ہاورڈ سنکوٹا
جولائی/اگست 2014
جولائی/اگست 2014
امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران اور ڈگری حاصل کرنے کے بعد کام کے مواقع سے متعلق متعدد سوالات کے جواب پر مبنی مضمون۔
آج نوکری حاصل کرنا کسی بھی شخص کے لئے مشکل ہو سکتا ہے لیکن امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے کسی دوسرے ملک کے طلبہ کے لئے یہ مرحلہ مشکل تر ہوسکتا ہے۔
ایف وَن اور جے وَن ویزا رکھنے والے طلبہ کے لئے کام کرنے کے مواقع دستیاب تو ہیں لیکن اس کے متعلق کئی قاعدے اور ضابطے ہیں جن پر احتیاط کے ساتھ عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ کے کسی بھی سطح کے کالج اور یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کے مراکز ہوتے ہیں جہاں موجود مشیر تجربہ کار توہوتے ہی ہیں ،طلبہ کو حصولِ علم اور کام میں توازن برقرار رکھنے سے متعلق پیچیدگیوں سے نمٹنے میںان کی مدد کرنے میں بھی مشاق ہوتے ہیں۔ انٹرویو میں مدد دینے والی تکنیک اور ریزیومے(ملازمت کی غرض سے تیار کی گئی کسی امیدوار کی تعلیمی اور تجرباتی لیاقت کی تلخیص) تیار کرنے میں تعلیمی اداروں کے کرئیر دفاتر بھی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں ۔
کام کے ساتھ تعلیم : کچھ بنیادی باتیں
اس کے لئے واضح طور پر پہلا قدم منصوبہ بندی ہوتا ہے۔ چَیپل ہِل میں واقع شمالی کیرولائنا یونیورسٹی غیر ملکی طلبہ اور اسکالر سروسز کی ڈائرکٹر الیزابیتھ بَرنم کہتی ہیں ’’اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر معلومات کا خزانہ موجود ہے ۔ اس میں سے کچھ اچھا ہے تو کچھ قابلِ اعتراض بھی ہے ۔ اس لئے غیر ملکی طلبہ کے دفتر کی جانب سے موصول ہوئی معلومات پر خاطر خواہ توجہ دیں ۔ کسی سوال کے ساتھ آ دھمکنے سے پہلے طلبہ کے غیر ملکی مشیر سے رابطہ کرنا بھی اہمیت کی حامل شئے ہے۔ ‘‘ اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں کام کرنے کے لئے بنیادی اصول یہ ہے کہ روزگار کاطالبِ علم کے تعلیمی میدان سے متعلق ہونا لازمی ہے۔
ایف وَن اور جے وَن ویزا رکھنے والے طلبہ کے لئے کام کرنے کے مواقع دستیاب تو ہیں لیکن اس کے متعلق کئی قاعدے اور ضابطے ہیں جن پر احتیاط کے ساتھ عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ کے کسی بھی سطح کے کالج اور یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کے مراکز ہوتے ہیں جہاں موجود مشیر تجربہ کار توہوتے ہی ہیں ،طلبہ کو حصولِ علم اور کام میں توازن برقرار رکھنے سے متعلق پیچیدگیوں سے نمٹنے میںان کی مدد کرنے میں بھی مشاق ہوتے ہیں۔ انٹرویو میں مدد دینے والی تکنیک اور ریزیومے(ملازمت کی غرض سے تیار کی گئی کسی امیدوار کی تعلیمی اور تجرباتی لیاقت کی تلخیص) تیار کرنے میں تعلیمی اداروں کے کرئیر دفاتر بھی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں ۔
کام کے ساتھ تعلیم : کچھ بنیادی باتیں
اس کے لئے واضح طور پر پہلا قدم منصوبہ بندی ہوتا ہے۔ چَیپل ہِل میں واقع شمالی کیرولائنا یونیورسٹی غیر ملکی طلبہ اور اسکالر سروسز کی ڈائرکٹر الیزابیتھ بَرنم کہتی ہیں ’’اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر معلومات کا خزانہ موجود ہے ۔ اس میں سے کچھ اچھا ہے تو کچھ قابلِ اعتراض بھی ہے ۔ اس لئے غیر ملکی طلبہ کے دفتر کی جانب سے موصول ہوئی معلومات پر خاطر خواہ توجہ دیں ۔ کسی سوال کے ساتھ آ دھمکنے سے پہلے طلبہ کے غیر ملکی مشیر سے رابطہ کرنا بھی اہمیت کی حامل شئے ہے۔ ‘‘ اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں کام کرنے کے لئے بنیادی اصول یہ ہے کہ روزگار کاطالبِ علم کے تعلیمی میدان سے متعلق ہونا لازمی ہے۔

ہم علاقائی صنعت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو برقرار رکھتے ہیں جو زبان اور ثقافتی شعور کی قدر کرتی ہیںجو غیر ملکی طلبہ کے پاس ہوتا ہے۔
- ڈیوڈ کرے ڈائرکٹر، مسوری یونیورسٹی انٹر نیشنل اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالر سروسز
ایف وَن ویزا والے طلبہ کے لئے کام کرنے کا سب سے اہم موقع اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی)ہے جو طلبہ اپنی تعلیم کے دوران یا گریجویشن کے بعد کر سکتے ہیں ۔ جب کہ نصابِ تعلیم سے متعلق عملی تربیت (سی پی ٹی) کسی نوکری یا کسی انٹرنشپ کی مانند ہے جسے طالبِ علم کے نصاب کا جزوِ لازم ہونا چاہئے۔
مگر ان میں سے کسی چیز کا بھی نقطۂ آغاز اسٹوڈ نٹ سنٹر ہوتا ہے ۔ مسوری یونیورسٹی کے عالمی مرکز سے وابستہ غیر ملکی طلبہ کی خدمات سے متعلق کو آر ڈی نیٹر کیلی فلیمنگ کا کہنا ہے ’’ ہم مشورہ کے لئے آنے والے طلبہ کو مشاورتی خدمات فراہم کرتے ہیں ۔ مشورہ کی غرض سے آنے والے نصف طلبہ روزگار سے متعلق سوالات کرتے ہیں ۔ہم قاعدوں اور ضابطوں کے لحاظ سے انھیں بتاتے ہیں کہ ان کو جس ملازمت کی پیش کش کی گئی ہے اس میں وہ کس طرح کام کرسکتے ہیں ۔ ‘‘
کام اور عملی تربیت
کیمپس جاب تعلیم سے متعلق قواعد و ضوابط سے مستثنیٰ ہے۔ ایک کل وقتی طالبِ علم کے طور پر آپ کو عام طور پر تعلیمی سال کے دوران ایک ہفتے میں۲۰گھنٹے تک کام کر نے کی اجازت ہے ۔ اور تعطیلات اور
موسمِ گرما کی چھٹیوں میں آپ کُل وقتی یا بالفاظِ دیگر ہفتے میں ۴۰ گھنٹے کام کرنے کے مجاز ہیں ۔ لیکن خیال رہے کہ تنخواہ والی کیمپس ملازمتیں (بُک اسٹور یا فُڈ سروس آؤٹ لِٹس والی ملازمتیں)مانگ زیادہ ہونے کی وجہ سے محدود تعداد میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی)غیر ملکی طلبہ کو ان کی تعلیم سے متعلق ۱۲ ماہ تک کی ملازمت کی اجازت دیتی ہے۔ الیزابیتھ بتاتی ہیں ’’ عام طور پر طلبہ اختیاری عملی تربیت کو گریجویشن کے بعد کے لئے موقوف رکھتے ہیں کیونکہ موسم ِگرما یا پارٹ ٹائم کام کا شمار پورے وقت میں ہوتا ہے۔ لیکن گریجویشن کے فوراََبعد گھر واپس جانے کا منصوبہ رکھنے والے طلبہ کے لئے جز وقتی اختیاری عملی تربیت کی حیثیت ایک متبادل کی ہوتی ہے۔‘‘ ہر ڈگری پروگرام طلبہ کواختیاری عملی تربیت (او پی ٹی)کے لئے ایک اور ممکنہ سال کا موقع دیتا ہے۔ طلبہ بیچلر ڈگری پروگرام کے بعد ایک سال اور گریجویٹ ڈگری کے بعد ایک اور سال تک کام کرسکتے ہیں ۔
ایس ٹی ای ایم (سائنس ، ٹکنا لوجی، انجینئرنگ اورریاضی)شعبہ جات سے متعلق طلبہ کو اکثر و بیشتر او پی ٹی ملازمت کے لئے سترہ اضافی مہینے مل جاتے ہیں جنھیں ملاکر ایسی ملازمتوں کی کُل مدت ۲۹ مہینے ہو جاتی ہے۔ جہاں تک نصابِ تعلیم سے متعلق عملی تربیت (سی پی ٹی) کا تعلق ہے تو اسے طالبِ علم کے کلاس ورک سے منسلک ہونا چاہئے۔عام طور پر غیر ملکی طلبہ کا دفتر سی پی ٹی کا اختیار دیتا ہے اور ملازمت سے متعلق محل و وقوع اور تاریخوں کی وضاحت کرتا ہے ۔جب کہ او پی ٹی کے حوالے سے کوئی طالبِ علم یا گریجویٹ ملک میں کہیں بھی کام کرسکتا ہے۔الیزابیتھ باخبر کرتی ہیں ’’اس بات کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے کہ سی پی ٹی گریڈ اور کالج کریڈٹ کے ساتھ کسی طالبِ علم کے کورس کا جز وِ لازم ہو۔‘‘
فُل برائٹ پروگرام جیسے تعلیمی تبادلوں کے لئے دئے جانے والے جے وَن ویزوں سے لیس طلبہ کو بھی اسی طرح کام کرنے کے مواقع حاصل ہیں جن کا نظم ان کے انتظامی ادارے کرتے ہیں ۔ مسوری یونیورسٹی میں انٹر نیشنل اسٹوڈنٹ اینڈ اسکالر سروسز کی معاون ڈائرکٹر میہائلا بِرٹ کا کہنا ہے کہ ورک سیشن بعض کفالتی پروگراموں کا حصہ ہوتے ہیں جنھیں تجرباتی آ موزش بھی کہا جاسکتا ہے۔ عام طور پر جے وَن ویزا والے طلبہ کو گریجویشن کے بعد ان کے تعلیم سے متعلق میدان میں لازمی عملی تربیت کے لئے ڈیڑھ برس کا موقع ملتا ہے ۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد ریسرچ جاری رکھنے والے بعض اقسام کے اسکالروں کو تین برس تک بھی ملازمت کی اجازت ملتی ہے۔
ملازمت کی جستجو
کام سے متعلق امریکی کمپنیوں کا تسویہ حصولِ ملازمت کا نسبتاََ سخت پہلو ہے کیوں کہ دراصل یہ وہی ہیں جنھیں او پی ٹی زمرے میںایف وَن اور جے وَن ویزا رکھنے والوں یا ایچ وَن بی غیر مہاجر ورک ویزا کے حاملین کی کفالت کے لئے لازمی طور پر آمادہ رہنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ کمپنیاں اضافی اقدامات اور ضروری کاغذی کارروائی کے تیار نہ ہوں ، حالاں کہ بعض دیگر کمپنیاں اس پورے عمل سے ناواقف بھی ہو سکتی ہیں۔
لیکن طا لبِ علم کی حیثیت دونوں طرح سے مددگار ہے ۔اور اسٹوڈنٹ سینٹر تعلیم یافتہ گریجویٹس کو نوکری پر رکھنے کی خواہشمند کمپنیوںکی فہرست بھی رکھتا ہے۔مسوری یونیورسٹی کے انٹر نیشنل اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالر سروسز کے ڈائرکٹر ڈیوڈ کرے کہتے ہیں ’’ہم علاقائی صنعت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے کیٹر پیلرکے ساتھ شراکت داری کو برقرار رکھتے ہیں جو زبان اور ثقافتی شعور کی قدر کرتی ہیںجو غیر ملکی طلبہ کے پاس ہوتا ہے۔‘‘
ایک واضح مشورہ
طلبہ کو ملازمت کے سلسلے میں ایسی کمپنیوںکی تلاش کرنی چاہئے جو ان کے اپنے ملک میں بھی کام کر رہی ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی طلبہ کو ملازمت کی تلاش کے سب سے کارآمد حربے کو بھی آزمانا چاہئے:یعنی جہاں تک ممکن ہو نیٹ ورکنگ کی جائے ۔ رسمی طور پر اور غیر رسمی طور پر بھی ۔ اس میں شخصی طور پر نیٹ ورکنگ کے علاوہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال بھی نہایت اہم ہے۔ مسوری یونیورسٹی کی بِرٹ کے مطابق غیر ملکی طلبہ کے لئے مجموعی طور پر تعلیمی تجربہ والا اصول ہی تلاشِ معاش پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بِرٹ فرماتے ہیں ’’آپ کو اس بات کا اختیار ہے کہ آپ ثقافتی اعتبار سے آرام دہ خطے میں قیام پسند کرتے ہیں یا جوکھم مولنے کے لئے تیار رہتے ہیں ۔ حالاں کہ یہ آسان نہیں ہے مگرجوکھم اٹھانے کا انعام بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ ‘‘
ہاورڈ سنکوٹا امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ قلم کار اور مدیر ہیں ۔
0 comments:
تبصرہ تحریر کریں: