ئیکل گیلنٹ
جولائی/اگست 2014
جولائی/اگست 2014
امریکہ اور ہندوستان میں طلبہ ایم اواو سی کی بدولت قابلِِِ قدر علم حاصل کررہے ہیں۔
زیادہ وقت نہیں گزرا جب ہارورڈ یونیورسٹی کے قابل پروفیسروں سے علم حاصل کرنے کے لئے شاندار تعلیمی ریکارڈ ، مکمل اور سخت معیاری ٹسٹ اور داخلہ کے سنگ دل انتخابی مرحلہ سے گزرنے کے علاوہ مساچیوسٹس میں واقع کیمرج کے تاریخی کیمپس میں رہائش درکار ہوتی تھی۔

السٹریشن ہیمنت بھٹناگر، تصاویر © گیٹی امیجز
امریکی وزارتِ خارجہ کی بدولت ہندوستان بھر کے اساتذہ اور طلبہ ایم او او سی کے مختلف النوع کورس کے معرفت نئے طور پر آموزش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ سیکھنے کا یہ عمل آن لائن تو جاری ہے ہی، روبرو بھی چل رہا ہے ۔
مثال کے طور پر’ شیپنگ دی وے وی ٹیچ انگلش‘ دس ہفتوں کا ایک ایم او او سی کورس ہے جس میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ کو نئی مہارت اور علم سے روشناس کرایا جاتا ہے ۔اس کورس کو اوریگون یونیورسٹی نے تیار کیا تھا اور اسے کورسیرا کے پلیٹ فارم پر فراہم کیا گیا ۔ اسی طور پر ’کالج رائٹنگ ٹو ایکس‘ کورس کو وزارتِ خارجہ نے برکلے کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تیار کیا جسے ای ڈی ایکس کے پلیٹ فارم سے طلبہ کو فراہم کیا گیا۔
یہ ایم او او سی کورسیرا، ای ڈی ایکس اور دیگر اداروں کی جانب سے پیش کئے جانے والے ہزاروں دستیاب ایم او او سی سے کس طرح مختلف ہیں ۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایم او او سی کے میدان میں کی جانے والی پہل ، جو ایم او او سی کیمپ کے نام سے معروف ہے، میں شریک طلبہ آن لائن آموزش سے شروعات کرتے ہیں ۔ مگر انھیں ہفتہ وار ڈسکشن سیشن میں اپنے ساتھیوں سے ملنے کے لئے بلایا جاتا ہے ۔ اس سے انھیں اپنے موضوع کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے اور مشغول رہنے کا موقع ملتا ہے ۔
انگریزی سکھانے سے متعلق علاقائی افسر ڈائن ملر کے مطابق اس پہل سے قابلِ ذکر کامیابی ملی ہے ۔ ’’شیپنگ دی وے وی ٹیچ انگلش ایم او او سی کے لئے کولکاتہ میں ہماری ایک ساتھی مبارکباد کی ایک تقریب منعقد کر رہی ہیں کیوں کہ موسمِ گرما کی تعطیل کے دوران ۷۵ اساتذہ نے اس کورس کے لئے اندراج کروایا۔‘‘اس طور پر ڈائن نے اس پروگرام کی علاقائی مقبولیت سے باخبر کیا۔
اس قسم کی دلچسپی سے ڈائن کی توقعات میں امید سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ امکان ہے کہ آئندہ برسوں میں یہ دلچسپی مزید بڑھے گی۔
ڈائن کے مطابق ان کورسیز کی قدر صرف تدریسی مواد کے سبب ہی نہیں ہے بلکہ دیگرشرکاء کے ساتھ ملنے والے بات چیت کے مواقع کی وجہ سے بھی ہے۔’’ طلبہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ ربط ضبط بھی بناتے ہیں ۔ یہ لوگ وہ سیکھ رہے ہیں جو نہ صرف امریکہ بلکہ برازیل، جاپان، جنوبی افریقہ اور فرانس میں لوگ سوچ رہے ہیں ۔ یہ لوگ دنیا کے بارے میں ایک عالمی نقطہ ٔ نظر وضع کررہے ہیں جو میرے خیال میں آنے والے دنوں میں ان کے بہت کام آئے گا۔ ‘‘
ہندوستان اور اس کے باہر دستیاب ایم او او سی کیمپ کورس اور ڈسکشن گروپوں سے متعلق مزید جانکاری کے لئےeca.state.gov/ programs-initiatives/mooc-camp
پر جائیں۔
مثال کے طور پر’ شیپنگ دی وے وی ٹیچ انگلش‘ دس ہفتوں کا ایک ایم او او سی کورس ہے جس میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ کو نئی مہارت اور علم سے روشناس کرایا جاتا ہے ۔اس کورس کو اوریگون یونیورسٹی نے تیار کیا تھا اور اسے کورسیرا کے پلیٹ فارم پر فراہم کیا گیا ۔ اسی طور پر ’کالج رائٹنگ ٹو ایکس‘ کورس کو وزارتِ خارجہ نے برکلے کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تیار کیا جسے ای ڈی ایکس کے پلیٹ فارم سے طلبہ کو فراہم کیا گیا۔
یہ ایم او او سی کورسیرا، ای ڈی ایکس اور دیگر اداروں کی جانب سے پیش کئے جانے والے ہزاروں دستیاب ایم او او سی سے کس طرح مختلف ہیں ۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایم او او سی کے میدان میں کی جانے والی پہل ، جو ایم او او سی کیمپ کے نام سے معروف ہے، میں شریک طلبہ آن لائن آموزش سے شروعات کرتے ہیں ۔ مگر انھیں ہفتہ وار ڈسکشن سیشن میں اپنے ساتھیوں سے ملنے کے لئے بلایا جاتا ہے ۔ اس سے انھیں اپنے موضوع کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے اور مشغول رہنے کا موقع ملتا ہے ۔
انگریزی سکھانے سے متعلق علاقائی افسر ڈائن ملر کے مطابق اس پہل سے قابلِ ذکر کامیابی ملی ہے ۔ ’’شیپنگ دی وے وی ٹیچ انگلش ایم او او سی کے لئے کولکاتہ میں ہماری ایک ساتھی مبارکباد کی ایک تقریب منعقد کر رہی ہیں کیوں کہ موسمِ گرما کی تعطیل کے دوران ۷۵ اساتذہ نے اس کورس کے لئے اندراج کروایا۔‘‘اس طور پر ڈائن نے اس پروگرام کی علاقائی مقبولیت سے باخبر کیا۔
اس قسم کی دلچسپی سے ڈائن کی توقعات میں امید سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ امکان ہے کہ آئندہ برسوں میں یہ دلچسپی مزید بڑھے گی۔
ڈائن کے مطابق ان کورسیز کی قدر صرف تدریسی مواد کے سبب ہی نہیں ہے بلکہ دیگرشرکاء کے ساتھ ملنے والے بات چیت کے مواقع کی وجہ سے بھی ہے۔’’ طلبہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ ربط ضبط بھی بناتے ہیں ۔ یہ لوگ وہ سیکھ رہے ہیں جو نہ صرف امریکہ بلکہ برازیل، جاپان، جنوبی افریقہ اور فرانس میں لوگ سوچ رہے ہیں ۔ یہ لوگ دنیا کے بارے میں ایک عالمی نقطہ ٔ نظر وضع کررہے ہیں جو میرے خیال میں آنے والے دنوں میں ان کے بہت کام آئے گا۔ ‘‘
ہندوستان اور اس کے باہر دستیاب ایم او او سی کیمپ کورس اور ڈسکشن گروپوں سے متعلق مزید جانکاری کے لئےeca.state.gov/ programs-initiatives/mooc-camp
پر جائیں۔
-- مائیکل گیلنٹ
اب تبدیل شدہ رحجان کے پیشِ نظر دنیا بھر کے طلبہ ہارورڈ یونیورسٹی کے قابل معلّموں سے انٹرنیٹ کی سہولت والے کمپیوٹر کا استعمال کرکے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایسا اس لئے ممکن ہو سکا ہے کیوں کہ موجودہ تعلیم میں ٹکنالوجی کا دخل یکساں طور پر ہو چکا ہے ۔ ہارورڈ امریکہ کے ان بہت سے تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جس نے مَیسِو اوپن آن لائن کورسز (ایم او او سی) شروع کئے ہیں ۔سان فرانسسکو میں واقع ایم او او سی کمپنی ’اودیمی‘ کے مارکٹنگ وائس پریسی ڈینٹ دنیش تھیروکے مطابق’’کوئی اوپن آن لائن کورس ایسا کورس ہے جسے کوئی ماہر استاد جیسے کہ کوئی مصنف یا پروفیسر پڑھاتا ہے جس میں ہزاروں طلبہ اپنا اندراج کراتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر ویڈیو پر مبنی درجنوں لکچر وں پر مشتمل ہوتا ہے جس سے اپنی سہولت کے اعتبار سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ چار سال پہلے ایسے کورسیز کا کوئی وجود نہیں تھا مگر اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ‘‘
’اودیمی‘ دس مختلف زبانوں میں ۱۶ ہزار سے زیادہ کورس چلاتی ہے جس سے ۱۹۰ سے زیادہ ملکوں میں لاکھوں طلبہ فیض یاب ہوتے ہیں ۔کورس کے شرکاء آئی فون ایپلی کیشن ڈیزائن کرنا اور پیانو پر کلاسیکی بھجن بجاناتو سیکھ ہی سکتے ہیں ،ساتھ ہی نظریۂ مقادیر(کوانٹم فزکس)کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ہندوستان کی تاریخ پر ڈیڑھ گھنٹے کا کریش کورس کر سکتے ہیں۔ اور یہ تو صرف آغاز ہے۔
ایم او او سی کی دنیا کے دو بڑے نام(ای ڈی ایکس اور کورسیرا)بھی بہترین اساتذہ سے سیکھنے کے یکساں طور پر مختلف مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ غیر منافع بخش ادارہ ای ڈی ایکس دراصل ہارورڈ یونیورسٹی اور مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی )کی جانب سے شراکت داری میں کی گئی ایسی پہل ہے جس کے توسط سے فی الحال ۱۸۰ کورسیز چلائے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر انگریزی میں ہیں ۔ یہ کورس دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں چلائے جاتے ہیں جن میں نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی ، کناڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی بمبئی ہے ۔ آئی آئی ٹی بمبئی میں کمپیوٹر پروگرامنگ اور
حرّ حرکیات (تھرمو ڈائنامکس)کا کورس بھی شروع کیا گیا ہے۔
اسپَین کے ساتھ گوگل ہینگ آؤٹ انٹرویو میں ای ڈی ایکس کے سی ای او اننت اگروال نے باخبر کیا ’’ فی الحال طلبہ ان کورسیزکی تکمیل مفت میںکر سکتے ہیں اور کورس پورا ہونے پر سرٹیفکٹ بھی مفت میں حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہمارا مقصد دنیا بھر میں طلبہ تک تعلیم کی رسائی کو بڑھانا ہے۔ ہمارے یونیورسٹی پارٹنر کورس تیار کرتے ہیں ۔ ہر یونیورسٹی کے پاس مخصوص قسم کے کچھ کورس ہیں ۔ بہت سے طلبہ نے اب ملازمت سے متعلق بیان(ریزیومے) میں بھی ان کورسز کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ‘‘
کورسیرا ،کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے دو پروفیسروں نے قائم کیا ۔ کورسیرا اس طور پر مختلف ہے کہ اسے ایک غیر منافع بخش پہل کے طور پر شروع کیا گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ابھی بھی سائبر سیکوریٹی سے لے کر عالمی امور تک کے موضوعات پر مبنی کورسیز مفت میں فراہم کررہا ہے ۔کورسیرا
کنکٹی کٹ میں ییل یونیورسٹی ، نیو جرسی میں پرنسٹن یونیورسٹی اور دنیا بھی کے ملکوں کے دیگر درجنوں معروف اداروں میں چار سو سے زائد کورس کرواتا ہے۔
جیسا کہ دنیش بتا تے ہیں کہ ایم او او سی کی بنیاد ۱۹۹۰ کی دہائی میں ایم آئی ٹی کی جانب سے شروع کئے گئے تجرباتی آن لائن کورسیز کے توسط سے رکھی گئی تھی۔ حالاں کہ خود انھیں اس عجوبہ کی جانکاری ۲۰۱۰ میںاس وقت ہوئی جب انھوں نے اتفاقیہ طور پر خان اکیڈمی کی ویب سائٹ کو دیکھا۔ و ہ کہتے ہیں ’’ جس طرح سے خان ہزاروں بلکہ اب لاکھوں طلبہ کو یو ٹیوب پر کیلکولس پڑھاتے ہیں اس سے میں نا قابلِ یقین حد تک متاثر ہوا۔ ‘‘
جب کہ اننت اگروال کہتے ہیں ’’ آن لائن تدریس میں مواد کو ویڈیو اور تفاعلی ابواب کے ذریعہ طلبہ کو فراہم کرنا بہت آسان ہو گیا ہے ۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ طالبِ علم اپنی رفتار سے سیکھنے کا عمل انجام دے سکتا ہے ۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ نئی نسل کو آن لائن کام کرنا بہت سہولت بھرا لگتا ہے۔ ‘‘
حالاں کہ ایم او او سی نئی مہارت حاصل کرنے کے آسان اور سستے طریقے پیش کرتا ہے تاہم یہ خامیوں سے مبرا نہیں ہے۔ دی ایئر آف دی ایم او او سی کے عنوان سے شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں نیو یارک ٹائمز نے طلبہ کو برقرار رکھنے کے چیلینج کا حوالہ دیا ہے جس سے ایم او او سی دوچار ہیں ۔یہ ضرور ہے کہ رپورٹ میں امریکی وزارتِ خارجہ کی کفالت میں چل رہے ایم او او سی پروگرام(سائڈ بار دیکھیں) جیسے ڈسکشن گروپوں کے بارے میں بتایا گیاہے کہ ان سے مدد ملتی ہے ۔ مضمون میں ہزاروںشرکاء کو دئے گئے اسائنمنٹ کو گریڈ دینے میں آنے والی دشواری (جس کی جانچ کمپیوٹر نہیں کرسکتا)کا حوالہ ایسے چیلینج کے طور پر دیا گیاہے جو ایم او او سی اور اس کے منتظمین کو درپیش ہیں ، خاص طور پر اس لئے کہ منتظمین کا منصوبہ اعلیٰ پیمانے کی اس تعلیم کو عالمی پیمانے پر لے جانے کا ہے ۔
اس قسم کی دشواریوں کے باوجود ایم او او سی نے سیکھنے کے بہترین مواقع پیدا کرنا جاری رکھا ہے ۔ دنیش بتا تے ہیں ’’ہمارے پاس ایسے طلبہ ہیں جو ہر ہفتہ ہمیں لکھتے ہیں ۔ اپنی نگارشات میں وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایک کاروبار شروع کیا ہے ، اپنا کرئیر تبدیل کیا ہے یا بعض ایسی چیزوں کو سیکھا ہے جن کے بارے میں انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا اور ایسا ’اودیمی‘ سے ان کے کئے گئے کورس کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔ ‘‘
بین الاقوامی توسیع میں اضافہ اور کورسیز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ دنیش اور ان کے ساتھی کسی کو آن لائن کچھ بھی سکھانے میں مدد دینے کے اپنے مشن پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔انھیں یقین ہے کہ
ایم او او سی امریکہ کے اندر اور دنیا بھر میں تمام مساوات کو قائم کرے گا۔ دنیش کہتے ہیں ’’ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں ، کتنے امیر یا غریب ہیں اور دنیا کے کس خطے میں رہتے ہیں ۔ اگر آپ میں کچھ سیکھنے کی خواہش ہے تو ایک ایم او او سی اور ایک عالمی معیار کا استاد آپ کا منتظر ہے کہ وہ آپ کو سکھائے۔ ‘‘
’اودیمی‘ دس مختلف زبانوں میں ۱۶ ہزار سے زیادہ کورس چلاتی ہے جس سے ۱۹۰ سے زیادہ ملکوں میں لاکھوں طلبہ فیض یاب ہوتے ہیں ۔کورس کے شرکاء آئی فون ایپلی کیشن ڈیزائن کرنا اور پیانو پر کلاسیکی بھجن بجاناتو سیکھ ہی سکتے ہیں ،ساتھ ہی نظریۂ مقادیر(کوانٹم فزکس)کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ہندوستان کی تاریخ پر ڈیڑھ گھنٹے کا کریش کورس کر سکتے ہیں۔ اور یہ تو صرف آغاز ہے۔
ایم او او سی کی دنیا کے دو بڑے نام(ای ڈی ایکس اور کورسیرا)بھی بہترین اساتذہ سے سیکھنے کے یکساں طور پر مختلف مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ غیر منافع بخش ادارہ ای ڈی ایکس دراصل ہارورڈ یونیورسٹی اور مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی )کی جانب سے شراکت داری میں کی گئی ایسی پہل ہے جس کے توسط سے فی الحال ۱۸۰ کورسیز چلائے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر انگریزی میں ہیں ۔ یہ کورس دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں چلائے جاتے ہیں جن میں نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی ، کناڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی بمبئی ہے ۔ آئی آئی ٹی بمبئی میں کمپیوٹر پروگرامنگ اور
حرّ حرکیات (تھرمو ڈائنامکس)کا کورس بھی شروع کیا گیا ہے۔
اسپَین کے ساتھ گوگل ہینگ آؤٹ انٹرویو میں ای ڈی ایکس کے سی ای او اننت اگروال نے باخبر کیا ’’ فی الحال طلبہ ان کورسیزکی تکمیل مفت میںکر سکتے ہیں اور کورس پورا ہونے پر سرٹیفکٹ بھی مفت میں حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہمارا مقصد دنیا بھر میں طلبہ تک تعلیم کی رسائی کو بڑھانا ہے۔ ہمارے یونیورسٹی پارٹنر کورس تیار کرتے ہیں ۔ ہر یونیورسٹی کے پاس مخصوص قسم کے کچھ کورس ہیں ۔ بہت سے طلبہ نے اب ملازمت سے متعلق بیان(ریزیومے) میں بھی ان کورسز کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ‘‘
کورسیرا ،کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے دو پروفیسروں نے قائم کیا ۔ کورسیرا اس طور پر مختلف ہے کہ اسے ایک غیر منافع بخش پہل کے طور پر شروع کیا گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ابھی بھی سائبر سیکوریٹی سے لے کر عالمی امور تک کے موضوعات پر مبنی کورسیز مفت میں فراہم کررہا ہے ۔کورسیرا
کنکٹی کٹ میں ییل یونیورسٹی ، نیو جرسی میں پرنسٹن یونیورسٹی اور دنیا بھی کے ملکوں کے دیگر درجنوں معروف اداروں میں چار سو سے زائد کورس کرواتا ہے۔
جیسا کہ دنیش بتا تے ہیں کہ ایم او او سی کی بنیاد ۱۹۹۰ کی دہائی میں ایم آئی ٹی کی جانب سے شروع کئے گئے تجرباتی آن لائن کورسیز کے توسط سے رکھی گئی تھی۔ حالاں کہ خود انھیں اس عجوبہ کی جانکاری ۲۰۱۰ میںاس وقت ہوئی جب انھوں نے اتفاقیہ طور پر خان اکیڈمی کی ویب سائٹ کو دیکھا۔ و ہ کہتے ہیں ’’ جس طرح سے خان ہزاروں بلکہ اب لاکھوں طلبہ کو یو ٹیوب پر کیلکولس پڑھاتے ہیں اس سے میں نا قابلِ یقین حد تک متاثر ہوا۔ ‘‘
جب کہ اننت اگروال کہتے ہیں ’’ آن لائن تدریس میں مواد کو ویڈیو اور تفاعلی ابواب کے ذریعہ طلبہ کو فراہم کرنا بہت آسان ہو گیا ہے ۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ طالبِ علم اپنی رفتار سے سیکھنے کا عمل انجام دے سکتا ہے ۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ نئی نسل کو آن لائن کام کرنا بہت سہولت بھرا لگتا ہے۔ ‘‘
حالاں کہ ایم او او سی نئی مہارت حاصل کرنے کے آسان اور سستے طریقے پیش کرتا ہے تاہم یہ خامیوں سے مبرا نہیں ہے۔ دی ایئر آف دی ایم او او سی کے عنوان سے شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں نیو یارک ٹائمز نے طلبہ کو برقرار رکھنے کے چیلینج کا حوالہ دیا ہے جس سے ایم او او سی دوچار ہیں ۔یہ ضرور ہے کہ رپورٹ میں امریکی وزارتِ خارجہ کی کفالت میں چل رہے ایم او او سی پروگرام(سائڈ بار دیکھیں) جیسے ڈسکشن گروپوں کے بارے میں بتایا گیاہے کہ ان سے مدد ملتی ہے ۔ مضمون میں ہزاروںشرکاء کو دئے گئے اسائنمنٹ کو گریڈ دینے میں آنے والی دشواری (جس کی جانچ کمپیوٹر نہیں کرسکتا)کا حوالہ ایسے چیلینج کے طور پر دیا گیاہے جو ایم او او سی اور اس کے منتظمین کو درپیش ہیں ، خاص طور پر اس لئے کہ منتظمین کا منصوبہ اعلیٰ پیمانے کی اس تعلیم کو عالمی پیمانے پر لے جانے کا ہے ۔
اس قسم کی دشواریوں کے باوجود ایم او او سی نے سیکھنے کے بہترین مواقع پیدا کرنا جاری رکھا ہے ۔ دنیش بتا تے ہیں ’’ہمارے پاس ایسے طلبہ ہیں جو ہر ہفتہ ہمیں لکھتے ہیں ۔ اپنی نگارشات میں وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایک کاروبار شروع کیا ہے ، اپنا کرئیر تبدیل کیا ہے یا بعض ایسی چیزوں کو سیکھا ہے جن کے بارے میں انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا اور ایسا ’اودیمی‘ سے ان کے کئے گئے کورس کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔ ‘‘
بین الاقوامی توسیع میں اضافہ اور کورسیز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ دنیش اور ان کے ساتھی کسی کو آن لائن کچھ بھی سکھانے میں مدد دینے کے اپنے مشن پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔انھیں یقین ہے کہ
ایم او او سی امریکہ کے اندر اور دنیا بھر میں تمام مساوات کو قائم کرے گا۔ دنیش کہتے ہیں ’’ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں ، کتنے امیر یا غریب ہیں اور دنیا کے کس خطے میں رہتے ہیں ۔ اگر آپ میں کچھ سیکھنے کی خواہش ہے تو ایک ایم او او سی اور ایک عالمی معیار کا استاد آپ کا منتظر ہے کہ وہ آپ کو سکھائے۔ ‘‘
مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسرہیں۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہائش پزیر ہیں۔
0 comments:
تبصرہ تحریر کریں: