Tuesday, 9 June 2015

منصوبہ ساز بننے کی منصوبہ بندی

شہری منصوبہ بندی کی ڈگری کے ساتھ بہتر شہر اور ایک عظیم کرئیر کی تعمیر۔
ہرشخص جانتا ہے کہ ماہرِ فنِ تعمیر عمارتوں کی نقشہ سازی کرتے ہیں اور تعمیراتی کارکن ان نقشوں کے اعتبار سے عمارت سازی کرتے ہیں۔ لیکن ان دو چیزوں کے درمیان بھی سڑکیں ،باغات ،آبی گزرگاہیںاور سڑکوں کے کنارے پیدل چلنے والوں  کے لئے ذیلی راستے ہوتے ہیں۔ ان کی تعمیر کون کرتا ہے؟ یہ سارے کام شہری منصوبہ ساز کرتے ہیں جواَربن پلانر کہلاتے ہیں۔ یہ ایسے افراد کا گروہ ہوتاہے جو ہرمحلہ کو رہنے کی بہتر جگہ بنانے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کرتاہے ۔شہری منصوبہ سازاپنا کام سیاسی پیش ناموں، ماحولیاتی گروپوں کی تشویش اور عوامی مطالبات کے دلچسپ اور بعض اوقات پیچیدہ مثلث کے درمیان انجام دیتے ہیں ۔ شہری منصوبہ ساز کو ہر کسی کی درخواست کوعملی جامہ پہنانے کی ہنرمندی میں تربیت لینے کی ضرورت تو پڑتی ہی ہے، ساتھ ۔ساتھ اسے اس کا علم بھی درکار ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ تمام چیزوں میں توازن کیسے قائم کرے۔
اب فطری طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ شہری منصوبہ ساز جو کام کرتے ہیں ، انھیں اپنے کام کے لئے ساکھ اور تجربہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟  ایسا ان کے ’اربن پلاننگ ‘کی ڈگری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دیگر ڈگریوں کی طرح شہری منصوبہ سازی کی گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ ڈگریاں ہوتی ہیں لیکن ان کے گریجویٹ پروگرام سب سے زیادہ مقبول ہیں اورخوب پھول پھل رہے ہیں۔
لاس اینجلس میں واقع کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ’لَسکِن اسکول آف پبلک افیئرس‘میں گریجویٹ صلاح کار رَوبِن مَیک کیلم نے بتایا ’’۲۰۰۸ سے ہم لوگوں نے انڈر گریجویٹ درخواستوں میں ۳۰ فیصد اور پی ایچ ڈی درخواستوں میں ۷۰ فیصد اضافہ دیکھا ہے۔‘‘ اس کا ایک سبب رَوبِن کے خیا ل میں ’’ملک گیر سطح پر منصوبہ بندی کی توسیع‘‘ ہے۔ جنوری۲۰۱۳میں امریکی پلاننگ ایکری ڈی ٹیشن بورڈ نے شمالی امریکہ کی ۷۶یونیورسٹیوں میں ۷۲ماسٹرس اور۱۵بیچلرس پروگراموں کومنظوری دی
گریجویٹ پروگراموںکے بنیادی نصابوں میں شہری منصوبہ بندی کا نظریہ اورتاریخ،شہری ڈیزائن،شہری اقتصادیات ، زمینوں کا استعمال اور منصوبہ بندی قانون اورمنصوبہ بندی طور طریقے شامل ہیں۔اگرچہ ایسی درسگاہوں کی تعدادبہت ہے جن میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جا سکتا ہے لیکن بعض پروگرام دوسروں سے زیادہ افضل ہیں۔
مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں شعبۂ شہری مطالعہ جات ومنصوبہ بندی میں ایک لکچرر ایزرا ہیبر گلین نے کہا کہ داخلہ پانے والے بین الاقوامی طالب علموں خاص کر ہندوستانی طلبہ کی تعداد بڑ ھ رہی ہے ۔انھوںنے بتایا ’’شہری منصوبہ بندی میں ایم آئی ٹی کے پروگرام میں بین الاقوامی ترقی کے کام کی بہت پرانی روایت ہے اورآئندہ نسل کے لئے منصوبہ بندی کے چیلنجوں میں عالم گیر سطح پراضافہ ہوگا ۔اس لئے تمام ملکوںسے آئے ہوئے طالب علموں کوداخلہ دینے کی بات سمجھ میں آتی ہے۔
تو اگر آپ آگے چل کر شہری منصوبہ سازی کا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انڈر گریجویٹ ڈگری کورس میں کون سے مضمون کا تفصیلی مطالعہ پسند کریں گے؟ارضی سائنس،ریاضیات،پالیسی، طبی سائنس، ارضیات، طبیعات یا جغرافیہ۔کورنل یونیورسٹی میں شعبۂ شہری وعلاقائی منصوبہ بندی کے پروفیسر اورچیئر کیرن ڈونری نے بتایا ’’آپ کے مطالعہ اورکام کے تجربہ میں تنوع مستقبل کے شہری منصوبہ ساز کی ہنرمندیوں کے مجموعے میں شامل ہونے والی لازمی چیز ہے۔ ‘‘کیرن نے مشورہ دیا ’’طالب علموں کو چاہئے کہ وہ حالات ِحاضرہ میں اپنے آپ کو غرق کردیں، وسیع البنیاد تعلیم حاصل کریں اورکچھ ایسا ہنر سیکھیں جس سے دوپیسہ کما سکیں۔ایسی سرکاری ایجنسیوں اورفرموں میںتربیت حاصل کرنے کے مواقع کوبروئے کار لائیں جہاں ہم عصر اہمیت کے حامل امور،نقل وحمل،اراضی کے استعمال،مکان سازی، بنیادی ڈھانچہ،توانائی کے استعمال اورماحولیات کاکام ہوتاہے۔‘‘
کسی شہری منصوبہ سازی پروگرام میں نام لکھوانے کے بعد آپ کو اپنا پاسپورٹ ہمیشہ تیاررکھناپڑے گا کیونکہ آپ باہر نکلنے کے لئے مجبور ہوں گے۔یاد رہے کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا ایک اہم حصہ سفربھی ہے۔کیرن نے مزید کہا ’’شعبۂ شہری وعلاقائی منصوبہ بندی کا ’پیس کور‘کے ساتھ پائیدارتعلق رہتاہے۔’پیس کور‘ سابق اورمستقبل رضاکارو ں کومنصوبہ بندی میں گریجویٹ تعلیم سے اوربین الاقوامی ترقیاتی منصوبوں کےپیشہ ورانہ امکانات سے جوڑتاہے۔‘‘
لیکن بیرون ِملک پڑھائی کا سارامعاملہ یہیں تک محدودنہیں ہے۔ آپ کاپروگرام آپ کو کام کاتجربہ دلانے میں بھی مددگارہوسکتاہے۔ لاس اینجلس کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے رَوبِن کہتے ہیں ’’ہمارا بین الاقوامی ’پریکٹس پاتھ ویز‘ پروگرام طلبہ کو انٹرن شپ بھی دلاتاہے اوراس سال ہماری یونیورسٹی کے’لَسکِن اسکول آف پبلک ایفیئرس‘کے بے شمار طلبہ یونیورسٹی کے ’لَسکِن اسٹریٹجک پلان‘ کی کڑی اور بین الاقوامی امور میں اس کے مشن کے حصے کے طور پرپوری دنیا میں کام کررہے اورتربیت حاصل کررہے ہیں۔لیکن شہری منصوبہ ساز بننے کی راہ ایسی خشک نہیں ہے کہ اسے صرف نصاب کے کام اورنصابی کتابوں کے ذخیرہ کے نیچے دبا ہوا سمجھاجائے۔
ایم آئی ٹی کے گریجویٹ طالبِ علم اینڈی کُک نے ’نیکسٹ سٹی ڈاٹ او آر جی‘پر ایک مضمون میں لکھا ہے’’میں ایم آئی ٹی میں اس وقت شہری منصوبہ بندی میں گریجویٹ ڈگری کاطالبِ علم ہوں،جہاںمیرا ڈھیر سارا وقت صرف اس بات کو سمجھنے اورسمجھانے میں صرف ہوتاہے کہ شہری منصوبہ ساز جوکام کرتاہے،دراصل وہ کیاہے؟
انھوںنے مزید کہا کہ آپ جس سے پوچھیں وہ آپ کو ایک الگ جواب دے گا لیکن ان سب میں ایک مشترکہ موضوع یہ ہے کہ ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم وہ لوگ ہوںگے جوزیادہ بڑی تصویر دیکھتے ہیں ۔اورزندگی کے بڑے واقعات کے لئے تیارہونے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہم پہلے ایک حقیقی عظیم تعلیم کامنصوبہ بنائیں۔
اَین والسکیلی فورنیا میں مقیم قلم کار اور فلمساز ہیں۔

0 comments:

تبصرہ تحریر کریں: