ڈان مارٹن
جولائی/اگست 2014
جولائی/اگست 2014
اپنے بچوں کے حمایتی بنیں اورادارہ، درجہ بندی اور وقار کے معاملات کو ذہن پر مسلّط نہ کریں۔
کالج کے انتخاب کے عمل میں والدین کی اہم حصہ داری ہوتی ہے۔ والدین کی خواہش اپنے بچوں کے لئے بہترین ادارہ چننے کی ہوتی ہے ۔ اپنے ممکنہ انڈر گریجویٹ بچوں کو تعلیم کے لئے بیرونِ ملک بھیجنے کی کوشش میں مصروف والدین کے لئے یہاں کچھ کام کی باتیں بتائی جار ہی ہیں ۔
ڈان مارٹن اور ویسلی ٹیٹر
اپنے ملک سے باہر جا کر پڑھنے کا فیصلہ کوئی آسان فیصلہ نہیں۔مثال کے طور پر امریکہ میں انڈر گریجوٹ سطح کی پڑھائی کے لئے درخواست دینے کا عمل اکثر ڈھیر سارے وقت اور منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔اس لئے یہ عمل شروع کرنے سے پہلے ان پانچ سوالات کا جائزہ لے کراس بات کا اندازہ لگائیں کہ کیا تعلیم کی غرض سے بیرون ملک جانا آپ کے لئے موزوں ہے۔
۱۔ آپ کون ہیں۔؟اپنی تعلیمی منزل،اپنے اقدار اور ذاتی استعداد کے بارے میں وسیع پیمانے پر سوچیں۔جو بات بھی ذہن میں آئے اس کا اندراج کر لیں۔
۲۔ کون سی چیز آپ کو تحریک دیتی ہے۔اس کے بارے میں ذہن بالکل صاف کر لیں کہ کیا آپ کو تحریک دیتا اور آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس پر بھی غور کریں کہ آپ اپنا خالی وقت کیسے گزارتے ہیں۔
۳۔آپ اپنی کون سی اہلیت بڑھانا چاہتے ہیں؟اس مرحلہ میں ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی عمومی خیال ہو۔ کوئی بات نہیں۔کوڈ سازی، سے قیادت تک بیرون ملک پڑھائی میں نئے خیالات کو فروغ دینے اور نئی اہلیت اختیار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ کیا سیکھنا چاہتے ہیں؟
۴۔بیرون ملک جا کر پڑھائی کرنے سے آپ کی زندگی میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے ۔؟خاص کر کون سی چیز آپ کو ملک سے باہر جا کر پڑھنے کے سلسلے میں پُرکشش معلوم ہوتی ہے ؟بیرون ِ ملک اپنی زندگی کا تصور کیجئے اور اپنے کچھ سوالات اور ابتدائی خیالات قلم بند کر لیجئے۔
۵۔آپ کن سے مدد کی امید رکھتے ہیں ؟
اساتذہ، احباب، مقامی تجارتی لیڈران، اور صلاح کاروں کا ایجوکیشن یو ایس اے نٹ ورک آپ کے لئے معلومات کا عمدہ ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ ان کی جلد نشان دہی کو یقینی بنائیں اور بیرون ملک جا کر پڑھنے کے لئے اپنی منصوبہ بندی کے دوران ان سے مشورہ کریں ۔
اساتذہ، احباب، مقامی تجارتی لیڈران، اور صلاح کاروں کا ایجوکیشن یو ایس اے نٹ ورک آپ کے لئے معلومات کا عمدہ ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ ان کی جلد نشان دہی کو یقینی بنائیں اور بیرون ملک جا کر پڑھنے کے لئے اپنی منصوبہ بندی کے دوران ان سے مشورہ کریں ۔
سب سے پہلے میں آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔انڈر گریجویٹ تعلیم کے لئے اپنے بیٹے یا بیٹی کو دوسرے ملک کے سفر پر بھیجنے کا فیصلہ کرنااپنے اندر ایک قسم کی ذہنی موافقت کا تقاضا کرتا ہے ۔ کیوں کہ بعض صورتوں میں یہ بھی ممکن ہے کہ آپ انھیں ایک سال ، دو سال یا مزید کئی سال تک دیکھ بھی نہ سکیں ۔ اس کے باوجود آپ اپنے بچے کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ منزل تک پہنچنے میں مدد کرنے کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے ہیں ۔
داخلہ جات کے ڈین اور انڈر گریجویٹ پڑھائی کے ڈین کی حیثیت سے مجھے بہت سے بین الاقوامی طلبہ کے والدین سے بات کرنے کاموقع ملاہے۔ کبھی فون پر ، کبھی آن لائن اور کبھی دو بدو۔ جس چیز نے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے وہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو کامیاب ہوتا دیکھنے کی شدید خواہش میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ بہت سی صورتوں میں والدین اس بات کو یقینی بنانے کے لئے زبردست قربانیاں بھی دیتے ہیں کہ ان کے بچے بیرونی ملک میں تعلیم حاصل کرسکیں ۔
جب مجھ سے اصرار کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کے والدین کو مشورہ دوں تو درج ذیل گُر میرے ذہن میں آتے ہیں ۔
داخلہ جات کے ڈین اور انڈر گریجویٹ پڑھائی کے ڈین کی حیثیت سے مجھے بہت سے بین الاقوامی طلبہ کے والدین سے بات کرنے کاموقع ملاہے۔ کبھی فون پر ، کبھی آن لائن اور کبھی دو بدو۔ جس چیز نے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے وہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو کامیاب ہوتا دیکھنے کی شدید خواہش میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ بہت سی صورتوں میں والدین اس بات کو یقینی بنانے کے لئے زبردست قربانیاں بھی دیتے ہیں کہ ان کے بچے بیرونی ملک میں تعلیم حاصل کرسکیں ۔
جب مجھ سے اصرار کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کے والدین کو مشورہ دوں تو درج ذیل گُر میرے ذہن میں آتے ہیں ۔
گر نمبر ۱۔آپ اپنے بچوں کو جس قدر ممکن ہو اس بات کی اجازت دیں کہ وہ کوشش کریں خواہ ان سے کوئی غلطی ہی کیوں نہ ہوجائے۔ ان سے کمال کی امید مت کریں ۔ کوئی کامیاب انسان ایسا نہیں جس نے کوئی غلطی کئے بغیر کامیابی حاصل کی ہو۔ اس کے باوجود بعض اوقات والدین اپنے بچوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ اپنا کام ٹھیک سے کریں ، نصاب سے بعید سرگرمیوں میں بھی مقدور بھر حصہ لیں اور خواہ کچھ بھی ہو ناکام نہ ہوں۔ مگر اس کا خیال رکھیں کہ اس سے چیزیں بگڑ بھی سکتی ہیں ۔اس لئے اپنے بچے کو انسانی لیاقت کے اندر رہ کر کام کرنے دیں۔ ان سے غیر مناسب امید وابستہ نہ کریں ۔
ایک بین الاقوامی طالبہ کے ساتھ میٹنگ میں مجھے اس بات کا علم ہوا کہ اس کے والدین نے اس سے صاف کہہ دیا تھا کہ ڈگری مکمل کئے بغیر گھر مت لوٹنا۔بد قسمتی سے اس لڑکی کو پڑھائی میں دشواری ہو رہی تھی ۔ اسے پروبیشن میں بھیجے جانے کا خدشہ تھا یا اس سے بھی دگر گوں صورت ِ حال کا سامنا تھا۔ یہ بذاتِ خود کسی محنتی طالبِ علم کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالاں کہ طالبہ کے ذہن پر دباؤ تھا کہ پڑھائی پوری کئے بغیر اگر وہ گھر واپس گئی تو اس کا استقبال نہیں کیا جائے گا ۔اس کشیدگی نے اس پر سوائے اس کے اور کوئی اثر نہیں ڈالا کہ اپنی پڑھائی بہتر بنانے کے لئے اسے جوکچھ کرنالازمی تھا اس کی جانب توجہ دینے کی اس کی اہلیت کم ہوگئی۔ شکر ہوا کہ ہم لوگ اس کا دوسرے کالج میں تبادلہ کرانے میں کامیاب ہوگئے۔
اپنے بچوں کا سہارا ضرور بنیں مگر یہ بات یاد رکھیں کہ بعض اوقات ہمیں اپنی غلطیوں سے ہی سیکھنے کے بہترین مواقع ملتے ہیں۔اگر ہم ناکامی سے ڈر جائیں یا اس سے پرہیز کریں تو ہم ایک ایسا ماحول بنائیں گے جس میں ناکامی کے رو نما ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ جس شخص پر کامل اور بے عیب ہونے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے وہ ساری توجہ اس پر مرکوز کرتا ہے کہ اس سے غلطی نہ ہواور اسی کی وجہ سے غلطیوں کا احتمال زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اپنے بچوں کی کامیابی پر توجہ مرکوز کریں ، ان کے کمال پر نہیں ۔ ان دو چیزوں میںبڑا فرق ہے ۔
گر نمبر ۲۔اپنے بچوں کی بہترین تعلیمی ادارے اور پروگرام کے انتخاب میں مدد اور حوصلہ افزائی کریں۔درجہ بندی اور وقار پر غیر ضروری اصرار نہ کریں ۔اس کا کوئی معتبر ثبوت کہیں نہیں ملتا کہ زندگی میں کامیابی کا دارومدار اس چیز پر ہوتا ہے کہ کس نے کس کالج میں تعلیم حاصل کی۔
کسی بھی ملک میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ بہترین کالجوں اور یونیورسیٹیوں میں پڑھنے والے بہت سے لوگ خوب جان پہچان رکھنے کے باوجود بری طرح ناکام ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بہت سے موقعوں پر ایسے بہت کامیاب لوگ بھی ملتے ہیں جوایسے اداروں سے تعلیم لے کر آئے ہیں جن کی نہ
درجہ بندی بلند ہے نہ با وقار کہے جا سکتے ہیں ۔یہ اصل میں اس سچائی کا ثبوت ہے کہ بالآخر کامیابی یا ناکامی کا تعین فرد کرتا ہے نہ کہ اس تعلیمی ادارہ کا درجہ یا وقار جہاں اس نے تعلیم حاصل کی ہو۔
براہِ کرم یہ قیاس کرنے کی غلطی نہ کریں کہ اس کالج یا یونیورسٹی کا درجہ اور وقار، جس میں آپ کا بچہ پڑھنے گیا ہے، آئندہ زندگی میں کسی بڑے فرق کا موجب بنے گا۔ ابتدائی مرحلہ میں اس سے کچھ دروازے کھلیں گے مگر یہ معاملہ وہیں تک رہے گا۔گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ان کی کامیابی کا تعین اس بات سے ہوگا کہ وہ ایمانداری، دیانت داری، اظہارِ خیال کی ہنر مندی اور اپنی ثابت کردہ اہلیت اور فرض شناسی کے حوالہ سے کون اور کیا ہیں۔
میں آپ کو اور پیارے بچوں کو کالج کے انتخاب کے عمل میں زبردست کامیابی کے لئے اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔
ایک بین الاقوامی طالبہ کے ساتھ میٹنگ میں مجھے اس بات کا علم ہوا کہ اس کے والدین نے اس سے صاف کہہ دیا تھا کہ ڈگری مکمل کئے بغیر گھر مت لوٹنا۔بد قسمتی سے اس لڑکی کو پڑھائی میں دشواری ہو رہی تھی ۔ اسے پروبیشن میں بھیجے جانے کا خدشہ تھا یا اس سے بھی دگر گوں صورت ِ حال کا سامنا تھا۔ یہ بذاتِ خود کسی محنتی طالبِ علم کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالاں کہ طالبہ کے ذہن پر دباؤ تھا کہ پڑھائی پوری کئے بغیر اگر وہ گھر واپس گئی تو اس کا استقبال نہیں کیا جائے گا ۔اس کشیدگی نے اس پر سوائے اس کے اور کوئی اثر نہیں ڈالا کہ اپنی پڑھائی بہتر بنانے کے لئے اسے جوکچھ کرنالازمی تھا اس کی جانب توجہ دینے کی اس کی اہلیت کم ہوگئی۔ شکر ہوا کہ ہم لوگ اس کا دوسرے کالج میں تبادلہ کرانے میں کامیاب ہوگئے۔
اپنے بچوں کا سہارا ضرور بنیں مگر یہ بات یاد رکھیں کہ بعض اوقات ہمیں اپنی غلطیوں سے ہی سیکھنے کے بہترین مواقع ملتے ہیں۔اگر ہم ناکامی سے ڈر جائیں یا اس سے پرہیز کریں تو ہم ایک ایسا ماحول بنائیں گے جس میں ناکامی کے رو نما ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ جس شخص پر کامل اور بے عیب ہونے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے وہ ساری توجہ اس پر مرکوز کرتا ہے کہ اس سے غلطی نہ ہواور اسی کی وجہ سے غلطیوں کا احتمال زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اپنے بچوں کی کامیابی پر توجہ مرکوز کریں ، ان کے کمال پر نہیں ۔ ان دو چیزوں میںبڑا فرق ہے ۔
گر نمبر ۲۔اپنے بچوں کی بہترین تعلیمی ادارے اور پروگرام کے انتخاب میں مدد اور حوصلہ افزائی کریں۔درجہ بندی اور وقار پر غیر ضروری اصرار نہ کریں ۔اس کا کوئی معتبر ثبوت کہیں نہیں ملتا کہ زندگی میں کامیابی کا دارومدار اس چیز پر ہوتا ہے کہ کس نے کس کالج میں تعلیم حاصل کی۔
کسی بھی ملک میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ بہترین کالجوں اور یونیورسیٹیوں میں پڑھنے والے بہت سے لوگ خوب جان پہچان رکھنے کے باوجود بری طرح ناکام ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بہت سے موقعوں پر ایسے بہت کامیاب لوگ بھی ملتے ہیں جوایسے اداروں سے تعلیم لے کر آئے ہیں جن کی نہ
درجہ بندی بلند ہے نہ با وقار کہے جا سکتے ہیں ۔یہ اصل میں اس سچائی کا ثبوت ہے کہ بالآخر کامیابی یا ناکامی کا تعین فرد کرتا ہے نہ کہ اس تعلیمی ادارہ کا درجہ یا وقار جہاں اس نے تعلیم حاصل کی ہو۔
براہِ کرم یہ قیاس کرنے کی غلطی نہ کریں کہ اس کالج یا یونیورسٹی کا درجہ اور وقار، جس میں آپ کا بچہ پڑھنے گیا ہے، آئندہ زندگی میں کسی بڑے فرق کا موجب بنے گا۔ ابتدائی مرحلہ میں اس سے کچھ دروازے کھلیں گے مگر یہ معاملہ وہیں تک رہے گا۔گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ان کی کامیابی کا تعین اس بات سے ہوگا کہ وہ ایمانداری، دیانت داری، اظہارِ خیال کی ہنر مندی اور اپنی ثابت کردہ اہلیت اور فرض شناسی کے حوالہ سے کون اور کیا ہیں۔
میں آپ کو اور پیارے بچوں کو کالج کے انتخاب کے عمل میں زبردست کامیابی کے لئے اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔
ڈان مارٹن کولمبیا یونیورسٹی ،شکاگو یونیورسٹی اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں داخلہ جات کے سابق ڈین رہ چکے ہیں ۔ آپ ایک کتاب ’روڈ میپ فار گریجویٹ اسٹڈی ‘ کے مصنف بھی ہیں ۔
0 comments:
تبصرہ تحریر کریں: