Tuesday, 9 June 2015

مغرب کس طرح اپنی نئی نسل کو کتاب دوست بنانے کیلئے کام کر رھا ھے؟

قلم کار مواد کو سہل اور دلچسپ بنانے پر کمربستہ
دوسری عالمی جنگ کے دوران لوئی زَیم پرینی جن تجربات سے دو چار ہوئیں ان میںبحرالکاہل میں ایک طیارہ کا حادثے کا شکار ہونا ، ۴۷ دنوں تک سمندر میں پھنسے رہنا اور جنگی قیدیوں کے ایک کیمپ میں دو سال تک قید رہنا وغیرہ شامل ہیں۔ مگر جس چیز نے انھیں صحیح معنوں میں ہلا کر رکھ دیا وہ جاپانی گارڈ کے ذریعہ ایک زخمی بطخ کو اذیت دے کر مار ڈالنا تھا۔  اس واقعہ کو جب لَورا ہِلین برانڈ نے اپنی مقبول کتاب ’غیر شکستہ‘ میں رقم کیا تو اس کی وجہ سے بہت سے قارئین بھی صدمہ سے دوچار ہوئے۔ اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے جب لَورا نے نوجوان قارئین کے لئے اپنی کتاب کے ایڈیشن کو تیار کیا تو اس میں زخمی بطخ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ اس کا جواز انھوں نے ان الفاظ میں پیش کیا’’ مجھے معلوم ہے کہ اگر میری عمر ۱۲ برس ہوتی اور یہ چیز میری نظر سے گزرتی تو میں بھی پریشان ہو جاتی ۔‘‘ نوجوانوں کے پڑھنے کے لائق ناولوں کی پھلتی پھولتی ہوئی منڈی سے تحریک لے کربڑی تعداد میں سوانح نگار اورتاریخ نویس اپنی تخلیقات میںتبدیلی کر کے انھیں نوجوان قارئین کے سامنے پیش کرنے کے لائق بنا رہے ہیں۔ہِلین برانڈکی طرح ہی جان میچم اور رِک ایٹ کِن سَن بھی اس سوال کا حل تلاش کرنے کی تگ و دو کرر ہے ہیں کہ کس طرح کچے ذہن کے نئے قارئین کا دل جیتنے کے لئے اپنی کتابوں سے اس اضطراب خیز یا متنازع مواد کو نکالا جائے۔اس طرح مقبولِ عام غیر افسانوی کتب کے مختصر ، سہل اور دلچسپ نئے ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں اور یہ چیز پھلتا پھولتا ، فعال اور منافع بخش کاروبار بنتی جا رہی ہے۔  ناشرین نے بازار میں اس نوع کی کتابوں کا انبار لگادیا ہے۔میچم نے حال ہی میں بچوں کے لئے اپنی پہلی کتاب شائع کی جو دس برس اور اس سے زائد عمر کے قارئین کے لئے ہے ۔ ۷۵۹ صفحات پر مشتمل تھومس جیفرسن کی سوانح حیات کو انھوں نے نئے قارئین کے لئے پھر سے لکھا ہے۔’ ایتھینیم بُکس فار ینگ ریڈرس ‘ نے اولیور اسٹون اور پیٹر کوزونِک کی متنازع اور ترمیم پسند کتاب ’ دی ان ٹولڈ ہسٹری آف دی یونائیٹیڈ اسٹیٹس ‘ ،جو ۷۵۰ صفحات پر مشتمل ہے ،کو پانچویں اور نویں جماعت کے طلبہ کے لئے چھاپنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ یہ کتاب تصویروں سے بھری ہوئی ہے اور چار جلدوں پر مشتمل ہے ۔  ’ مارک کرلنسکی ‘نے(نومبر ۲۰۱۴میں) دس سال یااس سے اوپر کی عمر کے بچوںکے لئے منجمد کھانوں کی صنعت کے پیش گام کلیرنس برڈس آئی کی ۲۰۱۲میں شائع شدہ سوانح کے دس سے زیادہ ایڈیشن جاری کئے۔ وہ اپنی خوب بکنے والی غیر افسانوی کتابوں ’ کَوڈ‘ اور ’ سالٹ ‘ (اب بازار میں دستیاب )کو بچوں کے لئے با تصویر ایڈیشنوں کی صورت میں پہلے ہی چھاپ چکے ہیں ۔  ۱۳ برس سے کم عمر کے بچوںکے لئے کتابیں لکھتے وقت تاریخی بیانیہ کے ڈرامے اور باریک پہلوؤں کو ملحوظِ خاطر رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ میچم نے بتایا کہ جیفرسن کے اپنی غلام سیلی ہیمنگس کے ساتھ جنسی تعلقات کو بیان کرنے کے طریقہ ٔ کار پرناشر کے ساتھ ان کی طویل بحث ہوئی۔میچم کہتے ہیں ’’ پانچویں یا چھٹی جماعت کے کسی طالبِ علم کے سامنے آقا اور غلام کے درمیان ناجائز جنسی تعلقات کے معاملے کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے کہ بات پوری دیانت داری کے ساتھ کہہ بھی دی جائے اور بیانیہ بچوں کے اعصاب پر گراں بھی نہ گزرے۔ زیادہ بڑے بچوں کے لئے یہ بہت مشکل کام ہے۔    ایٹ کِن سَنکی دوسری عالمی جنگ کی تاریخ پر لکھی گئی کتاب ’ دی گَنس اَیٹ لاسٹ نائٹ ‘سے اخذ کرکے۸ سے ۱۲برس کی عمر کے بچوں کی خاطر تیار کی گئی ان کی حالیہ کتاب ’ڈی ڈے‘ سے نارمنڈی کے ساحلوں پر ہوئے اجتماعی قتل کے بیان کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے  ایٹ کِن سَن کہتے ہیں ’’ بے شک اس سے کتاب کا اثر تھوڑا کم ہوا مگر اس حصے کو تو کتاب سے حذف کرنا ہی تھا۔‘‘ مگر ان رکاوٹوں کے باوجود اس قسم کی اور کتابیں اس سال منظرِ عام پر آ رہی ہیں ۔ ان میں نوجوان قارئین کے لئے ترتیب دی گئی ڈینیٔل جیمس براؤن کی۱۹۳۶میںامریکی بجرا رانی کی ٹیم کے برلن اولمپکس دورہ سے متعلق سب سے زیادہ فروخت ہونے و الی کتاب ’ دی بوائز اِن د بوٹ‘ ،اینڈریو سولومن کاایسے خانوادوںکے بیان پر مشتمل طویل اور جذباتی مطالعہ’فار فروم د ٹری‘جہاں بچے بہرہ پن، بونا پن ، ذہنی طور پر جزوی یا مکمل معذوری اور پراگندہ ذہنی کا شکار ہوتے ہیںاور سوزن کین کی شرمیلے انسانوں پر مشتمل سب سے زیادہ بکنے والی ’کوائٹ‘ شامل ہیں۔ ’کوائٹ‘ کے بالغوں کے لئے تیارشدہ ایڈیشن میںتوجہ شرمیلے افراد کو دفاتر میں اور بطور والدین درپیش مشکلات پر جب کہ بچوں کے مخصوص ایڈیشن میں توجہ اس بات پرہے کہ اسکول اور غیر نصابی سرگرمیوں سے شرمیلے نفوس کیسے نمٹیں۔  اس کے باوجود بعض ماہرِ تعلیم و خواندگی اس پر سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا بالغان میں بہت زیادہ مقبول کتابوں کے بچوں کے لئے مخصوص ایڈیشن کی اشاعت کی سچ مچ ضرورت ہے ؟ وہ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا بنیادی طور پر یہ خیال درست ہے ؟ جب بچوں کے لئے مخصوص ایڈیشن دستیاب نہیں ہوتے تھے اس وقت بھی کتب بینی کے شوقین بچے بالغان کے لئے لکھی گئی کتاب اٹھا لیا کرتے تھے۔ اب بھی بہت سے بچے یہی کرتے ہیں ۔  نیش ویلے میں ایک سرکاری اسکول میں مہتمم ِ کتب خانہ کے عہدے پر فائز انجیلا فریڈرِک کے خیال میں’’ اونچی سطح پر پڑھنے  والا ۱۹ برس سے کم کا کوئی سمجھدار بچہ ان کتابوں کے بالغوں کے لئے لکھے گئے ایڈیشن کو شاید ڈھنگ سے پڑھ سکتا ہے۔‘‘  بعض لائبریرین بچوں کو زبردستی ایسی کتابیں پڑھنے کودے دیتے ہیں جو بالغوں کو ذہن میں رکھ کر لکھی گئیں۔ایسا وہ کتابوں کے بچوں کے ایڈیشن دستیاب ہونے کی صورت میں بھی کرتے ہیں اگر انھیں لگتا ہے کہ بچوں کے ایڈیشن میں چیزوں کوضرورت سے کچھ زیادہ ہی سادہ بنا دیا گیا ہے۔   ینگ اڈلٹ لائبریری سروسیز ایسو سی ایشن کے صدر کِرِس شو میکر نے بتایا’’ اگر وہ لوگ تنازعات سے دست کشی کرتے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ۱۹ برس سے کم عمر کے یہ نوجوان بعض مقابلتاََ بڑے خیالات کو جذب کرنے کے اہل نہیں ہیں تو ہم لوگ ایسے قارئین کو بالغوں کے لئے لکھے گئے ایڈیشن پڑھنے کو دیتے ہیں ۔‘‘  بچوں کے پڑھنے کے لائق مواد کی اشاعت والے میدان میں آنے والے غیر افسانوی مصنفین انتہائی بااثر ناول نگاروں جیسے جیمس پیٹر سن، جان گری شم ، کارل ہائسین اور ڈیوڈ بالڈکی کی پیروی کر رہے ہیں جو بچوں کے لئے مخصوص کتاب منڈی میں طبع زاد ناولوں کے ساتھ پہلے سے موجود ہیں ۔ یہ لوگ مالی منفعت کے بھی درپے ہیں۔ اس وقت اشاعتی صنعت مجموعی طور پر کساد بازاری کا شکار ہے مگر اس کے باوجود بچوں کے لئے کتابوں کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی ایک وجہ بچوں کی کتابوں میں بڑوں کی دلچسپی بھی ہے جو ’’ ہیری پَوٹر‘‘ اور ’’ ہنگر گیمس‘‘ سیریز کو بڑے انہماک سے پڑھتے ہیں ۔  بچوں اور نیم بالغوں کے لئے لکھی گئی کتابوں سے حاصل ہونے والے مالیہ میں ۲۰۱۴ کی پہلی سہ ماہی میں ۳۰ فی صد کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ۲۰۱۳میںاسی مدت کے دوران حاصل ہونے والے مالیہ کے مقابلے میں ہے۔دریں اثنا بالغ افراد کے لئے لکھی گئی افسانوی اور غیر افسانوی کتابوں کی فروخت میں بقول ایسو سی ایشن آف امریکن پبلشرس تقریباََ ۴ فی صد کی کمی آئی۔ کتابوں کے اجرا ء پر نگاہ رکھنے والی ایک انجمن ’ بوکر‘ کے مطابق بچوں اور نیم بالغوں کے لئے لکھی گئی نئی کتابوں کی اشاعت بڑھ کر ۲۰۱۳ میں ۱۲ ہزار تک جا پہنچی ۔ حالاں کہ ایک دہائی پہلے یہ تعدادصرف ۵۹۴۴ تھی۔ ابھی حال تک تجارتی ناشر زیادہ تر افسانوی ادب کی اشاعت پر توجہ دیا کرتے تھے ۔کمسن بالغوں کے لئے ضروری غیر افسانوی ادب کو انھوں نے سرے سے نظر انداز کر رکھا تھا اور تاریخ، سائنس اور سوانح وغیرہ کی اشاعت کوگویا نصابی کتابوں کے ناشروں تک محدودکر دیا تھا۔ ڈیلا کورٹ پریس کی وائس پریزیڈینٹ اور پبلشر بیورلی ہَورو وِز نے بتایا ’’اگر آپ کسی بُک اسٹور میں بچوں کے لئے متعین غیر افسانوی کتابوں کے سیکشن میں جاتے تو وہاں آپ کو اکثر ڈائنا سور یا بچوں کو رفع حاجت کی تربیت دینے سے متعلق کتابیں(پَوٹی بُکس)ہی ملتیں۔‘‘  مگر اب بچوں کے لئے غیر افسانوی ادب میں زیادہ وسیع تر موضوعات اور ادبی اسالیب دستیاب ہیں ۔ ان میں یادداشتیں، بیانیہ،اپنی مدد آپ اور ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابس اورپاکستانی کمسن لڑکی ملالہ یوسف زئی ، جسے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اپنی تحریک کی وجہ سے طالبان نے گولی ماردی تھی ، جیسی پیچیدہ ہمعصر شخصیات پر لکھی گئی کتابیںشامل ہیں۔ خانہ جنگی اور ایٹم بم کے بارے میںبچوں کے لئے طبع زاد کتابیں لکھنے والے مصنف اسٹیو شَین کِن نے کہا’’ ہر شخص خون چوسنے والے بھوتوں اور بھوت بنگلوں کے بارے میں نہیں پڑھنا چاہتا ۔بعض بچے دوسری عالمی جنگ یا جاسوسوں کے بارے میں بھی پڑھنا چاہتے ہیں جو پہلے کمسن قارئین کے لئے موزوں موضوع خیال نہیں کیا جاتا تھا۔ ‘‘ مقبولِ عام کتابوں کے نوجوان قارئین کے لئے تیارایڈیشن ناشروں اور قلم کاروں کو مزید کتابیں فروخت کرنے اوراپنے برانڈ کو وسعت دینے کاموقع فراہم کرتے ہیں۔اس زمرہ میںبالکل شروع میںجو کتابیں آئیں ان میں ’’چیوآن دِس‘‘شامل ہے جو کہ ایرک شلوسر کی خوب بکنے والی ایک کتاب ’’فاسٹ فوڈ نیشن‘‘کا بچوں کے لئے لکھا گیا ایڈیشن بھی شامل ہے جس کی ۳ لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔  ان کتابوں کے لئے ناشرقارئین کے ایک اور امکانی طبقہ کو ذہن میں رکھتے ہیں ۔ یہ طبقہ ان بالغوں کا ہے جنھوں نے بچوں کے ادب کو پڑھنا شروع توکردیا ہے مگر وہ ۹ سو صفحات کی غیر افسانوی مجلد کتاب پڑھنے سے گھبراتے ہیں ۔  ہَورو وِز کے خیال میں ’’ بالغ افراد اب نیم بالغوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کو پڑھنے کے اس درجہ عادی ہوگئے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ بالغوں کے لئے کتابیں لکھنے والے بہت سے مصنف اطمینان سے بچوں کی کتابوں کی جانب راغب ہو جائیں ۔ ‘‘ ہِلین برانڈکی تصنیف’ غیر شکستہ‘  جسے سیدھی سادی نثر میں لکھا گیا ہے ، دوسری عالمی جنگ کے دوران زَیم پرینی کے بار بار موت سے فرار کی ڈرامائی کہانی کو پیش کرتی ہے، ایسی داستان معلوم ہوتی ہے جو بیک وقت بالغوں اور نیم بالغوں دونوں قسم کے قارئین کو پسند آ سکتی ہے۔۲۰۱۰میں اپنی اشاعت کے بعد سے اب تک اس کی ۴۰ لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔  ہِلین برانڈنے بتایا کہ اکثر دس برس یا اس سے بھی کم کے بچے انھیں بتاتے ہیں کہ انھوں نے اسے پڑھا اور پسند کیا ۔ بقول برانڈ ’’ بعض کو تو یہ تصنیف اس قدر پسند آئی کہ اس کے بعد انھوں نے بالغوں کا ایڈیشن ختم کر ڈالا۔‘‘  لیکن اس کے باوجود و دو برس قبل انھیں یہ محسوس ہوا کہ بچوں کے لئے مخصوص کتابوں کی ضرورت ہے ۔ یہ خیال انھیں اساتذہ، لائبریرین اور والدین کے ساتھ لگاتاربات چیت کے نتیجے میں آیا جو اس کی ضروت کو محسوس کر رہے تھے کہ کہانی کو اور زیادہ سادگی کے ساتھ پیش کیا جانا چاہئے تھا۔  نوجوان قارئین کے لئے ایڈیشن چھاپنے والے بہت سے مصنفین بچوں کے لئے لکھنے والے مصنفین کے ساتھ ٹیم بنا لیتے ہیں۔ یہ دوسرے مصنفین ان کی اس کوشش میںشامل ہوتے ہیںلیکن نظر نہیں آتے کیوں کہ وہ پس پردہ رکھے جاتے ہیں۔ہِلین برانڈنے ’ غیر شکستہ‘ کے نیم بالغ ایڈیشن کوخود لکھنے میں تقریباََ ایک برس کا وقت لیااور کہانی کوچھوٹاکرکے آدھا کردیا۔  َ  زَیم پرینی کا ۹۷ برس کی عمر میں ۲۰۱۴ میں وصال ہو گیااور وہ’’غیر شکستہ‘‘کے بچوں کے ایڈیشن کی اشاعت ( نومبر ۲۰۱۴ )نہیں دیکھ سکیں۔ انھوں نے اس کی صورت گری میں حالاں کہ مددضرور کی۔ہِلین برانڈنے دو گھنٹے تک بچوںکا انٹرویو کیا اور ان سے دو سو سوالات پوچھے جن میں سے تقریباََ ۴۰ کو انھوں نے  زَیم پرینی کو بھیجا بھی۔ ان میں اسکول میں جبر کرنے والے بچوں سے نمٹنے اور شارک کے حملہ کردینے کی صورت میں بچنے کی تدابیرسے متعلق سوالات شامل تھے۔ہِلین برانڈنے اساتذہ اور کتب خانوں کا نظم و نسق دیکھنے والوں سے زَیم پرینی کی زندگی کے تاریک گوشوںکو سنبھالنے سے متعلق سوالات بھی کئے۔بعض کو چھوڑ کر انھوں نے تشدد کے بیشترمعاملات کو شاملِ کتاب رکھا مگر اذیت رسانی کے مناظر کو قلم زد کر دیا اور ملحدانہ زبان کے استعمال یا طرزِ عمل کو کتاب میں جگہ نہیں دی۔    انھوں نے کہا’’ میرے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ جنگی قیدیوں کے کیمپ میں کسی کی پٹائی جیسا سخت مواد کیسے بیان کیاجائے؟مگر لوگوں کا مشورہ تھا کہ اسے کتاب سے حذف نہ کرو کیوں کہ آج کے بچوں کا ذہن اسے قبول کرنے کو آمادہ ہے۔‘‘ الکزینڈر آلٹر نیو یارک ٹائمس کی طباعت کی صنعت سے وابستہ نامہ نگار ہیں ۔ وہ نیویارک سٹی کے بروکلِن میں رہتی ہیں ۔ 

0 comments:

تبصرہ تحریر کریں: