجود امکانات کا تعاقب کرنے‘‘کے طور پر کی گئی ہے۔ ہارورڈ میں برنس پروفیسر ٹومس ایزینمن کے مطابق یہ تشکیل ایسی متعدد خوبیوں کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتی ہے جن سے مہم کاری دیگر قسم کی تجارتی سرگرمیوں سے ممتازنظر آتی ہے۔
بہ الفاظ دیگرمہم جوئی میں بہت زیادہ فائدے کا امکان تو موجود ہے مگر اس کے لئے لازمی طور پر بڑا جوکھم اٹھانا ہوگا اور شدید مقابلے اور بے یقینی کی دنیا میں رہنا ہوگا۔
بَیب سن نے اس جوکھم بھری بے یقینی والی دنیا کواپنے بنیادی نصاب میں شامل کر لیا ہے جسے تمام طلبہ کے لئے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اسے مہم کاری سے متعلق افکار اور اقدام کا نام دیا گیا ہے۔ اس کورس میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ طلبہ کو اپنے کا م میں لازمی طور پر دو قسم کی منطق استعمال کرنی ہے۔ ان میں سے ایک تو قیاسی منطق ہے جومعروف مالیاتی تحقیق ،اعداد وشمار کے تجزیے اور عسکری منصوبہ بندی پر مشتمل ہے۔ مگرطلبہ کو ان چیزوں کو لازمی طور پر تخلیقی منطق کا استعمال بھی سیکھنا چاہئے۔ بَرَش کے مطابق طلبہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حاصل شدہ موقع میں کیا شرط پوشیدہ ہے جس کا مطلب بغیر کسی موجود معیار کے ایک نئی تکنیک کی موجودگی یا کوئی سماجی معاملہ ہے۔ طلبہ کو ذاتی مشاہدے کی تکنیک بھی سیکھنی چاہئے۔اور بشری تحقیق اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ بالکل جداگانہ پس منظر والے لوگوں کو سمجھنا اور ان سے باتیں کرنا بھی ایسی چیزیں ہیں جن کو سیکھا جانا چاہئے۔‘‘
اس طرح کی ہنرمندیوں کامجموعہ صرف بزنس کے طالب علموں تک مشکل سے محدود ہے۔ مثال کے طورپر بَیب سن کالج میں مینجمنٹ میں ایک سال کا ایسا ماسٹر ڈگری کورس شروع کیا گیا ہے جس میں مہم کارانہ قیادت پر توجہ مرکوزہے۔یہ کورس خاص کر لبرل آرٹس کے ایسے طالب علموں کو ذہن میں رکھ کرشروع کیا گیا ہے جودیگر شعبوں میں انڈرگریجویٹ ڈگری حاصل کررہے ہیں۔
ایک مشاورتی فرم ملینیل برینڈنگ کے مینیجنگ پارٹنر ڈَین شاوبیل کاکہنا ہے کہ آج روزگارکی منڈی میں قدم رکھنے والے تقریباً ہر شخص کے لئے مہم کاری کاپس منظراہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ اقتصادی تبدیلیوں اورعالمی مقابلے کا مطلب یہ ہے کہ کسی روزگارمیں ابتدائی مرحلے میں داخل ہونے کے لئے اپنے کالج کی ڈگری سے کام چلانے کا پرانہ طریقہ فرسودہ ہوتا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ باتنخواہ انٹرنشپ بھی اس شرح پر کل وقتی ملازمت کی راہ ہموارنہیں کرتی جس شرح پر پہلے کیا کرتی تھی۔
ان تمام مسائل کاواحد حل مہم کاری ہے۔اپنے بلاگ پرڈَین نے لکھا ہے ’’تیز طرار کمپنیاں یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ اگرانھوں نے اختراعی راہ اختیار نہیں کی تومستقبل قریب میں ان کا وجود باقی نہیں رہے گا۔نئے مہم کاروں کوملازمت دے کر وہ جائے ملازمت میں نئے تناظر اور جواں نظریات کو جگہ دیتی ہیں۔‘‘


ہاورڈ سنکوٹا امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ قلم کار اور مدیر ہیں۔

0 comments:

تبصرہ تحریر کریں: